جن کافروں کو پہلے اسلام دیا جا چکا ہو ایسے کافروں کو دوبارہ اسلام کی دعوت دیے بغیر ان سے جنگ کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيَّ إِنَّمَا کَانَ ذَلِکَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَی سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ قَالَ يَحْيَی أَحْسِبُهُ قَالَ جُوَيْرِيَةَ أَوْ قَالَ الْبَتَّةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِي ذَاکَ الْجَيْشِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، سلیم بن احضر، حضرت ابن عون ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع ؓ کو لکھا اور ان سے قتال سے قبل کافروں کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے لکھا کہ یہ بات ابتداء اسلام میں تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بنی مصطلق پر حملہ کیا اس حال میں کہ وہ بیخبر تھے اور ان کے جانور پانی پی رہے تھے تو آپ ﷺ نے ان کے جنگجو مردوں کو قتل کیا اور باقیوں کو قید کرلیا اور اس دن حضرت جویریہ ؓ آپ ﷺ کو ملیں راوی کہتا ہے کہ میرا گمان ہے کہ حضرت جویریہ ؓ حارث کی بیٹی ہیں اور یہ حدیث مجھے ابن عمر ؓ نے بیان کی کیونکہ وہ اس لشکر میں تھے۔
Ibn Aun reported: I wrote to Nafi inquiring from him whether it was necessary to extend (to the disbelievers) an invitation to accept (Islam) before meeting them in fight. He wrote (in reply) to me that it was necessary in the early days of Islam. The Messenger of Allah ﷺ made a raid upon Banu Mustaliq while they were unaware and their cattle were having a drink at the water. He killed those who fought and imprisoned others. On that very day, he captured Juwairiya bint al-Harith. Nafi said that this tradition was related to him byAbdullah bin Umar (RA) who (himself) was among the raiding troops.
جن کافروں کو پہلے اسلام دیا جا چکا ہو ایسے کافروں کو دوبارہ اسلام کی دعوت دیے بغیر ان سے جنگ کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَلَمْ يَشُکَّ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث منقول ہے اور اس میں ہے کہ حضرت جویریہ حارث کی بیٹی ہیں اور شک نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Aun and the name of Juwairiya bint al-Harith was mentioned beyond any doubt.
لشکر کا امیر بنانے اور اسے وصیت اور جہاد کے آداب وغیرہ کے احکام دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَائً
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، سفیان، اسحاق ابن ابراہیم، حضرت یحییٰ بن آدم ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سفیان نے ہمیں یہ حدیث بیان کی اور کہا کہ یہ حدیث انہوں نے حضرت علقمہ بن مرثد نے ہمیں لکھوائی۔
Translation(English) is not available.
لشکر کا امیر بنانے اور اسے وصیت اور جہاد کے آداب وغیرہ کے احکام دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَی جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بِتَقْوَی اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ثُمَّ قَالَ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللَّهِ اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَمْثُلُوا وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّکَ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَادْعُهُمْ إِلَی ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَی دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِکَ فَلَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَی الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَکُونُونَ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُکْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَی الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَکُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْئِ شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَسَلْهُمْ الْجِزْيَةَ فَإِنْ هُمْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَکُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّهِ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَکِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَکَ وَذِمَّةَ أَصْحَابِکَ فَإِنَّکُمْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَکُمْ وَذِمَمَ أَصْحَابِکُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوکَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَی حُکْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَی حُکْمِ اللَّهِ وَلَکِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَی حُکْمِکَ فَإِنَّکَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُکْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ وَزَادَ إِسْحَقُ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ عَنْ يَحْيَی بْنِ آدَمَ قَالَ فَذَکَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ يَحْيَی يَعْنِي أَنَّ عَلْقَمَةَ يَقُولُهُ لِابْنِ حَيَّانَ فَقَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
عبداللہ بن ہاشم، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی آدمی کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر بناتے تو آپ ﷺ اسے خاص طور پر اللہ سے ڈرنے اور جو ان کے ساتھ ہوں ان کے ساتھ مسلمان (مجاہدین) کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کرو عہد شکنی نہ کرو اور مثلہ (یعنی کسی کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل نہ بگاڑی جائے) نہ کرو اور کسی بچے کو قتل نہ کرو اور جب تمہارا اپنے دشمن مشرکوں سے مقابلہ ہوجائے تو ان کو تین باتوں کی دعوت دینا وہ ان میں سے جس کو بھی قبول کرلیں تو ان کے ساتھ جنگ سے رک جانا پھر انہیں اسلام کی دعوت دو تو اگر وہ تیری دعوت اسلام کو قبول کرلیں تو ان سے جنگ نہ کرنا پھر ان کو دعوت دینا کہ اپنا شہر چھوڑ کر مہاجرین کے گھروں میں چلے جائیں اور ان کو خبر دیدیں کہ اگر وہ اس طرح کرلیں تو جو مہاجرین کو مل رہا ہے وہ انہیں بھی ملے گا اور ان کی وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں اور اگر وہ اس سے انکار کردیں تو انہیں خبر دے دو کہ پھر ان پر دیہاتی مسلمانوں کا حکم ہوگا اور ان پر اللہ کے وہ احکام جاری ہوں گے جو کہ مومنوں پر جاری ہوتے ہیں اور انہیں جہاد کے بغیر مال غنیمت اور مال فئے میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا اور اگر وہ تمہاری دعوت قبول کرلیں تو تم بھی ان سے قبول کرو اور ان سے جنگ نہ کرو اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ کی مدد کے ساتھ ان سے قتال کرو اور جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرلو اور وہ قلعہ والے اللہ اور رسول کو کسی بات پر ضامن بنانا چاہیں تو تم ان کے لئے نہ اللہ کے ضامن اور نہ ہی اللہ کے نبی ﷺ کو ضامن بنانا بلکہ تم اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ضامن بنانا کیونکہ تمہارے لئے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہد سے پھرجانا اس بات سے آسان ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے عہد کو توڑو اور جب تم کسی قلعہ والوں کو محاصرہ کرلو اور وہ قلعہ والے یہ چاہتے ہوں کہ تم انہیں اللہ کے حکم کے مطابق قلعہ سے نکالو تو تم اللہ کے حکم کے مطابق نہ نکالو بلکہ انہیں اپنے حکم کے مطابق نکالو کیونکہ تم اس بات کو نہیں جانتے کہ تمہاری رائے اور اجتہاد اللہ کے حکم کے مطابق ہے یا نہیں۔
It has been reported from Sulaiman bin Buraid through his father that when the Messenger of Allah ﷺ appointed anyone as leader of an army or detachment he would especially exhort him to fear Allah and to be good to the Muslims who were with him. He would say: Fight in the name of Allah and in the way of Allah. Fight against those who disbelieve in Allah. Make a holy war, do not embezzle the spoils; do not break your pledge; and do not mutilate (the dead) bodies; do not kill the children. When you meet your enemies who are polytheists, invite them to three courses of action. If they respond to any one of these, you also accept it and withold yourself from doing them any harm. Invite them to (accept) Islam; if they respond to you, accept it from them and desist from fighting against them. Then invite them to migrate from their lands to the land of Muhajirs and inform them that, if they do so, they shall have all the privileges and obligations of the Muhajirs. If they refuse to migrate, tell them that they will have the status of Bedouin Muslims and will be subjected to the Commands of Allah like other Muslims, but they will not get any share from the spoils of war or Fai except when they actually fight with the Muslims (against the disbelievers). If they refuse to accept Islam, demand from them the Jizya. If they agree to pay, accept it from them and hold off your hands. If they refuse to pay the tax, seek Allahs help and fight them. When you lay siege to a fort and the besieged appeal to you for protection in the name of Allah and His Prophet, do not accord to them the guarantee of Allah and His Prophet, but accord to them your own guarantee and the guarantee of your companions for it is a lesser sin that the security given by you or your companions be disregarded than that the security granted in the name of Allah and His Prophet ﷺ be violated When you besiege a fort and the besieged want you to let them out in accordance with Allahs Command, do not let them come out in accordance with His Command, but do so at your (own) command, for you do not know whether or not you will be able to carry out Allahs behest with regard to them.
لشکر کا امیر بنانے اور اسے وصیت اور جہاد کے آداب وغیرہ کے احکام دینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا أَوْ سَرِيَّةً دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سُفْيَانَ
حجاج بن شاعر، عبدالصمد بن عبدالوارث، شعبہ، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی کو امیر بنا کر یا کوئی سریہ بھیجتے تو آپ ﷺ اسے وصیت فرماتے۔
Sulaiman bin Buraida reported on the authority of his father that when Allahs Messenger ﷺ sent an Amir with a detachment he called him and advised him. The rest of the hadith is the same.
لشکر کا امیر بنانے اور اسے وصیت اور جہاد کے آداب وغیرہ کے احکام دینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّائُ عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا
ابراہیم، محمد بن عبدالوہاب، حسین بن ولید حضرت شعبہ سے اسی طرح حدیث منقول ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Shubahh.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابوبکر، ابواسامہ، برید بن عبداللہ، ابی بردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے صحابہ ؓ میں سے کسی کو کسی کام کے لئے بھیجتے تو آپ ﷺ فرماتے کہ لوگوں کو بشارت سناؤ اور متنفر نہ کرو اور لوگوں سے آسانی والا معاملہ کرو اور تنگی والا معاملہ نہ کرو۔
It has been narrated on the authority of Abu Musa that when the Messenger of Allah ﷺ deputed any of his Companions on a mission, he would say: Give tidings (to the people); do not create (in their minds) aversion (towards religion); show them leniency and do not be hard upon them.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، شعبہ، حضرت سعید بن ابی بردہ ؓ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو اور حضرت معاذ ؓ کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا کہ آسانی والا معاملہ کرنا اور تنگی والا معاملہ نہ کرنا اور ان کو بشارت سنانا اور متنفر نہ کرنا اور آپس میں ایک دوسرے کی اطاعت کرنا اور اختلاف نہ کرنا۔
It has also been narrated by Sad bin Abu Burda through his father through his grandfather that the Prophet ﷺ of Allah ﷺ sent him and Muadh (on a mission) to the Yemen, and said (by way of advising them): Show leniency (to the people); dont be hard upon them; give them glad tidings (of Divine favours in this world and the Hereafter); and do not create aversion. Work in collaboration and dont be divided.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ کِلَاهُمَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا
محمد بن عباد، سفیان، عمرو، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی خلف، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن زید بن ابی انسیہ، سعید بن ابی بردہ، اپنے والد سے، جدہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی شعبہ کی حدیث کی طرح منقول ہے اور اس زید بن ابی انیس کی حدیث میں (وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا) کے الفاظ ذکر نہیں کئے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Buraida but for the last two words.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَسَکِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، ابی التیاح، انس، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن سعید، محمد بن ولید، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی التیاح، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں سے آسانی والا معاملہ کرنا اور ان کو تنگی میں نہ ڈالنا اور لوگوں کو سکون دینا اور ان کو متنفر نہ کرنا۔
The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) has been reported by Anas bin Malik (RA) to have said: Show leniency; do not be hard; give solace and do not create aversion.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي أَبَا قُدَامَةَ السَّرَخْسِيَّ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ فَقِيلَ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، ابواسامہ، زہیر بن حرب، عبیداللہ بن سعید، یحیی، قطان، عبیداللہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر عبیداللہ بن نافع، ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ اگلے اور پچھلے لوگوں کو قیامت کے دن جمع فرمائے گا تو ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: When Allah will gather together, on the Day of Judgment, all the earlier and later generations of mankind, a flag will be raised (to mark off) every person guilty of breach of faith, and it will be announced that this is the perfidy of so and so, son of so and so (to attract the attention of people to his guilt).
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
ابوالربیع عتکی، حماد، ایوب، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، عفان، صخر بن جویریہ، نافع، ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اسی حدیث کی طرح حدیث نقل فرمائی۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through some other Chains of transmitters.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْغَادِرَ يَنْصِبُ اللَّهُ لَهُ لِوَائً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ أَلَا هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی کی وجہ سے ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of the same narrator, with the wording: Allah will set up a flag for every person guilty of breach of faith on the Day of Judgment, and it will be announced: Look, this is the perfidy of so and so.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حمزہ، سالم، ابنی عبداللہ، ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا
Ibn Umar (RA) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، بشر بن خالد، محمد ابن جعفر، شعبہ، سلیمن، ابی وائل، عبداللہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔
Abdullah reported Allahs Prophet ﷺ as saying: There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment, and it would be said: Here is the perfidy of so and so.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ح و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شیل، عبیداللہ بن سعید، عبدالرحمن، شعبہ، حضرت شعبہ ؓ سے ان سندوں سے روایت منقول ہے اور عبدالرحمن کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں کہ کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with a slight variation of wording.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم، یزید بن عبدالعزیز، اعمش، شقیق، عبداللہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس کی وجہ سے وہ پہچانا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی ہے۔
It has been narrated on the authority ofAbdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: There will be for every perfidious person on the Day of Judgment a flag by which he will be recognised. It will be announced: Here is the breach of faith of so and so.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ
محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا جس کی وجہ سے وہ پہچانا جائے گا۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ having said this: There would be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment by which he will be recognised.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُلَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید، عبدالرحمن، شعبہ، خلید، ابی نضر، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن اس کی سرین کے پاس ایک جھنڈا ہوگا۔
It is narrated on the authority of Abu Said that the Messenger of Allah ﷺ said: On the Day of Judgment there will be a flag fixed behind the buttocks of every person guilty of the breach of faith.
آسانی والا معاملہ اختیار کرنے اور نفرت والا معاملہ ترک کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَائٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ أَلَا وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ
زہیر بن حرب، عبدالصمد، عبدالوارث، مستمر بن ریان، ابونضرہ، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر عہد شکن کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا اور اسے اس کی عہد شکنی کے برابر بلند کیا جائے گا آگاہ رہو کہ امیر عامہ سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Said that the Messenger of Allah ﷺ said: On the Day of Judgment there will be a flag for every person guilty of the breach of faith. It will be raised in proportion to the extent of his guilt; and there is no guilt of treachery more serious than the one committed by the ruler of men.