مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 7 · 267 hadiths · Page 14 of 14

1830Sahih Muslim

عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا عَمِلَتْ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ

ابن نمیر، سعد بن سعید، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو اعمال میں سب سے پسندیدہ ترین وہ عمل ہے کہ جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو اور حضرت عائشہ ؓ جب بھی کوئی عمل کرتی تھیں تو پھر اسے اپنے لئے لازم کرلیتی تھیں۔

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The acts most pleasing to Allah are those which are done continuously, even if they are small. and when Aisha did any act she did it continuously.

1831Sahih Muslim

عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا کَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَکَتْ بِهِ فَقَالَ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُکُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا کَسِلَ أَوْ فَتَرَ قَعَدَ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَلْيَقْعُدْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، زہیر بن حرب، اسماعیل، عبدالعزیز بن صہیب، انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور ایک رسی دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی دیکھی، آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ حضرت زینب ؓ کی ہے وہ نماز پڑھتی رہتی ہیں تو جب انہیں سستی ہوتی ہے یا وہ تھک جاتی ہیں تو اس رسی کو پکڑ لیتی ہیں آپ نے فرمایا اس کو کھول دو تم میں سے ہر ایک کو نماز اپنے تازہ دم ہونے کے وقت پڑھنی چاہیے پھر جب سستی یا تھکاوٹ ہوجائے تو وہ بیٹھ جائے اور زہیر کی حدیث میں ہے کہ اسے چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے۔

Anas reported that the Messenger of Allah ﷺ entered the mosque (and he found) a rope tied between the two pillars; so he said: What is this? They said: It is for Zainab. She prays and when she slackens or feels tired she holds it. Upon this he (the Holy Prophet) said: Untie it. Let one pray as long as one feels fresh but when one slackens or becomes tired one must stop it. (And in the hadith transmitted by Zuhair it is:" He should sit down." )

1832Sahih Muslim

عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

شیبان بن فروخ، عبدالوارث، عبدالعزیز، حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمائی۔

A hadith like this has been narrated from the Apostle of Allah ﷺ on the authority of Anas by another chain of transmitters.

1833Sahih Muslim

عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الْحَوْلَائَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ هَذِهِ الْحَوْلَائُ بِنْتُ تُوَيْتٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّی تَسْأَمُوا

حرملہ بن یحیی، محمد بن سلمہ مرادی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ؓ نے خبر دی کہ حولا بنت تویب بن حبیب بن اسد بن عبدالعزی ؓ ان کے پاس سے گزریں اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے پاس تشریف فرما تھے، میں نے عرض کیا کہ اس حولا بنت ثویب کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ وہ رات کو نہیں سوتیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کو نہیں سوتیں؟ تم اتنا عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتی ہو اللہ کی قسم اللہ ثواب عطا فرمانے سے نہیں تھکے گا، یہاں تک کہ تم تھک جاؤ گی۔

Urwa bin Zubair reported that Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , told him that (once) Haula bint Tuwait bin Habib bin Asad bin Abdul Uzzi passed by her (at the time) when the Messenger of Allah ﷺ was with her. I (Aisha) said: It Is Haula bint Tuwait and they say that she does not sleep at night. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: (Oh) she does not sleep at night! Choose an act which you are capable of doing (continuously). By Allah, Allah would not grow weary, but you will grow weary.

1834Sahih Muslim

عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ امْرَأَةٌ لَا تَنَامُ تُصَلِّي قَالَ عَلَيْکُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّی تَمَلُّوا وَکَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ہشام، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور ایک عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ عورت کون ہے؟ میں نے کہا یہ ایک ایسی عورت ہے جو سوتی نہیں ہے نماز پڑھتی رہتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم پر اتنا عمل لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتی ہو، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ ثواب عطا فرمانے سے نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم تھک جاتی ہو اور آپ ﷺ کو دین میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہی عمل تھا کہ جس پر دوام ہو اور ہمیشہ ہو اور ابواسامہ کی حدیث میں ہے کہ وہ عورت قبیلہ بنی اسد کی عورت تھی۔

Aisha said: The Messenger of Allah ﷺ came to me when a woman was sitting with me. He said: Who is she? I said: She is a woman who does not sleep but prays. He said: Do such acts which you are capable of doing. By Allah, Allah does not grow weary but you will grow weary. The religious act most pleasing to Him is one the doer of which does it continuously. (And in the hadith transmitted by Abu Usama [the words are]:" She was a woman from Banu Asad." )

1835Sahih Muslim

نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام بن عروہ۔ قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی آدمی کو اونگھ آجائے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند اس سے جاتی رہے، اس لئے کہ جب تم میں سے کسی کو نماز کی حالت میں اونگھ آتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے کی بجائے اپنے آپ ہی کو برا کہنے لگ جائے۔

Aisha reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When anyone amongst you dozes in prayer, he should sleep, till sleep is gone, for when one of you prays while dozing he does not know whether he may be asking pardon or vilifying himself.

1836Sahih Muslim

نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنْ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَی لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز کے لئے کھڑا ہو تو اس کی زبان قرآن مجید پڑھنے میں اٹک رہی ہو اور وہ نہ سمجھ رہا ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ لیٹ جائے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you gets up at night (for prayer) and his tongue falters in (the recitation) of the Quran, and he does not know what he is reciting, he should go to sleep.