مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، صالح بن کیسان، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ ارشاد فرماتی ہیں کہ حضر اور سفر میں دو دو رکعتیں فرض کی گئیں تھیں تو سفر کی نماز برقرار رکھی گئی اور حضر کی نماز میں زیادتی کردی گئی۔
Aisha, the wife of the Messenger of Allah ﷺ , reported: The prayer was prescribed as two rakahs, two rakahs both in journey and at the place of residence. The prayer while travelling remained as it was (originally prescribed), but an addition was made in the prayer (observed) at the place of residence.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ حِينَ فَرَضَهَا رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَتَمَّهَا فِي الْحَضَرِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَی الْفَرِيضَةِ الْأُولَی
ابو طاہر و حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ ؓ رسول اللہ کی زوجہ مطہرہ ارشاد فرماتی ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے نماز کی دو رکعتیں فرض فرمائیں پھر اس نماز کو حضر میں پورا فرمایا اور سفر کی نماز کو پہلی فرضیت پر ہی برقرار رکھا۔
Aisha, the wife of the Messenger of Allah ﷺ , said Allah prescribed the prayer as two rakahs, then it was completed (to four rakahs) at the place of residence, but was retained in the same position in journey as it was first made obligatory.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الصَّلَاةَ أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَکْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ فِي السَّفَرِ قَالَ إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ کَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ
علی بن خشرم، ابن عیینہ، زہری، عروہ، عائشہ فرماتی ہیں کہ پہلے نماز کی دو رکعتیں فرض کی گئی تھیں تو سفر کی نماز کو اسی طرح برقرار رکھا اور حضر کی نماز کو پورا کردیا گیا زہری کہتے ہیں کہ میں نے عروہ سے کہا کہ حضرت عائشہ سفر میں پوری نماز کیوں پڑھتی ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہ نے اس کی وہی تاویل کی جیسے حضرت عثمان نے تاویل کی۔
Aisha reported: The prayer was prescribed as consisting of two rakahs, the prayer in travelling remained the same, but the prayer at the place of residence was completed. (Zuhri said he asked Urwa why Aisha said prayer in the complete form during journey, and he replied that she interpreted the matter herself as Uthman did.)
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ عَنْ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ لَيْسَ عَلَيْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَکُمْ الَّذِينَ کَفَرُوا فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْکُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوکریب و زہیر بن حرب و اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن ادریس، ابن جریج، ابن عمار، عبداللہ، یعلی بن امیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓ بن خطاب ؓ سے عرض کیا کہ ( لَيْسَ عَلَيْکُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَکُمْ الَّذِينَ کَفَرُوا فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ) تم پر کوئی حرج نہیں کہ اگر تم نماز میں قصر کرو شرط یہ ہے کہ تمہیں کافروں سے فتنہ کا ڈر ہو اور اب تو لوگ امن میں ہیں تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یہ صدقہ ہے اللہ تعالیٰ نے تم پر صدقہ کیا ہے تو تم اللہ کے صدقہ کو قبول کرو۔ (یعنی قصر نماز پڑھو)
Yahya bin Umayya said: I told Umar bin al-Khattab that Allah had said: "You may shorten the prayer only if you fear that those who are unbelievers may afflict you" (Quran, iv. 101), whereas the people are now safe. He replied: I wondered about it in the same way as you wonder about it, so I asked the Messenger of Allah ﷺ about it and he said: It is an act of charity which Allah has done to you, so accept His charity.00000
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ عَنْ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ
محمد بن ابوبکر مقدامی، یحییٰ بن جریج، عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی عمار، عبداللہ بن یعلی بن امیہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
Yala bin Umayya reported: I said to Umar bin al-Khattab, and the rest of the hadlth is the same.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَکْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَکْعَةً
یحییٰ بن یحییٰ و سعید بن منصور و ابوربیع و قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، بکیر بن اخنس، مجاہد، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے حضر میں چار رکعتیں سفر میں دو رکعتیں اور خوف میں ایک رکعت فرض فرمائی ہے۔
Ibn Abbas reported:
Allah has prescribed the prayer through the word of your Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as four rakahs when resident, two when travelling, and one when danger is present.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمُسَافِرِ رَکْعَتَيْنِ وَعَلَی الْمُقِيمِ أَرْبَعًا وَفِي الْخَوْفِ رَکْعَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ و عمرو ناقد، قاسم بن مالک، عمرو قاسم بن مالک مزنی، ایوب بن عائذطائی، بکیر بن اخنس، مجاہد، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک سے مسافر پر نماز کی دو رکعتیں اور مقیم پر چار رکعتیں اور خوف میں ایک رکعت فرض فرمائی ہے۔
Ibn Abbas reported:
Allah has prescribed the prayer by the tongue of your Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as two rakahs for the traveller, four for the resident, and one in danger.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ مُوسَی بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَيْفَ أُصَلِّي إِذَا کُنْتُ بِمَکَّةَ إِذَا لَمْ أُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ رَکْعَتَيْنِ سُنَّةَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی و ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، موسیٰ بن سلمہ ہذلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ جب میں مکہ میں ہوں تو مجھے کیسے نماز پڑھنی پڑے گی تو انہوں نے فرمایا کہ ابا القاسم کی سنت مبارکہ دو رکعتیں ہیں۔
Musa bin Salama Hudhali said: I asked Ibn Abbas (RA) : How should I say prayer when I am in Makkah, and when I do not pray along with the Imam? He said: Two rakahs (of prayer) is the Sunnah of Abul-Qasim ﷺ .
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
محمد بن منہال ضریر، یزید بن زریع، سعید بن ابی عروبہ، محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ ؓ سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Abu Qatadah (RA) with the same chain of transmitters.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَکَّةَ قَالَ فَصَلَّی لَنَا الظُّهْرَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّی جَائَ رَحْلَهُ وَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَهُ فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ نَحْوَ حَيْثُ صَلَّی فَرَأَی نَاسًا قِيَامًا فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَائِ قُلْتُ يُسَبِّحُونَ قَالَ لَوْ کُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَلَمْ يَزِدْ عَلَی رَکْعَتَيْنِ حَتَّی قَبَضَهُ اللَّهُ وَصَحِبْتُ أَبَا بَکْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَی رَکْعَتَيْنِ حَتَّی قَبَضَهُ اللَّهُ وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَی رَکْعَتَيْنِ حَتَّی قَبَضَهُ اللَّهُ ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَی رَکْعَتَيْنِ حَتَّی قَبَضَهُ اللَّهُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، عیسیٰ بن حفص بن عاصم اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر ؓ کے ساتھ تھا حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں نماز ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ آئے اور ہم بھی ان کے ساتھ آئے یہاں تک کہ ایک جگہ آکر وہ بھی بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے تو ان کی تو جہ اس طرف ہوئی جس جگہ پر نماز پڑھی تھی اس جگہ انہوں نے کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھا تو انہوں نے فرمایا یہ سب لوگ کیا کر رہے ہیں میں نے کہا یہ لوگ سنتیں پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں بھی سنتیں پڑھتا تو میں نماز ہی پوری پڑھاتا، پھر فرمانے لگے، اے بھتیجے! میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا تو آپ ﷺ نے دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا اور میں حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ بھی اس دار فانی سے رخصت ہوگئے اور میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ بھی اس دار فانی سے رخصت ہوگئے اور میں حضرت عثمان کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ وہ بھی اس دار فانی سے رخصت ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کے حیاۃ طبیہ بہترین نمونہ ہے۔
Hafs bin Asim said: I accompanied Ibn Umar on the road to Makkah and he led us in two rakahs at the noon prayer, then he went forward and we too went along with him to a place where he alighted, and he sat and we sat along with him, and he cast a glance to the side where he said prayer and he saw people standing and asked: What are they doing? I said: They are engaged in glorifying Allah, offering Sunnah prayer. He said: If I had done so I would have perfected my prayer; O my nephew! I accompanied the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and he made no addition to two rakahs, till Allah called him. I accompanied Abu Bakr (RA) and he made no addition to two rakahs till Allah caused him to die. I accompanied Umar and he made no addition to two rakahs till Allah caused him to die. I accompanied Uthman and he made no addition to two rakahs, till Allah caused him to die, and Allah has said: "There is a model pattern for you in the Messenger of Allah" (al-Quran, xxxiii. 21).
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ مَرِضْتُ مَرَضًا فَجَائَ ابْنُ عُمَرَ يَعُودُنِي قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ فَمَا رَأَيْتُهُ يُسَبِّحُ وَلَوْ کُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
قتیبہ بن سعید، یزید بن زریع، عمر بن محمد، حفص بن عاصم فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو حضرت ابن عمر ؓ میری عیادت کے لئے تشریف لائے، میں نے ان سے سفر میں سنتوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں رہا ہوں تو میں نے آپ ﷺ کو سنتیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور اگر میں سنتیں پڑھتا تو پوری پڑھتا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں تمہارے لئے بہترین نمونہ ہے۔
Hafs bin Asim reported: I fell ill and ibn Umar came to inquire after my health, and I asked him about the glorification of Allah (i. e. prayer) while travelling. Thereupon he said: I accompanied the Messenger of Allah ﷺ on a journey but I did not see him glorifying Him, and were I to glorify (Him), I would have completed the prayer. Allah, the Exalted, has said: "Verily there is a model pattern for you in the Messenger of Allah."
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّی الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَکْعَتَيْنِ
خلف بن ہشام، ابوربیع زہرانی، قتیبہ بن سعید، حماد، ابن زید، زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، اسماعیل، ایوب ابی قلابہ، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں نماز ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ said four rakahs in the noon prayer while at Madinah, but he offered two rakahs in the afternoon prayer at Dhul-Hulaifa.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَکْعَتَيْنِ
سعید بن منصور، سفیان، محمد بن منکدر، ابراہیم بن میسرہ، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی چار رکعتیں پڑھیں اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز کی دو رکعتیں پڑھیں۔
Anas bin Malik (RA) is reported to have said: I observed four rakahs in the noon prayer with the Messenger of Allah ﷺ at Madinah, and said two rakahs in the afternoon prayer at Dhul-Hulaifa.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ کِلَاهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ شُعْبَةُ الشَّاکُّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشار، غندر، ابوبکر بن محمد بن جعفر، شعبہ، یحییٰ بن یزید بنائی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے قصر نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ کی مسافت میں سفر کرتے تو دو رکعت نماز پڑھتے۔ راوی شعبہ کو شک ہے کہ میل کا لفظ ہے یا فرسخ کا۔
Yahya bin Yazid al-Hunai reported: I asked Anas bin Malik (RA) about shortening of prayer. He said: When the Messenger of Allah ﷺ had covered a distance of three miles or three farsakh (Shubah, one of the narrators, had some doubt about it) he observed two rakahs.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ إِلَی قَرْيَةٍ عَلَی رَأْسِ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ صَلَّی بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَکْعَتَيْنِ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا أَفْعَلُ کَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
زہیر بن حرب و محمد بن بشار، ابن مہدی، زہیر، عبدالرحمن، حضرت جبیر بن نفیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں شرجیل بن سمط کے ایک گاؤں کی طرف نکلا جو کہ سترہ یا اٹھا رہ میل کی مسافت پر تھا تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں، میں نے ان سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھیں میں نے ان سے کہا تو انہوں نے کہا کہ میں اسی طرح کرتا ہوں جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے دیکھا ہے۔
Jubair bin Nufair reported: I went along with Shurahbil bin al-Simt to a village which was situated at a distance of seventeen or eighteen miles, and he said only two rakahs of prayer. I said to him (about it) and he said: I saw Umar observing two rakahs at Dhul-Hulaifa and I (too) said to him (about it) and he said: I am doing the same as I saw the Messenger of Allah ﷺ doing. (This hadith has been transmitted by Shubah with the same chain of narrators and it is narrated from Simt, and the name of Shurahbil has not been mentioned, and he said that he had gone to a place called Dumin, situated at a distance of eighteen miles from Hims.)
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ عَنْ ابْنِ السِّمْطِ وَلَمْ يُسَمِّ شُرَحْبِيلَ وَقَالَ إِنَّهُ أَتَی أَرْضًا يُقَالُ لَهَا دُومِينَ مِنْ حِمْصَ عَلَی رَأْسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابن سمط، شعبہ ؓ نے اس سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ایک روایت میں راوی نے کہا کہ وہ ایسی زمین میں آئے جسے (دُومِينَ ) کہا جاتا ہے جس کی مسافت اٹھارہ میل ہے۔
This hadith has been transmitted by Shubah with the same chain of narrators and it is narrated from Simt, and the name of Shurahbil has not been mentioned, and he said that he had gone to a place called Dumin, situated at a distance of eighteen miles from Hims.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَی مَکَّةَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ حَتَّی رَجَعَ قُلْتُ کَمْ أَقَامَ بِمَکَّةَ قَالَ عَشْرًا
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، یحییٰ بن ابی اسحاق، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف نکلے تو آپ ﷺ دو دو رکعت پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ واپس لوٹ آئے، میں نے عرض کیا آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں کتنا ٹھہرے؟ آپ نے فرمایا دس (روز)۔
Anas bin Malik (RA) reported: We went out from Madinah to Makkah with the Messenger of Allah ﷺ and he prayed two rakahs at each time of prayer till we returned to Madinah. I said: For how long did he stay in Makkah? He said: (For) ten (days).
تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ
قتیبہ، ابوعوانہ، ابوکریب، ابن علیہ، یحییٰ بن ابی اسحاق، حضرت انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی۔
A hadith like this has been narrated by Anas by another chain of transmitters.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا خَرَجْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَی الْحَجِّ ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَهُ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، یحییٰ بن ابی اسحاق، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ منورہ سے حج کے ارادہ سے نکلے پھر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
Yahya bin Abu Ishaq reported: I heard Anas bin Malik (RA) say: We went out for Pilgrimage from Madinah. The rest is the same.
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ الثَّوْرِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْحَجَّ
ابن نمیر، ابوکریب، ابواسامہ ثوری، یحییٰ بن ابی اسحاق، انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی اور حج کا ذکر نہیں کیا۔
A hadith like this has been transmitted by Anas, but no mention has been made of Pilgrimage.