منافقین کی صفات اور ان کے احکام کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 53 · 106 hadiths · Page 6 of 6

7124Sahih Muslim

اعمال کی کثرت اور عبادت میں پوری کوشش کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی حَتَّی انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ أَتَکَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ أَفَلَا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، زیاد بن علاقۃ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس طرح نماز پڑھی کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک سوج گئے تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا آپ ﷺ ایسی مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ ﷺ کے اگلے اور پچھلے گناہ (اگر بالفرض ہوں) معاف کردیئے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

Mughira bin Shubah reported that Allahs Apostle ﷺ worshipped so much that his feet were swollen. It was said to him: (Why do you undergo so much hardship despite the fact that Allah has pardoned for you your earlier and later sins? Thereupon he said: May I not (prove myself) to be a grateful servant (of Allah)?

7125Sahih Muslim

اعمال کی کثرت اور عبادت میں پوری کوشش کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی وَرِمَتْ قَدَمَاهُ قَالُوا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَ أَفَلَا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، سفیان، زیاد بن علاقہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اتنا قیام فرمایا کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک میں ورم آگیا صحابہ نے عرض کیا تحقیق اللہ آپ ﷺ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کرچکا ہے آپ نے فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں

This hadith has been transmitted on the authority of Mughira bin Shubah and the words are: Allahs Apostle ﷺ kept standing in prayer (for such long hours) that his feet were swollen. They (his Companions) said: Verily, Allah has pardoned for thee the earlier and the later of thine sins. Thereupon he said: Should I not prove myself to be a grateful servant (of Allah)?

7126Sahih Muslim

اعمال کی کثرت اور عبادت میں پوری کوشش کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی قَامَ حَتَّی تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَفَلَا أَکُونُ عَبْدًا شَکُورًا

ہارون بن معروف، ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، ابوصخر، ابن قسیط عروہ بن زبیر ؓ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ جب نماز پڑھتے تو اس قدر قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پھٹ جاتے عائشہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ ﷺ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیئے گئے ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عائشہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

Aisha reported that when Allahs Messenger ﷺ occupied himself in prayer, he observed such a (long) qiyam (posture of standing in prayer) that his feet were swollen. Aisha said: Allahs Messenger you do this (in spite of the fact) that your earlier and later sins have been pardoned for you? Thereupon, he said. Aisha should I not prove myself to be a thanksgiving servant (of Allah)?

7127Sahih Muslim

وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ بَابِ عَبْدِ اللَّهِ نَنْتَظِرُهُ فَمَرَّ بِنَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ فَقُلْنَا أَعْلِمْهُ بِمَکَانِنَا فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أُخْبَرُ بِمَکَانِکُمْ فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْکُمْ إِلَّا کَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا

ابوبکر بن ابی شیبہ وکیع، ابن نمیر، ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت شقیق سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ کے دروازہ پر ان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس سے یزید بن معاویہ نخعی کا گزر ہوا تو ہم نے کہا ( عبداللہ ؓ کو) ہمارے یہاں حاضر ہونے کی اطلاع دے دینا تھوڑی دیر بعد ہی حضرت عبداللہ ؓ ہمارے پاس تشریف لائے تو کہا مجھے تمہارے آنے کی اطلاع دی گئی اور مجھے تمہاری طرف آنے سے اس بات کے علاوہ کسی بات نے منع نہیں کیا کہ میں تمہیں تنگ دل کرنے کو پسند نہ کرتا تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے اکتا جانے کے خوف کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے وعظ و نصیحت کا ناغہ کرلیا کرتے تھے۔

Shaqiq reported: We were sitting at the door of Abdullah (b. Masud) waiting for him (to come out and deliver a sermon to us). It was at this time that there happened to pass by us Yazid bin Muawiyah an-Nakhai. We said: Inform him (Abdullah bin Masud) of our presence here. He went in and Abdullah bin Masud lost no time in coming out to us and said: I was informed of your presence here but nothing hindered me to come out to you but the fact that I did not like to bore you (by stuffing your minds with sermons) as Allahs Messenger ﷺ did not deliver us sermon on certain days fearing that it might prove to be boring for us.

7128Sahih Muslim

وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ مِنْجَابٌ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ

ابوسعید اشج ابن ادریس منجاب بن حارث تمیمی ابن مسہر اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، ابن ابی عمر سفیان، اعمش منجاب ابن مسہر اعمش، عمرو بن مرہ شقیق عبداللہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah through other chains of transmitters.

7129Sahih Muslim

وعظ ونصیحت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ قَالَ کَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُذَکِّرُنَا کُلَّ يَوْمِ خَمِيسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نُحِبُّ حَدِيثَکَ وَنَشْتَهِيهِ وَلَوَدِدْنَا أَنَّکَ حَدَّثْتَنَا کُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُحَدِّثَکُمْ إِلَّا کَرَاهِيَةُ أَنْ أُمِلَّکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ کَرَاهِيَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا

اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور ابن ابی عمر حضرت شقیق ابو وائل سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ہمیں ہر جمعرات کے دن وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے تو ان سے ایک آدمی نے کہا اے ابوعبدالرحمن ہم آپ کی حدیثوں اور باتوں کو پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں اور ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ ہمیں ہر روز وعظ و نصیحت کیا کریں تو انہوں نے کہا مجھے تمہارے اکتا جانے کے ڈر کے علاوہ کوئی بھی چیز احادیث روایت کرنے سے روکنے والی نہیں بیشک رسول اللہ ہمارے اکتا جانے کے خوف کی وجہ سے کچھ دنوں کے لئے وعظ و نصیحت کا ناغہ کرلیا کرتے تھے۔

Shaqiq bin Wiil reported that Abdullah used to give us sermon every Thursday. A person said: Abu Abdul Rahman, we love your talk and so we yearn (to listen to you) and earnestly desire that you should deliver us lecture every day. Thereupon he said: There is nothing to hinder me in giving you talk (every day) but the fact that you may be bored. Allahs Messenger ﷺ did not deliver sermons on certain days (fearing that we might be bored).