ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَی بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِکَيْ أَنْظُرَ إِلَی لَعِبِهِمْ ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّی أَکُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ حَرِيصَةً عَلَی اللَّهْوِ
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ میرے حجرے کے دروازہ پر کھڑے ہیں اور حبشی اپنے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ کی مسجد میں کھیل رہے تھے اور آپ ﷺ نے مجھے اپنی چادر میں چھپالیا تاکہ میں ان کی کھیل کود دیکھوں، پھر آپ ﷺ میری وجہ سے کھڑے رہے یہاں تک کہ میں خود واپس چلی گئی تم اندازہ لگاؤ کہ کم سن کھیل کود پر حریص لڑکی کتنی دیر تک کھڑی رہ سکتی ہے؟
Aisha reported: By Allah, I remember the Messenger of Allah ﷺ standing on the door of my apartment screening me with his mantle enabling me to see the sport of the Abyssinians as they played with their daggers in the mosque of the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) kept standing for my sake till I was satiated and then I went back; and thus you can well imagine how long a girl tender of age who is fond of sports (could have watched it).
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَائِ بُعَاثٍ فَاضْطَجَعَ عَلَی الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا وَکَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمَّا قَالَ تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَائَهُ خَدِّي عَلَی خَدِّهِ وَهُوَ يَقُولُ دُونَکُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّی إِذَا مَلِلْتُ قَالَ حَسْبُکِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاذْهَبِي
ہارون بن سعید ایلی، یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو، محمد بن عبدالرحمن، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میرے پاس دو لڑکیاں میدان بعاث کے اشعار گا رہی تھیں، آپ ﷺ بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ پھیرلیا، حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے تو انہوں نے ان کو جھڑک دیا اور فرمایا شیطان کا باجا رسول اللہ ﷺ کے پاس؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: چھوڑ دو! جب ابوبکر غافل ہوئے تو میں نے ان کو آنکھ سے اشارہ کیا تو وہ چلی گئیں اور عید کا دن تھا اور حبشی ڈھالوں اور نیزوں سے کھیل رہے تھے پس میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا تم ان کو دیکھنا چاہتی ہو؟ فرماتی ہیں جی ہاں، پس آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا اور میرا رخسار آپ ﷺ کے رخسار پر تھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے اے بنی ارفدہ! کھیل میں مشغول رہو یہاں تک کہ میرا جی بھر گیا آپ ﷺ نے فرمایا کافی ہے تیرے لئے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا چلی جاؤ۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ came (in my apartment) while there were two girls with me singing the song of the Battle of Buath. He lay down on the bed and turned away his face. Then came Abu Bakr (RA) and he scolded me and said: Oh! this musical instrument of the devil in the house of the Messenger of Allah ﷺ ! The Messenger of Allah ﷺ turned towards him and said: Leave them alone. And when he (the Holy Prophet) became inattentive, I hinted them and they went out, and it was the day of Id and negroes were playing with shields and spears. (I do not remember) whether I asked the Messenger of Allah ﷺ or whether he said to me if I desired to see (that sport). I said: Yes. I stood behind him with his face parallel to my face, and he said: O Banu Arfada, be busy (in your sports) till I was satiated. He said (to me): Is that enough? I said: Yes. Upon this he asked me to go.
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَی مَنْکِبِهِ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَی لَعِبِهِمْ حَتَّی کُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنْ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ
زہیر بن حرب، جریر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حبشی عید کے دن مسجد میں آکر کھیلنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے مجھے بلوایا میں نے اپنا سر آپ ﷺ کے شانہ مبارک پر رکھا اور میں نے ان کے کھیل کی طرف دیکھنا شروع کیا یہاں تک کہ خود ہی جب ان کو دیکھنے سے میرا جی بھر گیا تو واپس آگئی۔
Aisha reported that some Abyssinians came and gave a demonstration of armed fight on the Id day in the mosque. The Apostle of Allah ﷺ invited me (to see that fight). I placed my head on his shoulder and began to see their sport till it was I who turned away from watching them.
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرَا فِي الْمَسْجِدِ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ، ح، ابن نمیر، محمد بن بشر دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں مسجد کا ذکر نہیں۔
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters but (the narrators) did not make mention of the mosque.
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَعُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ عَلَی الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ عَطَائٌ فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ قَالَ وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ بَلْ حَبَشٌ
ابراہیم بن دینار، عقبہ بن مکرم، عبد بن حمید، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے کھیلنے والوں کا کھیل دیکھنے کا ارادہ کیا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کھڑے ہوگئے اور میں دروازے پر کھڑی ہو کر آپ ﷺ کے کندھوں اور کانوں کے درمیان سے ان کو مسجد میں کھیلتے ہوئے دیکھتی رہی، عطا کہتے ہیں کہ وہ فارسی یا حبشی تھے ابن عتیق نے مجھے بتایا کہ وہ حبشی تھے۔
Aisha said that she sent a message to the players (of this armed fight) saying: I like to see them (fighting). She further said: The Messenger of Allah ﷺ stood up and I stood at the door (behind him) and saw (this fight) between his ears and his shoulders they played in the mosque. Ata (one of the narrators) said: Were they Persians or Abyssinians? Ibn Atiq told me they were Abyssinians.
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَهْوَی إِلَی الْحَصْبَائِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ يَا عُمَرُ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حبشی رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنے نیزوں سے کھیل رہے تھے کہ عمر بن خطاب ؓ حاضر ہوئے تو کنکریوں کی طرف جھکے تاکہ ان کے ساتھ ان کو ماریں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمر! ان کو چھوڑ دے۔
Abu Hurairah (RA) reported: While the Abyssinians were busy playing with their arms in the presence of the Messenger of Allah ﷺ Umar bin Khattab came there. He bent down to take up pebbles to throw at them (in order to make them go off). The Messenger of Allah ﷺ said to him: Umar, leave them alone.