ہمسایہ اور مہمان کی عزت کرنا اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْکُتْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، ابی حصین، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا احترام کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ بھلائی کی بات کہے یا خاموش رہے۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: He who believes in Allah and the Last Day does not harm is neighbour, and he who believes in Allah and the Last Day shows hospitality to his guest and he who believes in Allah and the Last Day speaks good or remains silent.
ہمسایہ اور مہمان کی عزت کرنا اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي حَصِينٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلْيُحْسِنْ إِلَی جَارِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح فرمایا جو گزشتہ حدیث میں گزرا مگر اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کرے۔
Another hadith similar to one narrated (above) by Abu Husain is also reported by Abu Hurairah (RA) with the exception of these words: He (the Prophet) said: He should do good to the neighbour.
ہمسایہ اور مہمان کی عزت کرنا اور نیکی کی بات کے علاوہ خاموش رہنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے کا بیان
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَی جَارِهِ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْکُتْ
زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن عیینہ، سفیان، عمرو، نافع بن جبیر، حضرت ابوشریح خزاعی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔
It is narrated on the authority of Abu Shuraih al-Khuzai that the Prophet ﷺ (may peace and blessings of Allah be upon him) observed: He who believes in Allah and the Last Day should do good to his neighbour and he who believes in Allah and the Last Day should show hospitality to the guest and he who believes in Allah and the Last Day should either speak good or better remain silent.
اس بات کے بیان میں کہ بری بات سے منع کرنا ایمان میں داخل ہے اور یہ کہ ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فَقَالَ قَدْ تُرِکَ مَا هُنَالِکَ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَی مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَأَی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قیس بن مسلم، حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ عید کے دن سب سے پہلے نماز سے قبل جس شخص نے خطبہ شروع کیا وہ مروان تھا ایک آدمی کھڑا ہو کر مروان سے کہنے لگا کہ نماز خطبہ سے پہلے ہونی چاہئے مروان نے جواب دیا وہ دستور اب چھوڑ دیا گیا ہے حاضرین میں سے ابوسعید ؓ بولے اس شخص پر شریعت کا جو حق تھا وہ اس نے ادا کردیا اب چاہے مروان مانے یا نہ مانے میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص تم میں سے کوئی بات شریعت کے خلاف دیکھے تو وہ ہاتھ سے اس کو بدل دے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو زبان سے ایسا کرے اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو دل سے ہی اس کو برا جانے مگر یہ ضعیف ترین ایمان کا درجہ ہے۔
It is narrated on the authority of Tariq bin Shihab: It was Marwan who initiated (the practice) of delivering Khutbah (address) before the prayer on the Id day. A man stood up and said: Prayer should precede Khutbah. He (Marwan) remarked, This (practice) has been done away with. Upon this Abu Said remarked: This man has performed (his duty) laid on him. I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: He who amongst you sees something abominable should modify it with the help of his hand; and if he has not strength enough to do it, then he should do it with his tongue, and if he has not strength enough to do it, (even) then he should (abhor it) from his heart, and that is the least of faith.
اس بات کے بیان میں کہ بری بات سے منع کرنا ایمان میں داخل ہے اور یہ کہ ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي قِصَّةِ مَرْوَانَ وَحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ
ابوکریب، محمد ابن العلاء، ابومعاویہ، اعمش، اسماعیل بن رجاء اپنے والد سے، ابوسعید خدری، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، ابوسعید خدری ؓ سے بھی یہ روایت بالکل اسی طرح مذکور ہے۔
The same hadith of the Holy Prophet ﷺ (may peace and blessings be upon him) has been reported by Abu Said al-Khudri in connection with the story of Marwan.
اس بات کے بیان میں کہ بری بات سے منع کرنا ایمان میں داخل ہے اور یہ کہ ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ الْحَارِثِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللَّهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي إِلَّا کَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ يَأْخُذُونَ بِسُنَّتِهِ وَيَقْتَدُونَ بِأَمْرِهِ ثُمَّ إِنَّهَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَيْسَ وَرَائَ ذَلِکَ مِنْ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَحَدَّثْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَأَنْکَرَهُ عَلَيَّ فَقَدِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَنَزَلَ بِقَنَاةَ فَاسْتَتْبَعَنِي إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ کَمَا حَدَّثْتُهُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ صَالِحٌ وَقَدْ تُحُدِّثَ بِنَحْوِ ذَلِکَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ
عمروالناقد، ابوبکر بن نضر، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابوصالح بن کیسان، حارث، جعفر بن عبداللہ بن حکم، عبدالرحمن بن مسور، ابورافع، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ سے پہلے جس امت میں نبی بھیجا گیا ہے اس کی امت میں سے اس کے کچھ دوست اور صحابی بھی ہوئے ہیں جو اس کے طریقہ پر کار بند اور اس کے حکم کے پیرو رہے ہیں لیکن ان صحابیوں کے بعد کچھ لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں جن کا قول فعل کے خلاف اور فعل حکم نبی کے خلاف ہوا ہے جس شخص نے ہاتھ سے ان مخالفین کا مقابلہ کیا وہ بھی مومن تھا جس نے زبان سے ان مخالفین کا مقابلہ کیا وہ بھی مومن تھا جس نے زبان سے جہاد کیا وہ بھی مومن تھا اس کے علاوہ رائی کے دانہ کے برابر ایمان کا کوئی درجہ نہیں ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت ابن عمر ؓ کے سامنے بیان کی انہوں نے نہ مانا اور انکار کیا اتفاق سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ آگئے اور قناہ وادی مدینہ میں اترے تو حضرت ابن عمر ؓ حضرت عبداللہ بن مسعود کی عیادت کو مجھے اپنے ساتھ لئے گئے میں ان کے ساتھ چلا گیا جب ہم وہاں جا کر بیٹھ گئے تو میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسا کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کی تھی حضرت صالح فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ابورافع ؓ سے اسی طرح بیان کی گئی ہے۔
It is narrated on the authority Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: Never a Prophet ﷺ had been sent before me by Allah towards his nation who had not among his people (his) disciples and companions who followed his ways and obeyed his command. Then there came after them their successors who said whatever they did not practise, and practised whatever they were not commanded to do. He who strove against them with his hand was a believer: he who strove against them with his tongue was a believer, and he who strove against them with his heart was a believer and beyond that there is no faith even to the extent of a mustard seed. Abu Rafi said: I narrated this hadith to Abdullah bin Umar; he contradicted me. There happened to come Abdullah bin Masud who stayed at Qanat, and Abdullah b Umar wanted me to accompany him for visiting him (as Abdullah bin Masud was ailing), so I went along with him and as we sat (before him) I asked Ibn Masud about this hadith. He narrated it in the same way as I narrated it to Ibn Umar.
اس بات کے بیان میں کہ بری بات سے منع کرنا ایمان میں داخل ہے اور یہ کہ ایمان بڑھتا اور کم ہوتا ہے
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ الْفُضَيْلِ الْخَطْمِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا کَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ کَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يَهْتَدُونَ بِهَدْيِهِ وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ مِثْلَ حَدِيثِ صَالِحٍ وَلَمْ يَذْکُرْ قُدُومَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَاجْتِمَاعِ ابْنِ عُمَرَ مَعَهُ
ابوبکر بن اسحاق بن محمد، ابومریم، عبدالعزیزبن محمد، حارث بن فضیل خطمی، جعفر بن عبداللہ بن حکم، عبدالرحمن بن مسور بن مخرمہ، ابورافع نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کے کچھ دوست ولی ہوئے ہیں جو نبی کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں اور اس کی سنت پر عامل رہے ہیں باقی حدیث صالح کی حدیث کی طرح ہے مگر اس میں حضرت ابن مسعود ؓ کے آنے اور حضرت ابن عمر ؓ کے ملنے کا کوئی تذکرہ نہیں۔
The same hadith has been transmitted by another chain of narrators on the authority of Abdullah bin Masud who observed: Never was there one among the prophets who had had not disciples who followed his direction and followed his ways. The remaining part of the hadith is like that as narrated by Salih but the arrival of Ibn Masud and the meeting of Ibn Umar with him is not mentioned.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا يَرْوِي عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْإِيمَانَ هَهُنَا وَإِنَّ الْقَسْوَةَ وَغِلَظَ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ح، ابن نمیر، ح، ابوکریب، ابن ادریس، اسماعیل بن ابی خالد، ح، یحییٰ بن حبیب الحارثی، معتمر، اسماعیل، قیس، حضرت ابومسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ایمان تو یہاں ہے اور سخت مزاجی اور سنگ دلی ربیعہ و مضر اونٹ والوں میں ہے جو اونٹوں کی دموں کے پیچھے پیچھے ہانکتے چلے جاتے ہیں جہاں سے شیطان کے دو سینگ نکلیں گے یعنی قبیلہ ربیعہ اور مضر۔
It is narrated on the authority of Ibn Masud that the Apostle of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) pointed towards Yemen with his hand and said: Verily Iman is towards this side, and harshness and callousness of the hearts is found amongst the rude owners of the camels who drive them behind their tails (to the direction) where emerge the two horns of Satan, they are the tribes of Rabiah and Mudar.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِکْمَةُ يَمَانِيَةٌ
ابوالربیع زہرانی، حماد بن زید، ایوب، محمد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا یمن والے آئے ہیں یہ بہت نرم دل ہیں ایمان بھی یمنی اچھا ہے شریعت فہمی بھی یمنی اور حکمت بھی یمنی۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: There have come the people of Yemen; they are tender of hearts, the belief is that of the Yemenites, the understanding (of the faith) is that of the Yemenites and sagacity is that of the Yemenites
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ح، عمروالناقد، اسحاق بن یوسف ازرق، ابن عون، محمد، ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت بھی اسی طرح بیان فرمائی۔
Abu Hurairah (RA) reported the same hadith which is transmitted to us by another chain of transmitters, e. g. Muhammad bin al-Muthanna, Ishaq bin Yusuf Azraq, Ibn Aun, etc.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ الْأَعْرَجِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاکُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْفِقْهُ يَمَانٍ وَالْحِکْمَةُ يَمَانِيَةٌ
عمرو الناقد، حسن حلوانی، یعقوب یعنی ابن ابراہیم بن سعد اپنے والد سے، صالح، اعرج، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں ان کی طبیعتیں بہت کمزور، دل بہت نرم ہیں فقہ بھی اور حکمت بھی یمن والوں کی اچھی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: There came to you the people from Yemen; they are tender of hearts and mild of feelings, the understanding is Yemenite, the sagacity is Yemenite.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأْسُ الْکُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَائُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّکِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی الزناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے فخر و غرور گھوڑے والوں میں اور اونٹ والوں میں ہے جن کے دل سخت ہیں اور نرم اخلاقی و مسکینی بکری والوں میں ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) remarked: The summit of unbelief is towards the East and the pride and conceitedness is found among the owners of horses and camels who are rude and uncivil, people of the tents, and tranquillity is found among those who rear goats and sheep.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْکُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالسَّکِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالرِّيَائُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ
یحییٰ بن ایو ب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، اسماعیل، علاء اپنے والد سے، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان تو یمن والوں میں ہے اور کفر مشرق کی طرف ہے اور بکری والوں میں مسکنت نرم مزاجی ہوتی ہے اور غرور اور ریاکاری، سخت مزاجی اور بدخلقی گھوڑوں والوں اور اونٹوں والوں میں ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: The belief is among the Yemenites, and the unbelief is towards the East, and tranquillity is among those who rear goats and sheep, and pride and simulation is among the uncivil and rude owners of horses and camels.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْفَخْرُ وَالْخُيَلَائُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّکِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے! فخر غرور اور سخت مزاجی اونٹوں والوں میں ہے اور نرم مزاجی بکری والوں میں ہے۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ saying this: Pride and conceitedness is found among the uncivil owners of the camels and tranquillity is found among the owners of sheep and goats.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِکْمَةُ يَمَانِيَةٌ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوالیمان، شعیب، زہری سے اسی مذکورہ روایت کی طرح منقول ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ایمان یمن والوں میں ہے اور حکمت بھی یمن والوں میں ہے۔
The same hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of authorities with the addition: The belief is among the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جَائَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَأَضْعَفُ قُلُوبًا الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِکْمَةُ يَمَانِيَةٌ السَّکِينَةُ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَائُ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ قِبَلَ مَطْلِعِ الشَّمْسِ
عبداللہ بن عبدالرحمن، ابوالیمان، شعیب، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ یمن والے آگئے ہیں یہ لوگ نہایت نرم دل اور کمزور دل ہیں ایمان بھی یمنی اور حکمت بھی یمنی اور مسکینی بکری والوں میں اور فخر و غرور شور مچانے والے دیہاتیوں میں جو مشرق کی طرف رہتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) said: I heard the Prophet ﷺ (may peace and blessings be upon him) saying: There came the people of Yemen, they are tender of feelings and meek of hearts. The belief is that of the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites, the tranquillity is among the owners of goats and sheep, and pride and conceitedness is among the uncivil owners of the camels, the people of the tents in the direction of sunrise.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاکُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِکْمَةُ يَمَانِيَةٌ رَأْسُ الْکُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں جو بہت نرم دل اور رقیق القلب ہیں ایمان یمن میں اور حکمت بھی یمن میں ہے کفر کی جڑ مشرق کی طرف ہے۔
It is reporter on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and blessings be upon him) observed: There came the people of Yemen who are soft of hearts, tender in feelings: the belief is that of the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites and the summit of unbelief is towards the East.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ رَأْسُ الْکُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ
قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، جریر، اعمش لکھتے ہیں یہ روایت اسی مذکورہ سند کے ساتھ مذکور ہے مگر اس میں یہ آخری جملہ نہیں ہے کہ کفر کی جڑ مشرق کی طرف ہے۔
Qutaiba bin Said and Zubair bin Harb say: Jarir narrated this on the authority of Amash with the same chain of narrators (as mentioned above).
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَائُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ وَالسَّکِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الشَّائِ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ح، بشر بن خالد، محمد یعنی ابن جعفر، شعبہ، اعمش نے اسی مذکورہ سند کے ساتھ جریر کی حدیث کے مطابق نقل کیا اور اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ فخر اور غرور اونٹ والوں میں اور مسکنت اور وقار بکری والوں میں ہے۔
Shubah narrated the hadith as reported by Jarir with the same chain of narrators with this addition: Pride and conceitedness is among the owners of the camels and tranquillity and sobriety is found amongst the owners of sheep.
ایمان والوں کی ایمان میں ایک دوسرے پر فضیلت اور یمن والوں کے ایمان کی ترجیح کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَائُ فِي الْمَشْرِقِ وَالْإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ
اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن حارث مخزومی، ابن جریج، ابوالزبیر، جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دل کی سختی اور سخت مزاجی مشرق والوں میں ہے ایمان حجاز والوں میں ہے۔
It is reported on the authority of Jabir bin Abdullah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may peace and, blessings be upon him) observed: The callousness of heart and sternness is in the East and faith is among the people of the Hijaz.