ملا زم و غلام کو جو خود کھائے پیے اور پہنے دینے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَوْلِهِ إِنَّکَ امْرُؤٌ فِيکَ جَاهِلِيَّةٌ قَالَ قُلْتُ عَلَی حَالِ سَاعَتِي مِنْ الْکِبَرِ قَالَ نَعَمْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ نَعَمْ عَلَی حَالِ سَاعَتِکَ مِنْ الْکِبَرِ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی فَإِنْ کَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيَبِعْهُ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَلْيَبِعْهُ وَلَا فَلْيُعِنْهُ انْتَهَی عِنْدَ قَوْلِهِ وَلَا يُکَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ
احمد بن یونس، زہیر، ابوکریب، ابومعاویہ، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، زہیر، ابی معاویہ اسی حدیث کی مزید دو اسناد ذکر کی ہیں۔ حضرت زہیر اور حضرت ابومعاویہ سے آپ ﷺ کے قول کہ تو ایک ایسا آدمی ہے کہ جس میں جاہلیت (کا اثر باقی) ہے کے بعد یہ اضافہ ہے کہ میں نے عرض کیا میرے اس بڑھاپے کے حال پر۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے جی ہاں! تیرے بڑ ھاپے کے حال میں بھی اور عیسیٰ کی حدیث میں ہے کہ اگر وہ اسے کام پر مجبور کرے جو اسے دشوار گزرے تو چاہیے کہ وہ اسے بیچ دے اور زہیر کی حدیث میں ہے چاہے کہ وہ اس پر اس کی مدد کرے اور ابومعاویہ کی حدیث میں بیچنے اور مدد کرنے کا ذکر نہیں ان کی حدیث اس پر دشواری نہ ڈالو کہ وہ مغلوب ہوجائے پر پوری ہوگئی۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash but with a slight variation of words, e. g. in the hadith transmitted on the authority of Zuhair and Abu Muawiyahh (RA) after his words (these words of the Holy Prophet): "You are a person having the remnants of Ignorance in him." (these words also occur, that Abu Dharr) said: Even up to this time of my old age? He (the Holy Prophet) said: Yes. In the tradition transmitted on the authority of Abu Muawiyahh (RA) (the words are): "Yes, in this time of your old age." In the tradition transmitted on the authority of Isa (the words are): "If you burden him (with an unbearable burden), you should sell him (and get another slave who can easily undertake this burden)." In the hadith transmitted on the authority of Zuhair (the words are): "Help him in that (work)." In the hadith transmitted by Abu Muawiyahh (RA) (separately) there is no such word: Then sell him or help him." This hadith concludes with these words: "Do not burden him beyond his capacity."
ملا زم و غلام کو جو خود کھائے پیے اور پہنے دینے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لینے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَی غُلَامِهِ مِثْلُهَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ قَالَ فَذَکَرَ أَنَّهُ سَابَّ رَجُلًا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَيَّرَهُ بِأُمِّهِ قَالَ فَأَتَی الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ امْرُؤٌ فِيکَ جَاهِلِيَّةٌ إِخْوَانُکُمْ وَخَوَلُکُمْ جَعَلَهُمْ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيکُمْ فَمَنْ کَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْکُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُکَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ کَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، واصل، احدب، حضرت معرور بن سوید سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ کو دیکھا کہ ان پر ایک حلہ تھا اور ان کے غلام پر بھی اس جیسا میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ذکر کیا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کہ زمانہ میں ایک آدمی کو اس کی ماں کی عار دلا کر گالی دی وہ آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو ایسا آدمی ہے اس میں جاہلیت (کا اثر باقی) ہے۔ یہ تمہارے بھائی تمہارے خادم ہیں اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت بنایا ہے۔ جس کا بھائی ماتحت ہو تو چاہیے کہ اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھائے اور اسے وہی پہنائے جو وہ خود زیب تن کرے اور ان کو ایسی مشقت میں نہ ڈالو جو انہیں عاجز کر دے اگر تم ان کو ایسی مشقت میں ڈالو تو اس پر ان کی مدد کرو (اور ٹائم دو )۔
Marur bin Suwaid reported: I saw Abu Dharr (RA) wearing clothes, and his slave wearing similar ones. I asked him about it, and he narrated that he had abused a person during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ and he reproached him for his mother. That person came to Allahs Apostle ﷺ and made mention of that to him. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: You are a person who has (remnants of) Ignorance in him. Your slaves are brothers of yours. Allah has placed them in your hand, and he who has his brother under him, he should feed him with what he eats, and dress him with what he dresses himself, and do not burden them beyond their capacities, and if you burden them, (beyond their capacities), then help them.
ملا زم و غلام کو جو خود کھائے پیے اور پہنے دینے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لینے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ عَنْ الْعَجْلَانِ مَوْلَی فَاطِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلْمَمْلُوکِ طَعَامُهُ وَکِسْوَتُهُ وَلَا يُکَلَّفُ مِنْ الْعَمَلِ إِلَّا مَا يُطِيقُ
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج، عجلان مولیٰ فاطمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خادم کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اس کو کھانا اور کپڑا دو اور اس کی طاقت سے زیادہ کسی عمل کا اسے مکلف نہ بناؤ۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is essential to feed the slave, clothe him (properly) and not burden him with work which is beyond his power.
ملا زم و غلام کو جو خود کھائے پیے اور پہنے دینے اور اس کی طاقت سے زیادہ کام نہ لینے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ مُوسَی بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِکُمْ خَادِمُهُ طَعَامَهُ ثُمَّ جَائَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ فَلْيَأْکُلْ فَإِنْ کَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أُکْلَةً أَوْ أُکْلَتَيْنِ قَالَ دَاوُدُ يَعْنِي لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ
قعنبی، داؤد بن قیس، موسیٰ بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لئے اس کا کھانا تیار کرے پھر اسے لے کر حاضر ہو اس حال میں کہ اس نے اس گرمی اور دھوئیں کو برداشت کیا ہوا تو آقا کو چاہیے کہ وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا کر کھلائے پس اگر کھانا بہت ہی کم ہو تو چاہیے کہ اس کھانے میں اسے ایک یا دو لقمے اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When the slave of anyone amongst you prepares food for him and he serves him after having sat close to and having suffered the hardship of heat and smoke, he should make him (the slave) sit along with him and make him eat (along with him), and if the food seems to run short, then he should spare some portion for him (from his own share) - (another narrator) Dawud said: "i. e. a morsel or two". 4097
غلام کے لئے اجر و ثواب کے ثبوت کے بیان میں جب اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غلام جب اپنے سردار و آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے طریق پر کرے تو اس کے لئے دو ثواب ہے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When a slave looks to the welfare of his master and worships Allah well, he has two rewards for him.
غلام کے لئے اجر و ثواب کے ثبوت کے بیان میں جب اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرے
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحیی، قطان، ابن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، عبیداللہ، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، حضرت ابن عمر ؓ ہی سے اس حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through another chain of transmitters.
غلام کے لئے اجر و ثواب کے ثبوت کے بیان میں جب اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرے
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوکِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْحَجُّ وَبِرُّ أُمِّي لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوکٌ قَالَ وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَمْ يَکُنْ يَحُجُّ حَتَّی مَاتَتْ أُمُّهُ لِصُحْبَتِهَا قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ فِي حَدِيثِهِ لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْمَمْلُوکَ
ابوطاہر، حرملہ ابن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک غلام کے لئے دوہرا اجر ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ ؓ کی جان ہے اگر اللہ کے راستہ میں جہاد اور حج اور اپنی والدہ کے ساتھ نیکی کرنا نہ ہوتا تو میں غلام ہو کر مرنا پسند کرتا۔ حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے ان کی وفات سے پہلے حج نہیں کیا ابوالطاہر نے اپنی حدیث میں نیک غلام کہا ہے۔ صرف غلام کا ذکر نہیں کیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: For a faithful slave there are two rewards. By him in Whose hand is the life of Abu Hurairah (RA) , but for Jihad in the cause of Allah, and Pilgrimage and kindness to my mother, I would have preferred to die as a slave. He (one of the narrators in the chain of transmitters) said: This news reached us that Abu Hurairah (RA) did not perform Pilgrimage until his mother died for (keeping himself constantly) in her service.
غلام کے لئے اجر و ثواب کے ثبوت کے بیان میں جب اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرے
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ بَلَغَنَا وَمَا بَعْدَهُ
زہیر بن حرب، ابوصفوان اموی، یونس، ابن شہاب ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Tahir but with a slight variation of words.
غلام کے لئے اجر و ثواب کے ثبوت کے بیان میں جب اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرے
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدَّی الْعَبْدُ حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ کَانَ لَهُ أَجْرَانِ قَالَ فَحَدَّثْتُهَا کَعْبًا فَقَالَ کَعْبٌ لَيْسَ عَلَيْهِ حِسَابٌ وَلَا عَلَی مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب غلام اللہ کا حق اور اپنے مولیٰ کا حق ادا کرے تو اس کے لئے دو اجر ہوں گے راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث کعب سے بیان کی تو کعب نے فرمایا کہ اس غلام پر حساب ہے نہ اس مؤمن پر جو دنیا سے بےرغبتی رکھتا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When a slave fulfils obligation of Allah and obligation of his master, he has two rewards for him. I narrated this to Kab, and Kab said: (Such a slave) has no accountability, nor has a poor believer.
غلام کے لئے اجر و ثواب کے ثبوت کے بیان میں جب اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرے
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
زہیر بن حرب، جریر، اعمش ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے
The above hadith has been reported through another chain of transmitters on the authority of Abu Huraira.
غلام کے لئے اجر و ثواب کے ثبوت کے بیان میں جب اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے طریقے سے کرے
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعِمَّا لِلْمَمْلُوکِ أَنْ يُتَوَفَّی يُحْسِنُ عِبَادَةَ اللَّهِ وَصَحَابَةَ سَيِّدِهِ نِعِمَّا لَهُ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، حضرت ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے وہ فرماتے ہیں یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ ؓ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہیں ان میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ غلام کتنا ہی اچھا ہے جو اس حال میں فوت ہو کہ وہ اچھے طریقے سے اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اپنے مالک کی بھی اچھی طرح خدمت کرتا ہو وہ کیا ہی اچھا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is good for a slave that he worships Allah well, and serves his master (well). It is good for him.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَکَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ فَأَعْطَی شُرَکَائَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس غلام کی پوری پوری قیمت لگائی جائے گی پس وہ اپنے شرکاء کو ان کے حصہ کی قیمت دے دے اور وہ غلام اس کی طرف سے آزاد ہوگا۔ ورنہ اس غلام میں سے اتنا ہی آزاد ہوگیا جو اس نے (اپنا حصہ) آزاد کیا۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who gives up his share in a slave, and has enough money to pay the full price of the slave, then full emancipation devolves upon him; but if he has not the money, then he emancipated what he emancipated.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ مِنْ مَمْلُوکٍ فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ کُلُّهُ إِنْ کَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ
ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اس پر اس کو پوار پوار آزاد کرنا لازم ہے اگر اس کے پاس اس غلام کی قیمت کے برابر مال ہو اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس غلام میں سے آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who emancipates his share in the slave, it is his responsibility to secure full freedom for him provided he (the slave) has enough money to pay the (remaining) price, but if he has not so much money he would be emancipated to the extent that the first man emancipated.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَکَانَ لَهُ مِنْ الْمَالِ قَدْرُ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ
شیبان بن فروخ، جریر بن حازم، نافع مولیٰ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے غلام میں سے اپنے حصہ کو آزاد کیا اور اس کے پاس اس غلام کی قیمت کی مقدار مال ہو تو اس غلام کی قیمت پوری پوری قیمت لگائی جائے گی ورنہ اس سے اتنا ہی حصہ آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who gives up his share in a slave, and he has money enough to meet the full price, a fair price for him should be fixed; otherwise be has emancipated him to the extent that he has emancipated.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ وَيَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ فَإِنَّهُمَا ذَکَرَا هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَقَالَا لَا نَدْرِي أَهُوَ شَيْئٌ فِي الْحَدِيثِ أَوْ قَالَهُ نَافِعٌ مِنْ قِبَلِهِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، ابوربیع، ابوکامل، حماد ابن زید، زہیر بن حرب، اسماعیل یعنی ابن علیہ، ایوب، اسحاق بن منصور، عبدالرزاق، ابن جریج، اسماعیل بن امیہ، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ یعنی ابن زید، نافع، ابن عمر اسی حدیث کی مزید سات اسناد ذکر کی ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں ان کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔ ایوب اور یحییٰ بن سعید نے اپنی اپنی حدیث میں یہ حرف ذکر کیا ہے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ حدیث میں سے ہے یا نافع نے اپنے پاس سے کہا ہے اور لیث بن سعد کے علاوہ کسی کی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سنا۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ قُوِّمَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ لَا وَکْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ کَانَ مُوسِرًا
عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عمرو، حضرت سالم بن عبداللہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ایسے غلام کو آزاد کیا جو اس کے اور دوسرے آدمی کے درمیان مشترک تھا تو اس غلام کی درمیانی قیمت لگائی جائے گی نہ کم اور نہ زیادہ پھر اس پر اپنے مال میں سے آزاد کرنا لازم ہوگا اگر وہ مالدار ہو۔
Salim bin Abdullah reported on the authority of his father that Allahs Apostle ﷺ said: He who emancipates a slave (shared) by him and another one, his full price may be justly assessed from his wealth, neither less nor more, and he (the slave) would be emancipated if he (the partner) would be solvent enough (to forgo the amount of his share).
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا کَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی بھی اس کے مال میں سے ہی آزاد ہوگا جب اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے
Ibn Umar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who gives up his share in a slave, the remaining (share) will be paid out of his riches if his riches are enough to meet the price of the slave.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَمْلُوکِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا قَالَ يَضْمَنُ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، نضر بن انس، بشیر بن نہیک، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس غلام کے بارے میں ارشاد فرمایا جو دو آدمیوں کے درمیان ہو اور ان میں سے ایک آزاد کر دے تو دوسرا اس کا ضامن ہوگا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: In case the slave is owned by two persons, and one of them emancipates him, he will guarantee (his full freedom).
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوکٍ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِهِ
عبیداللہ بن معاذ، حضرت شعبہ سے روایت ہے کہ جس نے غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کیا تو باقی بھی اسی مال سے آزاد ہوگا۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters (and the words are): "He who emancipates a portion in a slave, he should (secure full) freedom for him from his property."
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ کَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، ابن ابی عروبہ، قتادہ، نضر بن انس، بشیربن نہیک، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے غلام میں اپنے حصے کو آزاد کیا تو اس کا پورا آزاد کرنا اسی کے مال میں سے ہوگا اگر اس کے پاس مال ہو اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو محنت طلب کی جائے گی مشقت ڈالے بغیر
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who emancipates his portion in a slave, full emancipation may be secured for him out of his property (if he has money) if he has enough property to meet (the required expenses), but if he has not enough property, the slave should be put to extra labour (in order to earn money for buying his freedom), but he should not be overburdened.