جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ فَلْيُکَفِّرْ يَمِينَهُ وَلْيَفْعَلْ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
قاسم بن زکریا، خالد بن مخلد، سلیمان یعنی ابن بلال، سہیل اسی حدیث کی دوسری سند ہے اس میں ہے چاہیے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہی عمل سر انجام دے جو بہتر ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters (with these words): "He should expiate for (breaking) the vow and do that which is better."
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ قَالَ جَائَ سَائِلٌ إِلَی عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَسَأَلَهُ نَفَقَةً فِي ثَمَنِ خَادِمٍ أَوْ فِي بَعْضِ ثَمَنِ خَادِمٍ فَقَالَ لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيکَ إِلَّا دِرْعِي وَمِغْفَرِي فَأَکْتُبُ إِلَی أَهْلِي أَنْ يُعْطُوکَهَا قَالَ فَلَمْ يَرْضَ فَغَضِبَ عَدِيٌّ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَا أُعْطِيکَ شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ رَضِيَ فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ ثُمَّ رَأَی أَتْقَی لِلَّهِ مِنْهَا فَلْيَأْتِ التَّقْوَی مَا حَنَّثْتُ يَمِينِي
قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالعزیز یعنی ابن رفیع، حضرت تمیم بن طرفہ سے روایت ہے کہ ایک سائل عدی بن حاتم ؓ کے پاس آیا اور ان سے ایک غلام کی قیمت کا خرچ یا غلام کی قیمت کے بعض حصہ کا سوال کیا تو انہوں نے کہا میرے پاس تجھے عطا کرنے کے لئے سوائے زرہ اور میری خود کے کچھ نہیں ہے میں اپنے گھر والوں کو لکھتا ہوں کہ وہ تجھے کچھ عطا کردیں گے راوی کہتے ہیں وہ تو راضی ہوا لیکن عدی غصے میں آگئے اور کہا اللہ کی قسم میں کچھ بھی نہ عطا کروں گا پھر وہ آدمی راضی ہوگیا تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا تو تجھے کچھ بھی نہ دیتا آپ ﷺ فرماتے تھے جس نے کسی بات پر قسم اٹھائی پھر اس سے زیادہ پرہیزگاری کا عمل دیکھے تو وہی تقوی والا عمل اختیار کرلے تو میں اپنی قسم کو نہ توڑتا اور حانث نہ ہوتا۔
Tamim bin Tarafa reported: A beggar came to Adi bin Hatim and he begged him to give him the price of a slave, or some portion of the price of the slave. He (Adi) said: I have nothing to give you except my coat-of-mail and helmet. I will, however, write to my family to give that to you, but he did not agree to that. Thereupon Adi was enraged, and said: By Allah, I will not give you anything. The person (then) agreed to accept that, whereupon he said: By Allah, had I not heard Allahs Messenger ﷺ saying: "He who took an oath, but then found something more pious in the sight of Allah, he should (break the oath) and do that which is more pious," I would not have broken the oath (and thus paid you anything).
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَی غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُکْ يَمِينَهُ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عبدالعزیز بن رفیع، تمیم بن طرفہ، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی بات پر قسم اٹھائی پھر اس کے علاوہ میں اس سے بہتری دیکھی تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔
Adi bin Hatim reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who took an oath, but he found something else better than that, should do that which is better and break his oath.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ طَرِيفٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَدِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ أَحَدُکُمْ عَلَی الْيَمِينِ فَرَأَی خَيْرًا مِنْهَا فَلْيُکَفِّرْهَا وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن طریف بجلی، محمد بن فضیل، اعمش، عبدالعزیز بن رفیع، تمیم طائی، حضرت عدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی کام پر قسمیں اٹھائے پھر اس سے بہتر عمل کو دیکھے تو قسم کا کفارہ دے اور وہی عمل اختیار کرے جو بہتر ہے۔
Adi reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When anyone amongst you takes an oath, but he finds (something) better than that he should expiate (the breaking of the oath), and do that which is better.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِکَ
محمد بن طریف، محمد بن فضیل، شیبانی، عبدالعزیز بن رفیع، تمیم طائی، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔
This hadith is reported on the authority of Adi bin Hatim through another chain of transmitters.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ فَقَالَ تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيکَ ثُمَّ قَالَ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ ثُمَّ رَأَی خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، حضرت تمیم بن طرفہ سے روایت ہے کہ میں نے عدی بن حاتم ؓ سے سنا کہ ایک آدمی ایک سو درہم مانگنے آیا انہوں نے کہا تو مجھ سے سو درہم کا سوال کرتا ہے حالانکہ میں ابن حاتم ہوں اللہ کی قسم میں تمہیں کچھ نہ دوں گا پھر کہا اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا جو آدمی کسی امر پر قسم اٹھائے پھر اس سے زیادہ بہتری کسی دوسری چیز میں دیکھے تو چاہیے کہ وہی کام سر انجام دے جو بہتر ہو
Tamim bin Tarafa reported that he beard Adi bin Hatim say that a person came to him and asked for one hundred dirhams. He (Adi) said: You asked Me for one hundred dirhams and I am the son of Hatim; by Allah, I will not give you. But then he said: (I would have done that) if I had not heard Allahs Messenger ﷺ say: He who takes an oath, but then finds something better than that, should do that which is better.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَذَکَرَ مِثْلَهُ وَزَادَ وَلَکَ أَرْبَعمِائَة فِي عَطَائِي
محمد بن حاتم، بہز، شعبہ، سماک بن حرب، تمیم بن طرفہ، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اس سے پوچھا۔ باقی حدیث اسی طرح ذکر کی ہے اور اس میں اضافہ یہ ہے اور تیرے لئے میری عطاء سے چار سو (درہم) ہیں
Tamim bin Tarafa reported: I heard Adi bin Hatim say that a person asked that and then narrated (the hadith) like one (mentioned above), but he made this addition: "Here are four hundred (dirhams) for you out of my gift."
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُکِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَی يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَکَفِّرْ عَنْ يَمِينِکَ وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْجُلُودِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَاسَرْجَسِيُّ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ بِهَذَا الْحَدِيثِ
شیبان بن فروخ، جریر بن حازم، حسن، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے عبدالرحمن بن سمرہ سرادری کا سوال نہ کرنا کیونکہ اگر تجھے سرادری مانگنے سے دی گئی تو اس کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر تجھے تیرے مانگنے کے بغیر عطا کی گئی تو اس پر تیری مدد کی جائے گی اور جب تو کسی بات پر قسم اٹھائے پھر تو نے اس کے علاوہ میں اس سے بہتری دیکھی تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور وہی عمل سرانجام دے جو بہتر ہو۔
Abdul Rahman bin ahadeeth reported that Allahs Messenger ﷺ said to me: Abdul Rahman bin ahadeeth, dont ask for authority for if it is granted to you for asking for it, you would be commissioned for it (without having the support of Allah), but if you are granted it without your asking for it. You would be helped (by Allah) in it. And when you take an oath and find something else better than that, expiate for (breaking) your oath, and do that which is better. This hadith has also been transmitted on the authority of Ibn Farrukh.
جس نے قسم اٹھائی پھر اس کہ غیر میں بھلائی ہو اس کہ لئے بھلائی کا کام کرنا مسحتب ہونے اور قسم کا کفارہ ادا کرنے کہ بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ وَمَنْصُورٍ وَحُمَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ عَطِيَّةَ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ فِي آخَرِينَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِيهِ ذِکْرُ الْإِمَارَةِ
علی بن حجر سعدی، ہشیم، یونس، منصور، حمید، ابوکامل حجدری، حماد بن زید، سماک بن عطیہ، یونس بن عبید، ہشام بن حسان، عبیداللہ بن معاذ، معتمر، عقبہ بن مکرم، سعید بن عامر، سعید قتادہ، حسن، عبدالرحمن بن سمرہ مذکورہ بالا حدیث ہی کی مزید دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin ahadeeth through another chain of transmitters but there is no mention of the word "authority".
قسم اٹھائے والے کی قسم کا مدار قسم دلا نے والے کی نیت پر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ و قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينُکَ عَلَی مَا يُصَدِّقُکَ عَلَيْهِ صَاحِبُکَ و قَالَ عَمْرٌو يُصَدِّقُکَ بِهِ صَاحِبُکَ
یحییٰ بن یحیی، عمروناقد، یحیی، ہشیم بن بشیر، عبداللہ بن ابی صالح، عمرو، ہشیم بن بشیر، عبداللہ بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تیری قسم وہی معبتر ہوگی جس پر تیری تصدیق کرے اور حضرت عمر ؓ نے فرمایا جس اعتقاد کے ساتھ تیری تصدیق کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Your oath should be about something regarding which your companion will believe you. Amr said: By which your companion will believe you.
قسم اٹھائے والے کی قسم کا مدار قسم دلا نے والے کی نیت پر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَمِينُ عَلَی نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ہشیم، عبادہ بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم کا دارومدار قسم اٹھانے والے کی نیت پر ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: An oath is to be interpreted according to the intention of the one who takes it.
قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ لِسُلَيْمَانَ سِتُّونَ امْرَأَةً فَقَالَ لَأَطُوفَنَّ عَلَيْهِنَّ اللَّيْلَةَ فَتَحْمِلُ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَتَلِدُ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا وَاحِدَةٌ فَوَلَدَتْ نِصْفَ إِنْسَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ اسْتَثْنَی لَوَلَدَتْ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا فَارِسًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
ابوربیع عتکی، ابوکامل حجدری، فضیل بن حسین، حماد، ابن زید، ایوب، محمد، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ساٹھ بیویاں تھیں انہوں نے کہا میں ان سب کے پاس ایک رات میں جاؤں گا۔ ان میں ہر ایک کو حمل ہوگا اور ان میں سے ہر ایک شہسوار لڑکے کو جنم دے گی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا لیکن ان میں سے ایک کے علاوہ کسی کو حمل نہ ہوا اور اس نے بھی آدھے بچے کو جنم دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو ان میں سے ہر ایک عورت شہسوار لڑکے کو جنم دیتی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا۔
Abu Hurairah (RA) reported that (Hadrat) Sulaiman had sixty wives. He (one day) said: I will visit each one of them every night, and every one of them will become pregnant and give birth to a male child who will be a horseman and fight in the cause of Allah. But (it so happened) that none of them became pregnant except one, but she gave birth to an incomplete child. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Had he said Insha Allah (if God so wills), then every one of them would have given birth to a child who would have been a horseman and fought in the cause of Allah
قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ نَبِيُّ اللَّهِ لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَی سَبْعِينَ امْرَأَةً کُلُّهُنَّ تَأْتِي بِغُلَامٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ أَوْ الْمَلَکُ قُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ فَلَمْ تَأْتِ وَاحِدَةٌ مِنْ نِسَائِهِ إِلَّا وَاحِدَةٌ جَائَتْ بِشِقِّ غُلَامٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَکَانَ دَرَکًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ
محمد بن عباد، ابن ابی عمر، سفیان، ہشام بن حجیر، طاؤس، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر عورت ایک بچہ جنے گی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا ان سے ان کے ساتھی یا فرشتے نے کہا آپ انشاء اللہ کہہ لیں وہ بھول گئے اور انشاء اللہ نہ کہا ان کی بیویوں میں سے سوائے ایک عورت کے کسی کے ہاں بچہ کی ولادت نہ ہوئی اور اس کے ہاں بھی آدھے بچے کی ولادت ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو ان کی بات رد نہ کی جاتی اور اپنے مقصد کو بھی حاصل کرلیتے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Prophet ﷺ as saying that Sulaiman bin Dawud, the Apostle of Allah ﷺ , observed: I will have an intercourse with seventy wives during the night; all of them will give birth to a male child who will fight in the cause of Allah. His companion or the angles said to him: Say, "If God wills." But he (Hadrat Sulaimin) did not say so, and he forgot it. And none of his wives gave birth to a child, but one who gave birth to a premature child. Allahs Messenger ﷺ said: Had he said Insha Allah (if God so will) he would not have failed and his desire would have been materialised.
قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ
ابن ابی عمر، سفیان، ابی الزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے ہی یہ حدیث دوسری سند سے مروی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported this hadith from the Apostle of Allah ﷺ through another chain of transmitters.
قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَی سَبْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ کُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقِيلَ لَهُ قُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ فَأَطَافَ بِهِنَّ فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَکَانَ دَرَکًا لِحَاجَتِهِ
عبد بن حمید، عبدالرزاق بن ہمام، معمر، ابن طاو س، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا میں آج رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر عورت لڑکا جنم دے گی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا ان سے عرض کی گئی انشاء اللہ کہہ لیں لیکن انہوں نے نہ کہا وہ ان کے پاس گئے لیکن ان میں سے ایک عورت کے سوا کسی عورت نے کچھ بھی جنم نہ دیا اور اس نے بھی آدھا لڑکا جنا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو قسم توڑنے والے نہ ہوتے اور اپنے مقصد کو پہنچ جاتے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Sulaiman bin Dawud said: I will certainly have intercourse with seventy wives during the night, and every wife amongst them will give birth to a child, who will fight in the cause of Allah. It was said to him: Say: "Insha Allah" (God willing), but he did not say so and forgot it. He went round them but none of them give birth to a child except one woman and that too was an incomplete person. Upon this Allahs Messenger ﷺ said: If he had said "Insha Allah" he would not have failed, and his desire must have been fulfilled.
قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَی تِسْعِينَ امْرَأَةً کُلُّهَا تَأْتِي بِفَارِسٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ قُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ فَجَائَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ
زہیر بن حرب، شبابہ، ورقاء، ابی الزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا کہ آج کی رات میں نوے عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر ایک شہسوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا ان سے ان کے ساتھی نے کہا آپ انشاء اللہ کہہ لیں لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا اور وہ ان سب کے پاس گئے لیکن ان میں سے ایک عورت کے سواء کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی آدھے لڑکے کو جنم دیا اور قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو وہ سارے کے سارے اللہ کے راستہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying that Sulaiman bin Dawud (once) said: I will go round in the night to my ninety wives, and every one of them will give birth to a child (who will grow up) as a horseman and fight in the cause of Allah His companions said to him: Say "Insha Allah." but he did not say Insha Allah. He went round all of them but none of them became pregnant but one, and she gave birth to a premature child. And by Him in Whose hand is the life of Muhammad, if he had said Insha Allah (his wives would have given birth to the children who would all have grown up into horsemen and fought in the way of Allah).
قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان
و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کُلُّهَا تَحْمِلُ غُلَامًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، موسیٰ بن عقبہ، حضرت ابوالزاناد کے واسطہ سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ان میں ایک لڑکے سے حاملہ ہوتی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Zinad with the same chain of transmitters with a variation of (these words): "Every one of them giving birth to a child, who would have fought in the cause of Allah."
جس قسم سے قسم اٹھا نے والے کے اہل کا نقصان ہو اسے قسم اٹھا نے پر اصرار کرنے سے ممانعت کے بیان میں اس شرط پر کہ عمل حرام نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُکُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ کَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم! تم میں سے کسی کا اپنے گھر والوں کے بارے میں کسی قسم پر اصرار کرنا اس کے لئے زیادہ گناہ کی بات ہے کہ اللہ کے ہاں اس قسم کا کفارہ کرنے سے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔
Hammam bin Munabbih reported: This is what Abu Hurairah (RA) reported to us from Allahs Messenger ﷺ , and he narrated a hadith and (one) of them is that Allahs Messenger ﷺ said: I swear by Allah, it is more sinful in Allahs sight for one of you to persist in an oath regarding his family than payment of its expiation which Allah has imposed upon him (for breaking the oath).
کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَکِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ فَأَوْفِ بِنَذْرِکَ
محمد بن ابی بکر مقدمی، محمد بن مثنی، زہیر بن حرب، یحیی، ابن سعید قطان، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ میں نے جاہلیت میں نذر مانی کہ میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو اپنی نذر پوری کر۔
Book 015, Number 4072:
Ibn Umar reported that Umar (b. Khattab) said: Messenger of Allah, I had taken a vow during the days of Ignorance (Jahiliyya) that I would observe Itikaf for a night in the Sacred Mosque. He (the Holy Prophet) said: Fulfil your vow.
کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے
و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ و قَالَ حَفْصٌ مِنْ بَيْنِهِمْ عَنْ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ وَالثَّقَفِيُّ فَفِي حَدِيثِهِمَا اعْتِکَافُ لَيْلَةٍ وَأَمَّا فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ فَقَالَ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَکِفُهُ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ حَفْصٍ ذِکْرُ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ
ابوسعید اشج، ابواسامہ، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن علاء، اسحاق بن ابراہیم، حفص بن غیاث، محمد بن عمرو بن جبلہ بن رواد، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر، اسی حدیث کی مزید اسناد الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ ذکر کی ہیں۔ معنی و مفہوم وہی ہے۔
This hadith is transmitted on the authority of Ibn Umar (RA) with a slight variation of words.