قسموں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 29 · 88 hadiths · Page 3 of 5

4294Sahih Muslim

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنْ الطَّائِفِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَکِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَکَيْفَ تَرَی قَالَ اذْهَبْ فَاعْتَکِفْ يَوْمًا قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنْ الْخُمْسِ فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْوَاتَهُمْ يَقُولُونَ أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ فَقَالَ عُمَرُ يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ إِلَی تِلْکَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، جریر بن حازم، ایوب، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے جعرانہ میں سوال کیا۔ آپ ﷺ کے طائف سے لوٹنے کے بعد کہ اے اللہ کے رسول! ﷺ میں نے جاہلیت میں نذر مانی کہ مسجد حرام میں ایک دن اعتکاف کروں گا آپ ﷺ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں خمس سے ایک لونڈی عطا کی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کردیا تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ان کی آوازیں سنیں۔ وہ کہتے تھے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے آزاد کیا تو حضرت عمر ؓ نے کہا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کردیا ہے۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اے عبداللہ اس لونڈی کے پاس جاؤ اور اسے بھی چھوڑ دو۔

Abdullah bin Umar reported that Umar bin Khattab asked the Messenger of Allah ﷺ as he was at jirana (a town near Makkah) on his way back from Taif: Messenger of Allah, I had taken a vow during the days of Ignorance that I would observe Itikaf for one day in the Sacred Mosque. So what is your opinion? He said: Go and observe Itikaf for a day. And Allahs Messenger ﷺ gave him a slave girl out of the one-fifth (of the spoils of war meant for the Holy Prophet). And when Allahs Messenger ﷺ set the war prisoners free, Umar bin Khattab heard their voice as they were saying: Allahs Messenger ﷺ has set us free. He (Hadrat Umar) said: What is this? They said: Allahs Messenger ﷺ has set free the prisoners of war (which had fallen to the lot of people). Thereupon he (Hadrat Umar) said:Abdullah, go to that slave-girl and set her free.

4295Sahih Muslim

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ کَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِکَافِ يَوْمٍ ثُمَّ ذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب حنین سے لوٹے تو حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی ایک دن کے نذر اعتکاف کے بارے میں سوال کیا جو دور جاہلیت کی تھی۔ پھر حضرت جریربن حازم جیسی حدیث ذکر کی۔

ibn Umar reported: When Allahs Apostle ﷺ came back from the Battle of Hunain, Umar asked Allahs Messenger ﷺ about the vow he had taken during the days of Ignorance that he would observe Itikaf for a day. The rest of the hadith is the same.

4296Sahih Muslim

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ عُمْرَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَقَالَ لَمْ يَعْتَمِرْ مِنْهَا قَالَ وَکَانَ عُمَرُ نَذَرَ اعْتِکَافَ لَيْلَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَمَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ

احمد بن عبدہ ضبی، حماد بن زید، ایوب، حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ کے پاس رسول اللہ ﷺ جعرانہ سے عمرہ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اس سے عمرہ نہیں کیا۔ فرمایا کہ عمر ؓ نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی۔

Nafi reported: A mention of Allahs Messenger ﷺ observing Umrah from jarina was made before Ibn Umar. He said: He did not enter into the state of Ihram from that (place), and Umar had taken a vow of observing Itikaf for a night during the days of Ignorance. The rest of the hadith is the same.

4297Sahih Muslim

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي النَّذْرِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا اعْتِکَافُ يَوْمٍ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، حجاج بن منہال، حماد، ایوب، یحییٰ بن خلف، عبدالاعلی، محمد بن اسحاق، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے اس حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔ ان سب کی احادیث میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters but with a slight variation of words.

4298Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ ذَکْوَانَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوکًا قَالَ فَأَخَذَ مِنْ الْأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا فَقَالَ مَا فِيهِ مِنْ الْأَجْرِ مَا يَسْوَی هَذَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَطَمَ مَمْلُوکَهُ أَوْ ضَرَبَهُ فَکَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ

ابوکامل فضیل بن حسین حجدری، ابوعوانہ، فراس، ذکوان ابی صالح، حضرت زاذان ابی عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے غلام آزاد کیا تو انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز اٹھائی اور فرمایا کہ اس میں اس کے برابر بھی اجر وثواب نہیں ہے۔ ہاں! یہ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا پیٹا تو اس کا کفارہ اسے آزاد کرنا ہے۔

Zadhan Abl Umar reported: I came to Ibn Umar as he had granted freedom to a slave. He (the narrator further) said: He took hold of a wood or something like it from the earth and said: It (freedom of a slave) has not the reward evert equal to it, but the fact that I heard Allahs Messenger ﷺ say: He who slaps his slave or beats him, the expiation for it is that he should set him free.

4299Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فِرَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ ذَکْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَعَا بِغُلَامٍ لَهُ فَرَأَی بِظَهْرِهِ أَثَرًا فَقَالَ لَهُ أَوْجَعْتُکَ قَالَ لَا قَالَ فَأَنْتَ عَتِيقٌ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ الْأَرْضِ فَقَالَ مَا لِي فِيهِ مِنْ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِنَّ کَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، فراس، ذکوان، حضرت زاذان سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ نے اپنے غلام کو بلوایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھے تو اس سے کہا کہ میں نے تجھے تکلیف پہنچائی ہے؟ اس نے کہا نہیں تو ابن عمر ؓ نے کہا تو آزاد ہے پھر ابن عمر ؓ نے زمین سے کوئی چیز اٹھائی اور فرمایا میرے لئے اس (غلام) کے آزاد کرنے اس کے وزن کے برابر بھی اجر ثواب نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جس نے اپنے غلام کو بغیر قصور کے مارا یا اسے تھپڑ رسید کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔

Zadhan reported that Ibn Umar (RA) called his slave and he found the marks (of beating) upon his back. He said to him: I have caused you pain. He said: No. But he ( Ibn Umar (RA) ) said: You are free. He then took hold of something from the earth and said: There is no reward for me even to the weight equal to it. I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who beats a slave without cognizable offence of his or slaps him (without any serious fault), then expiation for it is that he should set him free.

4300Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ فِرَاسٍ بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ فَذَکَرَ فِيهِ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ وَفِي حَدِيثِ وَکِيعٍ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ الْحَدَّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، فراس، حضرت شعبہ اور ابوعوانہ کی اسناد سے یہ حدیث مروی ہے ابن مہدی کی حدیث میں حد کو ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا اور حد ذکر نہیں کی۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.

4301Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ لَطَمْتُ مَوْلًی لَنَا فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا ثُمَّ قَالَ کُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْتِقُوهَا قَالُوا لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا قَالَ فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، سفیان، سلمہ بن کہیل، حضرت معاویہ بن سوید ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا پھر بھاگ گیا پھر ظہر کے قریب آیا اور ظہر کی نماز میں نے اپنے باپ کے پیچھے ادا کی تو انہوں نے غلام کو اور مجھے بلایا پھر فرمایا اس سے بدلہ لے لو اس نے معاف کردیا پھر فرمایا ہم بنی مقرن کے پاس زمانہ رسول اللہ ﷺ میں صرف ایک ہی خادم تھا ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا یہ بات جب نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے آزاد کردو انہوں نے عرض کیا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی خادم نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس سے خدمت حاصل کرو جب وہ اس سے مستغنی ہوجائیں تو چائیے کہ اسے آزاد کردو۔

Muawiyah bin Suwaid reported: I slapped a slave belonging to us and then fled away. I came back just before noon and offered prayer behind my father. He called him (the slave) and me and said: Do as he has done to you. He granted pardon. He (my father) then said: We belonged to the family of Muqarrin during the lifetime of Allahs Messenger (may peace be upon him, and had only one slave-girl and one of us slapped her. This news reached Allahs Apostle ﷺ and he said: Set her free. They (the members of the family) said: There is no other servant except she. Thereupon he said: Then employ her and when you can afford to dispense with her services, then set her free.

4302Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ عَجَزَ عَلَيْکَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی بکر، ابن ادریس، حصین، حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے کہ ایک شیخ نے جلدی کی کہ اپنے خادم کو طمانچہ مار دیا تو اسے سو ید بن مقرن نے کہا تجھے اس کے چہرے کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملی تھی تحقیق میں نے اپنے آپ کو بنی مقرن کا سا تو اں فرد پایا اور ہمارے لئے سوائے ایک خادم کے کوئی دوسرا نہ تھا کہ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کے آزاد کرنے کا حکم فرمایا۔

Hilal bin Yasaf reported that a person got angry and slapped his slave-girl. Thereupon Suwaid bin Muqarrin said to him: You could find no other part (to slap) but the prominent part of her face. See I was one of the seven sons of Muqarrin, and we had but only one slave-girl. The youngest of us slapped her, and Allahs Messenger ﷺ commanded us to set her free. 2097

4303Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ کُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا کَلِمَةً فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، حصین، حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے کہ ہم نعمان بن مقرن کے بھائی سوید بن مقرن کے گھر میں کپڑا فروخت کیا کرتے تھے تو ایک لونڈی نکلی اور اس نے ہم سے کسی آدمی کو کوئی بات کہی تو اس آدمی نے اسے طمانچہ مار دیا تو سوید ناراض ہوئے پھر ابن ادریس کی طرح حدیث ذکر کی۔

Hilal bin Yasaf reported: We used to sell cloth in the house of Suwaid bin Muqarrin, the brother of Numan bin Muqarrin. There came out a slave-girl, and she said something to a person amongst us, and he slapped her. Suwaid was enraged-the rest of the hadlth is the same.

4304Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ مَا اسْمُکَ قُلْتُ شُعْبَةُ فَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَنَّ جَارِيَةً لَهُ لَطَمَهَا إِنْسَانٌ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ إِخْوَةٍ لِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا خَادِمٌ غَيْرُ وَاحِدٍ فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ

عبدالوارث بن عبدالصمد، شعبہ، محمد بن منکدر، شعبہ، محمد، ابوشعبہ عراقی، حضرت سوید بن مقران سے روایت ہے کہ اس کی باندی کو کسی انسان نے طمانچہ مارا تو اسے سوید نے کہا کیا تو جانتا کہ چہرہ حرام کیا گیا ہے کہا میں نے اپنے آپ کو اپنے بھائیوں میں سے سا تو اں پایا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور ہمارے لئے ایک کے علاوہ کوئی خادم نہ تھا ہم میں سے کسی ایک نے اسے تھپڑ مار دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کردیں۔

Suwaid bin Muqarrin reported that he had a slave-girl and a person (one of the members of the family) slapped her, whereupon Suwaid said to him: Dont you know that it is forbidden to strike the face. He said: You see I was the seventh one amongst my brothers during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ , and we had but only one servant. One of us got enraged and slapped him. Thereupon Allahs Messenger ﷺ commanded us to set him free.

4305Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ مَا اسْمُکَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، محمد بن منکدر، اسے حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

Wahb bin Jarir reported: Shubah informed that Muhammad bin Munkadir said to me: What is your name? The rest of the hadith is the same.

4306Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ کُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي بِالسَّوْطِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ فَلَمْ أَفْهَمْ الصَّوْتَ مِنْ الْغَضَبِ قَالَ فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ قَالَ فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي فَقَالَ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْکَ مِنْکَ عَلَی هَذَا الْغُلَامِ قَالَ فَقُلْتُ لَا أَضْرِبُ مَمْلُوکًا بَعْدَهُ أَبَدًا

ابوکامل جحدری، عبدالواحد یعنی ابن زیاد، اعمش، ابراہیم تیمی، حضرت ابومسعود بدری ؓ سے روایت ہے کہ میں اپنے غلام کو کوڑے کے ساتھ مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی اے ابومسعود جان لے اور میں غصہ کی وجہ سے آواز سمجھ نہ سکا جب وہ میرے قریب ہوئے تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے جان لے ابومسعود! جان لے ابومسعود! کہتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا ڈال دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جان لے ابومسعود اللہ تجھ پر زیادہ قدرت رکھتا ہے تیری اس غلام پر قدرت سے کہتے ہیں میں نے عرض کیا میں اس کے بعد کبھی غلام کو نہ ماروں گا۔

Abu Masud al-Badri reported: I was beating my slave with a whip when I heard a voice behind me: Understand, Abu Masud; but I did not recognise the voice due to intense anger. He (Abu Masud) reported: As he came near me (I found) that he was the Messenger of Allah ﷺ and he was saying: Bear in mind, Abu Masud; bear in mind, Abu Masud. He (Abu Masud) said: I threw the whip from my hand. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Bear in mind, Abu Masud; verily Allah has more dominance upon you than you have upon your slave. I (then) said: I would never beat my servant in future.

4307Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر بن حرب، محمد بن حمید، معمری، سفیان، محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابوعوانہ، اعمش، عبدالواحد اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں حضرت جریر ؓ کی حدیث میں ہے۔ آپ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گرگیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash but with this variation of words: "There fell from my hand the whip on account of his (the Prophets) awe."

4308Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ کُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْکَ مِنْکَ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَقَالَ أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَلَفَحَتْکَ النَّارُ أَوْ لَمَسَّتْکَ النَّارُ

ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم تیمی، حضرت ابومسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی ابومسعود جان لے کہ اللہ تجھ پر تیری اس پر قدرت سے زیادہ قادر ہے میں متوجہ ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ وہ اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہے آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو ایسا نہ کرتا تو جہنم کی آگ تجھے جلا دیتی یا تجھے چھو لیتی۔

Abu Masud al-Ansari reported: When I was beating my servant, I heard a voice behind me (saying): Abu Masud, bear in mind Allah has more dominance over you than you have upon him. I turned and (found him) to be Allahs Messenger ﷺ . I said: Allahs Messenger, I set him free for the sake of Allah. Thereupon he said: Had you not done that, (the gates of) Hell would have opened for you, or the fire would have burnt you.

4309Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّهُ کَانَ يَضْرِبُ غُلَامَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ قَالَ فَجَعَلَ يَضْرِبُهُ فَقَالَ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ فَتَرَکَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْکَ مِنْکَ عَلَيْهِ قَالَ فَأَعْتَقَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن عدی، شعبہ، سلیمان، ابراہیم تیمی، حضرت ابومسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے کہ اس نے أَعُوذُ بِاللَّهِ کہنا شروع کردیا کہتے ہیں وہ اسے مارتے رہے پھر اس نے أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ کہا تو اسے چھوڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اللہ تجھ پر زیادہ قدرت رکھتا ہے حضرت ابومسعود ؓ فرماتے ہیں پھر میں نے اسے آزاد کردیا۔

Abu Masud reported that he had been beating his slave and he had been saying: I seek refuge with Allah, but he continued beating him, whereupon he said: I seek refuge with Allahs Messenger, and he spared him. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: By Allah, God has more dominance over you than you have over him (the slave). He said that he set him free.

4310Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

بشر بن خالد، محمد یعنی ابن جعفر، حضرت شعبہ سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے لیکن أَعُوذُ ِباللَّهِ اور أَعُوذُ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters, but made no mention of (these words) of his: I seek refuge with Allah, I seek refuge with Allahs Messenger ﷺ .

4311Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي نُعْمٍ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَذَفَ مَمْلُوکَهُ بِالزِّنَا يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَکُونَ کَمَا قَالَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن عبداللہ بن نمیر، فضیل بن غزوان، عبدالرحمن بن ابی نعم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے مملوک پر زنا کی تہمت لگائی تو اس پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی۔ ہاں یہ کہ وہ ایسا ہی ہو جیسا کہ اس نے کہا۔

Abu Hurairah (RA) reported that Abul-Qasim (one of the names of Allahs Messenger [may peace be upon him]) said: He who accused his slave of adultery, punishment would be imposed upon him on the Day of Resurrection, except in case the accusation was as he had said.

4312Sahih Muslim

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ کِلَاهُمَا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيَّ التَّوْبَةِ

ابوکریب، وکیع، زہیر بن حرب، اسحاق بن یوسف الازرق، فضیل بن غزوان اسی حدیث کی دوسری اسناد مذکور ہیں ان میں یہ ہے کہ میں نے ابولقاسم ﷺ نبی التوبہ سے سنا۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Ghazwan (and the words are): "I heard Abul-Qasim ﷺ as the Prophet ﷺ of repentance."

4313Sahih Muslim

ملا زم و غلام کو جو خود کھائے پیے اور پہنے دینے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ مَرَرْنَا بِأَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ وَعَلَی غُلَامِهِ مِثْلُهُ فَقُلْنَا يَا أَبَا ذَرٍّ لَوْ جَمَعْتَ بَيْنَهُمَا کَانَتْ حُلَّةً فَقَالَ إِنَّهُ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ إِخْوَانِي کَلَامٌ وَکَانَتْ أُمُّهُ أَعْجَمِيَّةً فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ فَشَکَانِي إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّکَ امْرُؤٌ فِيکَ جَاهِلِيَّةٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ سَبَّ الرِّجَالَ سَبُّوا أَبَاهُ وَأُمَّهُ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّکَ امْرُؤٌ فِيکَ جَاهِلِيَّةٌ هُمْ إِخْوَانُکُمْ جَعَلَهُمْ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيکُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْکُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ وَلَا تُکَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ کَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اعمش، حضرت معرور بن سوید سے روایت ہے کہ ہم ابوذر ؓ کے پاس سے مقام زبدہ میں گزرے اور ان پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام پر بھی ان جیسی۔ تو ہم نے عرض کیا اے ابوذر! اگر آپ ان دونوں (چادروں) کو جمع کرلیتے تو یہ حلہ ہوتا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے اور میرے بھائیوں میں سے ایک آدمی کے درمیان کسی بات پر لڑائی ہوگئی اور اس کی والدہ عجمی تھی۔ میں نے اسے اس کی ماں کی عار دلائی تو اس نے نبی کریم ﷺ سے میری شکایت کی۔ میں نبی کریم ﷺ سے ملا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر! تو ایک ایسا آدمی ہے جس میں جاہلیت ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! جو دوسرے لوگوں کو گالی دے گا تو لوگ اس کے باپ اور ماں کو گالی دینگے آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر! تو ایسا آدمی ہے جس میں جاہلیت (کا اثر) ہے وہ تمہارے بھائی ہیں اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کردیا ہے۔ تو تم ان کو وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور انہیں وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو اور ان کو ایسے کام پر مجبور نہ کرو جو ان پر دشوار ہو اور اگر تم ان سے ایسا کام لو تو ان کی مدد کرو۔

Al-Marur bin Suwaid said: We went to Abu Dharr (RA) (Ghifari) in Rabadha and he had a mantle over him, and his slave had one like it. We said: Abu Dharr, had you joined them together, it would have been a complete garment. Thereupon he said: There was an altercation between me and one of the persons among my brothers. His mother was a non-Arab. I reproached him for his mother. He complained against me to Allahs Apostle ﷺ . As I met Allahs Apostle ﷺ he said: Abu Dharr, you are a person who still has (in him the remnants) of the days (of Ignorance). Thereupon I said: Allahs Messenger, he who abuses (other) persons, they abuse (in return) his father and mother. He (the Holy Prophet) said: Abu Dharr, you are a person who still has (the remnants) of Ignorance in him. They (your servants and slaves) are your brothers. Allah has put them in your care, so feed them with what you eat, clothe them with what you wear. and do not burden them beyond their capacities; but if you burden them (with an unbearable burden), then help them (by sharing their extra burden).