ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 1 of 23

93Sahih Muslim

ایمان اور اسلام اور احسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیر کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ کَهْمَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا کَهْمَسٌ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ قَالَ کَانَ أَوَّلَ مَنْ قَالَ فِي الْقَدَرِ بِالْبَصْرَةِ مَعْبَدٌ الْجُهَنِيُّ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَاجَّيْنِ أَوْ مُعْتَمِرَيْنِ فَقُلْنَا لَوْ لَقِينَا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُ عَمَّا يَقُولُ هَؤُلَائِ فِي الْقَدَرِ فَوُفِّقَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ دَاخِلًا الْمَسْجِدَ فَاکْتَنَفْتُهُ أَنَا وَصَاحِبِي أَحَدُنَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ صَاحِبِي سَيَکِلُ الْکَلَامَ إِلَيَّ فَقُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّهُ قَدْ ظَهَرَ قِبَلَنَا نَاسٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ وَيَتَقَفَّرُونَ الْعِلْمَ وَذَکَرَ مِنْ شَأْنِهِمْ وَأَنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنْ لَا قَدَرَ وَأَنَّ الْأَمْرَ أُنُفٌ قَالَ فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِکَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي بَرِيئٌ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ بُرَآئُ مِنِّي وَالَّذِي يَحْلِفُ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَوْ أَنَّ لِأَحَدِهِمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا فَأَنْفَقَهُ مَا قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ حَتَّی يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ لَا يُرَی عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُکْبَتَيْهِ إِلَی رُکْبَتَيْهِ وَوَضَعَ کَفَّيْهِ عَلَی فَخِذَيْهِ وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنْ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّکَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنْ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ الْإِيمَانِ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ الْإِحْسَانِ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاکَ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ السَّاعَةِ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ قَالَ فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَتِهَا قَالَ أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا وَأَنْ تَرَی الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَائَ الشَّائِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ لِي يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنْ السَّائِلُ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاکُمْ يُعَلِّمُکُمْ دِينَکُمْ

ابوخیثمہ، زہیر بن حرب، وکیع، کہمس، عبداللہ بن بریدہ، یحییٰ بن یعمر سے دو سلسلوں کے ساتھ روایت ہے اور دونوں سلسلوں میں کہمس راوی ہیں کہ سب سے پہلے بصرہ میں معبد جہنی نے انکار تقدیر کا قول کیا یحییٰ کہتے ہیں کہ اتفاقا میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری ساتھ ساتھ حج یا عمرہ کرنے گئے اور ہم نے آپس میں کہہ لیا تھا کہ اگر کسی صحابی سے ملاقات ہوئی تو ان سے تقدیر الٰہی کا انکار کرنے والوں کا مقولہ دریافت کریں گے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت ابن عمر ؓ سے ملاقات ہوگئی آپ مسجد میں داخل ہو رہے تھے ہم دونوں نے دائیں بائیں سے گھیر لیا چونکہ میرا خیال تھا کہ میرا ساتھی سلسلہ کلام میرے ہی سپرد کرے گا اس لئے میں نے کہنا شروع کیا، اے ابوعبدالرحمن ہمارے ہاں کچھ ایسے آدمی پیدا ہوگئے ہیں جو قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں اور علم دین کی تحقیقات کرتے ہیں اور راوی نے ان کی تعریف کی مگر ان کا خیال ہے کہ تقدیر الٰہی کوئی چیز نہیں ہے ہر بات بغیر تقدیر کے ہوتی ہے اور سارے کام ناگہاں ہوتے ہیں حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا اگر تمہاری ان لوگوں سے ملاقات ہوجائے تو کہہ دینا کہ نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ان کا مجھ سے حضرت ابن عمر ؓ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور وہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کر دے تب بھی اللہ اس کی خیرات قبول نہیں کرے گا تاوقتیکہ اس کا تقدیر پر ایمان نہ ہو مجھ سے میرے باپ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ایک حدیث بیان کی تھی فرمایا کہ ایک روز ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اچانک ایک شخص نمودار ہوا نہایت سفید کپڑے بہت سیاہ بال سفر کا کوئی اثر یعنی گردو غبار وغیرہ اس پر نمایاں نہ تھا اور ہم میں سے کوئی اس کو جانتا بھی نہ تھا بالآخر وہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے زانو بزانو ہو کر بیٹھ گیا اپنے دونوں ہاتھوں کو رسول پاک ﷺ کی رانوں پر رکھ دیا اور عرض کیا یا محمد ﷺ اسلام کی کیفت تبائیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم کلمہ توحید یعنی اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ کی رسالت (کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں) کا اقرار کرو، نماز پابندی سے بتعدیل ارکان ادا کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعتِ زاد راہ ہو تو حج بھی کرو۔ آنے والے نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔ ہم کو تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کرتا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے، اس کے بعد اس شخص نے عرض کیا کہ ایمان کی حالت بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا ایمان کے معنی یہ ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کا اور اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا اور قیامت کا یقین رکھو، تقدیر الٰہی کو یعنی ہر خیر وشر کے مقدم ہونے کو سچا جانو۔ آنے والے نے عرض کیا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر کہنے لگا احسان کی حقیقت بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: احسان کی حقیقت یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ مرتبہ حاصل نہ ہو تو (تو کم از کم) اتنا یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہا ہے۔ آنے والے نے عرض کیا کہ قیامت کے بارے میں بتائیے آپ ﷺ نے عرض کیا کہ قیامت کے بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ اس بات سے واقف نہیں ہے اس نے عرض کیا اچھا قیامت کی علامات بتائیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کی علامات میں سے یہ بات ہے کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی اور تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں ننگے جسم تنگ دست چرواہے بڑی بڑی عمارتوں پر اترائیں گے اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمر کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوال کرنے والا کون تھا میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لئے آئے تھے۔

It is narrated on the authority of Yahya bin Yamur that the first man who discussed about Qadr (Divine Decree) in Basrah was Mabad al-Juhani. I along with Humaid bin Abdur-Rahman Himyari set out for prilgrimage or for Umrah and said: Should it so happen that we come into contact with one of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ (peace be upon him) we shall ask him a bout what is talked about Taqdir (Division Decree). Accidentally we came across Abdullah Ibn Umar ibn al-Khattab, while he was entering the mosque. My companion and I surrounded him. One of us (stood) on his right and the other stood on his left. I expected that my companion would authorize me to speak. I therefore said: Abu Abdur Rahman! There have appeared some people in our land who recite the Holy Quran and pursue knowledge. And then after talking about their affairs, added: They (such people) claim that there is no such thing as Divine Decree and events are not predestined. He (Abdullah Ibn Umar) said: When you happen to meet such people tell them that I have nothing to do with them and they have nothing to do with me. And verily they are in no way responsible for my (belief). Abdullah Ibn Umar swore by Him (the Lord) (and said): If any one of them (who does not believe in the Divine Decree) had with him gold equal to the bulk of (the mountain) Uhud and then, it (in the way of Allah), Allah would not accept it unless he affirmed his faith in Divine Decree. He further said: My father, Umar ibn al-Khattab, told me: One day we were sitting in the company of Allahs Apostle ﷺ (peace be upon him) when there appeared before us a man dressed in pure white clothes, his hair extraordinarily black. There were no signs of travel on him. None amongst us recognized him. At last he sat with the Apostle ﷺ (peace be upon him) He knelt before him placed his palms on his thighs and said: Muhammad, inform me about al-Islam. The Messenger of Allah ﷺ (peace be upon him) said: Al-Islam implies that you testify that there is no god but Allah and that Muhammad is the messenger of Allah, and you establish prayer, pay Zakat, observe the fast of Ramadan, and perform pilgrimage to the (House) if you are solvent enough (to bear the expense of) the journey. He (the inquirer) said: You have told the truth. He (Umar ibn al-Khattab) said: It amazed us that he would put the question and then he would himself verify the truth. He (the inquirer) said: Inform me about Iman (faith). He (the Holy Prophet) replied: That you affirm your faith in Allah, in His angels, in His Books, in His Apostles, in the Day of Judgment, and you affirm your faith in the Divine Decree about good and evil. He (the inquirer) said: You have told the truth. He (the inquirer) again said: Inform me about al-Ihsan (performance of good deeds). He (the Holy Prophet) said: That you worship Allah as if you are seeing Him, for though you dont see Him, He, verily, sees you. He (the enquirer) again said: Inform me about the hour (of the Doom). He (the Holy Prophet) remarked: One who is asked knows no more than the one who is inquiring (about it). He (the inquirer) said: Tell me some of its indications. He (the Holy Prophet) said: That the slave-girl will give birth to her mistress and master, that you will find barefooted, destitute goat-herds vying with one another in the construction of magnificent buildings. He (the narrator, Umar ibn al-Khattab) said: Then he (the inquirer) went on his way but I stayed with him (the Holy Prophet) for a long while. He then, said to me: Umar, do you know who this inquirer was? I replied: Allah and His Apostle ﷺ knows best. He (the Holy Prophet) remarked: He was Gabriel (علیہ السلام) (the angel). He came to you in order to instruct you in matters of religion.

94Sahih Muslim

ایمان اور اسلام اور احسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیر کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ قَالَ لَمَّا تَکَلَّمَ مَعْبَدٌ بِمَا تَکَلَّمَ بِهِ فِي شَأْنِ الْقَدَرِ أَنْکَرْنَا ذَلِکَ قَالَ فَحَجَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَجَّةً وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ کَهْمَسٍ وَإِسْنَادِهِ وَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانُ أَحْرُفٍ

محمد بن عبید الغبری، ابوکامل الفضیل بن الحسین الجحدری و احمد بن عبدہ الضبی، حماد بن زید، مطر الوراق، عبداللہ بن بریدہ، یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ جب معبد نے تقدیر کا انکار کیا تو ہمیں اس مسئلہ میں تردد ہوا۔ اتفاق سے میں اور حمید بن عبدالرحمن حمیری حج کے لئے گئے امام مسلم فرماتے ہیں کہ اس کے بعد یحییٰ بن یعمر نے وہی حدیث کچھ لفظی فرق کے ساتھ بیان کی جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔

It is narrated on the authority of Yahya bin Yamur that when Mabad discussed the problem pertaining to Divine Decree, we refuted that. He (the narrator) said: I and Humaid bin Abdur-Rahman Himyari argued. And they carried on the conversation about the purport of the hadith related by Kahmas and its chain of transmission too, and there is some variation of words.

95Sahih Muslim

ایمان اور اسلام اور احسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیر کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا لَقِينَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَذَکَرْنَا الْقَدَرَ وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ فَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ کَنَحْوِ حَدِيثِهِمْ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ شَيْئٌ مِنْ زِيَادَةٍ وَقَدْ نَقَصَ مِنْهُ شَيْئًا

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید القطان، عثمان بن غیاث عبداللہ بن بریدہ، حضرت یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمن دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہماری ملاقات حضرت ابن عمر سے ہوئی ہم نے ان سے تقدیر کا انکار کرنے والوں کا ذکر کیا اس کے بعد انہوں نے وہی پورا واقعہ اور حضرت عمر ؓ کی روایت بیان کی (جو گزر چکی ہے) مگر اس روایت کے بعض الفاظ میں کمی بیشی ہے۔

It is narrated on the authority of Yahya bin Yamur and Humaid bin Abdur-Rahman that they said: We met Abdullah bin Umar and we discussed about the Divine Decree, and what they talked about it and he narrated the hadith that has been transmitted by Umar (RA) from the Apostle ﷺ . There is a slight variation in that.

96Sahih Muslim

ایمان اور اسلام اور احسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیر کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَحْيَی بْنِ يَعْمَرَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

حجاج بن الشاعر، یونس بن محمد، معتمر اپنے والد سے، یحییٰ بن یعمر، ابن عمر، عمر نبی کریم ﷺ سے اسی حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں جو کہ گزر چکی ہے۔

It is narrated on the authority of Yahya bin Yamur and Humaid bin Abdur-Rahman that they said: We met Abdullah bin Umar and we discussed about the Divine Decree, and what they talked about it and he narrated the hadith that has been transmitted by Umar (RA) from the Apostle ﷺ . There is a slight variation in that.

97Sahih Muslim

ایمان اور اسلام اور احسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیر کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا تُشْرِکَ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَکْتُوبَةَ وَتُؤَدِّيَ الزَّکَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنَّکَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاکَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَی السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَلَکِنْ سَأُحَدِّثُکَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتْ الْأَمَةُ رَبَّهَا فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا کَانَتْ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُئُوسَ النَّاسِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَائُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ تَلَا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ قَالَ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا جِبْرِيلُ جَائَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیر، اسماعیل بن ابراہیم، ابی حیان، ابی زرعہ بن عمرو بن جریر، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے اتنے میں ایک آدمی نے حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ایمان کیا چیز ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس سے ملنے کا، اس کے پیغمبروں کا اور حشر کا یقین رکھو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اسلام کیا ہے؟ فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، فرض نماز پابندی سے پڑھو، فرض کی گئی زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول احسان کس کو کہتے ہیں؟ فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو (کم از کم اتنا یقین رکھو) کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ اس نے عرض کیا قیامت کب ہوگی؟ ارشاد فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے اس بات کا زیادہ جاننے والا نہیں ہے، ہاں میں تمہیں اس کی علامات بتاتا ہوں: جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی یہ قیامت کی علامات میں سے ہے جب ننگے بدن اور ننگے پاؤں رہنے والے لوگوں کے سردار ہوجائیں گے تو یہ قیامت کی علامت ہے جب اونٹوں کے چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنا کر فخر کریں گے تو یہ قیامت کی علامات میں سے ہے، قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت مبارکہ تلاوت فرمائی (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَه عِلْمُ السَّاعَةِ ) 31۔ لقمان: 34) پھر وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو واپس لاؤ لوگوں نے اس کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ جبرائیل آئے تھے تاکہ لوگوں کو ان کا دین سکھائیں۔

Abu Hurairah (RA) reported: One day the Messenger of Allah ﷺ appeared before the public that a man came to him and said: Prophet ﷺ of Allah, (tell me) what is Iman (Faith). Upon this he (the Holy Prophet) replied: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Messengers and that you affirm your faith in the Resurrection hereafter. He (again) said: Messenger of Allah, (tell me) what does al-Islam signify. He (the Holy Prophet) replied: Al-Islam signifies that you worship Allah and do not associate anything with Him and you establish obligatory prayer and you pay the obligatory poor-rate (Zakat) and you observe the fast of Ramadan. He (the inquirer) again said: Messenger of Allah, what does al-Ihsan imply? He (the Holy Prophet) replied: That you worship Allah as if you are seeing Him, and in case you fail to see Him, then observe prayer (with this idea in your mind) that (at least) He is seeing you. He (the inquirer) again said: Messenger of Allah, when would there be the Hour (of Doom)? He (the Holy Prophet) replied: The one who is asked about it is no better informed than the inquirer. I, however, narrate some of its signs (and these are): when the slave-girl will give birth to her master, when the naked, barefooted would become the chiefs of the people - these are some of the signs of (Doom). (Moreover) when the shepherds of the black (camels) would exult themselves and compete with others in the construction of higher buildings, this is one of the signs of (Doom). (Doom) is one of the five (happenings wrapped in the unseen) which no one knows but Allah. Then he (the Messenger of Allah) ﷺ recited (the verse):" Verily Allah! with Him Alone is the knowledge of the Hour and He it is Who sends (down the rain) and knows that which is in the wombs and no person knows whatsoever he shall earn tomorrow, and a person knows not in whatsoever land he shall die. Verily Allah is Knowing, Aware. He (the narrator, Abu Hurairah (RA) ) said: Then the person turned back and went away. The Messenger of Allah ﷺ said: Bring that man back to me. They (the Companions of the Holy Prophet ﷺ present there) went to bring him back, but they saw nothing there. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: he was Gabriel (علیہ السلام), who came to teach the people their religion

98Sahih Muslim

ایمان اور اسلام اور احسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیر کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَتِهِ إِذَا وَلَدَتْ الْأَمَةُ بَعْلَهَا يَعْنِي السَّرَارِيَّ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، حضرت ابوحیان تیمی کی روایت بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کے مطابق ہے صرف اتنا لفظ بدلا ہوا ہے کہ بجائے رب کے بعل کا لفظ ہے ترجمہ یہ ہے کہ جب لونڈی اپنے شوہر کی مالکہ ہوگی۔

This hadith is narrated to us on the authority of Muhammad bin Abdullah bin Numair, on the authority of Muhammad bin Bishr, on the authority of Abd Hayyan al-Taymi with the exception that in this narration (instead of the words (Iza Waladat alamah rabbaha), the words are (Iza Waladat alamah Balaha), i, e, when slave-girl gives birth to her master.

99Sahih Muslim

ایمان اور اسلام اور احسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیر کے اثبات کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلُونِي فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ فَجَائَ رَجُلٌ فَجَلَسَ عِنْدَ رُکْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ لَا تُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ کُلِّهِ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَخْشَی اللَّهَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنَّکَ إِنْ لَا تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاکَ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَی تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَسَأُحَدِّثُکَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا رَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُکْمَ مُلُوکَ الْأَرْضِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا رَأَيْتَ رِعَائَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ مِنْ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ قَالَ ثُمَّ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوهُ عَلَيَّ فَالْتُمِسَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا جِبْرِيلُ أَرَادَ أَنْ تَعَلَّمُوا إِذْ لَمْ تَسْأَلُوا

زہیر بن حرب، جریر بن عمارہ یعنی ابن قعقاع، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کچھ چاہو مجھ سے پوچھو۔ لوگوں پر ہیبت چھا گئی کہ آپ ﷺ سے کچھ پوچھیں۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور رسول اللہ ﷺ کے زانوں کے پاس بیٹھ کر عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، نماز پابندی سے پڑھو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے عرض کیا آپ نے سچ فرمایا۔ اس نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس سے ملنے کا اور اس کے پیغمبروں کا یقین رکھو، حشر کو سچا جانو اور ہر طرح کی تقدیر الٰہی کو خواہ خیر ہو یا شر ہو دل سے مانو اس نے کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا اس نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ احسان کس کو کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا خوف اتنا رکھو گویا ہر وقت اس کو دیکھ رہے ہو اگر یہ بات نہ ہو تم کم از کم اتنا یقین رکھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ اس نے عرض کیا آپ نے سچ فرمایا۔ پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ قیامت کب ہوگی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے وہ اس بات کو سائل سے زیادہ نہیں جانتا ہاں میں اس کی علامات تمہیں بتادیتا ہوں جب تم دیکھو کہ عورتیں اپنے مالکوں کو جنم دے رہی ہیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب دیکھو کہ ننگے پاؤں بہرے گونگے جاہل زمین کے بادشاہ ہو رہے ہیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب دیکھو کہ اونٹوں کے چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنا کر اترا رہے ہیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے قیامت ان پانچ غیبی چیزوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَه عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان: 34) پڑھی اس کے بعد وہ شخص اٹھ کر چلا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو واپس بلاؤ لوگوں نے اس کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے چونکہ تم نے خود سوال نہیں کیا تھا اس لئے انہوں نے چاہا کہ تم لوگ دین کی باتیں سیکھ لو۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Ask me (about matters pertaining to religion), but they (the Companions of the Holy Prophet) were too much overawed out of profound respect for him to ask him (anything). In the meanwhile a man came there, and sat near his knees and said: Messenger of Allah, what al-lslam is? -to which he (the Holy Prophet) replied: You must not associate anything with Allah, and establish prayer, pay the poor-rate (Zakat) and observe (the fasts) of Ramadan. He said: You (have) told the truth. He (again) said: Messenger of Allah, what al-Iman (the faith) is? He (the Holy Prophet) said: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Apostles, and that you believe in Resurrection and that you believe in Qadr (Divine Decree) in all its entirety, He (the inquirer) said: You (have) told the truth. He (again) said: Messenger of Allah, what al-Ihsan is? Upon this he (the Holy Prophet) said: (Al-Ihsan implies) that you fear Allah as if you are seeing Him, and though you see Him not, verily He is seeing you. He (the inquirer) said: You (have) told the truth. He (the inquirer) said: When there would be the hour (of Doom)? (Upon this) he (the HolyProphet ﷺ said: The one who is being asked about it is no better informed than the inquirer himself. I, however, narrate some of its signs (and these are): when you see a slave (woman) giving birth to her master - that is one of the signs of (Doom) ; when you see barefooted, naked, deaf and dumb (ignorant and foolish persons) as the rulers of the earth - that is one of the signs of the Doom. And when you see the shepherds of black camels exult in buildings - that is one of the signs of Doom. The (Doom) is one of the five things (wrapped) in the unseen. No one knows them except Allah. Then (the Holy Prophet) recited (the folowing verse):" Verily Allah! with Him alone is the knowledge of the hour and He it is Who sends down the rain and knows that which is in the wombs and no person knows whatsoever he shall earn on morrow and a person knows not in whatsoever land he shall die. Verily Allah is Knowing, Aware. He (the narrator, Abu Hurairah (RA) ) said: Then the person stood up an (made his way). The Messenger of Allah ﷺ said: Bring him back to me. He was searched for, but they (the Companions of the Holy Prophet) could not find him. The Messenger of Allah ﷺ thereupon said: He was Gabriel (علیہ السلام) and he wanted to teach you (things pertaining to religion) when you did not ask (them yourselves).

100Sahih Muslim

ان نمازوں کے بیان میں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُا جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّی دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنْ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ فَقَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ وَذَکَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّکَاةَ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَی هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ

قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف بن عبداللہ الثقفی، مالک بن انس، ابی سہیل اپنے باپ سے، حضرت طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نجد والوں میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، ہمیں اس کی آواز میں گنگناہٹ تو سنائی دے رہی تھی مگر بات سمجھ میں نہیں آتی تھی بالا آخر جب وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوگیا اس وقت معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے عرض کیا کیا اس کے علاوہ بھی کوئی نماز میرے لئے فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، ہاں اگر تم نفل پڑھ لو تو خیر اور ماہ رمضان کے روزے بھی فرض ہیں۔ اس نے عرض کیا کیا اس کے علاوہ بھی میرے لئے کوئی روزہ فرض ہے؟ فرمایا نہیں ہاں اگر تم نفل روزہ رکھو تو خیر، رسول اللہ ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا بھی تذکرہ کیا اس نے عرض کیا کیا اس کے علاوہ بھی کوئی اور صدقہ دینا مجھ پر لازم ہے؟ فرمایا نہیں ہاں اگر اپنی طرف سے دو تو بہتر ہے، اس کے بعد وہ شخص پشت پھیر کر یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ اللہ کی قسم میں اس میں کمی بیشی نہیں کروں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہوگیا۔

It is reported on the authority of Talha bin Ubaidullah that a person with dishevelled hair, one of the people of Nejd, came to the Messenger of Allah ﷺ . We heard the humming of his voice but could not fully discern what he had been saying, till he came nigh to the Messenger of Allah ﷺ . It was then (disclosed to us) that he was asking questions pertaining to Islam. The Messenger of Allah ﷺ said: Five prayers during the day and the night. (Upon this he said: Am I obliged to say any other (prayer) besides these? He (the Holy Prophet,) said: No, but whatever you observe voluntarily, out of your own free will, and the fasts of Ramadan. The inquirer said: Am I obliged to do anything else besides this? He (the Holy Prophet) said: No, but whatever you do out of your own free will. And the Messenger of Allah ﷺ told him about the Zakat (poor-rate). The inquirer said: Am I obliged to pay anything else besides this? He (the Holy Prophet) said: No, but whatever you pay voluntarily out of your own free will. The man turned back and was saying: I would neither make any addition to this, nor will decrease anything out of it. The Prophet ﷺ remarked: He is successful, if he is true to what he affirms.

101Sahih Muslim

ان نمازوں کے بیان میں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہیں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ابی سہیل اپنے والد سے، حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے اس حدیث کو امام مالک کی حدیث کی طرح نبی ﷺ سے روایت کیا ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کے باپ کی اگر یہ سچا ہے تو کامیاب ہوگیا یا قسم ہے اس کے باپ کی اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔

Another hadith, the like of which has been narrated by Malik (b. Anas) (and mentioned above) is also reported by Talha b. Ubaidullah, with the only variation that the Prophet remarked: By his father, he shall succeed if he were true (to what he professed), or: By his father, he would enter heaven if he were true (to what he professed).

102Sahih Muslim

اسلام کے ارکان اور ان کی تحقیق کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ فَکَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيئَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُکَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّکَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَکَ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَائَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَکَ آللَّهُ أَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَيْنَا زَکَاةً فِي أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَکَ آللَّهُ أَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَکَ آللَّهُ أَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقَ قَالَ ثُمَّ وَلَّی قَالَ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ

عمرو بن محمد بن بکیر الناقد، ہاشم بن القاسم ابوالنصر، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ چونکہ ہمیں از خود رسول اللہ ﷺ سے سوال کرنے سے روک دیا گیا تھا اس لئے ہمیں اس بات سے خوشی ہوتی تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور وہ آپ ﷺ سے سوال کرے اور ہم بھی سنیں۔ اتفاقا ایک دیہاتی آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کا قاصد ہمارے ہاں آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے، اس دیہاتی نے کہا آسمان کو کس نے بنایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے، اس نے عرض کیا زمین کو کس نے بنایا؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے، اس نے عرض کیا ان پہاڑوں کو کس نے بنایا؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے، اس دیہاتی نے عرض کیا اس اللہ کی قسم جس نے آسمان بنایا زمین بنائی پہاڑ قائم کئے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں بیشک دیہاتی نے عرض کیا آپ ﷺ کا قاصد کہتا تھا کہ دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا، دیہاتی نے عرض کیا آپ ﷺ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، دیہاتی نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے سچ کہا، دیہاتی نے عرض کیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، دیہاتی نے عرض کیا آپ ﷺ کا قاصد کہتا تھا کہ سال میں ماہ رمضان کے روزے بھی ہم پر فرض ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے سچ کہا، دیہاتی نے کہا آپ ﷺ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، دیہاتی نے عرض کیا آپ ﷺ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم میں سے جس کو استطاعت زاد راہ ہو اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی ضروری ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس کے بعد وہ دیہاتی پشت پھیر کر یہ کہتا ہوا چلا گیا قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں ان باتوں میں نہ زیادہ کروں گا اور نہ کمی کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔

It is reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that he said: We were forbidden that we should ask anything (without the genuine need) from the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ). It, therefore, pleased us that an intelligent person from the dwellers of the desert should come and asked him (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) and we should listen to it. A man from the dwellers of the desert came (to the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) and said: Muhammad, your messenger came to us and told us your assertion that verily Allah had sent you (as a prophet). He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) remarked: He told the truth. He (the bedouin) said: Who created the heaven? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) replied: Allah. He (the bedouin again) said: Who created the earth? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) replied: Allah. He (the bedouin again) said: Who raised these mountains and who created in them whatever is created there? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) replied: Allah. Upon this he (the bedouin) remarked: By Him Who created the heaven and created the earth and raised mountains thereupon, has Allah (in fact) sent you? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger also told us that five prayers (had been made) obligatory for us during the day and the night. He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) remarked: He told you the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you, is it Allah Who ordered you about this (i. e. prayers)? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger told us that Zakat had been made obligatory in our riches. He (the Holy Prophet) said. He has told the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you (as a prophet), is it Allah Who ordered you about it (Zakat)? He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger told us that it had been made obligatory for us to fast every year during the month of Ramadan. He (the Holy Prophet) said: He has told the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you (as a prophet), is it Allah Who ordered you about it (the fasts of Ramadan)? He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger also told us that pilgrimage (Hajj) to the House (of Ka’bah) had been made obligatory for him who is able to undertake the journey to it. He (the Holy Prophet) said: Yes. The narrator said that he (the bedouin) set off (at the conclusion of this answer, but at the time of his departure) remarked: By Him Who sent you with the Truth, I would neither make any addition to them nor would I diminish anything out of them. Upon this the Holy Prophet ﷺ remarked: If he were true (to what he said) he must enter Paradise.

103Sahih Muslim

اسلام کے ارکان اور ان کی تحقیق کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ کُنَّا نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ

عبداللہ بن ہاشم العبدی، بہز، سلیمان بن مغیرہ، حضرت ثابت سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہمیں رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے سے منع فرما دیا گیا تھا اور باقی حدیث اس طرح بیان کی جو اوپر گزری۔

It is narrated on the authority of Thabit that Anas said: We were forbidden in the Holy Quran that we should ask about anything from the Messenger of Allah ﷺ and then Anas reported the hadith in similar words.

104Sahih Muslim

اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ طَلْحَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِهَا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنْ الْجَنَّةِ وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ فَکَفَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ وُفِّقَ أَوْ لَقَدْ هُدِيَ قَالَ کَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَأَعَادَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعْ النَّاقَةَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر اپنے والد سے، عمر بن عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوایوب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سفر کے دوران ایک دیہاتی سامنے سے آیا اور آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے ایسی چیز بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کر دے! رسول اللہ ﷺ رک گئے اور اپنے صحابہ کی طرف غور سے دیکھ کر فرمایا اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق مل گئی یا فرمایا ہدایت مل گئی، پھر دیہاتی سے فرمایا تو نے کیا کہا تھا؟ دیہاتی نے دوبارہ وہی عرض کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر، نماز پاپندی سے پڑھ اور زکوٰۃ ادا کر اور رشتہ داروں سے میل جول رکھ پس اب میری اونٹنی چھوڑ دے۔

It is narrated on the authority of Abu Ayyub Ansari that once during the journey of the Holy Prophet ﷺ a bedouin appeared before him and caught hold of the nosestring of his she-camel and then said, Messenger of Allah ﷺ (or Muhammad), inform me about that which takes me near to Paradise and draws me away from the Fire (of Hell). He (the narrator) said: The Prophet ﷺ stopped for a while and cast a glance upon his companions and then said: He was afforded a good opportunity (or he had been guided well). He (the Holy Prophet) addressing the bedouin said: (Repeat) whatever you have uttered. He (the bedouin) repeated that. Upon this the Apostle ﷺ remarked: The deed which can draw you near to Paradise and take you away from Hell is, that you worship Allah and associate none with Him, and you establish prayer and pay Zakat, and do good to your kin. After having uttered these words, the Holy Prophet ﷺ asked the bedouin to release the nosestring of his she-camel.

105Sahih Muslim

اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَی بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ

محمد بن حاتم و عبدالرحمن بن بشر، بہز، محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب، اس کے والد عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوایوب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث مبارکہ بھی اسی طرح روایت کی ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Ayyub that a man came to the Prophet ﷺ and said: Direct me to a deed which draws me near to Paradise and takes me away from the Fire (of Hell). Upon this he (the Holy Prophet) said: You worship Allah and never associate anything with Him, establish prayer, and pay Zakat, and do good to your kin. When he turned his back, the Messenger of Allah ﷺ remarked: If he adheres to what he has been ordered to do, he would enter Paradise.

106Sahih Muslim

اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَی عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِينِي مِنْ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصِلُ ذَا رَحِمِکَ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ تَمَسَّکَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ إِنْ تَمَسَّکَ بِهِ

یحییٰ بن یحییٰ التمیمی، ابوالاحوص، ابوبکر بن شیبہ، ابوالاحوص، ابواسحاق، موسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت سے نزدیک اور دوزخ سے دور کر دے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور نماز پابندی سے پڑھ اور زکوٰۃ ادا کر اور اپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کر، اس کے بعد وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ میرے حکم پر کار بند رہے گا تو جنت میں داخل ہوجائے گا۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that a bedouin came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, direct me to a deed by which I may be entitled to enter Paradise. Upon this he (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) remarked: You worship Allah and never associate anything with Him, establish the obligatory prayer, and pay the Zakat which is incumbent upon you, and observe the fast of Ramadan. He (the bedouin) said: By Him in Whose hand is my life, I will never add anything to it, nor will I diminish anything from it. When he (the bedouin) turned his back, the Prophet ﷺ said: He who is pleased to see a man from the dwellers of Paradise should catch a glimpse of him.

107Sahih Muslim

اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَی عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَکْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّکَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَزِيدُ عَلَی هَذَا شَيْئًا أَبَدًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ فَلَمَّا وَلَّی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی هَذَا

ابوبکر بن اسحاق، عفان، وہیب، یحییٰ بن سعید، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے کوئی ایسا کام بتا دیجئے کہ اگر میں اس پر عمل پیرا ہوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز پابندی سے پڑھو اور فرض کی گئی زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو، دیہاتی نے یہ سن کر کہا قسم ہے اس اللہ کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں کبھی اس میں کمی بیشی نہیں کروں گا پھر جب وہ پشت پھیر کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی کو جنتی آدمی دیکھنے سے خوشی ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔

It is reported on the authority of Abu Huraira that a bedouin came to the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) and said: Messenger of Allah, direct me to a deed by which I may be entitled to enter Paradise. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: You worship Allah and never associate anything with Him, establish the obligatory prayer, and pay the Zakat which is incumbent upon you, and observe the fast of Ramadan. He (the bedouin) said: By Him in Whose hand is my life, I will never add anything to it, nor will I diminish anything from it. When he (the bedouin) turned his back, the Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: He who is pleased to see a man from the dwellers of Paradise should catch a glimpse of him.

108Sahih Muslim

اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَکْتُوبَةَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نعمان بن قوقل نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پس عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں اور حلال کو حلال سمجھوں تو کیا آپ ﷺ کی رائے میں میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں۔

It is narrated on the authority of Jabir that Numan bin Qaufal came to the Holy Prophet ﷺ and said: Would I enter Paradise if I say the obligatory prayers and deny myself that which is forbidden and treat that as lawful what has been made permissible (by the Shariah)? The Holy Prophet ﷺ replied in the affirmative.

109Sahih Muslim

اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِهِ وَزَادَا فِيهِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَی ذَلِکَ شَيْئًا

حجاج بن شاعر، قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اعمش، ابوصالح، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ نعمان بن قوقل نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا اے اللہ کے رسول ﷺ باقی روایت اسی طرح ہے جو اوپر گزری ہے اس میں صرف اتنا زیادہ ہے کہ اس پر میں کچھ بھی زیادہ نہیں کروں گا۔

A similar hadith is narrated on Jabirs authority in which the following words are added: I will do nothing more.

110Sahih Muslim

اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوبَاتِ وَصُمْتُ رَمَضَانَ وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَلَمْ أَزِدْ عَلَی ذَلِکَ شَيْئًا أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَی ذَلِکَ شَيْئًا

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل یعنی عبداللہ، ابوالزبیر، جابر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں تو کیا آپ ﷺ کی رائے میں میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! اس شخص نے عرض کیا اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔

It is narrated on the authority of Jabir that a man once said to the Messenger of Allah ﷺ : Shall I enter Paradise in case I say the obligatory prayers, observe the (fasts) of Ramadan and treat that as lawful which has been made permissible (by the Shariah) and deny myself that what is forbidden, and make no addition to it? He (the Holy Prophet) replied in the affirmative. He (the inquirer) said: By Allah, I would add nothing to it.

111Sahih Muslim

اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الْأَحْمَرَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسَةٍ عَلَی أَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَالْحَجِّ فَقَالَ رَجُلٌ الْحَجُّ وَصِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ لَا صِيَامُ رَمَضَانَ وَالْحَجُّ هَکَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن عبداللہ ابن نمیر الہمدانی، ابوخالد یعنی سلیمان بن حیان الاحمر، ابومالک الاشجعی، سعد بن عبیدہ، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار، پابندی سے نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔ ایک شخص نے راوی سے کہا کہ اصل حدیث میں الحج وصیام رمضان یعنی حج کا ذکر رمضان سے مقدم ہے راوی نے جواب میں کہا کہ نہیں صیام رمضان والحج ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا ہے۔

It is narrated on the authority of (Abdullah) son of Umar (may Allah be pleased with them) that the Holy Prophet ﷺ said: (The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), i. e. the oneness of Allah, the establishment of prayer, payment of Zakat, the fast of Ramadan, Pilgrimage (to Makkah). A person said (to Abdullah bin Umar (RA) the narrator): Which of the two precedes the other-Pilgrimage or the fasts of Ramadan? Upon this he (the narrator) replied: No (it is not the Pilgrimage first) but the fasts of Ramadan precede the Pilgrimage.

112Sahih Muslim

اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْکَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيُّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ عَلَی أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَيُکْفَرَ بِمَا دُونَهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ

سہل بن عثمان العسکری، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ، سعد بن طارق، سعد ابن عبیدہ السلمی ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کے علاوہ ہر چیز کی عبادت سے انکار کرنا، پابندی سے نماز پڑھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

It is narrated on the authority of Abdullah son of Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: (The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), testifying (the fact) that there is no god but Allah, that Muhammad is His bondsman and messenger, and the establishment of prayer, payment of Zakat, Pilgrimage to the House (Ka’bah) and the fast of Ramadan.