موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَی عِنْدَ قَوْلِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْآيَتَيْنِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَيَعُودَانِ فِي تِلْکَ الْمَقَالَةِ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَکَانَ هَذِهِ الْکَلِمَةِ فَلَمْ يَزَالَا بِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ح، حسن الحلوانی، عبد بن حمید، یعقوب یعنی ابن ابراہیم بن سعد اپنے والد سے، صالح، زہری نے انہی سندوں کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے مگر اس روایت میں دونوں آیات کا تذکرہ نہیں ہے۔
The same hadith is mentioned through a different chain except it ends where it mentions that Allah revealed the verses and it does not mention the verses. There is also a slight variation in words.
موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ الْآيَةَ
محمد بن عباد، ابن ابی عمر، مروان، یزید یعنی ابن کیسان، ابوکیسان، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے ان کی موت کے وقت فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28۔ القصص: 56) نازل فرمائی یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔
It is narrated on the authority of It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to his uncle at the time of his death: Make a profession of it that there is no god but Allah and I will bear testimony (of your being a Muslim) on the Day of Judgment. But he (Abu Talib) refused to do so. Then Allah revealed this verse:
" Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will and He knoweth best who are the guided" (xxviii. 56).
موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَی ذَلِکَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ
محمد بن حاتم بن میمون، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم اشجعی، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو تو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے جواب میں کہا قریش مجھے بدنام کریں گے اور کہیں گے کہ ابوطالب نے ڈر کے مارے ایسا کیا اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں کلمہ پڑھ کر آپ ﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اسی پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28۔ القصص: 56) نازل فرمائی یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to his uncle (at the time of his death): Make a profession of it that there is no god but Allah and I will bear testimony (of your being a Muslim) on the Day of Judgment. He (Abu Talib) said: Were it not the fear of the Quraysh blaming me (and) saying that it was the fear of (approaching death) that induced me to do so, I would have certainly delighted your eyes. It was then that Allah revealed:
" Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will and He knoweth best who are the guided" (xxviii-56).
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوبکر، ابن علیہ، خالد، ولید بن مسلم، حمران، عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا یقین رکھتے ہوئے مرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔
It is narrated on the authority of Uthman that the Messenger of Allah ﷺ said. He who died knowing (fully well) that there is no god but Allah entered Paradise
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَائً
محمد بن ابی بکر مقدمی، بشربن مفضل، خالد حذاء، ولید ابی بشر، حمران، حضرت عثمان ؓ سے اسی طرح کا فرمان رسول اللہ ﷺ کا نقل کیا ہے صرف الفاظ میں ردو بدل ہے مطلب اور ترجمہ یہی ہے۔
It is narrated on the authority of Humran that he heard Uthman saying this: I heard the Messenger of Allah ﷺ uttering these words (as stated above).
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ قَالَ فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ قَالَ حَتَّی هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَجَائَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ قَالَ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ قُلْتُ وَمَا کَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَی قَالَ کَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَائَ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهَا حَتَّی مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ قَالَ فَقَالَ عِنْدَ ذَلِکَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَی اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاکٍّ فِيهِمَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
ابوبکر بن نضر بن ابی النضر، ابوالنضر ہاشم بن القاسم، عبیداللہ اشجعی، مالک بن مغول، طلحہ بن مصرف، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے لوگوں کے پاس جو زاد راہ تھا وہ ختم ہوگیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں میں سے بعض کے اونٹ ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر آپ ﷺ لوگوں کے پاس سے بچا ہو زاد راہ جمع کریں اور اس پر دعا فرمائیں تاکہ اس میں برکت ہوجائے اور سب کو کفایت کر جائے، آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا تو جس کے پاس گیہوں تھے وہ گیہوں لے کر آگئے اور جس کے پاس کھجور تھی وہ کھجور لے کر آگئے اور جس کے پاس خالی گٹھلیاں تھیں وہ خالی گٹھلیاں لے کر آیا، میں نے کہا گٹھلی کو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ گٹھلیوں کو چوستے تھے اور اس پر پانی پی لیا کرتے تھے بالآخر سارا سامان جب جمع ہوگیا تو آپ ﷺ نے اس پر دعا فرمائی نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگوں نے اپنے اپنے توشہ دانوں کو بھر لیا اس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو بندہ اللہ تعالیٰ سے ان دونوں باتوں کی شہادتوں کا یقین رکھتے ہوئے مرے گا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) : We were accompanying the Apostle ﷺ in a march (towards Tabuk). He (the narrator) said: The provisions with the people were almost depleted. He (the narrator) said: (And the situation became so critical) that they (the men of the army) decided to slaughter some of their camels. He (the narrator) said: Upon this Umar said: Messenger of Allah, I wish that you should pool together what has been left out of the provisions with the people and then invoke (the blessings of) Allah upon it. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) did it accordingly. He (the narrator) said: The one who had wheat in his possession came there with wheat. He who had dates with him came there with dates. And Mujahid said: He who possessed stones of dates came there with stones. I (the narrator) said: What did they do with the date-stones. They said: They (the people) sucked them and then drank water over them. He (the narrator said): He (the Holy Prophet) invoked the blessings (of Allah) upon them (provisions). He (the narrator) said: (And there was such a miraculous increase in the stocks) that the people replenished their provisions fully. He (the narrator) said: At that time he (the Holy Prophet) said: I bear testimony to the fact that there is no god but Allah, and I am His messenger. The bondsman who would meet Allah without entertaining any doubt about these (two fundamentals) would enter heaven.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ شَکَّ الْأَعْمَشُ قَالَ لَمَّا کَانَ غَزْوَةُ تَبُوکَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَأَکَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا قَالَ فَجَائَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ وَلَکِنْ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَکَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِکَفِّ ذُرَةٍ قَالَ وَيَجِيئُ الْآخَرُ بِکَفِّ تَمْرٍ قَالَ وَيَجِيئُ الْآخَرُ بِکَسْرَةٍ حَتَّی اجْتَمَعَ عَلَی النِّطَعِ مِنْ ذَلِکَ شَيْئٌ يَسِيرٌ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَکَةِ ثُمَّ قَالَ خُذُوا فِي أَوْعِيَتِکُمْ قَالَ فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّی مَا تَرَکُوا فِي الْعَسْکَرِ وِعَائً إِلَّا مَلَئُوهُ قَالَ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَی اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاکٍّ فَيُحْجَبَ عَنْ الْجَنَّةِ
سہل بن عثمان، ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ یا حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ( راوی اعمش کو شک ہے) کہ جب غزوہ تبوک کا وقت آیا تو اس دن لوگوں کو بہت سخت بھوک لگی، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپ ﷺ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے ان اونٹوں کو جن پر پانی لاتے ہیں ان کو ذبح کرکے گوشت وغیرہ کھالیں اور چربی کا تیل بنالیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایسا کرلو، اتنے میں حضرت عمر ؓ آئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ اگر آپ ﷺ ایسا کریں گے تو سواریاں کم ہوجائیں گی آپ ﷺ ایسا نہ کریں بلکہ سب لوگوں کا بچا ہوا کھانے پینے کا سامان جمع کریں اور اللہ تعالیٰ سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا آپ ﷺ نے فرمایا اچھا! پھر چمڑے کا دستر خوان منگوا کر بچھا دیا اور لوگوں کے پاس جو کچھ کھانے پینے کا سامان بچ گیا تھا اس کو طلب فرمایا: آپ ﷺ کے حکم کے مطابق کچھ لوگوں نے مٹھی بھر جو اور کچھ لوگوں نے مٹھی بھر چھوہارے اور کچھ لوگوں نے روٹی کا ٹکڑا لا کر حاضر کردیا یہاں تک کہ یہ سب کچھ جب دستر خوان پر جمع ہوگیا تو آپ ﷺ نے برکت کی دعا فرمائی، دعا کے بعد فرمایا اپنے اپنے سب برتن بھر لو، لوگوں نے تمام برتن بھر لئے پھر لشکر میں کوئی برتن خالی نہ رہا پھر سب لوگوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اور اس کے بعد بھی کچھ باقی رہ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو بندہ ان دونوں شہادتوں پر یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا (مرے گا) اسے جنت سے ہرگز نہ روکا جائے گا۔
It is narrated either on the authority of Abu Hurairah (RA) or that of Abu Said Khudri. The narrator Amash has narrated this hadith with a little bit of doubt (about the name of the very first narrator who was in direct contact with the Holy Prophet. He was either Abu Hurairah (RA) or Abu Said Khudri. Both are equally reliable transmitters of the traditions). He (the narrator) said: During the time of Tabuk expedition, the (provisions) ran short and the men (of the army) suffered starvation; they said: Messenger of Allah, would you permit us to slay our camels? We would eat them and use their fat. The Messenger of Allah ﷺ said: Do as you please. He (the narrator) said: Then Umar came there and said: Messenger of Allah, if you do that (if you give your consent and the men begin to slay their camels), the riding animals would become short. But (I would suggest you to) summon them along with the provisions left with them Then invoke Allahs blessings on them (different items of the provisions) It is hoped Allah shall bless them. The Messenger of Allah ﷺ replied in the affirmative. (the narrator) said: He called for a leather mat to be used as a table cloth and spread it out. Then he called people along with the remaining portions of their provisions. He (the narrator) said: Someone was coming with handful of mote, another was coming with a handful of dates, still another was coming with a portion of bread, till small quantities of these things were collected on the table cloth. He (the narrator said): Then the messenger of Allah invoked blessing (on them) and said: Fill your utensils with these provisions. He (the narrator) said: They filled their vessel to the brim with them, and no one amongst the army (which comprised of 30,00O persons) was left even with a single empty vessel. He (the narrator) aid: They ate to their fill, and there was still a surplus. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: I bear testimony that there is no god but Allah and I am the messenger of Allah. The man who meets his Lord without harboring any doubt about these two (truths) would never be kept away from Paradise.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ ابْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ قَالَ حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَی عَبْدُ اللَّهِ وَابْنُ أَمَتِهِ وَکَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَی مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَائَ
داؤد بن رشید، ولید یعنی ابن مسلم، ابن جابر، عمیر بن ہانی، جنادہ، ابی امیہ، عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو اس بات کا قائل ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے نبی، حضرت مریم کے بیٹے اور کلمہ اللہ ہیں جو اس نے حضرت مریم کی طرف القاء کیا تھا اور روح اللہ ہیں اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو وہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
It is narrated on the authority of Ubadahh bin Samit that the messenger of Allah ﷺ observed: He who said:" There is no god but Allah, He is One and there is no associate with Him, that Muhammad is his servant and His messenger, that Christ is servant and the son of His slave-girl and he (Christ) His word which He communicated to Mary and is His Spirit, that Paradise is a fact and Hell is a fact," Allah would make him (he who affirms these truths enter Paradise through any one of its eight doors which he would like.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَی مَا کَانَ مِنْ عَمَلٍ وَلَمْ يَذْکُرْ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَائَ
احمد بن ابراہیم دورقی، مبشر بن اسماعیل، اوزاعی، حضرت عمیر بن ہانی سے اسی طرح کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے اس کے جو عمل بھی ہوں لیکن اس روایت میں یہ الفاظ مذکور نہیں کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے چلا جائے۔
It is narrated on the authority of Umar bin Hani with the same chain of transmitters with the exception of these words: Allah would make him (he who affirms these truths) enter Paradise through one of the eight doors which he would like.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَکَيْتُ فَقَالَ مَهْلًا لِمَ تَبْکِي فَوَاللَّهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَکَ وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَکَ وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّکَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَکُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُکُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُکُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن عجلان، محمد بن یحییٰ ابن حبان، ابن محیریز، حضرت صنابحی سے روایت ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ نزع کی حالت میں تھے میں حاضر ہوا اور انہیں دیکھ کر رونے لگا انہوں نے فرمایا روتا کیوں ہے اللہ کی قسم اگر مجھ سے گواہی لی گئی تو میں تیرے لئے گواہی دوں گا اگر میری سفارش قبول کی گئی تو میں تیرے لئے سفارش کروں گا اگر مجھ میں طاقت ہوئی تو تجھے فائدہ پہنچاؤں گا پھر فرمایا کوئی حدیث ایسی نہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو اور اس میں تم لوگوں کو فائدہ ہو اور میں نے تم سے وہ بیان نہ کی ہو ہاں ایک حدیث میں نے بیان نہیں کی وہ میں آج تم سے بیان کرتا ہوں کیونکہ میرا سانس گھٹنے کو ہے مرنے کے قریب ہوں میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّاِ اللہ اور مُحَمَّدُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ کی گواہی دے گا اللہ تعالیٰ اس پر دوزخ کو حرام کر دے گا۔
It is narrated on the authority of Sunabihi that he went to Ubadah bin Samit when he was about to die. I burst into tears. Upon this he said to me: Allow me some time (so that I may talk with you). Why do you weep? By Allah, if I am asked to bear witness, I would certainly testify for you (that you are a believer). Should I be asked to intercede, I would certainly intercede for you, and if I have the power, I would certainly do good to you, and then observed: By Allah, never did I hear anything from the Messenger of Allah ﷺ which could have been a source of benefit to you and then not conveyed it to you except this single hadith. That I intend to narrate to you today, since I am going to breathe my last. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is the messenger of Allah, Allah would prohibit the fire of Hell for him.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ فَقَالَ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا ثُمَّ سَارَ سَاعَةً قَالَ يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قُلْتُ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
ہداب بن خالد ازدی، ہمام، قتادہ، انس بن مالک، معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا میرے اور آپ ﷺ کے درمیان کجاوے کی درمیانی لکڑی کے علاوہ اور کوئی چیز حائل نہ تھی اتنے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے معاذ بن جبل ؓ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں حاضر ہوں، پھر تھوڑی دیر چلے پھر فرمایا اے معاذ بن جبل ؓ! میں نے عرض کیا میں حاضر ہوں، اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر تھوڑی دور چلے پھر فرمایا اے معاذ بن جبل! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اس کے بعد پھر آپ ﷺ تھوڑی دیر چلتے رہے پھر فرمایا اے معاذ بن جبل ؓ کیا تو جانتا ہے کہ بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے؟ بشرطیکہ وہ ایسا کریں یعنی شرک نہ کریں، میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو عذاب نہ دے۔
It is narrated on the authority of Muadh bin Jabal: I was riding behind the Prophet ﷺ and there was nothing between him and me but the rear part of the saddle, when he said: Muadh bin Jabal: To which I replied: At your beck and call, and at your pleasure, Messenger of Allah! ﷺ He moved along for a few minutes, when again he said: Muadh bin Jabal: To which I replied: At your beck and call, and at your pleasure, Messenger of Allah! ﷺ He then again moved along for a few minutes and said: Muadh bin Jabal: To which I replied. At your beck and call, and at your pleasure. Messenger of Allah ﷺ He, (the Holy Prophet) said: Do you know what right has Allah upon His servants? I said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophet) said: Verily the right of Allah over His servants is that they should worship Him, not associating anything with Him. He (the Holy Prophet) with Muadh behind him, moved along for a few minutes and said: Muadh bin Jabal: To which I replied: At your beck and call, and at your pleasure, Messenger of Allah! ﷺ He (the Holy Prophet) said: Do you know what rights have servants upon Allah in case they do it (i. e. they worship Allah without associating anything with Him)? I (Muadh bin Jabal) replied: Allah and His Messenger know best. (Upon this) he (the Holy Prophet) remarked: That He would not torment them (with the fire of Hell).
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ قَالَ فَقَالَ يَا مُعَاذُ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللَّهِ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّکِلُوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، سلام بن سلیم، ابواسحاق، عمرو بن میمون، حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے عفیر نامی گدھے پر آپ ﷺ کے ساتھ سوار تھا، آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اس کو عذاب نہ دے جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دے دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں (ورنہ) وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔
It is narrated on the authority of Muadh bin Jabal that he observed: I was riding behind the Messenger of Allah ﷺ on an ass known as Ufair. He (Muadh) observed: He (the Holy Prophet) said: Muadh, do you know what right has Allah over His bondsmen and what right have His bondsmen over Him? Muadh added: I replied: Allah and his Messenger know best. Upon this he (the Holy Prophet ﷺ remarked: The right of Allah over His bondsmen is that they should worship Allah and should not associate anything with Him, and the right of His bondsmen over Allah, Glorious and Sublime, is that He does not punish him who associates not anything with Him. He (Muadh) added: I said to the Messenger of Allah: Should I then give the tidings to the people? He (the Holy Prophet) said: Do not tell them this good news, for they would trust in it alone.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُعَاذُ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَی الْعِبَادِ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَکَ بِهِ شَيْئٌ قَالَ أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوحصین، اشعث بن سلیم، اسود بن ہلال، معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے معاذ کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے (اس کے بعد) فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے؟ جب وہ ایسا کریں! (یعنی شرک نہ کریں) میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے
It is narrated on the authority of Muadh bin Jabal that the Messenger of Allah ﷺ said: Muadh, do you know the right of Allah over His bondsmen? He (Muadh) said: Allah and His Apostle ﷺ know best. He (the Messenger of Allah) ﷺ said: That Allah alone should be worshipped and nothing should be associated with Him. He (the Holy Prophet) said: What right have they (bondsmen) upon Him in case they do it? He (Muadh) said: Allah and His Apostle ﷺ know best. He (the Holy Prophet) said: That He would not punish them.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذًا يَقُولُا دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَی النَّاسِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
قاسم بن زکریا، حسین، زائدہ، ابی حصین، اسود بن ہلال، معاذ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے آواز دی اور میں نے جواب دیا آپ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا حق لوگوں پر کیا ہے؟ باقی حدیث وہی ہے جو ابھی گذری
It is narrated on the authority of Aswad bin Hilal that he heard Muadh say this: The Messenger of Allah ﷺ called, me and I replied to him. He (the Holy Prophet) said: Do you know the right of Allah upon the people? and then followed the hadith (mentioned above).
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ کُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَيْتُ حَائِطًا لِلْأَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ أَجِدْ فَإِذَا رَبِيعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةٍ وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ فَاحْتَفَزْتُ کَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ فَدَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا شَأْنُکَ قُلْتُ کُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا فَفَزِعْنَا فَکُنْتُ أَوَّلَ مِنْ فَزِعَ فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ کَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهَؤُلَائِ النَّاسُ وَرَائِي فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ قَالَ اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَائِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ فَقَالَ مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَخَرَرْتُ لِاسْتِي فَقَالَ ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَرَجَعْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْهَشْتُ بُکَائً وَرَکِبَنِي عُمَرُ فَإِذَا هُوَ عَلَی أَثَرِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي قَالَ ارْجِعْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ يَا عُمَرُ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا فَعَلْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْکَ مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخْشَی أَنْ يَتَّکِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلِّهِمْ
زہیر بن حرب، عمر بن یونس حنفی، عکرمہ بن عمار، ابوکثیر، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ بھی شامل تھے اچانک رسول اللہ ﷺ ہمارے سامنے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دیر تک تشریف نہ لائے ہم ڈر گئے کہ کہیں (اللہ نہ کرے) آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ اس لئے ہم گھبرا کر کھڑے ہوگئے سب سے پہلے مجھے گھبراہٹ ہوئی میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلا یہاں تک کہ بنی نجار کے باغ تک پہنچ گیا ہرچند باغ کے چاروں طرف گھوما مگر اندر جانے کا کوئی دروازہ نہ ملا۔ اتفاقاً ایک نالہ دکھائی دیا جو بیرونی کنوئیں سے باغ کے اندر جارہا تھا میں اسی نالہ میں سمٹ کر گھر کے اندر داخل ہوا اور آپ کی خدمت میں پہنچ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابوہریرہ! میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا حال ہے؟ آپ ہمارے سامنے تشریف فرما تھے اور اچانک اٹھ کر تشریف لے گئے اور دیر ہوگئی تو ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں کوئی حادثہ نہ گزرا ہو اس لئے ہم گھبرا گئے۔ سب سے پہلے مجھے ہی گھبراہٹ ہوئی (تلاش کرتے کرتے کرتے) اس باغ تک پہنچ گیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر (نالہ کے راستہ سے) اندر آگیا اور لوگ میرے پیچھے ہیں۔ آپ نے اپنے نعلین مبارک مجھے دے کر فرمایا ابوہریرہ! میری یہ دونوں جوتیاں (بطور نشانی) کے لے جاؤ اور جو شخص باغ کے باہر دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کہتا ہوا ملے اس کو جنت کی بشارت دے دو۔ (میں نے حکم کی تعمیل کی) سب سے پہلے مجھے حضرت عمر ؓ ملے۔ انہوں نے کہا اے ابوہریرہ ؓ! یہ جوتیاں کیسی ہیں؟ میں نے کہا یہ اللہ کے رسول ﷺ کی جوتیاں ہیں۔ آپ نے مجھے یہ جوتیاں دے کر بھیجا ہے کہ جو مجھے دل کے یقین کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کو جنت کی بشارت دے دوں۔ حضرت عمر ؓ نے یہ سن کر ہاتھ سے میرے سینے پر ایک ضرب رسید کی جس کی وجہ سے میں سرینوں کے بل گرپڑا۔ کہنے لگے اے ابوہریرہ ؓ! لوٹ جا۔ میں لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور میں رو پڑنے کے قریب تھا۔ میرے پیچھے عمر ؓ بھی آپہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا میری ملاقات عمر ؓ سے ہوئی اور جو پیغام آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا میں نے ان کو پہنچادیا۔ انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب رسید کی جس کی وجہ سے میں سرینوں کے بل گرپڑا اور کہنے لگے لوٹ جا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عمرتم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا آپ نے ابوہریرہ ؓ کو جوتیاں دے کر حکم دیا تھا کہ جو شخص دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت کی بشارت دے دینا۔ فرمایا ہاں! حضرت عمر ؓ نے عرض کیا آپ ایسا نہ کریں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ لوگ (عمل کرنا چھوڑ دیں گے) اور اسی فرمان پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔ ان کو عمل کرنے دیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اچھا تو) رہنے دو۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) : We were sitting around the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him). Abu Bakr (RA) and Umar were also there among the audience. In the meanwhile the Messenger of Allah ﷺ got up and left us, He delayed in coming back to us, which caused anxiety that he might be attacked by some enemy when we were not with him; so being alarmed we got up. I was the first to be alarmed. I, therefore, went out to look for the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) and came to a garden belonging to the Banu an-Najjar, a section of the Ansar went round it looking for a gate but failed to find one. Seeing a rabi (i. e. streamlet) flowing into the garden from a well outside, drew myself together, like a fox, and slinked into (the place) where Gods Messenger was. He (the Holy Prophet) said: Is it Abu Hurairah (RA) ? I ( Abu Hurairah (RA) ) replied: Yes, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with you? replied: You were amongst us but got up and went away and delayed for a time, so fearing that you might be attacked by some enemy when we were not with you, we became alarmed. I was the first to be alarmed. So when I came to this garden, I drew myself together as a fox does, and these people are following me. He addressed me as Abu Hurairah (RA) and gave me his sandals and said: Take away these sandals of mine, and when you meet anyone outside this garden who testifies that there is no god but Allah, being assured of it in his heart, gladden him by announcing that he shall go to Paradise. Now the first one I met was Umar. He asked: What are these sandals, Abu Hurairah (RA) ? I replied: These are the sandals of the Messenger of Allah ﷺ with which he has sent me to gladden anyone I meet who testifies that there is no god but Allah, being assured of it in his heart, with the announcement that he would go to Paradise. Thereupon Umar struck me on the breast and I fell on my back. He then said: Go back, Abu Hurairah (RA) , So I returned to the Messenger of Allah ﷺ , and was about to break into tears. Umar followed me closely and there he was behind me. The Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be on him) said: What is the matter with you, Abu Hurairah (RA) ? I said: I happened to meet Umar and conveyed to him the message with which you sent me. He struck me on my breast which made me fall down upon my back and ordered me to go back. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: What prompted you to do this, Umar? He said: Messenger of Allah, my mother and father be sacrificed to thee, did you send Abu Hurairah (RA) with your sandals to gladden anyone he met and who testified that there is no god but Allah, and being assured of it in his heart, with the tidings that he would go to Paradise? He said: Yes. Umar said: Please do it not, for I am afraid that people will trust in it alone; let them go on doing (good) deeds. The Messenger of Allah ﷺ said: Well, let them.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَدِيفُهُ عَلَی الرَّحْلِ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْکَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْکَ قَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَی النَّارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا قَالَ إِذًا يَتَّکِلُوا فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا
اسحاق بن منصور، معاذ بن ہشام اپنے والد سے، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور معاذ بن جبل ایک سواری پر سوار تھے معاذ ؓ آپ ﷺ کے پیچھے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ نے پھر فرمایا اے معاذ! حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں خدمت اقدس میں موجود ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا جو بندہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اللہ اس پر ضرور دوزخ حرام کر دے گا، حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اس فرمان کی لوگوں کو اطلاع نہ کر دوں کہ وہ خوش ہوجائیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر ایسا ہوگا تو اعمال چھوڑ کر لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے معاذ ؓ نے اپنی موت کے وقت گناہ کے خوف کی وجہ سے یہ حدیث بیان کی۔
It is reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ of Allah (may peace and blessings be upon him) addressed Muadh bin Jabal as he was riding behind him to which he replied: At thy beck and call, and at thy pleasure, Messenger of Allah. He again called out: Muadh, to which he (again) replied: At thy beck and call, and at thy pleasure. He (the Holy Prophet) addressed him (again): Muadh, to which he replied: At thy beck and call, and at thy pleasure, Messenger of Allah. Upon this he (the Holy Prophet) observed: If anyone testifies (sincerely from his heart) that there is no god but Allah, and that Muhammad is His bondsman and His messenger, Allah immuned him from Hell. He (Muadh) said: Messenger of Allah, should I not then inform people of it, so that they may be of good cheer? He replied: Then they would trust in it alone. Muadh told about it at the time of his death, to avoid sinning.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکَ قَالَ أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْئِ فَبَعَثْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّی قَالَ فَأَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَائَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِکَ وَکُبْرَهُ إِلَی مَالِکِ بْنِ دُخْشُمٍ قَالُوا وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَکَ وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَقَالَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِکَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ قَالَ لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ قَالَ أَنَسٌ فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ فَقُلْتُ لِابْنِي اکْتُبْهُ فَکَتَبَهُ
شیبان بن فروخ، سلیمان یعنی ابن المغیرہ، ثابت، انس بن مالک، محمود بن ربیع، حضرت عتبان بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں میں کچھ خرابی ہوگئی تھی اس لئے میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میری یہ خواہش ہے کہ آپ ﷺ میرے گھر میں تشریف لا کر نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو اپنے نماز پڑھنے کی جگہ بنالوں کیونکہ میں مسجد میں حاضری سے معذور ہوں پس آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے مگر صحابہ ؓ آپس میں گفتگو میں مشغول رہے دوران گفتگو مالک بن دخشم کا تذکرہ آیا لوگوں نے اس کو مغرور اور متکبر کہا کہ وہ آپ ﷺ کی تشریف آوری کی خبر سن کر بھی حاضر نہیں ہوا معلوم ہوا وہ منافق ہے، صحابہ ؓ نے کہا کہ ہم دل سے چاہتے تھے کہ آپ ﷺ اس کے لئے بددعا کریں کہ وہ ہلاک ہوجائے یا کسی مصیبت میں گرفتار ہوجائے رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا وہ اللہ تعالیٰ کی معبودیت اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا صحابہ ؓ نے عرض کیا زبان سے تو وہ اس کا قائل ہے مگر اس کے دل میں یہ بات نہیں فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی توحید اور میری رسالت کی گواہی دے گا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا یا یہ فرمایا کہ اس کو آگ نہ کھائے گی حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ اس کو لکھ لو تو انہوں نے اس حدیث کو لکھ لیا۔
It is narrated on the authority of Itban bin Malik that he came to Madinah and said: Something had gone wrong with my eyesight. I, therefore, sent (a message to the Holy Prophet): Verily it is my ardent desire that you should kindly grace my house with your presence and observe prayer there so, that I should make that corner a place of worship. He said: The Prophet ﷺ came there, and those amongst the Companions whom Allah willed also accompanied him. He entered (my place) and offered prayer at my residence and his Companions began to talk amongst themselves (and this conversation centered round hypocrites), and then the conspicuous one, Malik bin Dukhshum was made the target and they wished that he (the Holy Prophet) should curse him and he should die or he should meet some calamity. In the meanwhile the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) completed his prayer and said: Does Malik bin Dukhshum not testify the fact that there is no god but Allah and verily I am the messenger of Allah. They replied: He makes a profession of it (no doubt) but does not do it out of (sincere) heart. He (the Holy Prophet) said: He who testifies that there is no god but Allah and I am the messenger of Allah would not enter Hell or its (flames) would not consume him. Anas said: This hadith impressed me very much and I told my son to write it down.
جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّهُ عَمِيَ فَأَرْسَلَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَائَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُمِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ
ابوبکر بن نافع عبدی، بہز، حماد، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت عتبان بن مالک ؓ نے حدیث بیان کی کہ وہ نا بینا ہوگئے تھے اس لئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ ﷺ میرے گھر تشریف لائیں اور مسجد کی ایک جگہ مقرر کردیں پس آپ ﷺ آئے عتبان کے خاندان والے بھی آئے مگر ایک آدمی جس کا نام مالک بن دخیشم تھا نہ آیا باقی حدیث وہی ہے جو ابھی گزری
It is narrated on the authority of Anas that Itban bin Malik told him that he became blind. He sent a message to the Messenger of Allah ﷺ that he should come and mark a place of worship for him. Thereupon came the Messenger of Allah ﷺ and his people and then there was a discussion among them about a man who was known as Malik bin Dukhshum, and subsequently the narrator described the hadith of Sulaiman bin Mughira as stated above.
اس بات کے بیان میں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو رب اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہو پس وہ مومن ہے اگرچہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَبِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا
محمد بن یحییٰ بن ابی عمر مکی، بشر بن حکم، عبدالعزیز (محمد بن در اور دی) یزید بن ہاد، محمد بن ابراہیم، عامر بن سعد، حضرت عباس ؓ بن عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اپنی رضا کا دل سے اعلان کردیا اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیا۔
It is narrated on the authority of Abbas bin Abdul-Muttalib that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying: He relished the flavor of faith (Iman) who became the book of faith pleased with Allah as Lord, with al-Islam as the code of life and with Muhammad as the Messenger (of Allah).
ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً وَالْحَيَائُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ
عبیداللہ بن سعید، عبد بن حمید، ابوعامر عقدی، سلیمان بن بلال، عبداللہ بن دینار، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان کی کچھ اوپر ستر شاخیں ہیں اور حیاء بھی ایمان ہی کی ایک شاخ ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: Iman has over seventy branches, and modesty is a branch of Iman.