ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 2 of 23

113Sahih Muslim

اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ

عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، عاصم یعنی ابن محمد بن زید بن ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کا اقرار کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز پابندی سے پڑھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

It is narrated on the authority of Abdullah son of Umar that the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: (The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), testifying (the fact) that there is no god but Allah, that Muhammad is His bondsman and messenger, and the establishment of prayer, payment of Zakat, Pilgrimage to the House (Kaba) and the fast of Ramadan.

114Sahih Muslim

اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ قَالَ سَمِعْتُ عِکْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يُحَدِّثُ طَاوُسًا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَلَا تَغْزُو فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَحَجِّ الْبَيْتِ

ابن نمیر اپنے والد سے، حنظلہ، عکرمہ بن خالد، طاؤس، ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ کیا آپ جہاد نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔

It is reported on the authority of Taus that a man said to Abdullah son of Umar (RA) . Why dont you carry out a military expedition? Upon which he replied: I heard the messenger of Allah ﷺ say: Verily, al-Islam is founded on five (pillars): testifying the fact that there is no god but Allah, establishment of prayer, payment of Zakat, fast of Ramadan and Pilgrimage to the House.

115Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْکَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَائَنَا قَالَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فَقَالَ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ وَاحِدَةً

خلف بن ہشام، حماد بن زید، ابوجمرہ، ابن عباس، ح، یحییٰ بن یحییٰ عباد بن ابوجمرہ، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم خاندان ربیعہ سے ہیں اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور زمانہ میں نہیں پہنچ سکتے اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم فرمائیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور ادھر والوں کو بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم کو چار باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں کی ممانعت کرتا ہوں: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، نماز باقاعدگی سے پڑھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا اس کے بعد فرمایا میں تم کو درج ذیل چیزوں سے منع کرتا ہوں کدو کے تون بے سے، سبز گھڑے سے، لکڑی کے گھڑے سے اور روغن قیر ملے ہوئے برتن سے خلف بن ہشام نے اپنی روایت میں اتنا زیادہ کیا ہے کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا۔

It is narrated on the authority of Ibn Abbas that a delegation of Abdul Qais came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, verily ours is a tribe of Rabiah and there stand between you and us the unbelievers of Mudar and we find no freedom to come to you except in the sacred month. Direct us to an act which we should ourselves perform and invite those who live beside us. Upon this the Prophet ﷺ remarked: I command you to do four things and prohibit you against four acts. (The four deeds which you are commanded to do are): Faith in Allah, and then he explained it for them and said: Testifying the fact. that there is no god but Allah, that Muhammad is the messenger of Allah, performance of prayer, payment of Zakat, that you pay Khums (one-fifth) of the booty fallen to your lot, and I prohibit you to use round gourd, wine jars, wooden pots or skins for wine. Khalaf bin Hisham has made this addition in his narration: Testifying the fact that there is no god but Allah, and then he with his finger pointed out the oneness of the Lord.

116Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ کُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَيْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْوَفْدُ أَوْ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا النَّدَامَی قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْتِيکَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَکَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ قَالَ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ قَالَ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَائُ الزَّکَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنْ الْمَغْنَمِ وَنَهَاهُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ وَقَالَ احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِکُمْ و قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ مَنْ وَرَائَکُمْ وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابوبکر، غندر، شعبہ، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوجمرہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے لوگوں کے درمیان ترجمانی کیا کرتا تھا اتنے میں ایک عورت آئی اس نے حضرت ابن عباس ؓ سے گھڑے کی نبیذ کے متعلق مسئلہ پوچھا حضرت ابن عباس ؓ نے جواب دیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا وفد ہے یا کس قوم سے ہیں؟ وفد والوں نے عرض کیا کہ خاندان ربیعہ، آپ ﷺ نے اس وفد کو خوش آمدید کہا اور دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تم کو رسوا اور پشیمان نہ کرے، اہل وفد نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم آپ ﷺ کی خدمت میں دور دراز سے سفر کر کے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور کسی مہینہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتے اس لئے آپ ﷺ ہمیں کوئی ایسا امر فیصل بتادیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلے کے لوگوں کو بھی اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں اور ہم جنت میں داخل ہوجائیں، آپ ﷺ نے ان کو چار چیزوں کے کرنے کا اور چار چیزوں سے رک جانے کا حکم دیا آپ ﷺ نے ان کو ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پھر خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانے کے کیا معنی ہیں؟ وفد والوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا، آپ ﷺ نے ان کو چار چیزوں سے منع فرمایا کدو کی تونبی، سبز گھڑا، روغن قیر ملا ہوا برتن، شعبہ کی روایت کے مطابق لکڑی کا برتن پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم خود بھی اسے یاد رکھو اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اطلاع کردو ابوبکر بن شیبہ نے اپنی روایت میں لکڑی کے برتن کا ذکر نہیں کیا۔

Abu Jamra reported: I was an interpreter between Ibn Abbas (RA) and the people, that a woman happened to come there and asked about nabidh or the pitcher of wine. He replied: A delegation of the people of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) asked the delegation or the people (of the delegation about their identity). They replied that they belonged to the tribe of Rabiah. He (the Holy Prophet) welcomed the people or the delegation which were neither humiliated nor put to shame. They (the members of the delegation) said: Messenger of Allah, we come to you from a far-off distance and there lives between you and us a tribe of the unbelievers of Mudar and, therefore, it is not possible for us to come to you except in the sacred months. Thus direct us to a clear command, about which we should inform people beside us and by which we may enter heaven. He (the Holy Prophet) replied: I command you to do four deeds and forbid you to do four (acts), and added: I direct you to affirm belief in Allah alone, and then asked them: Do you know what belief in Allah really implies? They said: Allah and His Messenger know best. The Prophet ﷺ said: It implies testimony to the fact that there is no god but Allah, and that Muhammad is the messenger of Allah, establishment of prayer, payment of Zakat, fast of Ramadan, that you pay one-fifth of the booty (fallen to your lot) and I forbid you to use gourd, wine jar, or a receptacle for wine. Shubah sometimes narrated the word naqir (wooden pot) and sometimes narrated it as muqayyar. The Holy Prophet ﷺ also said: Keep it in your mind and inform those who have been left behind.

117Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَقَالَ أَنْهَاکُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّائِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيکَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ

عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، نصر بن علی الجہضمی اپنے والد سے، قرہ بن خالد، ابی جمرہ حضرت ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس حدیث کو حضرت شعبہ ؓ والی حدیث کی طرح نقل کیا ہے اور اس میں آپ ﷺ نے فرمایا میں تم کو اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو کدو کی تو نبی اور لکڑی کے کٹھلے اور سبز گھڑے اور روغن قیر ملے ہوئے برتن میں بنایا جاتا ہے حضرت ابن معاذ ؓ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اشج سے جو قبیلہ عبدالقیس کا سردار تھا فرمایا تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے عقلمندی اور سوچ سمجھ کر کام کرنا۔

There is another hadith narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) (the contents of which are similar to the one) narrated by Shubah in which the Holy Prophet ﷺ said: I forbid you to prepare nabidh in a gourd, hollowed block of wood, a varnished jar or receptacle. Ibn Muadh made this addition on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ said to Ashajj, of the tribe of Abdul-Qais: You possess two qualities which are liked by Allah: insight and deliberateness.

118Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ سَعِيدٌ وَذَکَرَ قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ هَذَا أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْکَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنْ الْغَنَائِمِ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عِلْمُکَ بِالنَّقِيرِ قَالَ بَلَی جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنْ الْقُطَيْعَائِ قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنْ الْمَائِ حَتَّی إِذَا سَکَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّی إِنَّ أَحَدَکُمْ أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ قَالَ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ کَذَلِکَ قَالَ وَکُنْتُ أَخْبَؤُهَا حَيَائً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فِي أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَی أَفْوَاهِهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا کَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ وَلَا تَبْقَی بِهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيکَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ

یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ ؓ نے فرمایا کہ مجھ سے اس شخص نے روایت نقل کی ہے جو قبیلہ عبدالقیس کے وفد سے ملا تھا وہ وفد جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، حضرت سعید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابونضرہ کے واسطہ سے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت بیان کی کہ قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم ربیعہ کے قبیلہ سے ہیں ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کفار حائل ہیں اس لئے حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور مہینوں میں ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتے اس لئے آپ ﷺ ہمیں ایسا حکم دیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ والوں کو بھی اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور اس کے ذریعے ہم جنت میں داخل ہوجائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو چار باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرو اور چار باتوں سے میں تم کو منع کرتا ہوں۔ کدو کی تونبی، سبز گھڑا، روغن قیر ملا ہوا برتن، لکڑی کا کٹھلا، وفد کے لوگوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ کیا آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ کٹھلا کیا ہوتا ہے اور کس کام آتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لکڑی کو کھود کر تم لوگ اس میں کھجوریں ڈال کر پانی ملاتے ہو جب اس کا جوش تھم جاتا ہے تو پھر تم اس کو پی لیتے ہو اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ نشہ میں تم میں سے کوئی اپنے چچا کے بیٹے کو تلوار سے مارنے لگتا ہے، راوی نے کہا لوگوں میں اس وقت ایک شخص موجود تھا اس کو اس نشہ کی بدولت زخم لگ چکا تھا اس نے کہا میں اس کو رسول اللہ ﷺ سے شرم کے مارے چھپاتا تھا، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ پھر ہم کس برتن میں پانی پئیں آپ ﷺ نے فرمایا چمڑے کے مشکوں میں جن کا منہ باندھا جاتا ہے، لوگوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ ہمارے علاقے میں چوہے بہت ہیں چمڑے کی مشکیں نہیں رہ سکتیں، آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں پھر رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ عبدالقیس کے سردار اشج سے فرمایا تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے عقلمندی اور بردباری۔

It is reported on the authority of Qatada that one among the delegates of the Abdul-Qais tribe narrated this tradition to him. Said said that Qatada had mentioned the name of Abu Nadra on the authority of Abu Said Khudri who narrated this tradition: That people from the- tribe of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, we belong to the tribe of Rabiah and there live between you and us the unbelievers of the Mudar tribe and we find it impossible to come to you except in the sacred months; direct us to a deed which we must communicate to those who have been left behind us and by doing which we may enter heaven. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: I enjoin upon you four (things) and forbid you to do four (things): worship Allah and associate none with Him, establish prayer, pay Zakat, and observe the fast of Ramadan, and pay the fifth part out of the booty. And I prohibit you from four (things): dry gourds, green-coloured jars, hollowed stumps of palm-trees, and receptacles. They (the members of the delegation) said: Do you know what al-naqir is? He replied: Yes, it is a stump which you hollow out and in which you throw small dates. Said said: He (the Holy Prophet) used the word tamar (dates). (The Holy Prophet ﷺ then added): Then you sprinkle water over it and when its ebullition subsides, you drink it (and you are so intoxicated) that one amongst you, or one amongst them (the other members of your tribe, who were not present there) strikes his cousin with the sword. He (the narrator) said: There was a man amongst us who had sustained injury on this very account due to (intoxication), and he told that he tried to conceal it out of shame from the Messenger of Allah ﷺ . I, however, inquired from the Messenger of Allah ﷺ (it we discard those utensils which you have forbidden us to use), then what type of vessels should be used for drink? He (the Holy Prophet) replied: In the waterskin the mouths of which are tied (with a string). They (again) said: Prophet ﷺ of Allah, our land abounds in rats and water-skins cannot remain preserved. The holy Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: (Drink in water-skins) even if these arenibbled by rats. And then (addressing) al-Ashajj of Abdul-Qais he said: Verily, you possess two such qualities which Allah loves: insight and deliberateness.

119Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ لَقِيَ ذَاکَ الْوَفْدَ وَذَکَرَ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنْ الْقُطَيْعَائِ أَوْ التَّمْرِ وَالْمَائِ وَلَمْ يَقُلْ قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنْ التَّمْرِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ سے روایت ہے کہ مجھ سے ان لوگوں نے روایت کیا جو قبیلہ عبدالقیس کے وفد سے ملے اور حضرت قتادہ ؓ نے حضرت ابونضرہ کے واسطہ سے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کی کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث اسی طرح ہے جو گزر چکی ہے صرف سند اور کچھ الفاظ کا ردوبدل ہے مگر ترجمہ یہی ہے۔

The above hadith has been mentioned with a different chain and slightly different wording.

120Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَائَکَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنْ الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَائَکَ أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ قَالَ نَعَمْ الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ وَلَا فِي الدُّبَّائِ وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْکُمْ بِالْمُوکَی

محمد بن بکاربصری، عاصم ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوقرعہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ہم آپ ﷺ پر قربان، ہمیں کس قسم کی چیز میں پینا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا لکڑی کے کٹھلے میں نہ پیا کرو، لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ ہم آپ ﷺ پر قربان، کیا آپ ﷺ جانتے ہیں کہ لکڑی کا کٹھلا کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لکڑی کو اندر سے کھود لیتے ہیں اسے کٹھلا کہتے ہیں اور کدو کی تو بنی اور سبز گھڑے میں بھی نہ پیا کرو ہاں چمڑے کے برتن میں جس کا منہ ڈروی سے باندھ دیا جاتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Said al-Khudri that when the delegation of the tribe of Abdul-Qais came to the Prophet ﷺ of Allah ﷺ , (its members) said: Apostle of Allah ﷺ , may God enable us to lay down our lives for you, which beverage is good for us? He (the Prophet) said: (Not to speak of beverages, I would lay stress) that you should not drink in the wine jars. They said: Apostle of Allah ﷺ , may God enable us to lay down our lives for you, do you know what al-naqir is? He (the Holy Prophet) replied: Yes, it is a stump which you hollow out in the middle, and added: Do not use gourd or receptacle (for drink). Use water-skin the mouth of which is tied with a thong (for this purpose).

121Sahih Muslim

تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رُبَّمَا قَالَ وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّکَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ فَادْعُهُمْ إِلَی شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَإِيَّاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، ابوبکر، وکیع، زکریا، ابن اسحاق، یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی، ابی معبد، ابن عباس، معاذ بن جبل، ابوبکر، وکیع، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا تم اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے پاس جا رہے ہو پہلے تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں ان پر فرض فرمائی ہیں اگر وہ اس کو بھی مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو دولت مندوں سے لے کر انہی کے مفلس طبقہ میں تقسیم کی جائے گی اب اگر وہ اس کو بھی مان لیں تو تم ان کا بہترین مال ہرگز نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرنا کیونکہ مظلوموں کی بد دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ (براہ راست اللہ تک پہنچتی ہے)

It is reported on the authority of Ibn Abbas that Muadh said: The Messenger of Allah ﷺ sent me (as a governor of Yemen) and (at the time of departure) instructed me thus: You will soon find yourself in a community one among the people of the Book, so first call them to testify that there is no god but Allah, that I (Muhammad) am the messenger of Allah, and if they accept this, then tell them Allah has enjoined upon them five prayers during the day and the night and if they accept it, then tell them that Allah has made Zakat obligatory for them that it should be collected from the rich and distributed among the poor, and if they agree to it dont pick up (as a share of Zakat) the best of their wealths. Beware of the supplication of the oppressed for there is no barrier between him and Allah.

122Sahih Muslim

تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ إِنَّکَ سَتَأْتِي قَوْمًا بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ

ابن ابی عمر، بشر بن السری، زکریابن اسحاق، ح، عبد بن حمید، ابوعاصم، زکریا بن اسحاق، یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی، ابی معبد، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا باقی حدیث وہی ہے جو اوپر گزری ہے صرف سند کا فرق ہے۔

The above hadith has been mentioned with a different chain with a slightly different wording at the beginning, then follows the same.

123Sahih Muslim

تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ قَالَ إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلَی قَوْمٍ أَهْلِ کِتَابٍ فَلْيَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَکَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ کَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ

امیہ بن بسطام عیشی، یزید بن زریع، روح یعنی ابن قاسم، اسماعیل بن امیہ، یحییٰ بن عبداللہ صیفی، ابی معبد، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذ ؓ کو یمن کو حاکم بنا کر بھیجا تو فرمایا تم اہل کتاب کی قوم کی طرف جا رہے ہو پہلے تم انہیں اس چیز کی دعوت دینا کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کریں اگر وہ توحید کا اقرار کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں اگر وہ اس کی بھی تعمیل کرنے لگیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو دولت مند لوگوں سے لے کر انہی کے محتاجوں کو دی جائے گی اب اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو ان سے وصول کرنا مگر ان کے اعلی درجہ کے مال سے پرہیز رکھنا۔

It is narrated on the authority of Ibn Abbas that when the Messenger of Allah ﷺ sent Muadh towards Yemen (as governor) he said to him: Verily you would reach a community of the people of the Book, the very first thing to which you should call them is the worship of Allah, may His Glory be Magnificent, and when they become fully aware of Allah, instruct them that He has enjoined five prayers on them during the day and the night, and when the begin observing it, then instruct them that verily Allah has made Zakat obligatory for them which would be collected from the wealthy amongst them and distributed to their needy ones, and when they submit to it, then collect it from them and avoid (the temptation) of selecting the best (items) of their riches.

124Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ بَعْدَهُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَکْرٍ کَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ فَإِنَّ الزَّکَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا کَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَی مَنْعِهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ

قتیبہ بن سعید، لیث بن سعید، عقیل، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، عتبہ بن مسعود، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب وفات پائی اور آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ بنائے گئے اور اہل عرب میں سے جنہیں کافر ہونا تھا وہ کافر ہوگئے حضرت ابوبکر ؓ نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا تو حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کس طرح جنگ کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا تھا کہ مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم اس وقت تک ہوا ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں پس جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا قائل ہوجائے گا وہ مجھ سے اپنا جان ومال بچالے گا ہاں حق پر ضرور اس کے جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے حضرت ابوبکر ؓ نے جواب میں ارشاد فرمایا اللہ کی قسم میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت میں فرق جانتا ہے کیونکہ جس طرح نماز جسم کا حق ہے اسی طرح زکوٰۃ مال کا حق ہے اللہ کی قسم اگر وہ لوگ ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں گے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دیا کرتے تھے اور مجھے نہ دیں گے تو میں ضرور ان سے جنگ کروں گا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر ؓ کا سینہ مرتدوں سے جنگ کرنے کے لئے کشادہ کردیا ہے تو میں بھی سمجھ گیا کہ یہی بات حق ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that when the Messenger of Allah ﷺ breathed his last and Abu Bakr (RA) was appointed as his successor (Caliph), those amongst the Arabs who wanted to become apostates became apostates. Umar bin Khattab said to Abu Bakr (RA) : Why would you fight against the people, when the Messenger of Allah ﷺ declared: I have been directed to fight against people so long as they do not say: There is no god but Allah, and he who professed it was granted full protection of his property and life on my behalf except for a right? His (other) affairs rest with Allah. Upon this Abu Bakr (RA) said: By Allah, I would definitely fight against him who severed prayer from Zakat, for it is the obligation upon the rich. By Allah, I would fight against them even to secure the cord (used for hobbling the feet of a camel) which they used to give to the Messenger of Allah ﷺ (as zakat) but now they have withheld it. Umar bin Khattab remarked: By Allah, I found nothing but the fact that Allah had opened the heart of Abu Bakr (RA) for (perceiving the justification of) fighting (against those who refused to pay Zakat) and I fully recognized that the (stand of Abu Bakr) was right.

125Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، احمد بن عیسی، احمد، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے یہاں تک کہ لَا اِلٰہ اِلَّاَ اللہ کے قائل ہوجائیں جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا قائل ہوجائے وہ مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرے گا لیکن حق پر اس کے جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to fight against people so long as they do not declare that there is no god but Allah, and he who professed it was guaranteed the protection of his property and life on my behalf except for the right affairs rest with Allah.

126Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ ح و حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ

احمد بن عبدہ الضبی، عبدالعزیز (در اور دی) علاء، ح، امیہ بن بسطام یزید بن زریع، روح، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب اپنے والد سے، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم اس وقت تک ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کی گواہی دینے لگیں اور میرے ان تمام احکام پر ایمان لے آئیں جو میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لایا ہوں اگر وہ ایسا کرلیں تو مجھ سے اپنی جان ومال محفوظ کرلیں گے ہاں حق پر ان کی جان ومال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: I have been commanded to fight against people, till they testify to the fact that there is no god but Allah, and believe in me (that) I am the messenger (from the Lord) and in all that I have brought. And when they do it, their blood and riches are guaranteed protection on my behalf except where it is justified by law, and their affairs rest with Allah.

127Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، اعمش، ابی سفیان، جابر، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں باقی حدیث اسی طرح ہے جو گزر چکی ہے صرف الفاظ کا فرق ہے باقی مفہوم یہی ہے۔

It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah said: I have been commanded that I should fight against people till they declare that there is no god but Allah, and when they profess it that there is no god but Allah, their blood and riches are guaranteed protection on my behalf except where it is justified by law, and their affairs rest with Allah, and then he (the Holy Prophet) recited (this verse of the Holy Quran):" Thou art not over them a warden" (lxxxviii, 22).

128Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن مثنی، عبدالرحمن یعنی ابن مہدی، سفیان، ابی الزبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں اگر وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں گے تو ان کی جان اور انکا مال مجھ سے بچ جائے گا ہاں حق پر جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی یعنی آپ ﷺ تو نصیحت کرنے والے ہیں آپ ﷺ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔

Abu Malik narrated on the authority of his father that he heard the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: He who held belief in the unity of Allah, and then narrated what has been stated above.

129Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِیُّ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّکَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ

ابوغسان مسمعی، مالک بن عبدالواحد، عبدالملک بن الصباح، شعبہ، واقد بن محمد بن زید بن عبداللہ، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کی گواہی دینے لگیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں اگر وہ ایسا کریں گے تو مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال بچالیں گے ہاں حق پر جان ومال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کے دل کی حالت کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded that I should fight against people till they declare that there is no god but Allah, and when they profess it that there is no god but Allah, their blood and riches are guaranteed protection on my behalf except where it is justified by law, and their affairs rest with Allah, and then he (the Holy Prophet) recited (this verse of the Holy Quran):" Thou art not over them a warden" (lxxxviii, 22).

130Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ أَبِي مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ

سوید بن سعید، ابن ابی عمر، مروان، ابومالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہا اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور چیزوں کی پرستش کا انکار کردیا اس کا جان ومال محفوظ ہوگیا باقی ان کے دل کی حالت کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

It Is narrated on the authority of Abu Malik: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who professed that there is no god but Allah and made a denial of everything which the people worship beside Allah, his property and blood became inviolable, an their affairs rest with Allah.

131Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد الاحمر، ح، زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، ابومالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو ایک مانا پھر اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔

Abu Malik narrated on the authority of his father that he heard the Apostle ﷺ say: He who held belief in the unity of Allah, and then narrated what has been stated above.

132Sahih Muslim

موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أَشْهَدُ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْکَ الْمَقَالَةَ حَتَّی قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا کَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَی أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ وَلَوْ کَانُوا أُولِي قُرْبَی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ کو ان کے پاس موجود پایا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے چچا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کلمہ کہہ دو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی گواہی دوں گا ابوجہل اور ابن امیہ کہنے لگے کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر رہے ہو؟ مگر رسول اللہ ﷺ باربار کلمہ توحید اپنے چچا ابوطالب کے سامنے پیش کرتے رہے اور یہی بات دھراتے رہے بالآخر ابوطالب نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے سے انکار کردیا اور آخری الفاظ یہ کہے کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک مجھے روکا نہیں جائے گا میں تو برابر دعائے مغفرت کرتا رہوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْ ا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ ) 9۔ التوبہ: 113) نازل فرمائی نبی ﷺ اور مومنوں کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان پر یہ ظاہر ہوگیا ہو کہ وہ دوزخی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28۔ القصص: 56) یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ تعالیٰ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔

It is reported by Said bin Musayyib who narrated it on the authority of his father (Musayyib bin Hazm) that when Abu Talib was about to die, the Messenger of Allah ﷺ came to him and found with him Abu Jahl (Amr bin Hisham) and Abdullah bin Abi Umayya ibn al-Mughirahh. The Messenger of Allah ﷺ said: My uncle, you just make a profession that there is no god but Allah, and I will bear testimony before Allah (of your being a believer), Abu Jahl and Abdullah bin Abi Umayya addressing him said: Abu Talib, would you abandon the religion of Abdul-Muttalib? The Messenger of Allah ﷺ constantly requested him (to accept his offer), and (on the other hand) was repeated the same statement (of Abu Jahl and Abdullah bin Abi Umayya) till Abu Talib gave his final decision and be stuck to the religion of Abdul-Muttalib and refused to profess that there is no god but Allah. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: By Allah, I will persistently beg pardon for you till I am forbidden to do so (by God), It was then that Allah, the Magnificent and the Glorious, revealed this verse: " It is not meet for the Prophet ﷺ and for those who believe that they should beg pardon for the polytheists, even though they were their kith and kin, after it had been made known to them that they were the denizens of Hell" (ix. 113) And it was said to the Messenger of Allah ﷺ : " Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will, and He knoweth best who are the guided" (xxviii, 56).