نبی ﷺ کا اپنی امت پر شفقت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَائَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُکُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْجَنَادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنْ النَّارِ وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِي
محمد بن حاتم ابن مہدی سلیم سعید بن میناء، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور تمہاری مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے آگ جلائی تو اس میں ٹڈی اور پتنگے گرنے لگیں اور وہ آدمی ان کو روکے اور میں بھی دوزخ کی آگ سے تمہاری کمروں کو تھامے ہوئے ہوں اور تم میرے ہاتھوں سے نکلتے چلے جا رہے ہو۔
Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying. My example and your example is that of a person who lit the fire and insects and moths began to fall in it and he would be making efforts to take them out, and I am going to hold you back from fire, but you are slipping from my hand.
نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ يَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِلَّا هَذِهِ اللَّبِنَةَ فَکُنْتُ أَنَا تِلْکَ اللَّبِنَةَ
عمرو بن محمد ناقد، سفیان بن عیینہ، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری مثال اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے کوئی مکان بنایا اور اسے بہت اچھا اور خوبصورت بنایا اور لوگ اس مکان کے چاروں طرف گھومنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم نے اس مکان سے زیادہ خوبصورت مکان نہیں دیکھا سوائے اس ایک اینٹ کے (یعنی ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے) تو وہ اینٹ میں ہی ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of mine and that of the Apostles (before me) is that of a person who constructed a building and he built it fine and well and the people went round it saying: Never have we seen a building more imposing than this, but for one brick, and I am that brick (with which you give the finishing touch to the building).
نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَائِ مِنْ قَبْلِي کَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنَی بُيُوتًا فَأَحْسَنَهَا وَأَجْمَلَهَا وَأَکْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهَا فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ وَيُعْجِبُهُمْ الْبُنْيَانُ فَيَقُولُونَ أَلَّا وَضَعْتَ هَاهُنَا لَبِنَةً فَيَتِمَّ بُنْيَانُکَ فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا میری مثال اور ان تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال جو مجھ سے پہلے آچکے ہیں ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے گھر بنایا اور اس کو اچھا خوبصورت اور مکمل طور پر بنایا لیکن اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ باقی رہ گئی لوگ اس مکان کے چاروں طرف گھومتے ہیں اور اسے دیکھتے ہیں اور وہ مکان ان کو اچھا لگتا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر اس جگہ ایک اینٹ رکھ دی جاتی تو تمہارا مکان مکمل ہوجاتا حضرت محمد ﷺ نے فرمایا میں ہی وہ اینٹ ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful and he made it complete but for one brick in one of its corners. People began to walk round it, and the building pleased them and they would say: But for this brick your building would have been perfect. Muhammad ﷺ said: And I am that final brick.
نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَائِ مِنْ قَبْلِي کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر عبداللہ بن دینار ابوصالح سمان حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری مثال اور ان تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال جو مجھ سے پہلے آچکے ہیں اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے مکان بنایا اور بہت اچھا اور خوبصورت بنایا لیکن مکان کے ایک کونے میں سے ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی لوگ اس کے مکان کے چاروں طرف گھومے وہ مکان ان کو بڑا اچھا لگا اور وہ مکان بنانے والے سے کہنے لگے کہ آپ نے اس جگہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی آپ ﷺ نے فرمایا وہ اینٹ میں ہی ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of mine and that of the Apostles before me is that of a person who built a house quite imposing and beautiful, but for one brick in one of its corners. People would go round it, appreciating the building, but saying: Why has the brick not been fixed here? He said: I am that brick and I am the last of the Apostles.
نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ النَّبِيِّينَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی۔
Abu Said reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of mine and that of the Apostles; the rest of the hadith is the same.
نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَائَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَائِ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَی دَارًا فَأَتَمَّهَا وَأَکْمَلَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَدْخُلُونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْهَا وَيَقُولُونَ لَوْلَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ جِئْتُ فَخَتَمْتُ الْأَنْبِيَائَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان سلیم بن حیان سعد بن میناء، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری مثال اور دوسرے تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے ایک گھر بنایا اور اسے پورا اور کامل بنایا سوائے ایک اینٹ کی جگہ کے کہ وہ خالی رہ گئی لوگ اس گھر کے اندر داخل ہو کر اسے دیکھنے لگے اور وہ گھر ان کو پسند آنے لگا وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ ایک اینٹ کیوں نہ رکھ دی گئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ہی اس اینٹ کی جگہ آیا ہوں اور میں نے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی آمد کا سلسلہ ختم کردیا ہے۔
Jabir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of mine and that of the Apostles is like that of a person who built a house and he completed it and made it perfect but for the space of a brick. People entered therein and they were surprised at it and said: Had there been a brick (it would have been complete in all respects). Allahs Messenger ﷺ said: I am that place where the brick (completing the building is to be placed), and I have come to finalise the chain of Apostles.
نبی ﷺ کے خاتم النیبین ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ بَدَلَ أَتَمَّهَا أَحْسَنَهَا
محمد بن حاتم، ابن مہدی حضرت سلم ؓ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے صرف لفظی فرق ہے۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
اس بات کے بیان میں کہ جب اللہ تعالیٰ امت پر رحم کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس امت کے نبی کو اس کی ہلاکت سے پہلے ہی بلا لیتا ہے۔
قَالَ مُسْلِم وَحُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَمِمَّنْ رَوَی ذَلِکَ عَنْهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَإِذَا أَرَادَ هَلَکَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ فَأَهْلَکَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَکَتِهَا حِينَ کَذَّبُوهُ وَعَصَوْا أَمْرَهُ
مسلم ابی اسامہ ابراہیم، بن سعید جوہری ابواسامہ یرید بن عبداللہ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل جب اپنے بندوں میں سے کسی امت پر رحم کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس امت کے نبی کو امت کی ہلاکت سے پہلے بلا لیتا ہے اور وہ اپنی امت کے لئے اجر اور پیش خیمہ ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس نبی کی زندگی میں ہی اس کے سامنے اس کی امت پر عذاب نازل فرماتا ہے اور نبی اس امت کی ہلاکت دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اس کے حکم کی نافرمانی کی تھی۔
Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When Allah, the Exalted and Glorious, intends to show mercy to an Umma from amongst His servants He calls back His Apostle ﷺ to his eternal home and makes him a harbinger and recompense in the world to come; and when He intends to cause destruction to an Umma, He punishes it while its Apostle ﷺ is alive and He destroys it as he (the Apostle) witnesses it and he cools his eyes by destruction as they had belied him and disobeyed his command.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ
احمد بن عبداللہ بن یونس زائدہ عبدالملک بن عمیر حضرت جندب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں حوض پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا۔
Jundab reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: I shall be there at the Cistern before you.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ جَمِيعًا عَنْ مِسْعَرٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جُنْدَبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب ابن بشر مسعر عبیداللہ بن معاذ ابی محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک بن عمیر حضرت جندب ؓ نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Jundab through another chain of transmitters.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ مَنْ وَرَدَ شَرِبَ وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا وَلَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَسَمِعَ النُّعْمَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ وَأَنَا أُحَدِّثُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ هَکَذَا سَمِعْتَ سَهْلًا يَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَسَمِعْتُهُ يَزِيدُ فَيَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ بَدَّلَ بَعْدِي
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم، قاری، ابی حازم حضرت سہل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں حوض پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا جو اس حوض پر آئے گا وہ اس حوض میں سے پئے گا اور جو اس میں سے (ایک مرتبہ) پی لے گا پھر وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا میرے پاس (حوض کو ثرپر) کچھ لوگ آئیں گے میں ان کو پہچانتا ہوں گا اور وہ لوگ مجھے پہچانتے ہوں گے پھر میرے اور ان کے درمیان (ایک پردہ) حائل کردیا جائے گا (یعنی میری طرف آنے سے روک دیا جائے گا) ابوحازم ؓ کہتے ہیں کہ جب میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا تو حضرت نعمان بن ابی عیاش ؓ بھی یہ حدیث سن رہے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت سہل ؓ سے یہ حدیث اسی طرح سنی ہے میں نے کہا جی ہاں۔ حضرت نعمان نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے بھی یہ حدیث اسی طرح سنی ہے لیکن وہ اتنی بات زیادہ فرماتے تھے کہ آپ ﷺ فرمائیں گے کہ یہ لوگ تو میرے ہیں تو آپ ﷺ کو جواب میں کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ کے بعد کیا کیا کام کئے میں کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ وہ لوگ کہ جنہوں نے میرے بعد دین میں ردوبدل کردیا۔
Sahl (b. Sad) reported: I heard Allahs Apostle ﷺ as saying: I shall go to the Cistern before you and he who comes would drink and he who drinks would never feel thirsty, and there would come to me people whom I would know and who would know me. Then there would be intervention between me and them. Abu Hazim said that Numan bin Abu Ayyash heard it and I narrated to them this hadith, and said: Is it this that you heard Sahl saying? He said: Yes, and I bear witness to the fact that I heard it from Abu Said Khudri also, but he made this addition that he (the Holy Prophet) would say: They are my followers, and it would be said to him: You do not know what they did after you and I will say to them: Woe to him who changes (his religion) after me.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، ابواسامہ ابوحازم، سہل نعمان ابن ابی عیاش حضرت ابوسعید خدری ؓ سے نبی ﷺ یعنی یعقوب کی روایت کی طرح نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri through another chain of transmitters.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ وَزَوَايَاهُ سَوَائٌ وَمَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنْ الْوَرِقِ وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنْ الْمِسْکِ وَکِيزَانُهُ کَنُجُومِ السَّمَائِ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَا يَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدًا
داؤد بن عمرو ضبی نافع بن عمر جمحی ابن ابی ملیکہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے حوض (کی لمبائی چوڑائی) ایک ماہ کی مسافت کے برابر ہے اور اس کے سارے کونے برابر ہیں اور اس حوض کا پانی چاندی سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ بہتر ہے اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی طرح ہیں تو جو آدمی میرے اس حوض سے پئے گا پھر اس کے بعد اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
Abdullah bin Amr al-As, reported Allahs Messenger ﷺ as saying: My Cistern (is as wide and broad that it requires) a months journey (to go round it) all, and its sides are equal and its water is whiter than silver, and its odour is more fragrant than the fragrance of musk, and its jugs (placed round it) are like stars in the sky; and he who would drink from it would never feel thirsty after that.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
قَالَ وَقَالَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي عَلَی الْحَوْضِ حَتَّی أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْکُمْ وَسَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ دُونِي فَأَقُولُ يَا رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي فَيُقَالُ أَمَا شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَکَ وَاللَّهِ مَا بَرِحُوا بَعْدَکَ يَرْجِعُونَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ قَالَ فَکَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَی أَعْقَابِنَا أَوْ أَنْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا
حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں حوض (کوثر) پر ہوں گا یہاں تک کہ جو تم میں سے میرے پاس آئے گا میں اسے دے رہا ہوں گا اور کچھ لوگوں کو میرے قریب ہونے سے پہلے ہی پکڑ لیا جائے گا تو میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں عرض کروں گا اے میرے پروردگار! یہ لوگ تو میرے (فرمانبدار) اور میرے امتی ہیں تو آپ ﷺ کو جواب میں کہا جائے گا کہ کیا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام (بدعات) کئے اللہ کی قسم آپ ﷺ کے بعد یہ لوگ فورا ایڑیوں کے بل پھرگئے۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے اے اللہ ہم اس بات سے پناہ مانگتے ہیں کہ ہم ایڑیوں کے بل پھرجائیں اور اس بات سے بھی کہ ہم اپنے دین سے کسی آزمائش میں مبتلا کردیئے جائیں۔
Asma, daughter of Abu Bakr (RA) said: Allahs Messenger ﷺ said: I would be on the Cistern and so that I would be seeing those who would be coming to me from you, but some people would be detained (before reaching me). I would say: My Lord, they are my followers and belong to my Umma, and it would be said to me: Do you know what they did after you? By Allah, they did not do good after you, and they turned back upon their heels. He (the narrator) said: ibn Abu Mulaikah used to say (in supplication): O Allah, I seek refuge with Thee that we should turn back upon our heels or put to any trial about our religion.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ إِنِّي عَلَی الْحَوْضِ أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْکُمْ فَوَاللَّهِ لَيُقْتَطَعَنَّ دُونِي رِجَالٌ فَلَأَقُولَنَّ أَيْ رَبِّ مِنِّي وَمِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا عَمِلُوا بَعْدَکَ مَا زَالُوا يَرْجِعُونَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ
ابن ابی عمر یحییٰ بن سلیم ابن خثیم عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اس حال میں کہ اپنے صحابہ کرام ؓ کے درمیان بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کہ میں حوض (کوثر) پر تمہارا انتظار کروں گا کہ تم میں سے کون کون میرے پاس آتا ہے اللہ کی قسم کچھ آدمی میرے پاس آنے سے روک دیئے جائیں گے میں کہوں گا اے میرے پروردگار یہ تو میرے امتی ہیں تو اللہ فرمائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام کئے یہ لگاتار اپنے ایڑیوں کے بل (یعنی اپنے دین) سے پھرتے ہی رہے۔
Aisha reported: I heard Allahs Messenger ﷺ say in the company of his Companions: I would be on the Cistern waiting for those who would be coming to me from amongst you. By Allah, some persons would be prevented from coming to me, and I would say: My Lord, they are my followers and people of my Umma. And He would say,: You dont know what they did after you; they had been constantly turning back on their heels (from their religion).
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْکُرُونَ الْحَوْضَ وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِکَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ اسْتَأْخِرِي عَنِّي قَالَتْ إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ وَلَمْ يَدْعُ النِّسَائَ فَقُلْتُ إِنِّي مِنْ النَّاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَکُمْ فَرَطٌ عَلَی الْحَوْضِ فَإِيَّايَ لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُکُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي کَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ فَأَقُولُ فِيمَ هَذَا فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا
یونس بن عبدالاعلی صدفی عبداللہ بن وہب، عمرو ابن حارث بکیر قاسم بن عباس ہاشمی عبداللہ بن رافع مولیٰ حضرت ام سلمہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ لوگوں سے حوض (کوثر) کا ذکر سنتی تھی لیکن اس کے بارے میں میں نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا تھا ایک دن جبکہ ایک لڑکی میرے سر میں کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا اے لوگو کہ میں نے اس لڑکی سے کہا مجھ سے علیحدہ ہوجا وہ کہنے لگی آپ ﷺ نے صرف مردوں کو بلایا ہے اور عورتوں کو نہیں بلایا تو میں نے کہا میں بھی لوگوں میں سے ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہارے لئے حوض کوثر پر پیش خیمہ ہوں گا اور تم اس بات سے ڈرنا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی میری طرف آئے اور پھر وہ مجھ سے ہٹا دیا جائے جیسا کہ گم شدہ اونٹ ہٹا دیا جاتا ہے تو میں ان کے بارے میں کہوں گا تو آپ ﷺ کو جواب دیا جائے گا کہ آپ ﷺ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ ﷺ کے جانے کے بعد کیا کیا (رسوم و بدعات) ایجاد کرلیں تھیں تو میں (ان لوگوں سے) کہوں گا دور ہوجاؤ۔
Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ , said I used to hear from people making a mention of the Cistern, but I did not hear about it from Allahs Messenger ﷺ . One day while a girl was combing me I heard Allahs Messenger ﷺ say: "O people." I said to that girl: Keep away from me. She said: He (the Holy Prophet) has addressed the men only and he has not invited the attention of the women. I said: I am amongst the people also (and have thus every right to listen to the things pertaining to religion). Allahs Messenger ﷺ said: I shall be your harbinger on the Cistern; therefore, be cautious lest one of you should come (to me) and may be driven away like a stray camel. I would ask the reasons, and it would be said to me: You dont know what innovations they made after you. And I would then also say: Be away.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ قَالَ کَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ أَيُّهَا النَّاسُ فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا کُفِّي رَأْسِي بِنَحْوِ حَدِيثِ بُکَيْرٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ
ابومعن رقاشی ابوبکر بن نافع عبد بن حمید ابوعامر عبدالملک بن عمرو افلح ابن سعید عبداللہ بن رافع ام سلمہ حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ وہ کنگھی کروا رہی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! حضرت ام سلمہ ؓ نے سنا تو کنگھی کرنے والی سے کہنے لگیں میرے سر کو رہنے دے باقی روایت بکیر عن القاسم کی روایت کی طرح نقل کی گئی ہے۔
Umm Salamahh reported that she heard Allahs Apostle ﷺ saying this as he was sitting on the pulpit and she was getting her hair combed. (He uttered these words): "O people." And she said to one who was combing: Leave my head; the rest of the hadith is the same.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّی عَلَی أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَی الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ إِنِّي فَرَطٌ لَکُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْکُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَی حَوْضِي الْآنَ وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِي وَلَکِنْ أَخَافُ عَلَيْکُمْ أَنْ تَتَنَافَسُوا فِيهَا
قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابی خیر حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر نکلے اور شہداء احد کی نماز اس طرح سے پڑھی جس طرح کہ میت کی نماز پڑھا کرتے ہیں پھر آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا میں تمہارے لئے پیش خیمہ ہوں اور میں تمہارا گواہ ہوں اور اللہ کی قسم! میں اب بھی اپنے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں ہیں یا زمین کی چابیاں اور اللہ کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک بن جاؤ گے بلکہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا کے لالچ میں آکر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگو گے۔
Uqba bin Amir reported that Allahs Messenger ﷺ one day went out and he offered prayer over the martyrs of Uhud just as prayer is offered over the dead. He then came back and sat on pulpit and said: I shall be present there (at the Cistern) before you. I shall be your witness and, by Allah, I perceive as if I am seeing with my own eyes my Cistern at this very state and I have been given the keys of the treasures of the earth or the keys of the earth and, by Allah, I am not afraid concerning you that you would associate anything (with Allah after me), but I am afraid that you would be vying with one another (for the possession of) the treasures of the earth.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی قَتْلَی أُحُدٍ ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَائِ وَالْأَمْوَاتِ فَقَالَ إِنِّي فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَإِنَّ عَرْضَهُ کَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَی الْجُحْفَةِ إِنِّي لَسْتُ أَخْشَی عَلَيْکُمْ أَنْ تُشْرِکُوا بَعْدِي وَلَکِنِّي أَخْشَی عَلَيْکُمْ الدُّنْيَا أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا وَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِکُوا کَمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ قَالَ عُقْبَةُ فَکَانَتْ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ
محمد بن مثنی، وہب ابن جریر، بن حازم ابی یحییٰ بن ایوب، یزید بن ابی حبیب، مرثد حضرت عقبہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہداء احد پر نماز پڑھی پھر آپ ﷺ منبر پر چڑھے جیسا کہ کوئی زندوں اور مردوں کو رخصت کررہا ہو آپ ﷺ نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا اور حوض کوثر کی چوڑائی اتنی ہے جتنا کہ ایلہ کے مقام سے جحفہ کے مقام تک فاصلہ ہے مجھے تم سے اس بات کو ڈر نہیں کہ تم میرے بعد مشرک بن جاؤ گے لیکن مجھے تم سے اس بات کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا کے لالچ میں آپس میں حسد کرنے لگ جاؤ گے اور آپس میں خون ریزی کرنے لگ جاؤ گے جس کے نتیجہ میں تم ہلاک ہوجاؤ گے جس طرح کہ تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے حضرت عقبہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آخری مرتبہ منبر پر دیکھا تھا۔
Uqba bin Amir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allahs Messenger offered prayer over those who had fallen matyrs at Uhud. He then climbed the pulpit as if someone is saying good-bye to the living and the dead, and then said: I shall be there as your predecesor on the Cistern before you, and it is as wide as the distance between Aila and Juhfa (Aila is at the top of the gulf of Aqabah). I am not afraid that you would associate anything with Allah after me, but I am afraid that you may be allured by the world and vie with one another in possessing material wealth and begin killing one another, and you would be destroyed as were destroyed those who had gone before you. Uqba said that that was the last occasion that he saw Allahs Massenger on the pulpit.
ہمارے نبی ﷺ کے حوض (کوثر) کے اثبات اور آپ ﷺ کی صفات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَلَأُنَازِعَنَّ أَقْوَامًا ثُمَّ لَأُغْلَبَنَّ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ أَصْحَابِي أَصْحَابِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ وَفِي حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ مُغِيرَةَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ کِلَاهُمَا عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ وَمُغِيرَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن نمیر، ابومعاویہ اعمش، شقیق، عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں حوض کوثر پر تمہارا پیش خیمہ ہوں گا اور کچھ لوگوں کی خاطر مجھے جھگڑنا پڑے گا پھر میں ان پر مغلوب کردیا جاؤں گا پھر میں عرض کروں گا یہ تو میرے ساتھی ہیں یہ تو میرے ساتھی ہیں تو جواب میں مجھ سے فرمایا جائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے جانے کے بعد کیا کیا (رسوم و بدعات) ایجاد کر ڈالی تھیں۔ عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر حضرت اعمش ؓ سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں أَصْحَابِي أَصْحَابِي کے الفاظ ذکر نہیں ہیں۔ عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، جریر، ابن مثنی محمد بن جعفر، سعبہ مغیرہ ابو وائل حضرت عبداللہ ؓ نبی ﷺ سے حضرت اعمش ؓ کی روایت کی طرح نقل کرتے ہیں اور شعبہ کی روایت میں عَنْ مُغِيرَةَ کی جگہ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ کے الفاظ ذکر کئے گئے ہیں۔ سعید بن عمرو اشعثی عبثر ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن فضیل حصین ابو وائل حضرت حذیفہ ؓ نبی ﷺ سے حضرت اعمش ؓ اور حضرت مغیرہ کی حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying; I shall be there at the Cistern before you, and I shall have to contend for some people, but I shall have to yield. I would be saying: My Lord, they are my friends, they are my friends, and it would be said: You dont know what innovations they made after you.