صلوة الاستسقاء کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ يَقُولُا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمُصَلَّی فَاسْتَسْقَی وَحَوَّلَ رِدَائَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، عباد بن تمیم، حضرت عبداللہ بن زید مازنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدگاہ کی طرف تشریف لائے اور پانی طلب کیا اور اپنی چادر کو پلٹا جب قبلہ کی طرف رخ فرمایا۔
Abdullah bin Zaid bin Mazini (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ went to the place of prayer and prayed for rain and turned round his mantle while facing the Qibla.
صلوة الاستسقاء کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمُصَلَّی فَاسْتَسْقَی وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَقَلَبَ رِدَائَهُ وَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن ابی بکر، حضرت عباد ؓ بن تمیم ؓ نے اپنے چچا سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدگاہ کی طرف نکلے اور پانی طلب کیا اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور چادر کو پلٹا اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
Ibn Tamim narrated on the authority of his uncle (Abdullah bin Zaid) that the Apostle of Allah ﷺ went out to the place of prayer and prayed for rain and faced towards Qibla, and turned round his mantle and prayed two rakahs.
صلوة الاستسقاء کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الْمُصَلَّی يَسْتَسْقِي وَأَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَائَهُ
یحییٰ بن یحیی، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، ابوبکر بن محمد بن عمرو، حضرت عبداللہ بن زید انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف تشریف لائے اور پانی طلب کیا اور جب آپ ﷺ نے دعا مانگنے کا ارادہ کیا تو قبلہ رخ ہوئے اور اپنی چادر کو پلٹا۔
Abdullah bin Zaid al-Ansari (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ went out to the place of prayer in order to offer prayer for rainfall. And when he intended to make supplication he faced Qibla and turned round his mantle.
صلوة الاستسقاء کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي فَجَعَلَ إِلَی النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَائَهُ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت عباد بن تمیم مازنی ؓ نے اپنے چچا سے جو اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے ہیں سے روایت کی ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ تشریف لائے پانی مانگنے کے لئے اور آپ ﷺ نے اپنی پشت مبارک لوگوں کی طرف کی اور قبلہ رخ ہو کر اللہ سے دعا مانگنے لگے اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں ادا کیں۔
Abbad bin Tamim Mazini heard his uncle, who was one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ , as saying: The Messenger of Allah ﷺ went out one day in order to pray for rain. He turned his back towards people, supplicated before Allah, facing towards Qibla, and turned his mantle round and then observed two rakahs of prayer.
استسقاء میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَائِ حَتَّی يُرَی بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکیر، شعبہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ دعا میں اپنے ہاتھ مبارک اس طرح اٹھائے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کی بغلیں دیکھی جاسکتی تھیں۔
Anas reported: I saw the Messenger of Allah ﷺ raising his hands (high enough) in supplication (for rain) that the whiteness of his armpits became visible.
استسقاء میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَی فَأَشَارَ بِظَهْرِ کَفَّيْهِ إِلَی السَّمَائِ
عبد بن حمید، حسن بن موسی، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے پانی طلب کیا اور اپنی ہتھیلیوں کی پشت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ prayed for rain pointing the back of his hands to the sky.
استسقاء میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْئٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَائِ حَتَّی يُرَی بَيَاضُ إِبْطَيْهِ غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الْأَعْلَی قَالَ يُرَی بَيَاضُ إِبْطِهِ أَوْ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، عبدالاعلی، سعید، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنے ہاتھوں کو اپنی کسی دعا میں بھی سوائے استسقاء کے اتنا بلند نہ کرتے تھے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاتی ہو۔
Anas reported that the Apostle of Allah ﷺ was not accustomed to raise his hands in any supplication he made except when praying for rain. (He would then raise [his hands] high enough) that the whiteness of his armpits became visible. Abdul Ala said that (he was in doubt whether it was) the whiteness of his armpit or armpits.
استسقاء میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا نے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ حَدَّثَهُمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ابن مثنی، یحییٰ بن سعید، ابن ابی عروبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ سے ایک دوسری سند کے ساتھ یہی حدیث نبی ﷺ سے روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.
استسقاء میں دعا مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيکِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ جُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ کَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَائِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَتْ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُغِثْنَا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا قَالَ أَنَسٌ وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَی فِي السَّمَائِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ قَالَ فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتْ السَّمَائَ انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ قَالَ فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا قَالَ ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِکَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَتْ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتْ السُّبُلُ فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِکْهَا عَنَّا قَالَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَوْلَنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَی الْآکَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ فَانْقَلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ قَالَ شَرِيکٌ فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ قَالَ لَا أَدْرِي
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، شریک بن ابی نمر، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی دارالقضا کی طرف والے دروازے سے جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا پھر عرض کیا، یا رسول اللہ! مویشی ہلاک اور راستے بند ہوگئے، اللہ سے دعا مانگیں کہ ہم پر بارش نازل کرے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی، فرمایا: اے اللہ! ہم پر بارش برسا! اے اللہ ہم پر بارش برسا! حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہم آسمان پر کوئی گھٹا یا بادل کا نام ونشان تک نہ دیکھتے تھے اور نہ ہمارے اور سلع کے درمیان کوئی گھر تھا اور نہ محلہ فرماتے ہیں کہ سلع کے پیچھے سے ڈھال کی طرح ایک چھوٹا سا بادل نمودار ہوا جب آسمان کے درمیان آیا تو پھیل گیا پھر برسا فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ایک ہفتہ تک ہمیں سورج دکھائی نہیں دیا۔ پھر آنے والے جمعہ میں ایک آدمی اسی دروازے سے داخل ہو اور رسول اللہ کھڑے خطبہ دے رہے تھے، وہ آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور عرض کرنے لگا، یا رسول اللہ ﷺ! مویشی ہلاک ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، اللہ سے دعا مانگیں کہ ہم سے بارش کو روک لے تو رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا اے اللہ ہمارے ارد گرد برسا نہ کہ ہم پر، اے اللہ ٹیلوں پر، بلندیوں پر، نالوں اور درختوں کے اگنے کی جگہ پر برسا! فرماتے ہیں کہ آسمان صاف ہوگیا اور ہم دھوپ میں چلتے ہوئے نکلے شریک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے عرض کیا کہ یہ شخص پہلے والا ہی تھا تو فرمایا میں نہیں جانتا۔
Anas bin Malik (RA) reported that a person entered the mosque through the door situated on the side of Daral-Qada during Friday (prayer) and the Messenger of Allah ﷺ was delivering the sermon while standing. He came and stood in front of the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, the camels died and the passages were blocked; so supplicate Allah to send down rain upon us. The Messenger of Allah ﷺ raised his hands and then said: (O Allah, send down rain upon us; O Allah, send down rain upon us; O Allah, send down rain upon us. Anas said: By Allah, we did not see any cloud or any patch of it, and there was neither any house or building standing between us and the (hillock) Sala. There appeared a cloud in the shape of a shield from behind it, and as it (came high) in the sky it spread and then there was a downpour of rain. By Allah, we did not see the sun throughout the week. Then (that very man) came on the coming Friday through the same door when the Messenger of Allah ﷺ was standing and delivering the sermon. He stood in front of him and said: Messenger of Allah, our animals died and the passages blocked. Supplicate Allah to stop the rain for us. The Messenger of Allah ﷺ again raised his hands and said: O Allah, let it (rain) fall in our suburbs and not on us, O Allah (send it down) on the hillocks and small mountains and the river-beds and at places where trees grow. The rain stopped, and as we stepped out we were walking in sun- shine. He (the narrator) said to Sharik: I asked Anas bin Malik (RA) if he was the same man. He said: I do not know.
استسقاء میں دعا مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَصَابَتْ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَکَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ وَفِيهِ قَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا قَالَ فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَی نَاحِيَةٍ إِلَّا تَفَرَّجَتْ حَتَّی رَأَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ وَسَالَ وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِجَوْدٍ
داؤد بن رشید، ولید بن مسلم، اوزاعی، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ میں لوگوں پر ایک سال قحط پڑا پس رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن ہمارے سامنے منبر پر بیٹھے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ اموال ہلاک ہوگئے اور اہل عیال بھوکے مرگئے باقی حدیث اوپر گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہمارے ارد گرد برسا نہ کہ ہمارے اوپر آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے جس طرف بھی اشارہ فرماتے ادھر کا بادل پھٹ جاتا یہاں تک کہ میں نے مدینہ کو گول ڈھال کی طرح دیکھا اور وادی قنات ایک مہینہ بھر بہتی رہی ہمارے پاس جو بھی آیا اس نے خوب بارش ہونے کی خبر دی۔
Anas bin Malik (RA) reported: The people were in the grip of famine during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ , and (once) as the Messenger of Allah ﷺ was delivering the sermon standing on the pulpit on Friday, a bedouin stood up and said: Messenger of Allah, the animals died and the children suffered starvation. The rest of the hadith is the same (and the words are) that he (the Holy Prophet) said: O Allah, send down rain in our suburbs but not on us. He (the narrator) said: To whichever directions he pointed with his hands, the clouds broke up and I saw Madinah like the opening of a (courtyard) and the stream of Qanat flowed for one month, and none came from any part (of Arabia) but with the news of heavy rainfall.
استسقاء میں دعا مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا وَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَکَتْ الْبَهَائِمُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَی فَتَقَشَّعَتْ عَنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً فَنَظَرْتُ إِلَی الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِکْلِيلِ
عبدالاعلی بن حماد، محمد بن ابی بکر مقدامی، معتمر، عبیداللہ، ثابت بنانی، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ آپ ﷺ کے آگے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے پکار کر عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ بارش بند کردی گئی درخت خشک ہوگئے اور جانور ہلاک ہوگئے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ بھی عبدالاعلی کی روایت سے ہے کہ بادل مدینہ سے پھٹ گیا اور ارد گرد برستا رہا اور مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہ برسا میں نے مدینہ کی طرف دیکھا تو وو درمیان میں گول دائرہ کی طرح معلوم ہوتا تھا۔
Anas bin Malik (RA) reported that while the Apostle of Allah ﷺ was delivering the sermon on Friday, people stood up before him and said in a loud voice: Apostle of Allah ﷺ , there is a drought and the trees have become yellow, the animals have died; and the rest of the hadith is the same, and in the narration transmitted by Abdul Ala the words are:" The clouds cleared from Madinah and it began to rain around it and not a single drop of rain fell in Madinah. And as I looked towards Madinah, I found it hollow like (the hollowness of) a basin.
استسقاء میں دعا مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ وَمَکَثْنَا حَتَّی رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ
ابوکریب، ابواسامہ، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے اسی طرح حدیث مروی ہے اور اضافہ یہ ہے کہ اللہ نے بادل اکٹھے کر دئے اور ہم ٹھہرے رہے یہاں تک کہ میں نے ایک مضبوط و طاقتور آدمی کو بھی دیکھا کہ اسے بھی اپنے اہل و عیال تک پہنچنے کی فکر لاحق ہوگئی تھی۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas but with this addition:" Allah gathered the clouds and as we (were obliged) to stay back I saw that even the strong man, impelled by a desire to go to his family, (could not do so)."
استسقاء میں دعا مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا جَائَ أَعْرَابِيٌّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ کَأَنَّهُ الْمُلَائُ حِينَ تُطْوَی
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ، حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے اس طرح بادل دیکھے گویا کہ ایک چادر لپیٹ دی گئی ہے۔
Ubaidullah bin Anas bin Malik (RA) heard (his father) Anas bin Malik (RA) as saying: A bedouin came to the Messenger of Allah ﷺ on Friday as he was (delivering the sermon on his) pulpit; and the rest of the hadith is the same but with this addition:" I saw the cloud clearing just as a sheet is folded."
استسقاء میں دعا مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ قَالَ فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ حَتَّی أَصَابَهُ مِنْ الْمَطَرِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا قَالَ لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَی
یحییٰ بن یحیی، جعفربن سلیمان، ثابت بنانی، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ بارش آگئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا کپڑا کھول دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ پر بارش کا پانی پہنچا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا فرمایا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی تازہ نعمت ہے۔
Anas (b. Malik) reported: It rained upon us as we were with the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ removed his cloth (from a part of his body) till the rain fell on it. We said: Messenger of Allah, why did you do this? He said: It is because it (the rainfall) has just come from the Exalted Lord.
آندھی اور بادل کے دیکھنے کے وقت پناہ مانگنے اور بارش کے وقت خوش ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ عُرِفَ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِکَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَکُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَی أُمَّتِي وَيَقُولُ إِذَا رَأَی الْمَطَرَ رَحْمَةٌ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، جعفربن محمد، عطاء بن ابی رباح، زوجہ نبی ﷺ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آندھی اور بارش کے دن آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر اس کے آثار معلوم ہوتے تھے کبھی فکر ہوتی اور کبھی جاتی رہتی، جب بارش ہوجاتی تو اس سے آپ ﷺ خوش ہوجاتے اور فکر چلی جاتی، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو، جب آپ ﷺ بارش کو دیکھتے تو فرماتے کہ یہ رحمت ہے۔
Ata bin Abi Rabah reported that he heard Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , as saying: When there was on any day windstorm or dark cloud (its effects) could be read on the face of the Messenger of Allah ﷺ , and he moved forward and backward (in a state of anxiety) ; and when it rained, he was delighted and it (the state of restlessness) disappeared. Aisha said: I asked him the reason of this anxiety and he said: I was afraid that it might be a calamity that might fall upon my Ummah, and when he saw rainfall he said: It is the mercy (of Allah).
آندھی اور بادل کے دیکھنے کے وقت پناہ مانگنے اور بارش کے وقت خوش ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُنَا عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتْ الرِّيحُ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ قَالَتْ وَإِذَا تَخَيَّلَتْ السَّمَائُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ فَعَرَفْتُ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ کَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا
ابوطاہر، ابن وہب، ابن جریج، عطاء بن رباح، زوجہ نبی ﷺ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی ﷺ فرماتے ( اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ) اے اللہ میں تجھ سے اس ہوا کی بھلائی مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی اور جو کچھ اس میں بھیجا گیا ہے اس کی بھی بہتری مانگتا ہوں اور اس کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر اور جو شر اس کے ذریعہ بھیجا گیا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں فرماتی ہیں اور جب آسمان پر گرد و چمک والا بادل ہوتا تو آپ ﷺ کا رنگ تبدیل ہوجاتا، کبھی باہر جاتے اور کبھی اندر آتے، آگے آتے اور کبھی پیچھے جاتے، جب بارش ہوجاتی تو گھبراہٹ آپ ﷺ سے دور ہوجاتی فرماتی ہیں کہ میں نے یہ حالت دیکھ کر آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! شاید یہ ویسا ہی ہو جیسا کہ قوم عاد نے کہا تھا، ( فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) جب انہوں نے اپنے سامنے بادل آتے دیکھے تو کہنے لگے یہ بادل ہم پر برسنے والے ہیں۔
Ata bin Rabah reported on the authority of Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , who said: Whenever the wind was stormy, the Apostle of Allah ﷺ used to say: O Allah! I ask Thee for what is good in it, and the good which it contains, and the good of that which it was sent for. I seek refuge with Thee from what is evil in it, what evil it contains, and the evil of that what it was sent for; and when there was a thunder and lightning in the sky, his colour underwent a change, and he went out and in, backwards and forwards; and when the rain came, he felt relieved, and I noticed that (the sign of relief) on his face. Aisha asked him (about it) and he said: It may be as the people of Ad said: When they saw a cloud formation coming to their valley they said:" It is a cloud which would give us rain" (Quran, xlvi. 24).
آندھی اور بادل کے دیکھنے کے وقت پناہ مانگنے اور بارش کے وقت خوش ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِکًا حَتَّی أَرَی مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا کَانَ يَتَبَسَّمُ قَالَتْ وَکَانَ إِذَا رَأَی غَيْمًا أَوْ رِيحًا عُرِفَ ذَلِکَ فِي وَجْهِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَی النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَائَ أَنْ يَکُونَ فِيهِ الْمَطَرُ وَأَرَاکَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِکَ الْکَرَاهِيَةَ قَالَتْ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَکُونَ فِيهِ عَذَابٌ قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ وَقَدْ رَأَی قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا
ہارون بن معروف، ابن وہب، عمرو بن حارث، ح، ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، ابونضر، سلیمان بن یسار، حضرت عائشہ ؓ زوجہ نبی ﷺ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو اس طرح کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ میں نے آپ ﷺ کے حلق کا کوا دیکھ لیا ہو، آپ ﷺ تبسم فرماتے تھے فرماتی ہیں جب آپ ﷺ بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ ﷺ کے چہرہ پر دیکھا جاتا تھا، سیدہ ؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جب وہ بادل کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید پر کہ اس میں بارش ہوگی اور میں نے دیکھا کہ جب آپ ﷺ بادل دیکھتے ہیں تو آپ ﷺ کے چہرہ پر فکر کے آثار ہوتے ہیں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے اطمینان نہیں ہوتا کہ اس میں عذاب ہے یا نہیں ہے تحقیق ایک قوم کو ہوا کے ذریعہ عذاب دیا گیا اور جب اس قوم نے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے ( هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) کہ ہم پر بارش برسنے والی ہے۔
Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , reported: I never saw Allahs Messenger ﷺ laugh to such an extent that I could see his uvula-whereas he used to smile only-and when he saw dark clouds or wind, (the signs of fear) were depicted on his face. I said: Messenger of Allah, I find people being happy when they ace the dark cloud in the hope that it would bring rain, but I find that when you see that (the cloud) there is an anxiety on your face. He said: Aisha, I am afraid that there may be a calamity in it, for a people was afflicted with wind, when the people saw the calamity they said:" It is a cloud which would give us rain" (Quran. xlvi. 24).
بادصبا اور تیزندھی کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِکَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، مجاہد، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میری مدد باد صبا سے کی گئی ہے اور قوم عاد دبور (آندھی) سے ہلاک کی گئی۔
Ibn Abbas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: I have been helped by the east wind and the Ad were destroyed by the west wind.
بادصبا اور تیزندھی کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ح، ابن عمر بن محمد بن ابان جعفی، ابن سلیمان، حضرت ابن عباس ؓ سے اس حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abbas through another chain of transmitters.