Sahih Muslim 2068

عیدین کا بیان

2068Sahih Muslim

ایام عید میں ایسا کھیل کھیلنے کی اجازت کے بیان میں کہ جس میں گناہ نہ ہو۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَعُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّهَا قَالَتْ لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ عَلَی الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ عَطَائٌ فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ قَالَ وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ بَلْ حَبَشٌ

ابراہیم بن دینار، عقبہ بن مکرم، عبد بن حمید، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے کھیلنے والوں کا کھیل دیکھنے کا ارادہ کیا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ کھڑے ہوگئے اور میں دروازے پر کھڑی ہو کر آپ ﷺ کے کندھوں اور کانوں کے درمیان سے ان کو مسجد میں کھیلتے ہوئے دیکھتی رہی، عطا کہتے ہیں کہ وہ فارسی یا حبشی تھے ابن عتیق نے مجھے بتایا کہ وہ حبشی تھے۔

Aisha said that she sent a message to the players (of this armed fight) saying: I like to see them (fighting). She further said: The Messenger of Allah ﷺ stood up and I stood at the door (behind him) and saw (this fight) between his ears and his shoulders they played in the mosque. Ata (one of the narrators) said: Were they Persians or Abyssinians? Ibn Atiq told me they were Abyssinians.