وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَکَارِهِ وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب حماد بن سلمہ ثابت حمید حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت تکلیفوں سے گھری ہوئی ہے جبکہ دوزخ نفسانی خواہشات سے گھری ہوئی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported: The Paradise is surrounded by hardships and the Hell-Fire is surrounded by temptations.
وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
زہیر بن حرب، شبابہ ورقاء ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ سَعِيدٌ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ مِصْدَاقُ ذَلِکَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَائً بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ
سعید بن عمرو اشعثی زہیر بن حرب، زہیر سعید سفیان، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے فرمایا میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے (ایسی ایسی چیزیں) تیار کر رکھی ہیں کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَا ءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) 32۔ السجدہ: 17) سو کسی نفس کو معلوم نہیں کہ جو نعمتیں ان کے لئے چھپا رکھی ہیں ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں بدلہ ہے اس کا جو وہ کرتے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying that: Allah the Exalted and Glorious, said: I have prepared for My pious servants which no eye has ever seen, and no ear has ever heard, and no human heart has ever perceived but it is testified by the Book of Allah. He then recited:" No soul knows what comfort has been concealed from them, as a reward for what they did". (xxxii. 17)
وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أَطْلَعَکُمْ اللَّهُ عَلَيْهِ
ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، مالک ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے فرمایا میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے (ایسی ایسی چیزیں) تیار کر رکھی ہیں کہ جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا (اور وہ نعمتیں ان کے لئے) جمع کر رکھی ہیں ان کا ذکر چھوڑو جن کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اطلاع دے رکھی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ said: Allah, the Exalted and Glorious, said: I have prepared for My pious servants which no eye (has ever) seen, no ear has (ever) heard and no human heart has ever perceived those bounties leaving apart (those bounties) about which Allah has informed you.
وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ ذُخْرًا بَلْهَ مَا أَطْلَعَکُمْ اللَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَرَأَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ ابن نمیر، ابی اعمش، ابی صالح حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے (ایسی ایسی نعمتیں) تیار کر رکھی ہیں کہ جن کو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا یہ نعمتیں ان کے لئے جمع کر رکھی ہیں ان کا ذکر چھوڑو جن نعمتوں کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں اطلاع دے رکھی ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَا ءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) 32۔ السجدہ: 17) کسی نفس کو معلوم نہیں کہ جو نعمتیں ان کے لئے چھپا کر رکھی ہیں ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے بدلہ ہے اس کا جو وہ کرتے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ said that Allah, the Exalted and Glorious, said: I have prepared for My pious servants which the eye has seen not, and the ear has heard not and no human heart has ever perceived such bounties leaving aside those about which Allah has informed you. He then recited:" No soul knows what comfort has been hidden for thein".
وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ أَنَّ أَبَا حَازِمٍ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ يَقُولُا شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَصَفَ فِيهِ الْجَنَّةَ حَتَّی انْتَهَی ثُمَّ قَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَی قَلْبِ بَشَرٍ ثُمَّ اقْتَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ تَتَجَافَی جُنُوبُهُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَائً بِمَا کَانُوا يَعْمَلُونَ
ہارون بن معروف، ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، ابوصخر، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ کی ایک ایسی مجلس میں موجود تھا کہ جس میں آپ ﷺ نے جنت کی بہت تعریف بیان فرمائی یہاں تک کہ انتہا ہوگئی پھر آپ نے اپنے بیان کے آخر میں فرمایا کہ جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کو نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی (تَ تَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِ مَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 16 فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ جَزَا ءً بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ) 32۔ السجدہ: 16۔ 17) جدا رہتی ہیں ان کی کروٹیں اپنے سونے کی جگہوں سے پکارتے ہیں اپنے رب کو ڈر سے اور لالچ سے اور ہمارا دیا ہو اخرچ کرتے ہیں سو کسی جی کو معلوم نہیں جو چھپا رکھی ہے ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بدلہ ہے اس کا جو وہ کرتے تھے۔
Sahl bin Sad as-Saidi reported: I was in the company of Allahs Messenger ﷺ that he gave a description of Paradise and then Allahs Apostle ﷺ concluded with these words: There would be bounties which the eye has not seen and the ear has not heard and no human heart has ever perceived them. He then recited this verse:" They forsake (their) beds, calling upon their Lord in fear and in hope, and spend out of what We have given them. So no soul knows what refreshment of the eyes is hidden for them: a reward for what they did" (xxxii. 16-17)
جنت میں ایک ایسے درخت کے بیان میں کہ جس کے سائے میں چلنے والا سوار سو سال تک چلتا رہے گا پھر بھی اسے طے نہیں کرسکے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاکِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابوسعید مقبری حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ جس کے سائے میں چلنے والا سوار سو سال تک چلتا رہے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider can travel for a hundred years.
جنت میں ایک ایسے درخت کے بیان میں کہ جس کے سائے میں چلنے والا سوار سو سال تک چلتا رہے گا پھر بھی اسے طے نہیں کرسکے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ لَا يَقْطَعُهَا
قتیبہ بن سعید، مغیرہ ابن عبدالرحمن حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں لَا يَقْطَعُهَا یعنی وہ سوار اس درخت کو سو سال تک بھی طے نہیں کرسکے گا الفاظ زائد ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters with the addition of these words:" He will not be able to cover this distance."
جنت میں ایک ایسے درخت کے بیان میں کہ جس کے سائے میں چلنے والا سوار سو سال تک چلتا رہے گا پھر بھی اسے طے نہیں کرسکے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاکِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، مخزومی وہیب ابی حازم حضرت سہل بن سعد ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ جس کے سائے میں چلنے والا سوار سو سال تک بھی اسے طے نہیں کرسکتا۔
Sahl bin Sad reported Allahs Messenger ﷺ as saying: In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider can travel for a hundred years without covering (the distance) completely. This hadith has also been transmitted on the authority of Abu Said al-Khudri that Allahs Apostle ﷺ is reported to have said: In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider of a fine and swift-footed horse would travel for a hundred years without covering the distance completely. There would be the pleasure of Allah for the inmates of Paradise and He would never be annoyed with them.
جنت میں ایک ایسے درخت کے بیان میں کہ جس کے سائے میں چلنے والا سوار سو سال تک چلتا رہے گا پھر بھی اسے طے نہیں کرسکے گا۔
قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاکِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا
ابوحازم، نعمان بن ابی عیاش زرقی حضرت ابوسعید خدری ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ جس کے سائے میں چلنے والا عمدہ تیز رفتار گھوڑے کا سوار سو سال تک چل کر بھی اسے طے نہیں کرسکتا۔
This hadith has also been transmitted on the authority of Abu Sa'id al-Khudri that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) is reported to have said: In Paradise, there is a tree under the shadow of which a rider of a fine and swift-footed horse would travel for a hundred years without covering the distance completely. There would be the pleasure of Allah for the inmates of Paradise and He would never be annoyed with them.
اس بات کے بیان میں کہ اللہ جنت والوں سے اپنی رضا کا اعلان فرمائے گا اور اس بات کے بھی کہ اللہ ان سے کبھی ناراض نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ فَيَقُولُونَ لَبَّيْکَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْکَ فَيَقُولُ هَلْ رَضِيتُمْ فَيَقُولُونَ وَمَا لَنَا لَا نَرْضَی يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ فَيَقُولُ أَلَا أُعْطِيکُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِکَ فَيَقُولُونَ يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْئٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِکَ فَيَقُولُ أُحِلُّ عَلَيْکُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْکُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا
محمد بن عبدالرحمن بن سہم عبداللہ بن مبارک، مالک بن انس، ہارون بن سعید ایلی عبداللہ بن وہب، مالک ابن انس، زید بن اسلم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ جنت والوں سے فرمائے گا اے جنت والو! جنتی عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ہم حاضر ہیں اور نیک بختی اور بھلائی تیرے ہی قبصہ میں ہے پھر اللہ فرمائے گا کیا تم راضی ہوگئے ہو جنتی عرض کریں گے اے پروردگار ہم کیوں راضی نہ ہوں حالانکہ تو نے جو نعمتیں ہمیں عطا فرمائی ہیں وہ نعمتیں تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی عطا نہیں فرمائیں پھر اللہ فرمائے گا کیا میں تمہیں ان نعمتوں سے بھی بڑھ کر اور نعمت عطا نہ کروں جنتی عرض کریں گے اے پروردگار ان سے بڑھ کر اور کون سی نعمت ہوگی پھر اللہ فرمائے گا میں تم سے اپنی رضا اور خوشی کا اعلان کرتا ہوں اب اس کے بعد سے میں تم سے کبھی بھی ناراض نہیں ہوں گا۔
Abu Said al-Khudri reported that Allahs Apostle ﷺ said that Allah would say to the inmates of Paradise: O, Dwellers of Paradise, and they would say in response: At thy service and pleasure, our Lord, the good is in Thy Hand. He (the Lord) would say: Are you well pleased now? They would say: Why should we not be pleased, O Lord, when Thou hast given us what Thou hast not given to any of Thy creatures? He would, however, say: May I not give you (something) even more excellent than that? And they would say: O Lord, what thing can be more excellent than this? And He would say: I shall cause My pleasure to alight upon you and I shall never be afterwards annoyed with you.
اس بات کے بیان میں کہ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح کہ تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَائَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ کَمَا تَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ فِي السَّمَائِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم قاری، ابی حازم حضرت سہیل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالاخانے اس طرح دیکھیں گے کہ جس طرح تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hazim through another chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح کہ تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
قَالَ فَحَدَّثْتُ بِذَلِکَ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا کَمَا تَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ فِي الْأُفُقِ الشَّرْقِيِّ أَوْ الْغَرْبِيِّ
حضرت سہیل فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش ؓ سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں جس طرح تم چمکتے ستارے مشرقی اور مغربی کناروں میں دیکھتے ہو۔
This Arabic text is part of previous Hadeeth and not translated there.
اس بات کے بیان میں کہ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح کہ تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ
اسحاق بن ابراہیم، مخزومی وہیب حضرت ابوحازم ؓ سے ان دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی روایت کی طرح روایت نقل کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hazim through another chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح کہ تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَائَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ کَمَا تَتَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ مِنْ الْأُفُقِ مِنْ الْمَشْرِقِ أَوْ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ تِلْکَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَائِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ قَالَ بَلَی وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ
عبداللہ بن جعفر بن یحییٰ بن خالد معن مالک ہارون بن سعید ایلی عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، صفوان بن سلیم عطاء بن یسار حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت والے اپنے اوپر کے بالاخانہ والوں کو اس طرح دیکھیں گے کہ جس طرح تم مشرقی یا مغربی کناروں میں چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھتے ہو اس وجہ سے کہ جنت والوں کے درجات میں آپس میں تفاوت ہوگا صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا وہ انبیاء کے درجات ہوں گے کہ جن تک ان کے علاوہ کوئی نہیں پہنچ سکے گا آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کہ ان لوگوں کو بھی وہ درجات عطا کئے جائیں گے کہ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں اور اس کے رسولوں کی تصدیق کریں۔
Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The inmates of Paradise would see the inmates of the apartment over them just as you see the shining planets which remain in the eastern and the western horizon because of the superiority some have over others. They said: Allahs Messenger, would in these abodes of Apostles others besides them not be able to reach? He said: Yes, they will, by Him, in Whose hand is my life, those who believe in God and acknowledge the Truth, will reach them.
ان لوگوں کے بیان میں کہ جنہیں اپنے گھر اور مال کے بدلہ میں نبی ﷺ کا دیدار پیارا ہوگا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَکُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے سب سے زیادہ مجھے پیارے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے لیکن ان کی تمنا ہوگی کہ کاش کہ اپنے گھر والے اور مال کے بدلہ میں میرا دیدار کرلیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The people most loved by me from amongst my Ummah would be those who would come after me but everyone amongst them would have the keenest desire to catch a glimpse of me even at the cost of his family and wealth.
جنت میں ایک ایسے بازار کے بیان میں کہ جس میں جنتیوں کی نعمتوں اور ان کے حسن وجمال میں اضافہ ہوجائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا کُلَّ جُمُعَةٍ فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَرْجِعُونَ إِلَی أَهْلِيهِمْ وَقَدْ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا فَيَقُولُونَ وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا
ابوعثمان سعید بن عبدالجبار بصری حماد بن سلمہ ثابت بنانی حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک ایسا بازار ہے کہ جس میں جنتی لوگ ہر جمعہ کو آیا کریں گے پھر شمالی ہوا چلائی جائے گی جو کہ وہاں کا گردو غبار (جو کہ مشک و زعفران کی صورت میں ہوگا) جنتیوں کے چہروں اور ان کے کپڑوں پر اڑا کر ڈال دے گی جس سے جنیتوں کے حسن و جمال میں اور اضافہ ہوجائے گا پھر جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں گے اس حال میں کہ ان کے حسن و جمال میں اور اضافہ ہوچکا ہوگا تو وہ کہیں گے کہ ہمارے بعد تو تمہارے حسن و جمال میں اور اضافہ ہوگیا ہے وہ کہیں گے اللہ کی قسم ہمارے بعد تمہارے حسن و جمال میں بھی تو اور اضافہ ہوگیا ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: In Paradise there is a street to which they would come every Friday. The north wind will blow and would scatter fragrance on their faces and on their clothes and would add to their beauty and loveliness, and then they would go back to their family after having an added lustre to their beauty and loveliness, and their family would say to them: By Allah, you have been increased in beauty and loveliness after leaving us, and they would say: By Allah, you have also increased in beauty and loveliness after us.
اس بات کے بیان میں کہ جنت میں سب سے پہلا جو گروہ داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاکَرُوا الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَکْثَرُ أَمْ النِّسَائُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَی أَضْوَإِ کَوْکَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَائِ لِکُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَی مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَائِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ
عمروناقد یعقوب بن ابراہیم، ابن علیہ، یعقوب اسماعیل ابن علیہ ایوب حضرت محمد ؓ سے روایت ہے کہ لوگوں نے (اس بات پر) فخر کیا یا اس بات کا ذکر کیا کہ جنت میں زیادہ تعداد مردوں کی ہوگی یا عورتوں کی تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سب سے پہلا گروہ جو داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی اور وہ گروہ جو ان کے بعد جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح روشن ہوں گی ان میں سے ہر ایک جتنی کے لئے دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز گوشت کے پیچھے سے چمکے گا اور جنت میں کوئی آدمی بھی بیوی کے بغیر نہیں ہوگا۔
Muhammad reported that some (persons) stated with a sense of pride and some discussed whether there would be more men in Paradise or more women. It was upon this that Abu Hurairah (RA) reported that Abul Qasim (the Holy Prophet) ﷺ said: The (members) of the first group to get into Paradise would have their faces as bright as full moon during the night, and the next to this group would have their faces as bright as the shining stars in the sky, and every person would have two wives and the marrow of their shanks would glimmer beneath the flesh and there would be none without a wife in Paradise.
اس بات کے بیان میں کہ جنت میں سب سے پہلا جو گروہ داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَکْثَرُ فَسَأَلُوا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ
ابن ابی عمر سفیان، ایوب حضرت ابن سیرین روایت فرماتے ہیں کہ مرد اور عورت کے درمیان اس بات پر جھگڑا ہوا کہ جنت میں کن کی تعداد زیادہ ہوگی تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا ابوالقاسم نے فرمایا اور پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ جنت میں سب سے پہلا جو گروہ داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَی أَشَدِّ کَوْکَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَائِ إِضَائَةً لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْکُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمْ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَی خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَی صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَائِ
قتیبہ بن سعید، عبدالواحد ابن زیاد عمارہ بن قعقاع ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی اور اس گروہ کے بعد جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے ان کی صورتیں انتہائی چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح ہوں گی وہ (یعنی جنتی) نہ پیشاب کریں گے اور نہ پاخانہ اور نہ تھوکیں گے اور نہ ناک صاف کریں گے اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کا پسینہ مشک ہوگا اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگ رہا ہوگا اور ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی ہوں گی اور ان سب کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے اور وہ سب اپنے باپ آدم کی صورت پر ہوں گے اور ان کا قد آسمان میں ساٹھ ہاتھ کا ہوگا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters that Allahs Messenger ﷺ said: The (members of the) first group which would get into Paradise will have their faces as bright as stars in the sky. They would neither pass water, nor void excrement, nor will they suffer from catarrh, nor will they spit, and their combs would be made of gold, and their sweat will be musk, the fuel of their brazier will be aloes, and their wives will be large-eyed maidens and their form would be alike as one single person after the form of their father (Adam) sixty cubits tall.