وصیت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 27 · 31 hadiths · Page 2 of 2

4224Sahih Muslim

و قف کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا قَالَ فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلَا يُبْتَاعُ وَلَا يُورَثُ وَلَا يُوهَبُ قَالَ فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِي الْفُقَرَائِ وَفِي الْقُرْبَی وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْکُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذَا الْمَکَانَ غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ قَالَ مُحَمَّدٌ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَنْبَأَنِي مَنْ قَرَأَ هَذَا الْکِتَابَ أَنَّ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا

یحییٰ بن یحیی، تمیمی، سلیم بن اخضر، ابن عون، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ کو خبیر میں زمین ملی تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس اس کا مشورہ کرنے کے لئے حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور میرے نزدیک وہ سب سے محبوب چیز ہے۔ آپ ﷺ مجھے اس بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس روک رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کردو۔ تو حضرت عمر ؓ نے اسے اس شرط پر وقف کیا کہ اس کی ملکیت نہ فروخت کی جائے نہ خریدی جائے اور نہ میراث بنے اور نہ ہبہ کی جائے۔ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے اسے فقراء اور رشتہ داروں اور آزاد کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مہمانوں میں صدقہ کردیا اور جو اس کا منتظم ہو وہ اس میں سے نیکی کے ساتھ کھائے یا اپنے دوستوں کو جمع کئے بغیر کھلائے راوی نے کہا میں نے یہ حدیث جب محمد بن سیرین کے سامنے بیان کی تو جب میں غیر متمول فیہ میں پہنچا تو محمد (رح) نے غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ فرمایا ابن عون نے کہا مجھے اس نے خبر دی جس نے یہ کتاب پڑھی کہ اس میں غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا تھا

Ibn Umar (RA) reported: Umar acquired a land at Khaibar. He came to Allahs Apostle ﷺ and sought his advice in regard to it. He said: Allahs Messenger, I have acquired land in Khaibar. I have never acquired property more valuable for me than this, so what do you command me to do with it? Thereupon he (Allahs Apostle) ﷺ said: If you like, you may keep the corpus intact and give its produce as Sadaqa. So Umar gave it as Sadaqa declaring that property must not be sold or inherited or given away as gift. And Umar devoted it to the poor, to the nearest kin, and to the emancipation of slaves, aired in the way of Allah and guests. There is no sin for one, who administers it if he eats something from it in a reasonable manner, or if he feeds his friends and does not hoard up goods (for himself). He (the narrator) said: I narrated this hadith to Muhammad, but as I reached the (words) "without hoarding (for himself) out of it." he (Muhammad said: "without storing the property with a view to becoming rich." Ibn Aun said: He who read this book (pertaining to Waqf) informed me that in it (the words are) "without storing the property with a view to becoming rich."

4225Sahih Muslim

و قف کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ وَأَزْهَرَ انْتَهَی عِنْدَ قَوْلِهِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ وَلَمْ يُذْکَرْ مَا بَعْدَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فِيهِ مَا ذَکَرَ سُلَيْمٌ قَوْلُهُ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدًا إِلَی آخِرِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی زائدہ، اسحاق، ازہر السمان، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں جو کہ ازہر کی روایت کے مطابق غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فیہ تک ختم ہوگئی ہے اور ابن عدی سے روایت ہے کہ اس بارے میں سلیم نے ذکر کیا کہ میں نے یہ حدیث محمد بن سیرین سے آخر تک بیان کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Aun with the same chain of transmitters up to the words: "Or he may feed the friend without hoarding from it" and he made no mention of what follows.

4226Sahih Muslim

و قف کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالًا أَحَبَّ إِلَيَّ وَلَا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ فَحَدَّثْتُ مُحَمَّدًا وَمَا بَعْدَهُ

اسحاق بن ابراہیم، ابوداود، عمر بن سعد، سفیان، ابن عون، نافع، ابن عمر، حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ مجھے زمین خیبر سے زمین ملی تو رسول اللہ ﷺ کہ پاس آیا اور میں نے عرض کیا مجھے ایسی زمین ملی جیسا کوئی مال مجھے نہ پسند ہے اور نہ ہی میرے نزدیک عمدہ ہے باقی حدیث گزر چکی ہے۔

Umar reported: I acquired land from the lands of Khaibar. I came to Allahs Messenger ﷺ and said: I have acquired a piece of land. Never have I acquired land more loved by me and more cherished by me than this. The rest of the hadith is the same, but he made no mention of this: "I narrated it to Muhammad" and what follows.

4227Sahih Muslim

جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی هَلْ أَوْصَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا قُلْتُ فَلِمَ کُتِبَ عَلَی الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ أَوْ فَلِمَ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ قَالَ أَوْصَی بِکِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبدالرحمن بن مہدی، مالک بن مغول، طلحہ بن مصرف سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ ؓ سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی تھی تو انہوں نے کہا نہیں میں نے کہا تو پھر مسلمان پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے یا انہیں وصیت کا حکم کیوں دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کہ آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کی وصیت کی

Talha bin Musarrif reported: I asked Abdullah bin Abu Aufa whether Allahs Messenger ﷺ had made any will (in regard to his property). He said: No. I said: Then why has making of will been made necessary for the Muslims, or why were they commanded to make will? Thereupon he said: He made the will according to the Book of Allah, the Exalted and Majestic.

4228Sahih Muslim

جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ قُلْتُ فَکَيْفَ أُمِرَ النَّاسُ بِالْوَصِيَّةِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ قُلْتُ کَيْفَ کُتِبَ عَلَی الْمُسْلِمِينَ الْوَصِيَّةُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، مالک بن مغول، اسی حدیث کی دو اسناد ذکر کی ہیں۔ حضرت وکیع (رح) کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ میں نے کہا لوگوں کو وصیت کا حکم کیوں دیا گیا اور ابن نمیر کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ میں نے کہا مسلمان پر وصیت کیوں فرض کی گئی ہے؟

This hadith has been narrated on the authority of Malik bin Mighwal with the same chain of transmitters but with a slight variation of words. In the hadith related by Waki (the words are) "I said: How have the people been ordered about the will"; and in the hadith of Ibn Numair (the words are): "How has the will been prescribed for the Muslims, .

4229Sahih Muslim

جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَی بِشَيْئٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، ابی وائل، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دینار نہ چھوڑا نہ درہم۔ بکری نہ اونٹ اور نہ ہی کسی چیز کی وصیت کی۔

Aisha reported: Allahs Messenger ﷺ left neither dinar nor dirham (wealth in the form of cash), nor goats (and sheep), nor camels. And he made no will about anything (in regard to his material possessions, as he had none)

4230Sahih Muslim

جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

زہیربن حرب و عثمان بن ابی شیبہ و اسحاق بن ابراہیم، جریر، علی بن خشرم، عیسیٰ و ہو ابن یونس، اعمش سے بھی یہ حدیث ان اسناد سے مروی۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters.

4231Sahih Muslim

جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ ذَکَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا کَانَ وَصِيًّا فَقَالَتْ مَتَی أَوْصَی إِلَيْهِ فَقَدْ کُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَی صَدْرِي أَوْ قَالَتْ حَجْرِي فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَلَقَدْ انْخَنَثَ فِي حَجْرِي وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُ مَاتَ فَمَتَی أَوْصَی إِلَيْهِ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیۃ، ابن عون، ابراہیم، حضرت اسود بن یزید سے روایت ہے کہ لوگوں نے سیدہ عائشہ ؓ کے پاس ذکر کیا کہ حضرت علی ؓ وصی تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا آپ ﷺ نے انہیں کب وصی بنایا؟ حالانکہ آپ ﷺ نے میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی یا میری گود میں اور آپ ﷺ نے ایک طشت منگوایا پھر آپ ﷺ میری گود میں گرپڑے اور مجھے آپ ﷺ کے وصال کا علم بھی نہ ہوا تو آپ ﷺ نے سیدنا علی ؓ کے لئے کب وصیت کی۔

Aswad bin Yazid reported: It was mentioned before Aisha that will had been made (by the Holy Prophet) in favour of Ali (as the Prophets first caliph), whereupon she said: When did he make will in his favour? I had been providing support to him (to the Holy Prophet) with my chest (or with my lap). He asked for a tray, when he fell in my lap (relaxing his body), and I did not realise that he had breathed his last. When did he make any will in his (Alis) favour?

4232Sahih Muslim

جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ بَکَی حَتَّی بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَی فَقُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ ائْتُونِي أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدِي فَتَنَازَعُوا وَمَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ وَقَالُوا مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ قَالَ دَعُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ أُوصِيکُمْ بِثَلَاثٍ أَخْرِجُوا الْمُشْرِکِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا کُنْتُ أُجِيزُهُمْ قَالَ وَسَکَتَ عَنْ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَأُنْسِيتُهَا قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ

سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، سلیمان، حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے جمعرات کے دن فرمایا جمعرات کا دن کیا ہے؟ پھر رو دئیے یہاں تک کہ آنسوؤں نے کنکریوں کو تر کردیا میں نے عرض کیا اے ابن عباس ؓ جمرات کا دن کیا ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے درد میں شدت ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس (قلم وغیرہ) لاؤ تاکہ میں تمہارے لئے ایسی کتاب لکھ دوں کہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو گے۔ لوگوں نے جھگڑا کیا حالانکہ نبی کریم ﷺ کے پاس جھگڑا مناسب نہ تھا اور صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا آپ ﷺ کا کیا حال ہے کیا آپ ﷺ جدا ہو رہے ہیں؟ پھر آپ ﷺ سے سمجھ لو۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو اور جس امر میں میں مشغول ہوں وہ بہتر ہے میں تمہیں تین باتوں کی وصیت کرتا ہوں مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور وفود کو پورا پورا اسی طرح دو جس طرح میں انہیں پورا پورا ادا کرتا ہوں اور ابن عباس ؓ تیسری بات سے خاموش ہوگئے یا آپ نے فرمایا لیکن میں اسے بھول گیا۔

Said bin Jubair reported that Ibn Abbas said: Thursday, (and then said): What is this Thursday? He then wept so much that his tears moistened the pebbles. I said: Ibn Abbas, what is (significant) about Thursday? He (Ibn Abbas) said: The illness of Allahs Messenger ﷺ took a serious turn (on this day), and he said: Come to me, so that I should write for you a document that you may not go astray after me. They (the Companions around him) disputed, and it is not right to dispute in the presence of the Apostle. They said: How is he (Allahs Apostle) ﷺ ? Has he lost his consciousness? Try to learn from him (this point). He (the Holy Prophet) said: Leave me. I am better in the state (than the one in which you are engaged). I make a will about three things: Turn out the polytheists from the territory of Arabia; show hospitality to the (foreign) delegations as I used to show them hospitality. He (the narrator) said: He ( Ibn Abbas (RA) ) kept silent on the third point, or he (the narrator) said: But I forgot that.

4233Sahih Muslim

جس کے پاس و صیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ ثُمَّ جَعَلَ تَسِيلُ دُمُوعُهُ حَتَّی رَأَيْتُ عَلَی خَدَّيْهِ کَأَنَّهَا نِظَامُ اللُّؤْلُؤِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُونِي بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوْ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا فَقَالُوا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْجُرُ

اسحاق بن ابراہیم، وکیع، مالک بن مغول، طلحہ بن مصرف، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جمعرات کے دن کہا، جمعرات کا دن کیا ہے؟ پھر ان کے آنسو جاری ہو گے۔ یہاں تک کہ میں نے آنسو ان کے رخساروں پر موتیوں کی لڑیوں کی طرح دیکھے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس ہڈی اور دوات یا تختی اور دوات لاؤ تاکہ میں تمہیں ایسی کتاب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ صحابہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ (دنیا) چھوڑ رہے ہیں۔

Said bin Jubair reported from Ibn Abbas (RA) that he said: Thursday, and what about Thursday? Then tears began to flow until I saw them on his cheeks as it they were the strings of pearls. He (the narrator) said that Allahs Messenger ﷺ said: Bring me a shoulder blade and ink-pot (or tablet and inkpot), so that I write for you a document (by following which) you would never go astray. They said: Allahs Messenger (may peace upon him) is in the state of unconsciousness.

4234Sahih Muslim

جس کے پاس وصیت کیلے کوئی چیز نہ ہو اس کا وصیت کو ترک کرنے کے کہ بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمَّ أَکْتُبْ لَکُمْ کِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدَهُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَکُمْ الْقُرْآنُ حَسْبُنَا کِتَابُ اللَّهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ قَرِّبُوا يَکْتُبْ لَکُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ فَلَمَّا أَکْثَرُوا اللَّغْوَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُومُوا قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُا إِنَّ الرَّزِيَّةَ کُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَکْتُبَ لَهُمْ ذَلِکَ الْکِتَابَ مِنْ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ

محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت آیا تو آپ ﷺ کے گھر میں کئی صحابہ تھے ان میں سے عمر بن خطاب ؓ بھی تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا آؤ میں تمہیں ایسی کتاب لکھ دوں کہ تم اس کے بعد گمراہ نہ ہوگے حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن ہے اور ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے تو اہل بیت میں اختلاف اور جھگڑا ہوا ان میں سے بعض وہ تھے جو کہتے تھے کہ نزدیک کرو تاکہ رسول اللہ ﷺ تمہارے لئے ایسی کتاب لکھ دیں کہ اس کہ بعد تم ہرگز گمراہ نہ ہوگئے اور ان میں سے بعض نے وہی کہا جو حضرت عمر ؓ نے کہا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس بحث اور اختلاف زیادہ ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ عبیداللہ نے کہا کہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ پریشانیوں میں سب سے بڑی پریشانی کی بات جو رسول اللہ ﷺ اور اس کتاب کے لکھنے کے درمیان حائل ہوئی وہ بحث اور اختلاف تھا۔

Ibn Abbas (RA) reported: When Allahs Messenger ﷺ was about to leave this world, there were persons (around him) in his house, Umar bin al-Kbattab being one of them. Allahs Apostle ﷺ said: Come, I may write for you a document; you would not go astray after that. Thereupon Umar said: Verily Allahs Messenger ﷺ is deeply afflicted with pain. You have the Quran with you. The Book of Allah is sufficient for us. Those who were present in the house differed. Some of them said: Bring him (the writing material) so that Allahs Messenger ﷺ may write a document for you and you would never go astray after him. And some among them said what Umar had (already) said. When they indulged in nonsense and began to dispute in the presence of Allahs Messenger ﷺ , he said: Get up (and go away) Ubaidullah said: Ibn Abbas (RA) used to say: There was a heavy loss, indeed a heavy loss, that, due to their dispute and noise. Allahs Messenger ﷺ could not write (or dictate) the document for them.