مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 7 · 267 hadiths · Page 13 of 14

1810Sahih Muslim

نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ

شیبان بن فروخ، مہدی ابن میمون، عمران قصیر، قیس بن سعد، طاؤس، ابن عباس نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔

This hadith has been narrated by Ibn Abbas by another chain of transmitters and the words are nearly the same (as recorded in the above-mentioned hadith).

1811Sahih Muslim

نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْئٍ کَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَتْ کَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ وَمِيکَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَيْنَ عِبَادِکَ فِيمَا کَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنْ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ إِنَّکَ تَهْدِي مَنْ تَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

محمد بن مثنی، محمد بن حاتم، عبد بن حمید، ابومعن، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ نبی ﷺ جب رات کو اپنی نماز شروع فرماتے تو کس طرح شروع کرتے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جب بھی رات کو آپ ﷺ اپنی نماز شروع فرماتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! ظاہر اور باطن کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں مجھے سیدھا راستہ دکھا اور اے اللہ حق کی جن باتوں میں اختلاف ہوگیا ہے تو مجھے ان میں سیدھے راستے پر رکھ بیشک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔

Abdul Rahman bin Auf (RA) reported: I asked Aisha, the mother of the believers, (to tell me) the words with which the Apostle of Allah ﷺ commenced the prayer when he got up at night. She said: When he got up at night he would commence his prayer with these words: O Allah, Lord of Gabriel (علیہ السلام), and Michael, and Israfil, the Creator of the heavens and the earth, Who knowest the unseen and the seen; Thou decidest amongst Thy servants concerning their differences. Guide me with Thy permission in the divergent views (which the people) hold about Truth, for it is Thou Who guidest whom Thou wilt to the Straight Path.

1812Sahih Muslim

نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ قَالَ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيکَ لَهُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ وَالْخَيْرُ کُلُّهُ فِي يَدَيْکَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْکَ أَنَا بِکَ وَإِلَيْکَ تَبَارَکْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَيْکَ وَإِذَا رَکَعَ قَالَ اللَّهُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَکَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي وَإِذَا رَفَعَ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الْأَرْضِ وَمِلْئَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ وَإِذَا سَجَدَ قَالَ اللَّهُمَّ لَکَ سَجَدْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَکَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ ثُمَّ يَکُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

محمد بن ابی بکر مقدامی، یوسف ماجشون، عبدالرحمن اعرج، عبیداللہ بن ابی رافع، حضرت علی ؓ بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو فرماتے (وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيکَ لَهُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ ) میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک ٹھیک پیدا فرمایا اور میں شریک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں مسلمانوں میں سے ہوں اے اللہ تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے پس تو میرے گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخشنے والا نہیں ہے اور مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما تیرے سوا کوئی اچھے اخلاق کی ہدایت نہیں دے سکتا اور برے اخلاق مجھ سے دور فرما تیرے سوا مجھ سے کوئی برے اخلاق دور کرنے والا نہیں ہے میں حاضر ہوں اور فرمانبردار ہوں اور ساری بھلائیاں تیرے دست قدرت میں ہیں اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہے میں تیری طرف آتا ہوں تو برکت والا ہے اور تو بلند ہے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور جب آپ ﷺ رکوع میں جاتے تو فرماتے اے اللہ تیرے لئے میں نے رکوع کیا اور تجھی پر ایمان لایا اور میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں میرا کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میرے پٹھے سب تجھ سے ڈرتے ہیں اور جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ فرماتے اے اللہ اے ہمارے پروردگار تیرے ہی لئے ساری ایسی تعریفیں ہیں جس سے سارے آسمان بھر جائیں اور زمین بھر جائے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بھر جائے اور جو تو چاہے اس سے وہ بھر جائے اور جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو یہ فرماتے اے اللہ میں نے تیرے لئے سجدہ کیا اور تجھی پر ایمان لایا اور تیرا ہی فرمانبردار ہوں میرا چہرہ اس ذات کو سجدہ کر رہا ہے جس نے اسے پیدا کیا اور اس کی صورت بنائی اور اس کے کانوں اور اس کی آنکھوں کو تراش کر بنایا اللہ برکتوں والا ہے اور سب سے اچھا پیدا کرنے والا ہے۔ پھر آپ ﷺ آخر میں تشہد اور سلام کے درمیان یہ فرماتے اے اللہ میرے ان گناہوں کی مغفرت فرما جو میں نے پہلے کئے اور جو میں نے بعد میں کئے اور جو میں نے چھپ کر کئے اور جو میں نے ظاہر کئے اور جو میں نے زیادتی کی اور جن کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی مبعود نہیں ہے۔

Ali bin Abu Talib reported that when the Messenger of Allah ﷺ got up at night for prayer he would say: I turn my face in complete devotion to One Who is the Originator of the heaven and the earth and I am not of the polytheists. Verily my prayer, my sacrifice, my living and my dying are for Allah, the Lord of the worlds; There is no partner with Him and this is what I have been commanded (to profess and believe) and I am of the believers. O Allah, Thou art the King, there is no god but Thee, Thou art my Lord, and I am Thy bondman. I wronged myself and make a confession of my Sin. Forgive all my sins, for no one forgives the sins but Thee, and guide me in the best of conduct for none but Thee guideth anyone (in) good conduct. Remove sins from me, for none else but Thou can remove sins from me. Here I am at Thy service, and Grace is to Thee and the whole of good is in Thine hand, and one cannot get nearnest to Thee through evil. My (power as well as existence) is due to Thee (Thine grace) and I turn to Thee (for supplication). Thou art blessed and Thou art exalted. I seek forgiveness from Thee and turn to Thee in repentance: and when he would bow, he would say: O Allah, it is for Thee that I bowed. I affirm my faith in Thee and I submit to Thee, and submit humbly before Thee my hearing, my eyesight, my marrow, my bone, my sinew; and when he would raise his head, he would say: O Allah, our Lord, praise is due to Thee, (the praise) with which is filled the heavens and the earth, and with which is filled that (space) which exists between them, and filled with anything that Thou desireth afterward. And when he prostrated himself, he (the Holy Prophet) would say: O Allah, it is to Thee that I prostrate myself and it is in Thee that I affirm my faith, and I submit to Thee. My face is submitted before One Who created it, and shaped it, and opened his faculties of hearing and seeing. Blessed is Allah, the best of Creators; and he would then say between Tashahhud and the pronouncing of salutation: Forgive me of the earlier and later open and secret (sins) and that where I made transgression and that Thou knowest better than I. Thou art the First and the Last. There is no god, but Thee.

1813Sahih Muslim

نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں

حَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ الْأَعْرَجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ کَبَّرَ ثُمَّ قَالَ وَجَّهْتُ وَجْهِي وَقَالَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ وَقَالَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَقَالَ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ وَقَالَ وَإِذَا سَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ

زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، اسحاق بن ابراہیم، ابونضر، عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ، ماجشون بن ابی سلمہ اعرج سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع فرماتے تھے تو اَللَّهُ أَکْبَرُ کہتے تھے پھر فرماتے وَجَّهْتُ وَجْهِي اور فرماتے (وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ) اور جب آپ ﷺ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ وَقَالَ وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ ) اور جب آپ سلام پھیرتے تو فرماتے اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ حدیث کے آخر تک اور تشہد اور سلام کے درمیان کا ذکر نہیں فرمایا۔

Araj reported that when the Messenger of Allah ﷺ would start the prayer, he would pronounce takbir (Allah-o-Akbar) and then say: I turn my face (up to Thee), I am the first of the believers; and when he raised his head from ruku he said: Allah listened to him who praised Him; O our Lord, praise be to Thee; and he said: He shaped (man) and how fine is his shape? And he (the narrator) said: When he pronounced salutation he said: O Allah, forgive me my earlier (sins), to the end of the hadith; and he did not say it between the Tashahhud and salutation (as mentioned above).

1814Sahih Muslim

رات کی نماز میں لمبی قرأت کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْکَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ثُمَّ مَضَی فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَکْعَةٍ فَمَضَی فَقُلْتُ يَرْکَعُ بِهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَائَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَکَعَ فَجَعَلَ يَقُولُ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ فَکَانَ رُکُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَامَ طَوِيلًا قَرِيبًا مِمَّا رَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی فَکَانَ سُجُودُهُ قَرِيبًا مِنْ قِيَامِهِ قَالَ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ مِنْ الزِّيَادَةِ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، نمیر، سعد بن عبیدہ، مستورد بن احنف، صلہ بن زفر، حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے سورت البقرہ شروع فرما دی تو میں نے کہا کہ آپ ﷺ سو آیات پر رکوع فرمائیں گے پھر آپ ﷺ آگے چلے میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ اس سورت کو دو رکعتوں میں پوری فرمائیں گے پھر آگے چلے میں نے دل میں کہا کہ آپ ﷺ اس ایک پوری سورت پر رکوع فرمائیں گے پھر آپ ﷺ نے سورت نساء شروع فرما دی پوری سورت پڑھی پھر آپ ﷺ نے سورت آل عمران شروع فرما دی اس کو آپ ﷺ نے ترتیل اور خوبی کے ساتھ پڑھا جب آپ ﷺ اس آیت سے گزرتے کہ جس میں تسبیح ہوتی تو آپ ﷺ سُبْحَانَ اللَّهِ کہتے اور جب آپ ﷺ کسی ایسے سوال سے گزرتے تو آپ ﷺ سوال فرماتے اور جب آپ ﷺ تعوذ والی آیت پر سے گزرتے تو آپ ﷺ پناہ مانگتے پھر آپ ﷺ نے رکوع فرمایا اور (سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا رکوع بھی قیام کے برابر ہوگیا پھر آپ ﷺ نے ( سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہا پھر اس کے بعد رکوع کے برابر دیر تک لمبا قیام فرمایا پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ بھی آپ ﷺ کے قیام کے برابر لمبا تھا اور جریر کی حدیث میں اتنا زائد ہے کہ آپ ﷺ نے ( سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ) بھی کہا۔

Hudhaifa reported: I prayed with the Apostle of Allah ﷺ one night and he started reciting al-Baqarah. I thought that he would bow at the end of one hundred verses, but he proceeded on; I then thought that he would perhaps recite the whole (surah) in a rakah, but he proceeded and I thought he would perhaps bow on completing (this surah). He then started al-Nisa, and recited it; he then started Al-i-Imran and recited leisurely. And when he recited the verses which referred to the Glory of Allah, he glorified (by saying Subhan Allah-Glory to my Lord the Great), and when he recited the verses which tell (how the Lord) is to be begged, he (the Holy Prophet) would then beg (from Him), and when he recited the verses dealing with protection from the Lord, he sought (His) protection and would then bow and say: Glory be to my Mighty Lord; his bowing lasted about the same length of time as his standing (and then on returning to the standing posture after ruku) he would say: Allah listened to him who praised Him, and he would then stand about the same length of time as he had spent in bowing. He would then prostrate himself and say: Glory be to my Lord most High, and his prostration lasted nearly the same length of time as his standing. In the hadith transmitted by Jarir the words are:" He (the Holy Prophet) would say:" Allah listened to him who praised Him, our Lord, to Thee i the praise."

1815Sahih Muslim

رات کی نماز میں لمبی قرأت کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالَ حَتَّی هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْئٍ قَالَ قِيلَ وَمَا هَمَمْتَ بِهِ قَالَ هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی آپ ﷺ نے بہت لمبا قیام کیا یہاں تک کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کرلیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ تو نے کس کام کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا کہ میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپ ﷺ کو قیام میں چھوڑ دوں۔

Abdullah reported: I prayed with the Messenger of Allah ﷺ and he lengthened it till I entertained an evil thought. It was said to him what that thought was. He said: I thought that I should sit down and forsake him.

1816Sahih Muslim

رات کی نماز میں لمبی قرأت کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَاه إِسْمَعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

اسمعیل بن خلیل، سوید بن سعید، علی بن مسہر، اعمش سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Amash with the same chain of transmitters.

1817Sahih Muslim

رات کی نماز کی ترغیب کے بیان میں اگرچہ کم رکعتیں ہی ہوں۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّی أَصْبَحَ قَالَ ذَاکَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنَيْهِ أَوْ قَالَ فِي أُذُنِهِ

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق، عثمان، جریر منصور، ابو وائل، عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا کہ رات سویا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس آدمی کے دونوں کانوں میں شیطان پیشاب کرتا ہے یا آپ ﷺ نے فرمایا اس کے کان میں۔

Abdullah (b. Masud) reported that a mention was made of a man who slept the whole night till morning. He (the Holy Prophet) remarked: That is a man in whose ears (or in whose ear) the devil urinated.

1818Sahih Muslim

رات کی نماز کی ترغیب کے بیان میں اگرچہ کم رکعتیں ہی ہوں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ حَدَّثَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ فَقَالَ أَلَا تُصَلُّونَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَائَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِکَ ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَيَقُولُ وَکَانَ الْإِنْسَانُ أَکْثَرَ شَيْئٍ جَدَلًا

قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل، زہری، علی بن حسین، حضرت علی ؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ انہیں اور حضرت فاطمہ کو جگایا اور فرمایا کیا تم نماز نہیں پڑھتے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہماری جانیں تو اللہ کے قبضہ وقدرت میں ہیں وہ جب ہمیں اٹھانا چاہے ہمیں اٹھا دیتا ہے جس وقت میں نے آپ ﷺ سے یہ کہا تو رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے پھر میں نے آپ ﷺ سے جاتے ہوئے سنا اپنی رانوں پر ہاتھ مار رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ انسان بہت زیادہ جھگڑالو ہے۔

Husain bin Ali narrated on the authority of (his father) Ali bin Abu Talib that the Apostle of Allah ﷺ came one night to see him (Ali) and Fatimah (the daughter of the Holy Prophet) and said: Dont you observe (Tahajjud) prayer? I (Ali) said: Messenger of Allah, verily our souls are in the hands of Allah and when He wants to awaken us, He awakens us. The Messenger of Allah ﷺ went back when I said this to him. He was striking his hand on his thigh while returning, and I heard him say: Verily the man disputes with many things.

1819Sahih Muslim

رات کی نماز کی ترغیب کے بیان میں اگرچہ کم رکعتیں ہی ہوں۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَی قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِکُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ إِذَا نَامَ بِکُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْکَ لَيْلًا طَوِيلًا فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَکَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عَنْهُ عُقْدَتَانِ فَإِذَا صَلَّی انْحَلَّتْ الْعُقَدُ فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ کَسْلَانَ

عمرو ناقد، زہیر بن حرب، عمرو، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ان تک یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شیطان تم میں سے ہر ایک آدمی کی گردن پر جب وہ سوجاتا ہے تین گرہیں لگا دیتا ہے ہر ایک گرہ پر پھونک مارتا ہے کہ ابھی رات بڑی لمبی ہے تو جب کوئی بیدار ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور جب وضو کرتا ہے تو اس پر سے دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور جب وہ نماز پڑھ لیتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں پھر وہ صبح کو ہشاش بشاش خوش مزاج اٹھتا ہے ورنہ اس کی صبح نفس کی خباثت اور سستی کے ساتھ ہوتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) transmitted it from the Apostle of Allah ﷺ : When any one of you goes to sleep, the devil ties three knots at the back of his neck, sealing every knot with:" You have a long night, so sleep." So if one awakes and mentions Allah, a knot will be loosened; if he performs ablution two knots are loosened; and if he prays (all) knots will be loosened, and in the morning he will be active and in good spirits; otherwise we will be in bad spirits and sluggish in the morning.

1820Sahih Muslim

نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِکُمْ فِي بُيُوتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا

محمد بن مثنی، یحیی، عبیداللہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنی نمازوں کو اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔

Ibn Umar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Observe some of your prayers in your houses and do not make them graves.

1821Sahih Muslim

نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلُّوا فِي بُيُوتِکُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا

ابن مثنی، عبدالوہاب، ایوب، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں میں نفل نماز پڑھو اور گھروں کو قبرستان نہ بناؤ۔

Ibn Umar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Pray in your houses, and do not make them graves.

1822Sahih Muslim

نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَی أَحَدُکُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی اپنی مسجد میں اپنی نماز پوری کرلے تو اسے چاہیے کہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے رکھ لے کیونکہ اللہ اس کے گھر میں اس کی نمازوں کی برکت سے خیر فرما دے گا۔

Jabir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you observes prayer in the mosque he should reserve a part of his prayer for his house, for Allah would make the prayer as a means of betterment in his house.

1823Sahih Muslim

نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْبَيْتِ الَّذِي يُذْکَرُ اللَّهُ فِيهِ وَالْبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْکَرُ اللَّهُ فِيهِ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ

عبداللہ بن براد اشعری، محمد بن علاء، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، ابوموسی سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد نہیں کیا جاتا زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔

Abu Musa reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The house in which remembrance of Allah is made and the house in which Allah is not remembered are like the living and the dead.

1824Sahih Muslim

نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَکُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنْ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن، سہیل، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس گھر میں سورت البقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not make your houses as graveyards. Satan runs away from the house in which Surah Baqarah is recited.

1825Sahih Muslim

نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ احْتَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَيْرَةً بِخَصَفَةٍ أَوْ حَصِيرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيهَا قَالَ فَتَتَبَّعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ وَجَائُوا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ قَالَ ثُمَّ جَائُوا لَيْلَةً فَحَضَرُوا وَأَبْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ قَالَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ وَحَصَبُوا الْبَابَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ بِکُمْ صَنِيعُکُمْ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُکْتَبُ عَلَيْکُمْ فَعَلَيْکُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِکُمْ فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْئِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَکْتُوبَةَ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، عبداللہ بن سعید، سالم ابونضر، عمر بن عبیداللہ، بسر بن سعید، حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے پتوں یا چٹائی سے ایک حجرہ بنایا تو رسول اللہ ﷺ اس میں نماز پڑھنے کے لئے باہر تشریف لائے بہت سے آدمیوں نے آپ ﷺ کی اقتداء کی اور آپ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے پھر ایک رات سب لوگ آئے اور رسول اللہ ﷺ نے دیر فرمائی اور ان کی طرف آپ ﷺ باہر تشریف نہ لائے تو ان لوگوں نے اپنی آوازوں کو بلند کیا اور دروازے پر کنکریاں ماریں پھر رسول اللہ ﷺ ان کی طرف غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم اس طرح کرتے رہے تو میرا خیال ہے کہ یہ نماز تم پر فرض کردی جائے گی اور تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کی بہترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے۔

Zaid bin Thabit reported: The Messenger of Allah ﷺ made an apartment with the help of the leaves of date trees or of mats. The Messenger of Allah ﷺ went out to pray in it. People followed him and came to pray with him. Then they again came one night and waited (for him), but the Messenger of Allah ﷺ delayed in coming out to them. And when he did not come out, they cried aloud and threw pebbles at the door. The Messenger of Allah ﷺ came out in anger and said to them: By what you have been constantly doing, I was inclined to think that it (prayer) might not become obligatory for you. So you must observe prayer (optional) in your houses, for the prayer observed by a man in the house is better except an obligatory prayer.

1826Sahih Muslim

نفل نماز اپنے گھر میں پڑھنے کے استح اور مسجد میں جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّی اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِيهِ وَلَوْ کُتِبَ عَلَيْکُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ

محمد بن حاتم، بہز، وہیب، موسیٰ بن عقبہ، ابونضر، بسر بن سعید، زید بن ثابت سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مسجد میں ایک چٹائی سے ایک حجرہ بنایا تو رسول اللہ ﷺ نے اس حجرہ میں کئی راتیں نماز پڑھی یہاں تک کہ صحابہ کرام ؓ اکٹھے ہوگئے پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی اور اس میں یہ زائد ہے کہ اور اگر تم پر فرض کردی جاتی تو تم اسے قائم نہ رکھ سکتے۔

Zaid bin Thabit reported that the Apostle of Allah ﷺ made an apartment in the mosque of mats, and he observed in it prayers for many nights till people began to gather around him, and the rest of the hadith is the same but with this addition:" Had this (Nafl) prayer become obligatory for you, you would not be able to observe it."

1827Sahih Muslim

عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرٌ وَکَانَ يُحَجِّرُهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيُصَلِّي فِيهِ فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَبْسُطُهُ بِالنَّهَارِ فَثَابُوا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْکُمْ مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّی تَمَلُّوا وَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ وَکَانَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلُوا عَمَلًا أَثْبَتُوهُ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب، عبیداللہ بن سعید بن ابوسعید، ابوسلمہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چٹائی تھی اور آپ ﷺ رات کو اس کا ایک حجرہ سا بنا لیتے تھے پھر اس میں نماز پڑھتے تو صحابہ بھی آپ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے اور دن کو اس چٹائی کو بچھا لیتے ایک رات صحابہ کا ہجوم ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگوں تم پر اتنا عمل کرنا لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا جبکہ تم عمل کرنے سے تھک جاتے ہو اور اللہ کے نزدیک اعمال میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جس پر دوام ہو اور اگرچہ وہ عمل تھوڑا ہو اور آل محمد ﷺ کا بھی یہی معمول تھا کہ جب کوئی عمل کرتے تو اسے مستقل مزاجی سے کرتے۔ (یعنی ہمیشہ کرتے)

Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ had a mat and he used it for making an apartment during the night and observed prayer in it, and the people began to pray with him, and he spread it (the mat) during the day time. The people crowded round him one night. He (the Holy Prophet) then Eaid: O people, perform such acts as you are capable of doing, for Allah does not grow weary but you will get tired. The acts most pleasing to Allah are those which are done continuously, even if they are small. And it was the habit of the members of Muhammads ﷺ household that whenever they did an act they did it continuously.

1828Sahih Muslim

عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، سعد بن ابراہیم، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کونسا عمل ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔

Aisha is reported to have said that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the act most pleasing to Allah. He replied: That which is done continuously, even if it is small.

1829Sahih Muslim

عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ کَيْفَ کَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ کَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنْ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا کَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّکُمْ يَسْتَطِيعُ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابراہیم، علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ کے عمل کا طریقہ کیا تھا کیا دنوں میں کسی دن میں کوئی مخصوص عمل فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں! آپ ﷺ تو ہمیشہ عمل فرماتے تھے اور تم میں سے کون ایسی طاقت رکھتا ہے جس کی رسول اللہ ﷺ طاقت رکھتے تھے۔

Alqama reported: I asked Aisha, the mother of the believers, saying O mother of the believers, how did the Messenger of Allah ﷺ act? Did he choose a particular act for a particular day? She said: No. He act was continuous, and who amongst you is capable of doing what the Messenger of Allah ﷺ did?