ایمان کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 2 · 438 hadiths · Page 4 of 23

153Sahih Muslim

ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَی عَنْ الطَّرِيقِ وَالْحَيَائُ شُعْبَةٌ مِنْ الْإِيمَانِ

زہیر بن حرب، جریر، سہل، عبداللہ بن دینار، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان کی کچھ اوپر ستر یا کچھ اوپر ساٹھ شاخیں ہیں جن میں سب سے بڑھ کر لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا قول ہے اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کو راستہ سے دور کردینا ہے اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: Faith has over seventy branches or over sixty branches, the most excellent of which is the declaration that there is no god but Allah, and the humblest of which is the, removal of what is injurious from the path: and modesty is the branch of faith.

154Sahih Muslim

ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَائِ فَقَالَ الْحَيَائُ مِنْ الْإِيمَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ مَرَّ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو الناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، سالم نے اپنے باپ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سنا کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو حیاء کے متعلق نصیحت کر رہا ہے فرمایا حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔ عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، اس روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیاء داری کی نصیحت کررہا ہے۔

Salim reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ (may peace and blessings be upon him) heard a man instruction his brother about modesty. Upon this the Prophet ﷺ remarked: Modesty is an ingredient of Iman (faith). Zuhri has narrated this hadith with the addition of these words: He (the Holy Prophet) happened to pass by a mass of Ansar who was instructing his brother (about modesty).

156Sahih Muslim

ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْحَيَائُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ کَعْبٍ إِنَّهُ مَکْتُوبٌ فِي الْحِکْمَةِ أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا وَمِنْهُ سَکِينَةً فَقَالَ عِمْرَانُ أُحَدِّثُکَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِکَ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، ابوالسوار، حضرت عمران بن حصین ؓ نے یہ حدیث مبارکہ بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا حیاء سے خیر ہی حاصل ہوتی ہے بشیر بن کعب نے عمران ؓ کی زبان سے یہ حدیث سن کر کہا حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیاء سے وقار حاصل ہوتا ہے عمران ؓ بولے میں تمہارے سامنے رسول اللہ ﷺ کا فرمان عالیشان بیان کر رہا ہوں اور تم اپنی حکمت کی کتابوں کی باتیں بیان کرتے ہو۔

It is narrated on the authority of Imran bin Husain that the Prophet ﷺ (may peace and blessings be upon him) said: Modesty brings forth nothing but goodness. Bushair bin Kab said: It is recorded in the books of wisdom, there lies sobriety in it and calmness of mind in it, Imran said: I am narrating to you the tradition of the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) and you talk of your books

157Sahih Muslim

ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ إِسْحَاقَ وَهُوَ ابْنُ سُوَيْدٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ حَدَّثَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي رَهْطٍ، وَفِينَا بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ، فَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ، يَوْمَئِذٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ» قَالَ: أَوْ قَالَ: «الْحَيَاءُ كُلُّهُ خَيْرٌ» فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ: إِنَّا لَنَجِدُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ - أَوِ الْحِكْمَةِ - أَنَّ مِنْهُ سَكِينَةً وَوَقَارًا لِلَّهِ، وَمِنْهُ ضَعْفٌ، قَالَ: فَغَضِبَ عِمْرَانُ حَتَّى احْمَرَّتَا عَيْنَاهُ، وَقَالَ: أَلَا أَرَى أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُعَارِضُ فِيهِ، قَالَ: فَأَعَادَ عِمْرَانُ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَأَعَادَ بُشَيْرٌ، فَغَضِبَ عِمْرَانُ، قَالَ: فَمَا زِلْنَا نَقُولُ فِيهِ إِنَّهُ مِنَّا يَا أَبَا نُجَيْدٍ، إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ

حماد بن زید نے اسحاق بن سوید سے روایت کی کہ ابو قتادہ ( تمیم بن نذیر ) نے حدیث بیان کی، کہا کہ ہم انپے ساتھیوں سمیت حضرت عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس حاضر تھے، ہم میں بشیر بن کعب بھی موجود تھے، اس روز حضرت عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں ایک حدیث سنائی، کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ حیا بھلائی ہے پوری کی پوری۔ ‘ ‘ ( انہوں نے کہا: یہ الفاظ فرمائے ): ’’حیا پوری کی پوری بھلائی ہے۔ ‘ ‘ تو بشیر بن کعب نے کہا: ہمیں کتابون یا حکمت ( کے مجموعوں ) میں یہ بات ملتی ہے کہ حیا سے اطمینان اور اللہ کے لیے وقار ( کا اظہار ) ہوتا ہے اور اس کی ایک قسم ضعیفی ( کمزور ) ہے۔ حضرت عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سخت غصے میں آ گئے حتی کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور فرمانے لگے: کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس میں مقابلہ کر رہے ہو؟ ابوقتادہ نے کہا: عمران نےدوبارہ حدیث سنائی اور بشیر نے پھر وہی کہا: اس پر عمران ( سخت ) غصے میں آ گئے۔ ( ابو قتادہ نے ) کہا: تو ہم نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا: اے ابو نجید! ( حضرت عمران کی کنیت ) یہ ہم میں سے ( مسلمان اور حدیث کا طالب علم ) ہے۔ اس ( کے عقیدے ) میں کوئی عیب یا نقص نہیں ہے۔

It is narrated on the authority of Qatada. We were sitting with 'Imran b. Husain in a company and Bushair ibn Ka'b was also amongst us. 'Imran narrated to us that on a certain occasion the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) said: Modesty is a virtue through and through, or said: Modesty is a goodness complete. Upon this Bushair ibn Ka'b said: Verily we find in certain books or books of (wisdom) that it is God-inspired peace of mind or sobriety for the sake of Allah and there is also a weakness in it. Imran was so much enraged that his eyes became red and he said: I am narrating to you the hadith of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and you are contradicting it. He (the narrator) said: Imran reported the hadith, He (the narrator) said: Bushair repeated, (the same thing). Imran was enraged. He (the narrator) said: We asserted: Verily Bushair is one amongst us. Abu Nujaid! There is nothing wrong, with him (Bushair).

158Sahih Muslim

ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ، يَقُولُ عَنْ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ

نضر ( بن شمیل ) نے کہا: ہمیں ابو نعامہ عدوی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نےحجیر بن ریبع عدوی سےسنا، وہ کہتے تھے: عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی۔ ( جس طرح ) حماد بن زید کی حدیث ہے۔

Ishaq b. Ibrahim narrates this hadith of the Prophet on the authority of Imran b. Husain, like the one narrated by Hammad b. Zaid.

159Sahih Muslim

اسلام کے جامع اوصاف کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَکَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَکَ قَالَ قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ح، قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، جریر، ح، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام بن عروہ اپنے والد سے، حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اسلام میں ایک ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر میں اس کو آپ ﷺ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں ابواسامہ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو کہہ میں ایمان لایا اللہ پر پھر ڈٹارہ۔

It is narrated on the authority of Sufyan bin Abdulla al-Thaqafi that he said: I asked the Messenger of Allah ﷺ to tell me about Islam a thing which might dispense with the necessity of my asking anybody after you. In the hadith of Abu Usama the (words) are: other than you. He (the Holy Prophet) remarked: Say I affirm my faith in Allah and then remain steadfast to it.

160Sahih Muslim

اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ

قتیبہ بن سعید، لیث، ح، محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا کھانا کھلاؤ اور سلام کرو ہر شخص کو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Amr that a man asked the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) which of the merits (is superior) in Islam. He (the Holy Prophet) remarked: That you provide food and extend greetings to one whom you know or do not know.

161Sahih Muslim

اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

ابوطاہر احمد بن عمرو، ابن عمرو بن سرح المصری، ابن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، ابوالخیر، ابن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا مسلمان سب سے بہتر ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

Abdullah bin Amr (RA) bin al-As is reported to have said: Verily a person asked the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) who amongst the Muslims was better. Upon this (the Holy Prophet) remarked: From whose hand and tongue the Muslims are safe.

162Sahih Muslim

اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ عَبْدٌ أَنْبَأَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

حسن الحلوانی، عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن جریج، ابوالزبیر، جابر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔

It is narrated on the authority of Jabir that he heard the (Holy Prophet) say: A Muslim is he from whose hand and tongue the Muslims are safe.

163Sahih Muslim

اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟

حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

سعید بن بن یحییٰ بن سعید اموی اپنے والد سے، ابوبردہ بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسی، ابوبردہ، ابوموسیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کس شخص کا اسلام سب سے بہتر ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔

It is narrated on the authority of Abu Musa Ashari: I asked the Messenger of Allah ﷺ which (attribute) of Islam is more excellent. Upon this he remarked: One in which the Muslims are safe, protected from the tongue and hand of (other Muslims). Ibrahim bin Said al-Jauhari has narrated this hadith with the same words in addition to these. The Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) was asked as to who amongst the Muslims is better, and the rest of the hadith was narrated like this.

164Sahih Muslim

اسلام کی فضیلت اور اس بات کے بیان میں کہ اسلام میں کونسے کام افضل ہیں؟

حَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ فَذَکَرَ مِثْلَهُ

ابراہیم بن سعید جوہری، ابواسامہ، برید بن عبداللہ اس روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسا مسلمان افضل ہے تو آپ ﷺ نے اس طرح ذکر فرمایا۔

Ibrahim b. Said al-Jauhari has narrated this hadith with the same words in addition to these. The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) was asked as to who amongst the Muslims is better, and the rest of the hadith was narrated like this.

165Sahih Muslim

ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ مَنْ کَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْئَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَأَنْ يَکْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْکُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ کَمَا يَکْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن یحییٰ بن ابوعمرو، محمد بن بشار، ثقفی، ابن ابی عمر، عبدالوہاب، ایوب، ابوقلابہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی اس کو ان کی وجہ سے ایمان کی لذت حاصل ہوگی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اسے دیگر سب چیزوں سے محبوب ہوں جس شخص سے محبت کرے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے کرے جب اللہ تعالیٰ نے اسے کفر سے نجات دے دی تو پھر دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کو اتنا برا سمجھے جتنا آگ میں ڈالے جانے کو برا سمجھتا ہے۔

It is reported on the authority of Anas that the Prophet ﷺ of Allah (may peace and blessings be upon him) said: There are three qualities for which anyone who is characterised by them will relish the sweetness of faith: he to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who loves a man for Allahs sake alone; and he who has as great an abhorrence of returning to unbelief after Allah has rescued him from it as he has of being cast into Hell.

166Sahih Muslim

ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِيهِ وَجَدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ کَانَ يُحِبُّ الْمَرْئَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَمَنْ کَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَمَنْ کَانَ أَنْ يُلْقَی فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْکُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی اس کو ایمان کا مزہ آجائے گا جس شخص سے محبت کرے صرف اللہ کے لئے کرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اس کو تمام عالم سے زیادہ محبوب ہوں جب اللہ تعالیٰ نے کفر سے نجات دے دی تو پھر کفر کی طرف لوٹنے سے زیادہ آگ میں ڈالے جانے کو اچھا سمجھے۔

It is reported on the authority of Anas that the Prophet ﷺ of Allah (may peace and blessings be upon him) said: There are three qualities for which anyone who is characterised by them will relish the sweetness of faith: he to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who loves a man for Allahs sake alone; and he who has as great an abhorrence of returning to unbelief after Allah has rescued him from it as he has of being cast into Hell.

167Sahih Muslim

ان خصلتوں کے بیان میں جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا

اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، حماد، ثابت، انس سے یہ روایت بھی اسی طرح منقول ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ دوبارہ یہودی یا نصرانی ہونے سے آگ میں لوٹ جانے کو زیادہ بہتر سمجھے۔

A similar hadith has been reported on the authority of Anas (with another chain of transmitters) with the exception of these words: that he again becomes a Jew or a Christian.

168Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن وہی ہے جسے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر والوں، والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہو

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ الرَّجُلُ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیہ، ح، شیبان بن ابی شیبہ، عبدالوارث، عبدالعزیز، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بندہ کوئی شخص مومن نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے تمام متعلقین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔

It is reported on the authority of Anas that the Messenger of Allah ﷺ said: No bondsman believes, and, in the hadith narrated by Abdul Warith, no person believes, till I am dearer to him than the members of his household, his wealth and the whole of mankind.

169Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن وہی ہے جسے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر والوں، والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک میں اسے اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔

It is reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: None of you is a believer till I am dearer to him than his child, his father and the whole of mankind.

170Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ ایمان کی خصلت یہ ہے کہ اپنے لئے جو پسند کرے اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ قَالَ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہ ہوگا جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو بات اپنے لئے پسند کرتا ہو وہی اپنے بھائی کے لئے یا پڑوسی کے لئے پسند کرے۔

It is arrested on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: one amongst you believes (truly) till one likes for his brother or for his neighbour that which he loves for himself.

171Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ ایمان کی خصلت یہ ہے کہ اپنے لئے جو پسند کرے اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی يُحِبَّ لِجَارِهِ أَوْ قَالَ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، حسین معلم، قتادہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ مومن نہیں ہوگا جب تک اپنے ہمسایہ یا اپنے بھائی کے لئے وہی بات دل سے نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔

It is narrated on the authority of Anas that the Prophet ﷺ (may peace blessings be upon him) observed: By Him in whose Hand is my life, no, bondsman (truly) believes till he likes for his neighbour, or he (the Holy Prophet) said: for his brother, whatever he likes for himself.

172Sahih Muslim

ہمسایہ کو تکلیف دینے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر بن ایوب، اسماعیل، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی ضرر رسانیوں سے اس کا ہمسایہ محفوظ نہ ہو۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessing be upon him) observed: He will not enter Paradise whose neighbour is not secure from his wrongful conduct.

173Sahih Muslim

ہمسایہ اور مہمان کی عزت کرنا اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کا بیان

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ

حرملہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کا ایمان اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ہو پس اسے چاہئے کہ وہ اچھی بات کہے یا پھر اسے خاموش رہنا چاہئے اور جس شخص کا ایمان اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ہو اسے چاہئے کہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے اور جس شخص کا ایمان اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ہو اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who believes in Allah and the Last Day should either utter good words or better keep silence; and he who believes in Allah and the Last Day should treat his neighbour with kindness and he who believes in Allah and the Last Day should show hospitality to his guest