نذر کو پورا کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ اسْتَفْتَی سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ کَانَ عَلَی أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْضِهِ عَنْهَا
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، محمد بن رمح ابن مہاجر، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس نذر کے بارے میں فتوی طلب کیا جو ان کی والدہ پر تھی اور وہ اسے پورا کرنے سے قبل فوت ہوگئی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے تو اس کی طرف سے ادا کر دے۔
Ibn Abbas (RA) reported that Sad bin Ubida asked Allahs Messenger ﷺ for a decision about a vow taken by his mother who had died before fulfilling it. Allahs Messenger ﷺ said: Fulfil it on her behalf.
نذر کو پورا کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ بَکْرِ بْنِ وَائِلٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَمَعْنَی حَدِيثِهِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، اسحاق بن ابراہیم، عبد ابن حمید، عبدالرزاق، معمر، عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، بکر بن وائل، زہری اسی حدیث بالا کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔ ان سب نے بھی اسی معنی کی حدیث ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with a different chains of transmitters.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَنْهَانَا عَنْ النَّذْرِ وَيَقُولُ إِنَّهُ لَا يَرُدُّ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الشَّحِيحِ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، عبداللہ بن مرہ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول ﷺ ہمیں نذر سے منع فرمانے لگے اور فرمانے لگے کہ وہ کسی چیز کو نہیں ٹالتی۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل ہی سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported: Allahs Messenger (may peace he upon him) singled out one day forbidding us to take vows and said: It would not avert anything; it is by which something is extracted from the miserly person.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَکِيمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ النَّذْرُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلَا يُؤَخِّرُهُ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
محمد بن یحیی، یزید بن ابی حکیم، سفیان، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کرسکتی ہے نہ پیچھے۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The vow neither hastens anything nor defers anything, but is the means whereby (something) is extracted from the miserly person.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، عبداللہ بن مرہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نذر ماننے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ وہ کوئی نہیں لاتی اس کے ذریعہ تو صرف بخیل ہی سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ forbade (people) taking vows, and said: It does not (necessarily) bring good (in the form of substantial, and tangible results), but it is the meant whereby something is extracted from the miserly persons.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالرحمن، سفیان، منصور، جریر اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْذِرُوا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنْ الْقَدَرِ شَيْئًا وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، العلاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نذر نہ مانو کیونکہ نذر سے تقدیر کو کچھ فائدہ نہیں۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل ہی سے مال نکلوایا جاتا ہے
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not take vows, for a vow has no effect against Fate; it is only from the miserly that something is extracted.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَائَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی عَنْ النَّذْرِ وَقَالَ إِنَّهُ لَا يَرُدُّ مِنْ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنْ الْبَخِيلِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، العلاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نذر سے منع فرمایا اور فرمایا وہ تقدیر کو نہیں بدل سکتی۔ اس کے ذریعہ تو صرف بخیل سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ forbidding taking of vows, and said: It does not avert Fate, but is the means by which something is extracted from the miser.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَرِّبُ مِنْ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَکُنْ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ وَلَکِنْ النَّذْرُ يُوَافِقُ الْقَدَرَ فَيُخْرَجُ بِذَلِکَ مِنْ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَکُنْ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن سعید، علی بن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، عمرو، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نذر کوئی ایسی چیز ابن آدم کے قریب نہیں کرسکتی جسے اللہ نے اس کی تقدیر میں نہ کیا ہو لیکن نذر تو تقدیر ہی کی موافقت کرتی ہے اور یہ بخیل سے وہ چیز نکالنے کا ذریعہ ہے جسے وہ نکالنے کا ارادہ نہ رکھتا تھا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The vow does not bring anything near to the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامwhich Allah has not ordained for him, but (at times) the vow coincides with Destiny, and this is how something is extracted from the miserly person, which that miser was not willing to give.
نذر ماننے سے ممانعت کے بیان میں اور یہ کہ اس سے کوئی چیز نہیں رکتی
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ کِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، عبدالعزیز در اور دی، عمرو بن ابی عمرو اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amr bin Abu Amr.
اللہ کی نا فرمانی کی نذر پورا نہ کرے اور جس پر قادر نہ ہو اسے پورا نہ کرنے کا بیان
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ کَانَتْ ثَقِيفُ حُلَفَائَ لِبَنِی عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَأَصَابُوا مَعَهُ الْعَضْبَائَ فَأَتَی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ بِمَ أَخَذْتَنِي وَبِمَ أَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ فَقَالَ إِعْظَامًا لِذَلِکَ أَخَذْتُکَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِکَ ثَقِيفَ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَکَ أَفْلَحْتَ کُلَّ الْفَلَاحِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکَ قَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَأَسْقِنِي قَالَ هَذِهِ حَاجَتُکَ فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ قَالَ وَأُسِرَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأُصِيبَتْ الْعَضْبَائُ فَکَانَتْ الْمَرْأَةُ فِي الْوَثَاقِ وَکَانَ الْقَوْمُ يُرِيحُونَ نَعَمَهُمْ بَيْنَ يَدَيْ بُيُوتِهِمْ فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ الْوَثَاقِ فَأَتَتْ الْإِبِلَ فَجَعَلَتْ إِذَا دَنَتْ مِنْ الْبَعِيرِ رَغَا فَتَتْرُکُهُ حَتَّی تَنْتَهِيَ إِلَی الْعَضْبَائِ فَلَمْ تَرْغُ قَالَ وَنَاقَةٌ مُنَوَّقَةٌ فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا ثُمَّ زَجَرَتْهَا فَانْطَلَقَتْ وَنَذِرُوا بِهَا فَطَلَبُوهَا فَأَعْجَزَتْهُمْ قَالَ وَنَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَلَمَّا قَدِمَتْ الْمَدِينَةَ رَآهَا النَّاسُ فَقَالُوا الْعَضْبَائُ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا نَذَرَتْ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرُوا ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ بِئْسَمَا جَزَتْهَا نَذَرَتْ لِلَّهِ إِنْ نَجَّاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةٍ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِکُ الْعَبْدُ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ حُجْرٍ لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
زہیر بن حرب، علی بن حجر سعدی، زہیر، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، ابی قلابہ، ابی المہلب، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ثقیف، بنوعقیل کے حلیف تھے ثقیف نے اصحاب رسول اللہ ﷺ میں سے دو آدمیوں کو قید کرلیا اور اصحاب رسول اللہ ﷺ نے بنی عقیل میں سے آدمی کو قید کرلیا اور اس کے ساتھ عضباء اونٹنی کو بھی گرفتار کیا۔ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ بندھا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے محمد ﷺ! آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور اس سے کہا کیا بات ہے؟ تو اس نے عرض کیا آپ ﷺ نے مجھے کیوں پکڑا اور کس وجہ سے حاجیوں (کی اونٹنیوں) پر سبقت لے جانے والی (او نٹنی) کو گرفتار کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اس بڑے قصور کی وجہ سے میں نے تجھے تمہارے حلیف ثقیف کے بدلے گرفتار کیا ہے۔ پھر آپ اس سے لوٹے تو اس نے آپ ﷺ کو اے محمد! اے محمد! کہہ کر پکارا اور رسول اللہ ﷺ مہربان اور نرم دل تھے آپ اس کی طرف لوٹے تو پھر فرمایا کیا بات ہے تو اس نے کہا میں مسلمان ہوں آپ نے فرمایا کاش تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملہ کا مکمل طور پر مالک تھا تو تو پوری کامیابی حاصل کرچکا ہوتا یہ کہہ کر آپ ﷺ پھر لوٹے تو اس نے آپ ﷺ کو یا محمد! یا محمد کہہ کر پکارا۔ آپ ﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا کیا بات ہے؟ تو اس نے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھلائیے اور میں پیاسا ہو مجھے پلائے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ تیری حاجت و ضرورت ہے یعنی اسے کھلایا اور پلایا۔ پھر اسے ان دو آدمیوں کا فدیہ بنایا گیا۔ (جنہیں ثقیف نے گرفتار کیا تھا) راوی کہتا ہے کہ انصار میں سے ایک عورت اور عضباء (اونٹنی) گرفتار کرلی گئی اور وہ عورت بندھی ہوئی تھی اور قوم کے لوگ اپنے گھروں کے سامنے اپنے جانوروں کو آرام دے رہے تھے ایک دن وہ گرفتاری سے بھاگ نکلی اور اونٹوں کے پاس آئی جب وہ کسی اونٹ کے پاس جاتی وہ آواز نکالتا تو وہ اسے چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ عضباء تک پہنچی تو اس نے آواز نہ کی اور وہ اونٹنی نہایت مسکین تھی تو وہ عورت اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئی پھر اسے ڈانٹا تو چل دی۔ کافروں کو خبر ہوئی۔ وہ اس کی تلاش میں نکلے تو عضباء نے ان کو عاجز کردیا۔ راوی کہتا ہے اور اس نے اللہ کے لئے نذر مانی کہ اگر اس عضباء نے اسے نجات دلا دی تو وہ اس ناقہ کو قربان کر دے گی جب وہ مدینہ آئی اور لوگوں نے اسے دیکھا تو انہوں نے کہا یہ عضباء تو رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی ہے۔ تو اس عورت نے کہا کہ اس (میں) نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ اسے اس اونٹنی کے ساتھ نجات دے تو اسے نحر کرے گی۔ صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اللہ پاک ہے اس عورت نے اس اونٹنی کو برا بدلہ دیا کہ اس نے اللہ کے لئے نذر مانی اگر اللہ اسے اس پر سوار ہونے کی صورت میں نجات دے تو وہ اسے نحر کرے گی۔ نافرمانی کے لئے مانی جانے والی نذر کا پورا کرنا ضر روی نہیں اور نہ ہی اس چیز کی نذر جس کا انسان مالک نہیں ہے اور ابن حجر کی روایت میں ہے اللہ کی نافرمانی میں نذر نہیں ہے۔
Imran bin Husain reported that the tribe of Thaqif was the ally of Banu Uqail. Thaqif took two persons from amongst the Companions of Allahs Messenger ﷺ as prisoners. The Campanions of Allahs Messenger ﷺ took one person at Banu Uqail as prisoner, and captured al-Adbi (the she-camel of the Holy Prophet) along with him. Allahs Messenger ﷺ came to him and he was tied with ropes. He said: Muhammad. He came near him and said: What is the matter with you? Thereupon he (the prisoner) said: Why have you taken me as prisoner and why have you caught hold of one proceeding the pilgrims (the she-camel as she carried the Holy Prophet ﷺ on her back and walked ahead of the multitude)? He (the Holy Prophet) said: (Yours is a great fault). I (my men) have caught hold of you for the crime of your allies, Banu Thaqif. He (the Holy Prophet) then turned away. He again called him and said: Muhammad, Muhammad, and since Allahs Messenger ﷺ was very compassionate, and tenderhearted, he returned to him, and said: What is the matter with you? He said: I am a Muslim, whereupon he (the Holy Prophet) said: Had you said this when you had been the master of yourself, you would have gained every success. He then turned away. He (the prisoner) called him again saying: Muhammad, Muhammad. He came to him and said: What is the matter with you? He said: I am hungry, feed me, and I am thirsty, so provide me with drink. He (the Holy Prophet) said: That is (to satisfy) your want. He was then ransomed for two persons (who had been taken prisoner by Thaqif). He (the narrator) said: A woman of the Ansar had been taken prisoner and also al-Adbi was caught. The woman had been tied with ropes. The people were giving rest to their animals before their houses. She escaped one night from the bondage and came to the camels. As she drew near the camels, they fretted and fumed and so she left them until she came to al-, Adbi. It did not fret and fume; it was docile She rode upon its back and drove it away and she went off. When they (the enemies of Islam) were warned of this, they went in search of it, but it (the she-camel) exhausted them. She (the woman) took vow for Allah, that in case He would save her through it, she would offer that as a sacrifice. As she reached Madinah, the people saw her and they said: Here is al-Adbi, the she-camel of Allahs Messenger ﷺ . She (the woman) said that she had taken a vow that if Allah would save her on its back, she would sacrifice it. They (the Prophets Companions) came to Allahs Messenger ﷺ and made a mention of that to him, whereupon he said: Hallowed be Allah, how ill she rewarded it that she took vow to Allah that if He saves her on its back, she would sacrifice it! There is no fulfilment of the vow in an act of disobedience, nor in an act over which a person has no control. In the version of Ibn Hujr (the words are): "There is no vow in disobedience to Allah."
اللہ کی نا فرمانی کی نذر پورا نہ کرے اور جس پر قادر نہ ہو اسے پورا نہ کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ كِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ كَانَتْ الْعَضْبَاءُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَكَانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَأَتَتْ عَلَى نَاقَةٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَةٍ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ وَهِيَ نَاقَةٌ مُدَرَّبَةٌ
ابوربیع عتکی، حماد ابن زید، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، اسی حدیث کی دو اسناد مزید ذکر کی ہیں اور حضرت حماد کی حدیث میں ہے کہ عضباء بنی عقیل میں سے ایک آدمی کی تھی اور حاجیوں کی آگے رہنے والی اونٹنیوں میں سے تھی اور مزید ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت ایسی اونٹنی پر آئی جو مسکین تھی اور (اس کے گلے میں) گھنٹی ڈالی ہوئی تھی ثقفی کی حدیث میں ہے کہ وہ اونٹنی سکھائی ہوئی تھی۔
This hadith is narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters and a slight variation of words.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی شَيْخًا يُهَادَی بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْکَبَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یزید بن زریع، حمید، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بوڑھے کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ٹیک لگائے (چلتے) ہوئے دیکھا تو فرمایا اس کا کیا حال ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس نے پیدل چلنے کی نذر مانی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس کے نفس کو عذاب دینے سے بےپرواہ ہے اور اسے سوار ہونے کا حکم دیا
Anas reported that Allahs Apostle ﷺ saw an old man being supported between his two sons. He (the Holy Prophet) said: What is the matter with him? They said: He had taken the vow to walk (on foot to the Ka’bah). Thereupon he (Allahs Apoitle) said: Allah is indifferent to his inflicting upon himself chastisement, and he commanded him to ride.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَکَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ يَتَوَکَّأُ عَلَيْهِمَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ هَذَا قَالَ ابْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْکَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْکَ وَعَنْ نَذْرِکَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ وَابْنِ حُجْرٍ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، عمرو، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک بوڑھے کو اپنے بیٹوں پر ٹیک لگا کر چلتے ہوئے پایا تو ارشاد فرمایا اسے کیا ہوا؟ تو اس کے بیٹوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس پر ایک نذر تھی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے بوڑھے! سوار ہوجا کیونکہ اللہ تعالیٰ تجھ سے اور تیری نذر سے بےپرواہ ہے
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Apostle ﷺ found an old man walking between his two sons supported by them, whereupon Allahs Apostle ﷺ said: What is the matter with him? He (the narrator) said: Allahs Messenger, they are his sons and there is upon him the (fulfilment) of the vow, whereupon Allahs Apostle ﷺ said: Ride, old man, for Allah is not in need of you and your vow.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، حضرت عمر بن ابی عمرو سے بھی ان اسناد سے یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Abu Amr with the same chain of transmitters.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ يَحْيَی بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ إِلَی بَيْتِ اللَّهِ حَافِيَةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ لِتَمْشِ وَلْتَرْکَبْ
زکریا بن یحییٰ ابن صالح مصری، مفضل ابن فضالہ، عبداللہ بن عیاش، یزید بن ابی حبیب، حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ میری بہن نے بیت اللہ کی طرف ننگے پاؤں چل کر جانے کی نذر مانی مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لئے رسول اللہ ﷺ سے فتوی طلب کروں تو آپ ﷺ نے فرمایا چاہیے کہ وہ پیدل چلے اور سوار بھی ہو۔
Uqba bin Amir reported: My sister took a vow that she would walk bare foot to the house of Allah (Ka’bah). She asked me to inquire from Allahs Messenger ﷺ about it. I sought his decision and he said: She should walk on foot and ride also.
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَذَرَتْ أُخْتِي فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُفَضَّلٍ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ حَافِيَةً وَزَادَ وَکَانَ أَبُو الْخَيْرِ لَا يُفَارِقُ عُقْبَةَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، سعید بن ابی ایوب، یزید بن ابی حبیب، حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ میری بہن نے نذر مانی باقی حدیث مفضل کی حدیث ہی کی طرح ذکر کی اور حدیث میں ننگے پاؤں کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ بھی کیا کہ ابوالخیر عقبہ سے جدا نہیں ہوئے تھے
This hadith has been narrated on the authority of Uqba bin Amir Juhani but in this no mention has been made of "barefoot".
کعبہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ
محمد بن حاتم، ابن ابی خلف، روح بن عبادہ، ابن جریج، یحییٰ بن ایوب، حضرت یزید بن حبیب نے اس اسناد کے ساتھ عبدالرزاق کی حدیث نقل کی ہے
This hadith has been narrated on the authority of Uqba b. Amir Juhani. but in this no mention has been made of" barefoot".
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَ يُونُسُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ کَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَفَّارَةُ النَّذْرِ کَفَّارَةُ الْيَمِينِ
ہارون بن سعید ایلی، یونس بن عبدالاعلی، احمد بن عیسی، یونس، ابن وہب، عمر بن حارث، کعب بن علقمہ، عبدالرحمن ابن شماسہ، ابی الخیر، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے
Uqba. bin Amir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The expiation of the (breach of) a vow is the same as that of the (breach of an oath).