حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ شَهِدْتُ صَلَاةَ الْفِطْرِ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّهُمْ يُصَلِّيهَا قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ يَخْطُبُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ يُجَلِّسُ الرِّجَالَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ يَشُقُّهُمْ حَتَّی جَائَ النِّسَائَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَکَ عَلَی أَنْ لَا يُشْرِکْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّی فَرَغَ مِنْهَا ثُمَّ قَالَ حِينَ فَرَغَ مِنْهَا أَنْتُنَّ عَلَی ذَلِکِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ لَمْ يُجِبْهُ غَيْرُهَا مِنْهُنَّ نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يُدْرَی حِينَئِذٍ مَنْ هِيَ قَالَ فَتَصَدَّقْنَ فَبَسَطَ بِلَالٌ ثَوْبَهُ ثُمَّ قَالَ هَلُمَّ فِدًی لَکُنَّ أَبِي وَأُمِّي فَجَعَلْنَ يُلْقِينَ الْفَتَخَ وَالْخَوَاتِمَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن جریج، حسن بن مسلم، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ ابوبکر و عثمان ؓ کے ساتھ عیدالفطر کی نماز میں حاضر ہوا سب نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اللہ کے نبی ﷺ منبر سے اترے گویا کہ میں اب ان کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ فرما کر لوگوں کو بٹھا رہے تھے پھر ان کے درمیان سے گزرتے ہوئے عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال تھے اور آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَا ءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰ ي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَ يْ ً ا) 60۔ الممتحنہ: 12) جب اس آیت کی تلاوت سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم سب اس کا اقرار کرتی ہو؟ ان میں سے ایک عورت کے علاوہ کسی نے جواب نہ دیا، اس نے کہا جی ہاں اے اللہ کے نبی ﷺ! اور راوی نہیں جانتا کہ وہ اس وقت کون عورت تھی فرماتے ہیں پھر انہوں نے صدقہ دینا شروع کیا بلال ؓ نے اپنا کپڑا بچھا یا اور کہا لے آؤ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں پس انہوں نے اپنے چھلے اور انگوٹھیاں بلال ؓ کے کپڑے میں ڈالنا شروع کردیں۔
Ibn Abbas reported: I participated in the Fitr prayer with the Apostle of Allah ﷺ and Abu Bakr, Umar and Uthman, and all of them observed this prayer before the Khutbah, and then he (the Holy Prophet) delivered the sermon. Then the Apostle of Allah ﷺ descended (from the pulpit) and I (perceive) as if I am seeing him as he is commanding people with his hand to sit down. He then made his way through their (assembly) till he came to the women. Bilal (RA) was with him. He then recited (this verse): O Prophet, when believing women come to thee giving thee a pledge that they will not associate aught with Allah" (lx. 12) till he finished (his address to) them and then said: Do you conform to it (what has been described in the verse)? Only one woman among them replied: Yes, Apostle of Allah ﷺ , but none else replied. He (the narrator) said: It could not be ascertained who actually she was. He (the Holy Prophet) exhorted them to give alms. Bilal (RA) stretched his cloth and then said: Come forward with alms. Let my father and mother be taken as ransom for you. And they began to throw rings and ringlets in the cloth of Bilal (RA) .
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا أَشْهَدُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَةِ قَالَ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَی أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَائَ فَأَتَاهُنَّ فَذَکَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْخُرْصَ وَالشَّيْئَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ایوب، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی بعد میں خطبہ دیا اور خیال کیا کہ آپ ﷺ نے عورتوں کو نہیں سنایا پھر آپ ﷺ عورتوں کے پاس تشریف لائے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور بلال ؓ اپنا کپڑا بچھانے والے تھے اور عورتوں میں سے کسی نے انگوٹھی، کسی نے چھلا اور کسی نے کوئی اور چیز ڈالنا شروع کیا۔
Ibn Abbas reported: I bear testimony to the Messenger of Allah ﷺ offering prayer before Kbutba. He (after saying prayer) delivered the Kutba, and he found that the women could not hear it, so he came to them and exhorted them and preached them and commanded them to give alms, and Bilal (RA) had stretched his cloth and the women were throwing rings, earrings and other things.
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع زہرانی، حماد، ح، یعقوب دورقی، اسماعیل بن ابراہیم، حضرت ایوب سے اسی حدیث کی سند ذکر کردی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّی فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَأَتَی النِّسَائَ فَذَکَّرَهُنَّ وَهُوَ يَتَوَکَّأُ عَلَی يَدِ بِلَالٍ وَبِلَالٌ بَاسِطٌ ثَوْبَهُ يُلْقِينَ النِّسَائُ صَدَقَةً قُلْتُ لِعَطَائٍ زَکَاةَ يَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ لَا وَلَکِنْ صَدَقَةً يَتَصَدَّقْنَ بِهَا حِينَئِذٍ تُلْقِي الْمَرْأَةُ فَتَخَهَا وَيُلْقِينَ وَيُلْقِينَ قُلْتُ لِعَطَائٍ أَحَقًّا عَلَی الْإِمَامِ الْآنَ أَنْ يَأْتِيَ النِّسَائَ حِينَ يَفْرُغُ فَيُذَکِّرَهُنَّ قَالَ إِي لَعَمْرِي إِنَّ ذَلِکَ لَحَقٌّ عَلَيْهِمْ وَمَا لَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَلِکَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے اور نماز سے ابتداء کی خطبہ سے پہلے پھر لوگوں کو خطبہ دیا جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو منبر سے اتر آئے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے اور آپ ﷺ نے حضرت بلال کے ہاتھ پر سہارا لگائے ہوئے ان کو نصیحت کی اور حضرت بلال اپنا کپڑا پھیلانے والے تھے عورتیں اس میں صدقہ ڈالتی تھیں راوی کہتے ہیں میں نے عطاء سے عرض کیا کہ عیدالفطر کے دن کا صدقہ؟ فرمایا نہیں یہ اور صدقہ تھا جو وہ اس وقت دیتی تھیں ایک عورت پہلے ڈالتی تھی اور پھر مزید ڈالتی تھیں اور دوسرے راوی کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کیا اب بھی امام کے لئے فارغ ہونے کے بعد عورتوں کو نصیحت کرنے کے لئے جانے کا حق ہے؟ فرمایا مجھے اپنی جان کی قسم یہ ان پر حق ہے اور ان کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
Jabir bin Abdullah reported: The Apostle of Allah ﷺ stood up on the day of Id al-Fitr and observed prayer. And he commenced the prayer before the sermon. He then delivered the sermon. When the Apostle of Allah ﷺ had finished (the sermon) he came down from (the pulpit), and made his way to the women and exhorted them (to do good acts), and he was leaning on the hand of Bilal (RA) . Bilal (RA) had stretched his cloth in which women were throwing alms. I (one of the narrators) said to Ata (the other narrator): It must be Zakat on the day of Fitr. He (Ata) said: No. It was alms (which) they were giving on that occasion, and a woman gave her ring, and then others gave, and then others gave. I said to Ata: Is it right now for the Imam to come to the women when he has finished (his address to the men) that he should exhort them (to good deeds)? He said: (Why not) by my life, it is right for them (to do so). What is the matter with them that they do not do it now?
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْعِيدِ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلَالٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَی اللَّهِ وَحَثَّ عَلَی طَاعَتِهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَهُمْ ثُمَّ مَضَی حَتَّی أَتَی النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَکَّرَهُنَّ فَقَالَ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّيْنِ فَقَالَتْ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاةَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ قَالَ فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ مِنْ أَقْرِطَتِهِنَّ وَخَوَاتِمِهِنَّ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک بن ابوسلیمان، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید کے دن نماز کے لئے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی خطبے سے پہلے پھر بلال ؓ پر ٹیک لگائے کھڑے ہوگئے، اللہ پر تقوی کا حکم دیا اور اس کی اطاعت کی ترغیب دی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی پھر عورتوں کے پاس جا کر ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں، عورتوں کے درمیان سے ایک سرخی مائل سیاہ رخساروں والی عورت نے کھڑے ہو کر عرض کیا کیوں یا رسول اللہ ﷺ؟ فرمایا: کیونکہ تم شکوہ زیادہ کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری، حضرت جابر فرماتے ہیں وہ اپنے زیوروں کو صدقہ کرنا شروع ہوگئیں حضرت بلال ؓ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
Jabir bin Abdullah reported: I observed prayer with the Messenger of Allah ﷺ on the Id day. He commenced with prayer before the sermon without Adhan and Iqama. He then stood up leaning on Bilal (RA) , and he commanded (them) to be on guard (against evil for the sake of) Allah, and he exhorted (them) on obedience to Him, and he preached to the people and admonished them. He then walked on till he came to the women and preached to them and admonished them, and asked them to give alms, for most of them are the fuel for Hell. A woman having a dark spot on the cheek stood up and said: Why is it so, Messenger of Allah? ﷺ He said: For you grumble often and show ingratitude to your spouse. And then they began to give alms out of their ornaments such as their earrings and rings which they threw on to the cloth of Bilal (RA) .
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَا لَمْ يَکُنْ يُؤَذَّنُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا يَوْمَ الْأَضْحَی ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ حِينٍ عَنْ ذَلِکَ فَأَخْبَرَنِي قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ لَا أَذَانَ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ حِينَ يَخْرُجُ الْإِمَامُ وَلَا بَعْدَ مَا يَخْرُجُ وَلَا إِقَامَةَ وَلَا نِدَائَ وَلَا شَيْئَ لَا نِدَائَ يَوْمَئِذٍ وَلَا إِقَامَةَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، ابن عباس، جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن اذان نہ تھی راوی کہتا ہے کہ میں نے تھوڑی دیر بعد اس بارے میں سوال کیا تو حضرت عطاء نے فرمایا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ نے خبر دی کہ عید الفطر کے دن نماز کے لئے اذان نہیں دی جاتی تھی امام کے نکلنے کے وقت اور نہ بعد میں، نہ اقامت اور نہ اذان، نہ اور کچھ، اس دن اذان اور نہ اقامت ہوتی ہے۔
Ibn Abbas and Jaibir bin Abdullah al-Ansari reported: There was no Adhan on the (occasion) of Id-ul-Fitr and Id-ul-Adha. I (Ibn Juraij) said: I asked him after some time about it. He (Ata, one of the narrators) said: Jabir bin Abdullah al-Ansari told me: There is neither any Adhan on Id-ul-Fitr when the Imam comes out, nor even after his coming out; their is neither lqama nor call nor anything of the sort of calling on that day and nor Iqama.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ فَلَا تُؤَذِّنْ لَهَا قَالَ فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِکَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ وَإِنَّ ذَلِکَ قَدْ کَانَ يُفْعَلُ قَالَ فَصَلَّی ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت ابن زبیر کو جب ان کے لئے بیعت لی گئی تو پیغام بھیجا کہ عید الفطر کی نماز کے لئے اذان نہیں دی جاتی پس آپ اس کے لئے اذان نہ دلوائیں پس ابن زبیر نے اس کے لئے اذان نہ دلوائی اور اسی طرح یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے کہ اسی وجہ سے وہ یہی کرتے تھے پس ابن زبیر نے بھی خطبہ سے پہلے ہی نماز عید پڑھائی۔
Ata reported that Ibn Abbas sent (him) to Ibn Zubair at the commencement of the oath of allegiance to him (for Caliphate saying): As there is no Adhan on Id-ul-Fitr, so you should not pronounce it. Ibn Zubair did not pronounce Adhan on that day. He (Ibn Abbas) also sent him (with this message) that sermon (is to be delivered) after the prayer, and thus it was done. So ibn Zubair observed prayer before Khutbah.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَيْنِ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ
یحییٰ بن یحیی، حسن بن ربیع، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحیی، ابوالاحوص، سماک، حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نماز عیدین رسول اللہ کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ سے زیادہ بغیر اذان اور اقامت ادا کی۔
Jabir bin ahadeeth said: I prayed with the Messenger of Allah ﷺ prayers on two Ids more than once or twice without there being Adhan and Iqama.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ کَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ و عمر ؓ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ادا کرتے تھے۔
Ibn Umar reported that the Apostle of Allah ﷺ , Abu Bakr (RA) and Umar used to observe the two Id prayers before the sermon.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَی وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّی صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ کَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَکَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ کَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِکَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَکَانَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا وَکَانَ أَکْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَائُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَلَمْ يَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی کَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّی أَتَيْنَا الْمُصَلَّی فَإِذَا کَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَی مِنْبَرًا مِنْ طِينٍ وَلَبِنٍ فَإِذَا مَرْوَانُ يُنَازِعُنِي يَدَهُ کَأَنَّهُ يَجُرُّنِي نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّهُ نَحْوَ الصَّلَاةِ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِکَ مِنْهُ قُلْتُ أَيْنَ الِابْتِدَائُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ لَا يَا أَبَا سَعِيدٍ قَدْ تُرِکَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ کَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَأْتُونَ بِخَيْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثَلَاثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، داود بن قیس، عیاض بن عبداللہ بن سعد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر و عید الاضحی کے دن تشریف لاتے تو نماز سے ابتداء فرماتے جب نماز ادا کرلیتے تو کھڑے ہوتے اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور صحابہ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوتے پس اگر آپ ﷺ کو کسی لشکر کے روانہ کی ضرورت ہوتی تو ان سے اس کا ذکر فرماتے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ضرورت ہوتی تو ان سے اس کا ذکر فرماتے اور فرماتے صدقہ کرو، صدقہ کرو، صدقہ کرو اور عورتیں زیادہ صدقہ کرتیں پھر آپ ﷺ واپس آتے، اسی طرح ہوتا رہا یہاں تک کہ مروان بن حکم حکمران ہوا تو راوی کہتے ہیں کہ میں مروان کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے عید گاہ کی طرف آیا تو کثیر بن صلت نے مٹی اور اینٹوں سے منبر بنایا تو مروان نے مجھے سے ہاتھ چھڑوانا چاہا گویا کہ وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ رہا تھا اور میں اس کو نماز کی طرف کھینچ رہا تھا جب میں نے اس کی یہ کیفیت دیکھی تو میں نے کہا نماز سے ابتداء کہاں گئی تو اس نے کہا اے ابوسعید جو تو جانتا ہے وہ بات اب چھوڑی جا چکی ہے، میں نے کہا ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبصہ قدرت میں میری جان ہے تم میری معلومات سے زیادہ نہیں پیش کرسکتے میں نے تین بار یہی بات دہرائی پھر واپس آگیا۔
Abu Said al-Khudri reported that the Messenger of Allah ﷺ used to go out on the day of Adha and on the day of Fitr and commenced the prayer. And after having observed his prayer and pronounced the salutation, he stood up facing people as they were seated at their places of worship. And if he intended to send out an army he made mention of it to the people, and if he intended any other thing besides it, he commanded them (to do that). He used to say (to the people): Give alms, give alms, give alms, and the majority that gave alms was of women. He then returned and this (practice) remained (in vogue) till Marwan bin al- Hakam (came into power). I went out hand in hand with Marwan till we came to the place of worship and there Kathir bin Salt had built a pulpit of clay and brick. Marwan began to tug me with his hand as though he were pulling me towards the pulpit, while I was pulling him towards the prayer. When I saw him doing that I said: What has happened to the practice of beginning with prayer? He said: No, Abu Said, what you are familiar with has been abandoned. I thereupon said (three times and went back): By no means, by Him in Whose hand my life is, you are not doing anything better than what I am familiar with.
عیدین کے دن عورتوں کے عید گاہ کی طرف نکلنے کے ذکر اور مردوں سے علیحدہ خطبہ میں حاضر ہونے کی اباحت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَمَرَنَا تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، محمد، ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ ہم کنواری، جوان اور پردے والیاں عیدین کی نماز کے لئے جائیں اور حائضہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی عیدگاہ سے دور رہیں۔
Umm Atiyya said: He (the Apostle of Allah ﷺ ) commanded us that we should take out unmarried women and purdah-observing ladies for Id prayers, and he commanded the menstruating women to remain away from the place of worship of the Muslims.
عیدین کے دن عورتوں کے عید گاہ کی طرف نکلنے کے ذکر اور مردوں سے علیحدہ خطبہ میں حاضر ہونے کی اباحت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ کُنَّا نُؤْمَرُ بِالْخُرُوجِ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْمُخَبَّأَةُ وَالْبِکْرُ قَالَتْ الْحُيَّضُ يَخْرُجْنَ فَيَکُنَّ خَلْفَ النَّاسِ يُکَبِّرْنَ مَعَ النَّاسِ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، عاصم احول، حفصہ بنت سیرین سے روایت ہے کہ ہم کنواری اور جوان لڑکیوں کو عیدین کی نماز کے لئے جانے کا حکم دیا جاتا تھا اور حیض والی نکلتی تھیں لیکن لوگوں سے پیچھے رہتی تھیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیر کہتی تھیں۔
Umm Atiyya reported: We were commanded to bring out on old days purdah-observing ladies and those unmarried, and menstruating women came out but remained behind people and pronounced takbir (Allah-o-Akbar) along with them.
عیدین کے دن عورتوں کے عید گاہ کی طرف نکلنے کے ذکر اور مردوں سے علیحدہ خطبہ میں حاضر ہونے کی اباحت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَی الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلَاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَا يَکُونُ لَهَا جِلْبَابٌ قَالَ لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا
عمرو ناقد، عیسیٰ بن یونس، ہشام، حفصہ بنت سیرین، حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدا لفطر و عید الاضحی کے دن ہمیں اور پردہ نشین اور جوان عورتوں کو نکلنے کا حکم دیا، بہر حال حائضہ نماز سے علیحدہ رہ کر بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے جس کے پاس چادر نہ ہو تو؟ آپ نے فرمایا چاہیے کہ اس کی بہن اپنی چادر اس کو پہنا دے۔
Umm Atiyya reported: The Messenger of Allah ﷺ commanded us to bring out on Id-ul-Fitr and Id-ul-Adha young women, menstruating women and purdah-observing ladies, menstruating women kept back from prayer, but participated in goodness and supplication of the Muslims. I said: Messenger of Allah, one of us does not have an outer garment (to cover her face and body). He said: Let her sister cover her with her outer garment.
عید گاہ میں نماز عید سے پہلے اور بعد میں نماز نہ پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمَ أَضْحَی أَوْ فِطْرٍ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي خُرْصَهَا وَتُلْقِي سِخَابَهَا
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، عدی، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی اور عید الفطر کے دن تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں اور آپ ﷺ نے نہ ان سے پہلے نماز پڑھی اور نہ بعد میں پھر آپ ﷺ عورتوں کے پاس آئے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال تھے آپ ﷺ نے ان کو صدقہ کا حکم دیا تو عورتوں نے اپنی بالیاں اور ہار ڈالنے شروع کر دئیے۔
Ibn Abbas reported that the Messenger of Allah ﷺ went out on the day of Adha or Fitr and observed two rakahs, and did not observe prayer (at that place) before and after that. He then came to the women along with Bilal (RA) and commanded them to give alms and the women began to give their rings and necklaces.
عید گاہ میں نماز عید سے پہلے اور بعد میں نماز نہ پڑھنے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عمروناقد، ابن ادریس، ابوبکر بن نافع، محمد بن بشار، شعبہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کردی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
عیدین کی نماز میں قرأت مسنونہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ مَا کَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَی وَالْفِطْرِ فَقَالَ کَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَاقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ضمرہ، سعید مازنی، حضرت عبیداللہ ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ابو واقد لیثی سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ عیدالاضحی اور عیدالفطر میں کیا پڑھتے تھے تو انہوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ ان دونوں میں (ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ اور اقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ) پڑھتے تھے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that (his father) Umar (RA) bin Khattab asked Abu Waqid al-Laithi what the Messenger of Allah ﷺ used to recite on Id-ul-Adha and Id-ul-Fitr. He said: He used to recite in them:" Qaf. By the Glorious Quran" (Surah 1)," The Hour drew near, and the moon was rent asunder" (Surah liv.).
عیدین کی نماز میں قرأت مسنونہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَمَّا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ الْعِيدِ فَقُلْتُ بِاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ
اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی، فلیح، ضمرہ سعید، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابو واقد لیثی سے روایت ہے کہ مجھ سے عمر بن خطاب ؓ نے پوچھا رسول اللہ ﷺ عید کے دن کیا پڑھا کرتے تھے میں نے کہا (ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ اور اِقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ) پڑھتے تھے۔
Utba reported that his father Waqid al-Laithi said: Umar (RA) bin Khattab asked me what the Messenger of Allah ﷺ recited on Id day. I said:" The Hour drew near" and Qaf. By the Glorious Quran".
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَکْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ قَالَتْ وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِکَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ تشریف لائے اور میرے پاس دو انصاری لڑکیاں یوم بعاث کا واقعہ جو انصار نے نظم کیا تھا گا رہی تھیں اور وہ پیشہ ور گوین (گانے والیاں) نہ تھیں تو حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا کیا شیطان کی تان رسول اللہ ﷺ کے گھر میں؟ اور یہ عید کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر قوم کے لئے عید ہوتی ہے اور یہ ہماری خوشی کا دن ہے۔
Aisha reported: Abu Bakr (RA) came to see me and I had two girls with me from among the girls of the Ansar and they were singing what the Ansar recited to one another at the Battle of Buath. They were not, however, singing girls. Upon this Abu Bakr (RA) said: What! (the playing of) this wind instrument of Satan in the house of the Messenger of Allah ﷺ and this too on Id day? Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Abu Bakr, every people have a festival and it is our festival (so let them play on).
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِيهِ جَارِيَتَانِ تَلْعَبَانِ بِدُفٍّ
یحییٰ بن یحیی، ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام اسی حدیث کی دوسری سند نقل کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ لڑکیاں دف بجا رہی تھیں۔
This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters, but there the words are:" Two girls were playing upon a tambourine."
ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًی تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّی بِثَوْبِهِ فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَکْرٍ فَکَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُ وَقَالَ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَکْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ وَقَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَی الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، ابن شہاب، عروہ، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ ان کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس ایام منیٰ میں دو لڑکیاں گا رہی تھیں اور دف بجاتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر مبارک کو ڈھانپ رکھا تھا، ابوبکر ؓ نے ان دونوں کو جھڑکا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا کپڑا ہٹا کر فرمایا: اے ابوبکر ان کو چھوڑ دے یہ عید کے ایام ہیں اور فرماتی ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے چھپایا ہوا تھا اور میں حبشیوں کا کھیل دیکھ رہی تھی اور میں لڑکی تھی تم اندازہ لگاؤ جو کم سن لڑکی کھیل تماشے کی طلبگار ہو وہ کتنی دیر تک تماشا دیکھے گی۔
Aisha reported that Abu Bakr (RA) came to her and there were with her two girls on Adha days who were singing and beating the tambourine and the Messenger of Allah ﷺ had wrapped himself with his mantle. Abu Bakr (RA) scolded them. The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) uncovered (his face) and said: Abu Bakr, leave them alone for these are the days of Id. And Aisha said: I recapitulate to my mind the fact that once the Messenger of Allah ﷺ screened me with his mantle and I saw the sports of the Abyssinians, and I was only a girl, and so you can well imagine how a girl of tender age is fond of watching the sport.