قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْکَرَنِي کَذَا وَکَذَا آيَةً کُنْتُ أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ کَذَا وَکَذَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام اپنے والد سے، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کو ایک آدمی کا قرآن مجید پڑھنا سنا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی کہ جسے میں فلاں سورت سے چھوڑ دیتا تھا۔
Aisha reported that the Apostle of Allah ﷺ heard a person reciting the Quran at night. Upon this he said: May Allah show mercy to him; he has reminded me of such and such a verse which I had missed in such and such a surah.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ قِرَائَةَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْکَرَنِي آيَةً کُنْتُ أُنْسِيتُهَا
ابن نمیر، عبدہ، ابومعاویہ، ہشام، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ مسجد میں ایک آدمی کا قرآن پڑھنا سنا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی جسے مجھے بھلا دیا گیا تھا۔
Aisha reported that the Apostle of Allah ﷺ listened to the recitation of the Quran by a man in the mosque. Thereupon he said: May Allah have mercy upon him; be reminded me of the verse which I had been made to forget.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ کَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَکَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن مجید پڑھنے والے کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے جو بندھا ہوا ہو کہ اگر اس کے مالک نے اس کا خیال رکھا ہو تو وہ رک جائے اور اگر اسے چھوڑ دے تو وہ چلا جائے۔
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The example of a man who has memorised the Quran is like that of a hobbled camel. If he remained vigilant, he would be able to retain it (with him), and if he loosened the hobbled camel it would escape.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ جَمِيعًا عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ وَإِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَکَرَهُ وَإِذَا لَمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید، یحیی، ح، ابوبکر ابن ابی شیہ، ابوخالد احمر، ح، ابن نمیر، عبیداللہ، ح، ابن ابی عمر، عبدالرزاق، معمر، ایوب، ح، قتیبہ بن سعید، یعقوب، ح، محمد بن اسحاق مسیبی، ابن عیاض، موسیٰ بن عقبہ، نافع، ابن عمر اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں اتنا زائد ہے کہ جب قرآن پڑھنے والا اسے رات دن پڑھتا رہے تو اسے یاد رہتا ہے اور جب اسے نہ پڑھے تو وہ اسے بھول جاتا ہے۔
This hadith has been narrated by Ibn Umar from the Apostle of Allah ﷺ , but in the hadith transmitted by Musa bin Uqba, this addition is made:" When one who had committed the Quran to memory (or who is familiar with it) gets up (for night prayer) and recites it night and day, it remains fresh in his mind, but if he does not get up (for prayer and thus does not recite it) he forgets it."
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ نَسِيتُ آيَةَ کَيْتَ وَکَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْکِرُوا الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ بِعُقُلِهَا
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ برا ہو اس کا تم میں سے جو کوئی یہ کہے کہ میں فلاں فلاں بھول گیا بلکہ وہ بھلا دیا گیا قرآن مجید کو یاد رکھو اور اس کا خیال رکھو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں میں سے ان چار پایوں سے زیادہ دوڑنے والا ہے جن کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: What a wretched person is he amongst them who says: I have forgotten such and such a verse. (He should instead of using this expression say): I have been made to forget it. Try to remember the Quran for it is more apt to escape from mens minds than a hobbled camel.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ نَسِيتُ آيَةَ کَيْتَ وَکَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ
ابن نمیر، ابومعاویہ، ح، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ قرآن مجید کا خیال رکھو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں میں سے ان چوپایوں سے زیادہ بھاگنے والا ہے جن کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہو اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت کو بہت بھول گیا بلکہ وہ یہ کہے کہ مجھے بھلا دیا گیا۔
Abdullah is reported to have said: Keep refreshing your knowledge of the sacred books (or always renew your knowledge of these sacred books) and sometimes he would mention the Quran for it is more apt to escape from mens minds than animals which are hobbled, and the Messenger of Allah ﷺ said: None of you should say: I forgot such and such a verse, but he has been made to forget.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ سُورَةَ کَيْتَ وَکَيْتَ أَوْ نَسِيتُ آيَةَ کَيْتَ وَکَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عبدہ ابن ابی لبابہ، شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی آدمی کے لئے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں سورت بھول گیا یا فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ یہ کہے کہ مجھے بھلا دیا گیا۔
Ibn Masud reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Wretched is the man who says: I forgot such and such a sura, or I forget such and such a verse, but he has been made to forget.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِابْنِ بَرَّادٍ
عبداللہ بن براد اشعری، ابوکریب، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، حضرت ابوموسی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید کا خیال رکھو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے یہ قرآن مجید اونٹ سے زیادہ بھاگنے والا ہے اپنے باندھنے سے۔
Abu Musa al-Ashari reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Keep refreshing your knowledge of the Quran, for I swear by Him in Whose Hand is the life of Mohammad that it is more liable to escape than camels which are hobbled.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْئٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو ایسے پیار اور محبت سے نہیں سنتا جتنا کہ وہ اس نبی کی آواز کو کہ جو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھے۔
Abu Hurairah (RA) reported this directly from the Messenger of Allah ﷺ : God has not listened to anything as He listens to a Prophet ﷺ reciting the Quran in a sweet voice.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ کَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ح، یونس، عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو، حضرت ابن شہاب کی سند کے ساتھ اس حدیث میں ہے کہ جس طرح اس نبی سے سنتا ہے کہ جو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھے۔
This hadith has been narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters with words:" As He listens to a Prophet ﷺ reciting the Quran in a sweet voice."
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْئٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ
بشر بن حکم، عبدالعزیز بن محمد، یزید بن الہاد، محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کسی چیز کو نہیں سنتا جس طرح کہ اس نبی کی آواز کو جو خوش الحانی اور بلند آواز سے پڑھے۔
Abu Hurairah (RA) is reported to have heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah does not listen to anything, (more approvingly) as He listens to a Prophet ﷺ reciting loudly the Quran in a sweet voice.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِکٍ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ ابْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَائً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعَ
ابن اخی ابن وہب، عبداللہ بن وہب، عمر وبن مالک وحیوہ بن شریح، ابن الہاد اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں آپ ﷺ نے سمع کا لفظ نہیں فرمایا۔
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters by Ibn al-Had except this that Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying and he did not say:" He heard it."
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا هِقْلٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْئٍ کَأَذَنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ
حکم بن موسی، ہقل، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر اتنا اجر عطا نہیں فرماتے جتنا کہ نبی کے خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے پر عطا فرماتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah has not heard anything (more pleasing) than listening to the Prophet ﷺ reciting the Quran in a sweet loud voice.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ أَيُّوبَ قَالَ فِي رِوَايَتِهِ کَإِذْنِهِ
یحییٰ بن ایو ب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، ابن جعفر، محمد بن عمرو، ابوسلمہ، ابوہریرہ اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters but with a slight modification of words.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَالِکٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوْ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ح، ابن نمیر، مغول، عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن قیس ؓ یا حضرت اشعری ؓ کو آل داؤد کی خوش الحانی سے حصہ عطا فرمایا گیا ہے۔
Buraida reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ had said: Abdullah bin Qais (RA) or al-Ashari has been gifted with a sweet melodious voice out of the voices of the family of David.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي مُوسَی لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا أَسْتَمِعُ لِقِرَائَتِکَ الْبَارِحَةَ لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
داؤد بن رشید، یحییٰ بن سعید، طلحہ بن ابی بردہ، حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوموسی ؓ سے فرمایا کہ اگر تم مجھے گزشتہ رات دیکھتے جب میں تمہارا قرآن مجید سن رہا تھا یقینا تمہیں آل داؤد کی خوش الحانی سے حصہ ملا ہے۔
Abu Burda narrated on the authority of Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ had said to Abu Musa (RA) : If you were to see me, as I was listening to your recitation (of the Quran) yester-night (you would have felt delighted). You are in fact endowed with a sweet voice like that of David himself.
نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَوَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ يَقُولُا قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرٍ لَهُ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَی رَاحِلَتِهِ فَرَجَّعَ فِي قِرَائَتِهِ قَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَجْتَمِعَ عَلَيَّ النَّاسُ لَحَکَيْتُ لَکُمْ قِرَائَتَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، وکیع، شعبہ، معاویہ بن قرہ، حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ فتح مکہ والے سال اپنی سواری پر سورت الفتح پڑھتے ہوئے جا رہے تھے اور آپ ﷺ اپنی قرأت کو دہراتے تھے معاویہ کہتے ہیں کہ مجھے لوگوں سے یہ ڈر نہ ہوتا کہ مجھے گھیر لیں گے تو میں آپ ﷺ کی قرأت بیان کرتا۔
Muawiyah bin Qurra reported Abdullah bin Mughaffal al-Muzani as saying: The Apostle of Allah ﷺ recited on his ride Surat al Fath during a journey in the year of the Conquest (of Makkah), and he repeated (the words) in his recitation. Muawiyah said: If I were not afraid that the people would crowd around me, I would have given a demonstration of (the Prophets) recitation before you.
نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ عَلَی نَاقَتِهِ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ قَالَ فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ وَرَجَّعَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا النَّاسُ لَأَخَذْتُ لَکُمْ بِذَلِکَ الَّذِي ذَکَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، معاویہ بن قرہ، حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر سورت الفتح پڑھتے ہوئے دیکھا، راوی نے کہا کہ حضرت ابن مغفل ؓ نے قرآن پڑھا اور اسے دہرایا معاویہ نے کہا کہ اگر مجھے لوگوں کا خدشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اسی طرح بیان کرتا جس طرح حضرت ابن مغفل ؓ نے نبی ﷺ سے ذکر کیا۔
Muawiyah bin Qurra is reported to have heard Abdullah bin Mughaffal as saying: I saw the Messenger of Allah ﷺ reciting Surah Fath on his camel on the day of the Conquest of Makkah. He (the narrator) said: Ibn Mughaffal recited it and repeated it. Muawiyah said: Had there been (no crowed of) people, I would have given a practical demonstration of that which Ibn Mughaffal had mentioned from the Apostle of Allah ﷺ .
نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا
حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ عَلَی رَاحِلَةٍ يَسِيرُ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadlth has been narrated by Khalid al-Harith with the same chain of transmitters (with these words:) (The Holy Prophet) was reciting Surat al-Fath as he was travelling on his mount.
قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْکَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ تِلْکَ السَّکِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابواسحاق، براء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سورت کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس ایک گھوڑا دو رسیوں سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک اس کو ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور وہ بادل اس کے گرد گھومنے لگا اور اس کے قریب ہونے لگا اور اس کا گھوڑا بدکنے لگا پھر جب صبح ہوئی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی وجہ سے نازل ہوا۔
Al-Bara reported that a person was reciting Surat al-Kahf and there was a horse tied with two ropes at his side, a cloud overshadowed him, and as it began to come nearer and nearer his horse began to take fright from it. He went and mentioned that to the Prophet ﷺ in the morning, and he (the Holy Prophet) said: That was tranquility which came down at the recitation of the Quran.