قسموں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 29 · 88 hadiths · Page 1 of 5

4254Sahih Muslim

غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ قَالَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهَا ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، یونس، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کہ رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں اٹھانے سے منع کرتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا اللہ کی قسم! جب سے میں نے رسول ﷺ سے اس کی ممانعت سنی ہے۔ میں نے اس کی قسم نہیں اٹھائی۔ اپنی طرف سے ذکر کرتے ہوئے اور نہ کوئی حکایت نقل کرتے ہوئے۔

Umar bin al-Khattab reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Great and Majestic, forbids you to swear by your fathers. Umar said: By Allah. I have never sworn (by my father) since I heard Allahs Messenger ﷺ forbidding it mentioning them "on my behalf" nor on behalf of someone else.

4255Sahih Muslim

غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهَا وَلَا تَکَلَّمْتُ بِهَا وَلَمْ يَقُلْ ذَاکِرًا وَلَا آثِرًا

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ کی سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے حضرت عقیل ؓ کی حدیث میں ہے کہ میں نے جب سے نبی کریم ﷺ کو قسم سے منع کرتے ہوئے سنا ہے تو میں نے نہ تو اس کے ساتھ کوئی گفتگو کی اور نہ ذکر کے طور پر کہی اور نہ حکایت کے طور پر۔

This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri except that in the hadith narrated on the authority of Uqail the words are: "I did not take oath by (anyone else except Allah) since I heard Allahs Messenger forbidding it, nor did I speak in such terms," and the narrator did not say, "on my own behalf or on behalf of someone else".

4256Sahih Muslim

غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ بِمِثْلِ رِوَايَةِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت سالم ؓ کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو اپنے باپ کی قسم اٹھاتے ہوئے سنا۔ باقی حدیث یونس و معمر کی روایت کی طرح ہے۔

Salim reported on the authority of his father that Allahs Apostle ﷺ heard Umar while he was taking oath by his father. The rest of the hadith is the same.

4257Sahih Muslim

غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَدْرَکَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي رَکْبٍ وَعُمَرُ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَنَادَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْهَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ فَمَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر بن خطاب ؓ کو ایک قافلہ میں اس حال میں پایا کہ عمر بن خطاب ؓ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکار کر فرمایا آگاہ رہو کہ اللہ عزوجل تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں اٹھاؤ۔ جو قسم اٹھانے والا ہو تو وہ اللہ کی قسم اٹھائے یا خاموش رہے۔

Abdullah (b. Umar) reported that Allahs Messenger ﷺ found, Umar bin al-Khattab amongst the riders and he was taking oath by his father Allahs Messenger ﷺ called them (saying): Our Allah, the Exalted and Majestic, has forbidden that you take oath by your father. He who has to take an oath, he must take it by Allah or keep quiet.

4258Sahih Muslim

غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْکَرِيمِ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن عبداللہ ابن نمیر، محمد بن مثنی، یحیی، عبیداللہ، بشر بن ہلال، عبدالوارث، ایوب، ابوکریب، ابواسامہ، ولید ابن کثیر، ابن ابی عمر، سفیان، اسماعیل بن امیہ، ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، ابن ابی ذئب، اسحاق بن ابراہیم، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبدالکریم، نافع، ابن عمر اسی حدیث کی مختلف اسناد ذکر کی ہیں جن سب نے حضرت ابن عمر ؓ سے یہ قصہ اسی طرح روایت کیا ہے

This hadith is narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters.

4259Sahih Muslim

غیر اللہ کی قسم کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ وَکَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا فَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِکُمْ

یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ بن یحیی، اسماعیل، ابن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو قسم اٹھانے والا ہو تو وہ اللہ کے علاوہ کسی کی قسم نہ کھائے اور قریش اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں اٹھاتے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنے آباؤ اجداد کی قسمیں نہ اٹھاؤ۔

Ibn Umar heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who has to take an oath, he must not take oath but by Allah. The Quraish used to take oath by their fathers. So he (the Holy Prophet) said: Do not take oath by your fathers.

4260Sahih Muslim

جس نے لات اور عزی کی قسم کھائی اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ مِنْکُمْ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ بِاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْکَ فَلْيَتَصَدَّقْ

ابوطاہر، ابن وہب، یونس، حرملہ ابن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس نے قسم اٹھائی اور اپنی قسم میں لات کہا اسے چاہیے کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا آؤ میں تجھ سے جوا کھیلوں تو اسے چاہیے کہ وہ صدقہ کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who takes an oath in the course of which he says: By Lat (and al-Uzza), he should say: There is no god but Allah; and that if anyone says to his friend: "Come and I will gamble with you," he should pay sadaqa.

4261Sahih Muslim

جس نے لات اور عزی کی قسم کھائی اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ مَعْمَرٍ مِثْلُ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْئٍ وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّی قَالَ أَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ هَذَا الْحَرْفُ يَعْنِي قَوْلَهُ تَعَالَی أُقَامِرْکَ فَلْيَتَصَدَّقْ لَا يَرْوِيهِ أَحَدٌ غَيْرُ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَلِلزُّهْرِيِّ نَحْوٌ مِنْ تِسْعِينَ حَدِيثًا يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُشَارِکُهُ فِيهِ أَحَدٌ بِأَسَانِيدَ جِيَادٍ

سوید بن سعید، ولید بن مسلم، اوزاعی، اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری اسی حدیث کی دوسری اسناد ہیں حضرت معمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اسے چاہیے کہ وہ کسی چیز کا صدقہ کرے اور اوازعی کی حدیث میں ہے جس نے لاۃ اور عزی کی قسم اٹھائی ابوالحسین امام مسلم نے کہا کہ یہ حرف یعنی اس کا قول آؤ میں تجھ سے جوا کھیلوں تو اسے چاہئے کہ وہ صدقہ کرے اسے زہری کہ علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا اور امام زہری کہ بارے میں فرمایا کہ روایت کی ہیں جن میں ان کا کوئی شریک نہیں جید اسناد کے ساتھ۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri.

4262Sahih Muslim

جس نے لات اور عزی کی قسم کھائی اس کے لا الہ الا اللہ پڑھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ هِشَامٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي وَلَا بِآبَائِکُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، ہشام، حسن، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بتوں کی قسم نہ اٹھاؤ اور نہ اپنے اجداد کی۔

Abdul Rahman bin ahadeeth reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not swear by idols, nor by your fathers.

4263Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَاللَّفْظُ لِخَلَفٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ قَالَ فَلَبِثْنَا مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قُلْنَا أَوْ قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ لَا يُبَارِکُ اللَّهُ لَنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلَنَا فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ مَا أَنَا حَمَلْتُکُمْ وَلَکِنَّ اللَّهَ حَمَلَکُمْ وَإِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ ثُمَّ أَرَی خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا کَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ

خلف بن ہشام، قتیبہ بن سعید، یحییٰ بن حبیب حارثی، حماد بن زید، غیلان ابن جریر، ابی بردہ، حضرت ابوموسی اشعری ؓ لوگوں کے قافلہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ آپ سے سواری مانگنے کے لئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سوار نہیں کروں گا اور نہ ہی میرے پاس وہ چیز ہے جس پر تمہیں سوار کروں۔ ہم ٹھہرے رہے جتنی دیر اللہ نے چاہا۔ پھر آپ ﷺ کے پاس اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ہمارے لئے تین سفید کوہان والے اونٹ دینے کا حکم دیا۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے کہا یا ہمارے بعض نے بعض سے کہا ہمیں اللہ برکت نہ دے گا۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے آ کر آپ ﷺ سے سواری طلب کی تو آپ ﷺ نے ہمیں سوار نہ کرنے کی قسم اٹھائی۔ پھر ہمیں سواری دے دی تو انہوں نے آپ ﷺ کے پاس آکر آپ کو اس کی خبر دی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں سوار نہیں کیا بلکہ اللہ نے تمہیں سوار کیا ہے اور اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا تو میں کسی بات پر قسم نہ اٹھاؤں گا پھر میں اسے بہتر دیکھوں تو میں اپنی قسم کا کفارہ ادا کروں گا اور وہی کام بجا لاؤں گا جو بہتر ہے

Abu Musa al-Ashari reported: I came to Allahs Apostle ﷺ along with a group of Asharites requesting to give us a mount. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with a mount, and there is nothing with me which I should give you as a ride. He (the narrator) said: We stayed there as long as Allah willed. Then there were brought to him (to the Holy Prophet) camels. He (the Holy Prophet) then ordered to give us three white humped camels, We started and said (or some of us said to the others): Allah will not bless us. We came to Allahs Messenger ﷺ begging him to provide us with riding camels. He swore that he could not provide us with a mount, but later on he provided us with that. They (some of the Prophets Companions) came and informed him about this (rankling of theirs), whereupon he said: It was not I who provided you with a mount, but Allah has provided you with that. So far as I am concerned, by Allah, if He so wills, I would not swear, but if, later on, I would see better than it, I (would break the vow) and expiate it and do that which is better.

4264Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ لَهُمْ الْحُمْلَانَ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوکَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُونِي إِلَيْکَ لِتَحْمِلَهُمْ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ عَلَی شَيْئٍ وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ فَرَجَعْتُ حَزِينًا مِنْ مَنْعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَکُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَی أَصْحَابِي فَأَخْبَرْتُهُمْ الَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَلْبَثْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوکَ فَلَمَّا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ هَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ وَهَذَيْنِ الْقَرِينَيْنِ لِسِتَّةِ أَبْعِرَةٍ ابْتَاعَهُنَّ حِينَئِذٍ مِنْ سَعْدٍ فَانْطَلِقْ بِهِنَّ إِلَی أَصْحَابِکَ فَقُلْ إِنَّ اللَّهَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُکُمْ عَلَی هَؤُلَائِ فَارْکَبُوهُنَّ قَالَ أَبُو مُوسَی فَانْطَلَقْتُ إِلَی أَصْحَابِي بِهِنَّ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُکُمْ عَلَی هَؤُلَائِ وَلَکِنْ وَاللَّهِ لَا أَدَعُکُمْ حَتَّی يَنْطَلِقَ مَعِي بَعْضُکُمْ إِلَی مَنْ سَمِعَ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلْتُهُ لَکُمْ وَمَنْعَهُ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ ثُمَّ إِعْطَائَهُ إِيَّايَ بَعْدَ ذَلِکَ لَا تَظُنُّوا أَنِّي حَدَّثْتُکُمْ شَيْئًا لَمْ يَقُلْهُ فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ إِنَّکَ عِنْدَنَا لَمُصَدَّقٌ وَلَنَفْعَلَنَّ مَا أَحْبَبْتَ فَانْطَلَقَ أَبُو مُوسَی بِنَفَرٍ مِنْهُمْ حَتَّی أَتَوْا الَّذِينَ سَمِعُوا قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْعَهُ إِيَّاهُمْ ثُمَّ إِعْطَائَهُمْ بَعْدُ فَحَدَّثُوهُمْ بِمَا حَدَّثَهُمْ بِهِ أَبُو مُوسَی سَوَائً

عبداللہ بن براد اشعری، محمد بن العلاء ہمدانی، ابواسامہ، برید، ابی بردہ، حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ مجھے میرے سا تھیوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ ﷺ سے ان کے لئے سواری مانگوں۔ جس وقت وہ جیش العسرہ یعنی غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ﷺ میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کی طرف اس لئے بھیجا ہے تاکہ آپ ان کو سواری دے دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا اور میں نے آپ ﷺ کے غصہ کی حالت میں آپ سے موافقت (بات) کی اور مجھے علم نہ تھا تو میں رسول اللہ ﷺ کے انکار کی وجہ سے ڈر کی وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں مجھ پر اپنے دل میں کچھ بوجھ محسوس کریں غمگین لوٹا میں نے اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آ کر انہیں اس بات کی خبر دی جو رسول اللہ ﷺ نے فرمائی میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا تھا کہا اچانک میں نے حضرت سعد ؓ کے پکارنے کی آواز اے عبداللہ بن قیس سنی۔ میں نے اسے جواب دیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ وہ تجھے بلا رہے ہیں جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ ان دونوں کا جوڑا اور یہ ان دونوں کا جوڑا اور یہ ان دونوں کا جوڑا لے لو چھ اونٹوں کے لئے جو آپ ﷺ نے اسی وقت حضرت سعد ؓ سے خریدے تھے اور انہیں اپنے سا تھیوں کے پاس لے جا اور کہہ بیشک اللہ یا فرمایا رسول اللہ ﷺ تمہیں ان پر سوار کر رہے ہیں تو تم ان پر سوار ہوجاؤ ابومو سی ؓ نے کہا انہیں لے کر میں اپنے سا تھیوں کی طرف چلا تو میں نے کہا بیشک اللہ کے رسول تمہیں ان پر سوار کرتے ہیں لیکن اللہ کی قسم میں تمہیں نہ چھوڑوں گا جب تک کہ تم میں سے چند لوگ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نہ چلیں جنہوں نے رسول اللہ کا قول اور آپ ﷺ کا منع کرنا اس وقت سنا جب میں نے آپ ﷺ سے تمہارے لئے سوال کیا تھا پہلی مرتبہ میں پھر اس کے بعد وہی اونٹ آپ ﷺ نے عطا کردئیے اور تم اس بات کا گمان بھی نہ کرنا کہ میں نے تم سے وہ حدیث بیان کی جسے آپ ﷺ نے فرمایا تو انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم تم ہمارے نزدیک البتہ تصدیق کئے ہوئے ہو اور ہم اسی طرح کریں گے جیسے تم نے پسند کیا ابوموسی ؓ ان میں سے بعض آدمیوں کو لے چلے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان اور آپ ﷺ کا انکار سنا پھر انہیں اس کے بعد عطا کردیا تو تم بھی انہیں اس طرح حدیث بیان کرو جیسے ابوموسی نے انہیں برابر برابر بیان کردی۔

Abu Musa reported: My friends sent me to Allahs Messenger ﷺ asking him to provide them with mounts as they were going along with him in jaish al-Usrah (the army of destitutes or of meagre means or army setting out during the hard times and that is the occasion of the expedition of Tabuk) I said: Apostle of Allah ﷺ , my friends have sent me to you so that you may provide them with mounts. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with anything to ride. And it so happened that he was at that time much perturbed. I little knew of it, so I came back with a heavy heart on account of the refusal of Allahs Messenger ﷺ , and the fear that Allahs Messenger ﷺ might have some feelings against me. I returned to my friends and informed them about what Allahs Messenger ﷺ had said. I had hardly stayed for a little that I heard Bilal (RA) calling: Abdullah bin Qais (RA) . I responded to his call. He said: Hasten to Allahs Messenger ﷺ , he is calling you. When I came to the Holy Prophet ﷺ he said: Take this pair, this pair, and this pair (i. e. six camels which he had bought from Sad), and take them to your friends and say: Verily Allah (or he said: Verily Allahs Messenger ﷺ has provided you with these animals. So ride upon them. Abu Musa said: I went along with them to my friends and said: Verily Allahs messenger ﷺ has provided you with these animals for riding; but by Allah, I shall not leave you until some of you go along with me to him who had heard the talk of Allahs Messenger ﷺ when I asked him for you, and his refusal for the first time, and then his granting them to me subsequently; so you should not think that I narrated to you something which he did not say. They said to me: By Allah, in our opinion you are certainly truthful, and we would do as you like. So Abu Musa went along with some of the men from them until they came to those who had heard the words of Allahs Messenger ﷺ and his refusal to (provide) them with (animals); and subsequently his granting (the animals) to them; and they narrated to them exactly as Abu Musa had narrated to them.

4265Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَعَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ أَيُّوبُ وَأَنَا لِحَدِيثِ الْقَاسِمِ أَحْفَظُ مِنِّي لِحَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ وَعَلَيْهَا لَحْمُ دَجَاجٍ فَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ شَبِيهٌ بِالْمَوَالِي فَقَالَ لَهُ هَلُمَّ فَتَلَکَّأَ فَقَالَ هَلُمَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ مِنْهُ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْکُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ فَحَلَفْتُ أَنْ لَا أَطْعَمَهُ فَقَالَ هَلُمَّ أُحَدِّثْکَ عَنْ ذَلِکَ إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُکُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ عَلَيْهِ فَلَبِثْنَا مَا شَائَ اللَّهُ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ فَدَعَا بِنَا فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَی قَالَ فَلَمَّا انْطَلَقْنَا قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ أَغْفَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ لَا يُبَارَکُ لَنَا فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَتَيْنَاکَ نَسْتَحْمِلُکَ وَإِنَّکَ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا ثُمَّ حَمَلْتَنَا أَفَنَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ فَأَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَتَحَلَّلْتُهَا فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا حَمَلَکُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

ابوربیع عتکی، حماد یعنی ابن زید، ایوب، ابی قلابہ، قاسم بن عاصم، حضرت زہدم جرمی سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوموسی ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے دسترخوان منگوایا اور اس میں مرغ کا گوشت تھا بنی تیم اللہ میں سے ایک آدمی سرخ رنگ غلام کی مشابہت رکھنے والا آیا ابوموسی ؓ نے کہا: آؤ اس نے تکلف کیا تو ابوموسی ؓ نے کہا آؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بھی اس سے کھاتے ہوئے دیکھا تو اس آدمی نے کہا میں نے اسے (مرغیوں کو) کوئی چیز (گندگی) کھاتے دیکھا تو مجھے اس سے گھن آئی میں نے اسے نہ کھانے کی قسم اٹھائی تو ابوموسی ؓ نے کہا آؤ میں تجھے اس بارے میں حدیث بیان کروں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اشعری قبیلہ میں آپ ﷺ سے سواری طلب کرنے کے لئے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہیں سوار نہ کروں گا نہ ہی میرے پاس ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں پس ہم ٹھہرے رہے جتنا اللہ نے چاہا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس مال غنیمت کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ہمیں بلوایا اور ہمارے لئے سفید کوہان والے پانچ اونٹوں کا حکم دیا کہتے ہیں جب ہم چلے تو بعض نے ایک دوسرے سے کہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کو آپ ﷺ کی قسم سے غافل کردیا ہمارے لئے برکت نہ ہوگی ہم نے آپ ﷺ کے پاس لوٹ کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم آپ سے سواری طلب کرنے کے لئے آئے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم اٹھائی پھر آپ بھول گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر اللہ نے چاہا تو میں قسم نہ اٹھاؤں گا کسی چیز کی پھر میں اس کے علاوہ میں خیر دیکھوں تو میں وہی کام کروں گا جو بہتر ہوگا اور قسم کا کفارہ دوں گا پس تم جاؤ بیشک اللہ نے تمہیں سواری دی ہے۔

Ayyub said: We were sitting in the company of Abu Musa that he called for food and it consisted of flesh of fowl. It was then that a person from Banu Tamim visited him. His complexion was red having the resemblance of a slave. He said to him: Come and (join me in food). He showed reluctance. He (Abu Musa) said: Come on, for I saw Allahs Messenger ﷺ eating it (fowls meat), whereupon that person said: I saw it eating something (of filth and rubbish) and I found it repugnant and took an oath that I would never eat that. He (Abu Muds) said: Come, so that I would narrate to you about that (the incident pertaining to vow). (And he narrated thus): I came to Allahs Messenger ﷺ along with a group of people belonging to the tribe of Ashari, asking him to provide us with riding camels. He (the Holy Prophet) said: By Allah, I cannot provide you with riding animals. And there is nothing with me with which I can provide you a mount. We stayed (for some time) there as Allah willed, and there was brought to Allahs Messenger ﷺ booty of camels. He called us and commanded that we should be given five white humped camels. As we were about to go back, some of us said to the other: As we made Allahs Messenger ﷺ forget oath, there would be no blessing for us (in his gift). We went back to him and said: Allahs Messenger, we came to you to provide us with riding animals and you took an oath that you would never equip us with mounts and then you have provided us with the riding beasts Allalis Messenger, have you forgotten? Thereupon he said: I swear by Allah that if Allah so wills, I shall not swear an oath, and then consider something else to be better than it without making atonement for my oath and doing the thing that is better. So you go; Allah, the Exalted and Glorious, has given you riding animals.

4266Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ کَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَائٌ فَکُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابی قلابہ، قاسم تمیمی، حضرت زہدم جرمی سے روایت ہے کہ جرم کے اس قبیلہ اور شعروں کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ تھا ہم حضرت ابوموسی اشعری ؓ کے پاس تھے تو کھانا ان کے قریب کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا باقی اسی طرح حدیث ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Musa al-Ashari with a slight variation of words.

4267Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ وَالْقَاسِمِ عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَی وَاقْتَصُّوا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ

علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم، ابن نمیر، اسماعیل بن علیہ، ایوب، قاسم تمیمی، زہدم الجرمی اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں ان سب نے حماد بن زید کی طرح حدیث بیان کی ہے۔

Zahdam al-Jarmi reported: We were in the company of Abu Musa. The rest of the hadith is the same.

4268Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي مُوسَی وَهُوَ يَأْکُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِيهِ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا

شیبان بن فروخ، صعق یعنی ابن حزن، مطر الوراق، حضرت زہدم الجرمی سے روایت ہے کہ میں ابوموسی ؓ کے پاس حاضر ہوا وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے۔ باقی حدیث ان کی طرح گزر چکی ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں (اس قسم کو) نہیں بھولا۔

Zahdam al-Jarmi reported: I visited Abu Musa and he was eating fowls meat. The rest of the hadith is the same with this addition that he (the Holy Prophet) said: By Allah, I did not forget it.

4269Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ عَنْ زَهْدَمٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَقَالَ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُکُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُکُمْ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَی فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَی يَمِينٍ أَرَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، سلیمان تیمی، ضریب بن نفیر قیسی، زہدم، حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ ﷺ سے سواریاں طلب کرنے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس سواری نہیں جس پر میں تمہیں سوار کروں اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا پھر رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف تین چتکبری کوہان والے اونٹ بھیجے تو ہم نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ ﷺ سے سواری مانگنے کے لئے حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے قسم اٹھائی کہ آپ ﷺ ہمیں سوار نہیں کریں گے ہم نے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا میں کسی بات پر قسم نہیں اٹھاتا اور اس کے علاوہ میں اس سے بھلائی دیکھتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بھلائی والا ہو

Abu Musa al-Ashari reported: We came to Allahs Messenger ﷺ requesting him to provide us with riding camels. He (the Holy Prophet) said: There is nothing with me with which I should equip you. By Allah, I would not provide you with (riding camels). Then Allahs Messenger ﷺ sent to us three camels with spotted bumps. We said: We came to Allahs Messenger ﷺ asking him to equip us with riding animals. He took an oath that he could not equip us. We came to him and informed him. He said: By Allah, I do not take an oath, but when I find the other thing better than that, I do that which is better.

4270Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ عَنْ زَهْدَمٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنَّا مُشَاةً فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ

محمد بن عبدالاعلی تیمی، معتمر، ابوسلیل، زہدم، حضرت ابومو سی ؓ سے روایت ہے کہ ہم پیدل چل کر اللہ کے نبی ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے آپ ﷺ سے سواری طلب کی باقی حدیث جریر کی حدیث کی طرح کی ہے

Abu Musa reported: We walked on foot and came to Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) asking him to provide us with mounts. The rest of the hadith is the same.

4271Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَعْتَمَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ فَوَجَدَ الصِّبْيَةَ قَدْ نَامُوا فَأَتَاهُ أَهْلُهُ بِطَعَامِهِ فَحَلَفَ لَا يَأْکُلُ مِنْ أَجْلِ صِبْيَتِهِ ثُمَّ بَدَا لَهُ فَأَکَلَ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِهَا وَلْيُکَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ

زہیر بن حرب، مروان بن معاویہ فزاری، یزید بن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو رات کے وقت نبی کریم ﷺ کے پاس دیر ہوگئی پھر اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹا تو بچوں کو سوتا ہوا پایا اس کے پاس اس کی بیوی کھانا لائی اس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنے بچوں کی وجہ سے نہ کھائے گا پھر اس کے لئے ظاہر ہوگیا تو اس نے کھالیا۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم اٹھائے پھر اس کے علاوہ میں بھلائی وخیر دیکھے تو چاہیے وہ بھلائی کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے

Abu Hurairah (RA) reported: A person sat late in the night with Allahs Apostle ﷺ , and then came to his family and found that his children had gone to sleep. His wife brought food for him, but he took an oath that he would not eat because of his children (having gone to sleep without food) He then gave precedence (of breaking the vow and then expiating it) and ate the food. He then came to Allah s Messenger ﷺ and made mention of that to him, whereupon Allahs Messenger (may peace he upon him) said: He who took an oath and (later on) found something better than that should do that, and expiate for (breaking) his vow.

4272Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُکَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخض نے کس بات کی قسم اٹھائی پھر اس کے علاوہ میں اس سے بہتری دیکھی تو وہی عمل اختیار کرے جو بہتر ہو اور اپنے قسم کا کفارہ ادا کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who took an oath and then found another thing better than (this) should expiate for the oath (broken) by him and do (the better thing).

4273Sahih Muslim

جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُکَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ

زہیر بن حرب، ابن ابی یونس، عبدالعزیز بن مطلب، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخض نے کسی بات کی قسم اٹھائی پھر اس کے غیر میں اس سے بہتری دیکھی تو وہی عمل اختیار کرے جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who took an oath and (later on) found another thing better than that, he should do that which is better, and expiate for the vow (broken by him).