نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ عَمَدَ إِلَی شَجْبٍ مِنْ مَائٍ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّأَ وَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ وَلَمْ يُهْرِقْ مِنْ الْمَائِ إِلَّا قَلِيلًا ثُمَّ حَرَّکَنِي فَقُمْتُ وَسَائِرُ الْحَدِيثِ نَحْوُ حَدِيثِ مَالِکٍ
محمد بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن وہب، عیاض بن عبداللہ فہری، مخرمہ بن سلیمان سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ پھر آپ ﷺ نے پانی کی ایک پرانی مشک سے پانی لیا پھر آپ ﷺ نے مسواک فرمائی پھر وضو فرمایا اور پانی زیادہ نہیں بلکہ کم بہایا پھر آپ ﷺ نے مجھے حرکت دی اور میں کھڑا ہوگیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
Makhrama bin Sulaiman narrated it with the same chain of narrators and he made this addition:" He then went to the water-skin and brushed his teeth and performed ablution as well. He did not pour water but a little. He then awakened me and I stood up," and the rest of the hadith is the same.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْکَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّی فِي تِلْکَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی نَفَخَ وَکَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُکَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ فَقَالَ حَدَّثَنِي کُرَيْبٌ بِذَلِکَ
ہارون بن سعید، ایلی، ابن وہب، عمرو، عبد ربہ بن سعید، مخرمہ بن سلیمان، کریب، ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ ؓ کے ہاں میں سویا اور رسول اللہ ﷺ اس رات حضرت میمونہ کے پاس تھے تو رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو میں آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں طرف کرلیا، آپ ﷺ نے اس رات میں تیرہ رکعتیں نماز پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ خر اٹے لینے لگے اور جب بھی سوتے تو خر اٹے لیتے تھے پھر آپ ﷺ کے پاس مؤذن آیا تو آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اگرچہ آپ ﷺ نے وضو نہیں فرمایا عمر نے کہا کہ میں نے اس حدیث کو بکیر بن اشج سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کریب نے ان سے اسی طرح بیان کیا ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported: I slept (one night) in the house of Maimuna, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , and the Apostle of Allah ﷺ was with her that night. He (after sleeping for half of the night got up and) then performed ablution and then stood up and observed prayer. I too stood on his left side. He took hold of me and made me stand on his right side. He (the Holy Prophet) observed thirteen rakahs on that night. The Messenger of Allah ﷺ then slept and snored and it was a habit with him to snore while sleeping. The Muadhdbin then came to him (to inform him about the prayer). He then went out and observed prayer without performing ablution. (Amr said: Bukair bin Ashajj had narrated it to me )
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ لَيْلَةً عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ فَقُلْتُ لَهَا إِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْقِظِينِي فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ الْأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ فَجَعَلْتُ إِذَا أَغْفَيْتُ يَأْخُذُ بِشَحْمَةِ أُذُنِي قَالَ فَصَلَّی إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ احْتَبَی حَتَّی إِنِّي لَأَسْمَعُ نَفَسَهُ رَاقِدًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، مخرمہ بن سلیمان، کریب مولیٰ ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ بنت حارث ؓ کے ہاں گزاری تو میں نے اپنی خالہ سے کہا کہ جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوں تو مجھے جگا دیں تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ ﷺ کے بائیں پہلو کی طرف کھڑا ہوگیا تو آپ نے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کردیا اور مجھے جب بھی اونگھ آنے لگتی تو آپ ﷺ میرے کان کی لو پکڑتے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے گیارہ رکعتیں پڑھی پھر آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی سوتے ہوئے آواز سنی پھر جب فجر ظاہر ہوگئی تو آپ ﷺ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں۔
Ibn Abbas reported: I spent one night in the house of my mothers sister Maimuna, daughter of Harith, and said to her: Awake me when the Messenger of Allah ﷺ stands to pray (at night). (She woke me up when) the Messenger of Allah ﷺ stood up for prayer. I stood on his left side. He took hold of my hand and made me stand on his right side, and whenever I dozed off he took hold of my earlobe (and made me alert). He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) observed eleven rakahs. He then sat with his legs drawn and wrapped in his garment and slept so that I could bear his breathing while asleep. And when the dawn appeared, he observed two short rakahs of (Sunnah) prayer.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئًا خَفِيفًا قَالَ وَصَفَ وُضُوئَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّی ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ
ابن ابی عمر، محمد بن حاتم، ابن عیینہ، سفیان، عمرو ابن دینار، کریب مولیٰ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے ہاں گزاری تو رسول اللہ ﷺ رات کو کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو فرمایا: حضرت ابن عباس ؓ اس ہلکے وضو کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا وضو ہلکا تھا اور آپ ﷺ نے پانی بھی کم استعمال فرمایا: ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں بھی کھڑا ہوا اور اسی طرح سے کیا جس طرح نبی ﷺ نے کیا اور میں آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے مجھے پیچھے کر کے اپنے دائیں طرف کھڑا کردیا اور نماز پڑھی پھر آپ ﷺ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ خر اٹے لینے لگے پھر حضرت بلال ؓ آپ ﷺ کے پاس آئے اور نماز کی اطلاع دی تو آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی حالانکہ آپ نے وضو نہیں فرمایا ( راوی) سفیان فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے لئے یہ خصوصیت ہے کیونکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی ہیں اور آپ کا قلب اطہر نہیں سوتا۔ (اس لئے وضو نہیں ٹوٹا )
Ibn Abbas reported that he spent a night in the house of his matenial aunt, Maimuna. The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) got up at night and performed short ablution (taking water) from the water-skin hanging there. (Giving a description of the ablution Ibn Abbas said: It was short and performed with a little water.) I also got up and did the same as the Apostle of Allah ﷺ had done. I then came (to him) and stood on his left. He then made me go around to his right side. He then observed prayer and went to sleep till he began to snore. Bilal (RA) came to him and informed him about the prayer. He (the Holy Prophet) then went out and observed the dawn prayer without performing ablution. Sufyan said: It was a special (prerogative of the) Apostle of Allah ﷺ for it has been conveyed to us that the eyes of the Apostle of Allah ﷺ sleep, but his heart does not sleep.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبَقَيْتُ کَيْفَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ فَبَالَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَکَفَّيْهِ ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ إِلَی الْقِرْبَةِ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ صَبَّ فِي الْجَفْنَةِ أَوْ الْقَصْعَةِ فَأَکَبَّهُ بِيَدِهِ عَلَيْهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئًا حَسَنًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجِئْتُ فَقُمْتُ إِلَی جَنْبِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ فَأَخَذَنِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَکَامَلَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ نَامَ حَتَّی نَفَخَ وَکُنَّا نَعْرِفُهُ إِذَا نَامَ بِنَفْخِهِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ فَصَلَّی فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ أَوْ فِي سُجُودِهِ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سلمہ، کریب، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے گھر میں ایک رات گزاری تو میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی کیفیت کو دیکھنے کے لئے جا گتا رہا کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور پیشاب فرمایا پھر آپ ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک اور ہاتھوں کو دھویا پھر آپ ﷺ کھڑے ہو کر مشکیزے کی طرف گئے آپ ﷺ نے اس کا منہ کھولا اور اس کا پانی ایک بڑے گیلن یا ایک بڑے پیالے میں ڈالا پھر آپ ﷺ نے اس برتن کو اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر جھکایا پھر آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور بہت اچھے طریقے سے وضو فرمایا یا درمیانہ وضو، پھر آپ ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آیا اور آپ ﷺ کے بائیں پہلو کی طرف کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے تیرہ رکعتیں نماز مکمل پڑھیں پھر آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ خر اٹے لینے لگے ہم پہچانتے تھے کہ آپ ﷺ جب سوتے تو خر اٹے لیتے ہیں پھر آپ ﷺ نماز کے لئے باہر تشریف لائے اور اپنی نمازوں اور اپنے سجدوں میں دعا مانگتے ہوئے یہ فرماتے ( اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَأَمَامِي نُورًا وَخَلْفِي نُورًا وَفَوْقِي نُورًا وَتَحْتِي نُورًا وَاجْعَلْ لِي نُورًا أَوْ قَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا) اے اللہ میرے دل کو روشن اور میرے کانوں میں روشنی اور میری آنکھوں میں نور اور میرے دائیں کو روشن اور میرے بائیں کو روشن میرے آگے پیچھے اوپر نیچے کو روشن فرما اور مجھے روشن فرمایا آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سر سے پاؤں تک روشن فرما۔
Ibn Abbas said: I spent the night in the house of my mothers sister, Maimuna, and observed how the Messenger of Allah ﷺ prayed (at night). He got up and relieved himself. He then washed his face and hands and then went to sleep. He again got up and went near the water-skin and loosened its straps and then poured some water in a bowl and inclined it with his hands (towards himself). He then performed a good ablution between the two extremes and then stood up to pray. I also came and stood by his left side. He took hold of me and made me stand on his right side. It was in thirteen rakahs that the (night) prayer of the Messenger of Allah ﷺ was completed. He then slept till he began to snore, and we knew that he had gone to sleep by his snoring. He then went out (for the dawn prayer) and then again slept, and said while praying or prostrating himself:" O Allah! place light in my heart, light in my hearing, light in my sight, light on my right, light on my left, light in front of me, light behind me, light above me, light below me, make light for me," or he said:" Make me light."
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ کُهَيْلٍ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَلَمَةُ فَلَقِيتُ کُرَيْبًا فَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کُنْتُ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَقَالَ وَاجْعَلْنِي نُورًا وَلَمْ يَشُکَّ
اسحاق بن منصور، نضر بن شمیل، شعبہ، سلمہ بن کہیل، بکیر، کریب، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کریب ؓ سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس کو فرماتے سنا کہ میں اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے ہاں تھا تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی غندر راوی کہتے ہیں کہ بغیر کسی شک کے آپ ﷺ نے دعا فرمائی ( وَاجْعَلْنِي نُورًا) اے اللہ مجھے روشن کر دے۔
Salama said: I met Kuraib and he reported Ibn Abbas as saying: I was with my mothers sister Maimuna that the Messenger of Allah ﷺ came there, and then he narrated the rest of the hadith as was narrated by Ghundar and said these words:" Make me light," beyond any doubt.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْکُرْ غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَتَی الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ ثُمَّ أَتَی فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَی فَأَتَی الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئًا هُوَ الْوُضُوئُ وَقَالَ أَعْظِمْ لِي نُورًا وَلَمْ يَذْکُرْ وَاجْعَلْنِي نُورًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ہناد بن سری، ابوالاحوص، سعید بن مسروق، سلمہ بن کہیل، ابی رشدین مولیٰ ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے ہاں گزاری اور آگے اسی طرح حدیث بیان کی لیکن اس حدیث میں منہ اور ہاتھ دھونے کا ذکر نہیں ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ پھر آپ ﷺ مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا منہ کھولا اور دو وضوؤں کے درمیان والا وضو فرمایا پھر آپ ﷺ اپنے بستر پر آکر سو گئے پھر آپ ﷺ دوسری مرتبہ اٹھ کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا منہ کھولا پھر آپ ﷺ نے وضو فرمایا کہ وہ ہی وضو تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ مجھے عظیم روشنی فرما ( وَاجْعَلْنِي نُورًا) کا ذکر نہیں کیا۔
Ibn Abbas reported: I spent a night in the house of my mothers sister, Maimuna, and then narrated (the rest of the) hadith, but he made no mention of the washing of his face and two hands but he only said: He then came to the water-skin and loosened its straps and performed ablution between the two extremes, and then came to his bed and slept. He then got up for the second time and came to the waterskin and loosened its straps and then performed ablution which was in fact an ablution (it was performed well), and implored (the Lord) thus:" Give me abundant light," and he made no mention of:" Make me light."
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلْمَانَ الْحَجْرِيِّ عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ کُهَيْلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ کُرَيْبًا حَدَّثَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ بَاتَ لَيْلَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْقِرْبَةِ فَسَکَبَ مِنْهَا فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يُکْثِرْ مِنْ الْمَائِ وَلَمْ يُقَصِّرْ فِي الْوُضُوئِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ تِسْعَ عَشْرَةَ کَلِمَةً قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنِيهَا کُرَيْبٌ فَحَفِظْتُ مِنْهَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ وَنَسِيتُ مَا بَقِيَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَفِي سَمْعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَمِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا وَعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ شِمَالِي نُورًا وَمِنْ بَيْنِ يَدَيَّ نُورًا وَمِنْ خَلْفِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا وَأَعْظِمْ لِي نُورًا
ابوطاہر، ابن وہب، عبدالرحمن بن سلمان، عقیل بن خالد سے روایت ہے کہ حضرت سلمہ بن کہیل ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ایک رات رسول اللہ کے ہاں گزاری وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے اس سے پانی بہایا اور وضو فرمایا اور پانی زیادہ استعمال نہیں فرمایا اور نہ ہی آپ ﷺ نے وضو میں کمی فرمائی اور آگے حدیث اسی طرح سے ہے اور اس حدیث میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس رات میں انیس کلموں سے دعا فرمائی، سلمہ کہتے ہیں کہ کریب نے مجھے وہ کلمات بیان کئے ہیں مجھے ان میں سے بارہ کلمات یاد ہیں اور باقی کلمات میں بھول گیا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ میرے دل میں نور فرما اور میری زبان کو روشن کر اور میرے کانوں کو روشن کر اور میری آنکھوں کو روشن کر اور میرے اوپر روشنی کر اور میرے نیچے روشنی کر اور میرے دائیں روشنی کر اور میرے بائیں روشنی کر اور میرے آگے روشنی کر اور میرے پیچھے روشنی کر اور میرے نفس کو روشن کر اور میرے لئے بڑی روشنی فرما۔
Kuraib reported that Ibn Abbas spent a night in the house of the Messenger of Allah ﷺ and he said: The Messenger of Allah ﷺ may peace be upon him) stood near the water-skin and poured water out of that and performed ablution in which he neither used excess of water nor too little of it, and the rest of the hadith is the same, and in this mention is also made (of the fact) that on that night the Messenger of Allah ﷺ made supplication before Allah in nineteen words. Kuraib reported: I remember twelve words out of these, but have forgotten the rest. The Messenger of Allah ﷺ said:" Place light in my heart, light in my tongue, light in my hearing, light in my sight, light above me, light below me, light on my right, light on my left, light in front of me, light behind me, place light in my soul, and make light abundant for me."
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيکُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ رَقَدْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ لَيْلَةَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا لِأَنْظُرَ کَيْفَ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَ فَتَحَدَّثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَهْلِهِ سَاعَةً ثُمَّ رَقَدَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ قَامَ فَتَوَضَّأَ وَاسْتَنَّ
ابوبکر بن اسحاق، ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، شریک بن ابی نمر، کریب، ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے حضرت میمونہ ؓ کے پاس گزاری جس رات کہ نبی ﷺ میمونہ ؓ کے پاس تھے تاکہ میں نبی ﷺ کی رات کی نماز کی کیفیت کو دیکھ سکوں، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے رات کو کچھ وقت اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ باتیں فرمائیں پھر آپ ﷺ سو گئے اور آگے اسی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں ہے کہ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور مسواک استعمال فرمائی۔
Ibn Abbas reported: I slept one night in the house of Maimuna when the Apostle of Allah ﷺ was there, with a view to seeing the prayer of the Apostle of Allah ﷺ at night. The Apostle of Allah ﷺ entered into conversation with his wife for a short while, and then went to sleep, and the rest of the hadith is the same and in it mention is made of:" He then got up, performed ablution and brushed his teeth."
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَيْقَظَ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّأَ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ فَقَرَأَ هَؤُلَائِ الْآيَاتِ حَتَّی خَتَمَ السُّورَةَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ فَأَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ وَالرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَکَعَاتٍ کُلَّ ذَلِکَ يَسْتَاکُ وَيَتَوَضَّأُ وَيَقْرَأُ هَؤُلَائِ الْآيَاتِ ثُمَّ أَوْتَرَ بِثَلَاثٍ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي لِسَانِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا وَمِنْ أَمَامِي نُورًا وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا وَمِنْ تَحْتِي نُورًا اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا
واصل بن عبدالاعلی، محمد بن فضیل، حصین بن عبدالرحمن، حبیب بن ابی ثابت، محمد بن علی بن ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ہاں گزاری تو آپ ﷺ بیدار ہوئے اور آپ ﷺ نے مسواک فرمائی اور وضو فرمایا اور یہ فرما رہے تھے ( إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ) بیشک آسمانوں اور زمین کے بیدا کرنے میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں، آپ ﷺ نے یہ آیات پڑھیں یہاں تک کہ سورت آل عمران ختم ہوگئی پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی اور ان میں قیام اور رکوع اور سجدوں کو لمبا فرمایا پھر آپ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ خر اٹے لینے لگے پھر آپ نے تین مرتبہ اسی طرح کر کے چھ رکعتیں پڑھیں ہر مرتبہ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور یہی آیات پڑھتے پھر آپ ﷺ نے تین رکعات نماز وتر پڑھی پھر مؤذن نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نماز کے لئے یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لائے اے اللہ میرے دل میں نور اور میری زبان میں نور اور میرے کانوں میں اور میری آنکھوں کو روشن اور میرے پیچھے اور میرے آگے اور میرے اوپر اور میرے نیچے روشن فرما اے اللہ مجھے روشنی سے نواز دے۔
Abdullah bin Abbas reported: He spent (one night) in the house of the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) got up, brushed his teeth and performed ablution and said:" In the creation of the heavens and the earth, and the alternation of the night and the day, there are indeed signs for people of understanding" (al-Quran, iii. 190), to the end of the Surah. He then stood up and prayed two rakahs, standing, bowing and prostrating himself at length in them. Then he finished, went to sleep and snored. He did that three times, six rakahs altogether, each time cleaning his teeth, performing ablution, and reciting these verses. Then he observed three rakahs of Witr. The Muadhdhin then pronounced the Adhan and he went out for prayer and was saying,:" O Allah I place light in my heart, light in my tongue, place light in my hearing, place light in my eyesight, place light behind me, and light in front of me, and place light above me, and light below me. O Allah! grant me light."
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ ذَاتَ لَيْلَةٍ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا مِنْ اللَّيْلِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْقِرْبَةِ فَتَوَضَّأَ فَقَامَ فَصَلَّی فَقُمْتُ لَمَّا رَأَيْتُهُ صَنَعَ ذَلِکَ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ الْقِرْبَةِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَی شِقِّهِ الْأَيْسَرِ فَأَخَذَ بِيَدِي مِنْ وَرَائِ ظَهْرِهِ يَعْدِلُنِي کَذَلِکَ مِنْ وَرَائِ ظَهْرِهِ إِلَی الشِّقِّ الْأَيْمَنِ قُلْتُ أَفِي التَّطَوُّعِ کَانَ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عطاء، ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے ہاں گزاری تو نبی ﷺ رات کو نفل پڑھنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو نبی ﷺ ایک مشکیزے کی طرف کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو میں بھی کھڑا ہوگیا اور میں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح میں نے آپ ﷺ کو کرتے دیکھا اور مشکیزے سے میں نے وضو کیا اور میں آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے میری پشت کے پیچھے سے دائیں طرف کھڑا کردیا میں نے کہا کہ کیا یہ کام نفل میں کیا تھا تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جی ہاں۔
Ibn Abbas (RA) reported: I spent a night in the house of my mothers sister Maimuna. The Apostle of Allah ﷺ got up for observing voluntary prayer (Tahajjud) at night. The Apostle of Allah ﷺ stood by the water-skin and performed ablution and then stood up and prayed. I also got up when I saw him doing that. I also performed ablution from the water-skin and then stood at his left side. He took hold of my hand from behind his back and then turned me from his back to his right side. I (Ata, one of the narrators) said: Did it concern the voluntary prayer (at night)? He (Ibn Abbas) said: Yes.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَبِتُّ مَعَهُ تِلْکَ اللَّيْلَةَ فَقَامَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَتَنَاوَلَنِي مِنْ خَلْفِ ظَهْرِهِ فَجَعَلَنِي عَلَی يَمِينِهِ
ہارون بن عبداللہ، محمد بن رافع، وہب بن جریر، قیس بن سعد، عطاء، ابن عباس فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عباس ؓ نے نبی ﷺ کی طرف بھیجا اور آپ ﷺ میری خالہ حضرت میمونہ ؓ کے گھر میں تھے تو میں نے ان کے ساتھ وہ رات گزاری تو آپ ﷺ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کردیا۔
Ibn Abbas reported: (My father) Abbas sent me to the Apostle of Allah ﷺ and he was in the house of my mothers sister Maimuna and spent that night along with him. He (the Holy Prophet) got up and prayed at night, and I stood up on his left side. He caught hold of me from behind his back and made me stand on his right side.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ
ابن نمیر، عبدالملک، عطاء ابن عباس ؓ سے یہ حدیث اسی طرح اس سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔
Ibn Abbas reported: I spent a night in the house of my mothers sister Maimuna, and the rest of the hadith is the same as narrated above.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، ابوجمرۃ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تیرہ رکعات نماز پڑھا کرتے تھے۔
Abu Jamra reported: I heard Ibn Abbas saying that the Messenger of Allah ﷺ observed thirteen rakahs at night.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِکَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن ابی بکر، عبداللہ بن قیس بن مخرمہ، حضرت زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں آج کی رات رسول اللہ ﷺ کی نماز کو دیکھوں گا تو آپ ﷺ نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں پھر دو لمبی رکعتیں پڑھیں دو لمبی لمبی، دو لمبی سے لمبی، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں اور یہ دونوں پہلی دونوں پڑھی گئی سے کم پڑھیں پھر اس سے کم اور پھر اس سے کم دو رکعات پڑھیں پھر اس سے کم دو رکعات پڑھیں پھر آپ ﷺ نے تین وتر پڑھے تو یہ تیرہ رکعتیں ہوگئیں۔
Zaid b Khalid al-Juhani said: I would definitely watch at night the prayer observed by the Messenger of Allah ﷺ . He prayed two short rakahs, then two long, long, long rakahs, then he prayed two rakahs which were shorter than the two preceding rakahs, then he prayed two rakahs which were shorter than the two preceding, then he prayed two rakahs which were shorter than the two preceding, then observed a single one (Witr), making a total of thirteen rakahs
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَی مَشْرَعَةٍ فَقَالَ أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَشْرَعْتُ قَالَ ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوئًا قَالَ فَجَائَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ
حجاج بن شاعر، محمد بن جعفر مدائنی، ابوجعفر، ورقاء، محمد بن منکدر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو ہم ایک گھاٹی کی طرف اترے، آپ ﷺ نے فرمایا اے جابر! کیا تو پار نہیں اترتا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ اترے اور میں بھی اترا پھر آپ ﷺ قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میں نے آپ ﷺ کے لئے وضو کا پانی رکھا آپ ﷺ آئے اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے ایک ہی کپڑا دونوں سمتوں کی طرف اس کے کنارے اوڑھے ہوئے آپ ﷺ نے نماز پڑھی تو میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور آپ ﷺ نے میرے کان کو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں طرف کردیا۔
Jabir bin Abdullah reported: I accompanied the Messenger of Allah ﷺ in a journey and we reached a watering place. He said: Jabir, are you going to enter it? I said: Yes. The Messenger of Allah ﷺ then got down and I entered it. He (the Holy Prophet) then went away to relieve himself and I placed for him water for ablution. He then came back and performed ablution, and then stood and prayed in one garment, having its ends tied from the opposite sides. I stood. behind him and he caught hold of my ear and made me stand on his right side.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو حُرَّةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ لِيُصَلِّيَ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم، ابوحرہ، حسن، سعد بن ہشام، عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ اپنی نماز کو دو ہلکی رکعتوں سے شروع فرماتے۔
Aisha reported that when the Messenger of Allah ﷺ stood up at night to pray, he began his prayer with two short rakahs.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنْ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ہشام، محمد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی رات کو کھڑا ہو تو اسے چاہئے کہ کہ وہ اپنی نماز کو دو ہلکی رکعتوں سے شروع کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying When any one of you gets up at night, he should begin the prayer with two short rakahs.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَيْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَيْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابوزبیر، طاؤس، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب آدھی رات کو نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے۔ اے اللہ! ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اور ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے۔ اور ساری تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور وہ چیزیں کہ جو ان آسمانوں اور زمین میں ہیں، تو حق ہے اور تیرا وعدہ برحق ہے اور تیرا فرمان حق ہے اور تجھ سے ملاقات حق ہے اور جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے اور قیامت حق ہے اے اللہ میں تیرا ہی فرمانبردار ہوں اور تجھی پر ایمان لایا ہوں اور تجھی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور میں تیری ہی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور میں تیری خاطر اوروں سے جھگڑتا ہوں اور تجھ ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں پس تو میرے اگلے پچھلے اور باطنی اور ظاہری گناہ بخش دے تو ہی میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported that when the Messenger of Allah ﷺ got up during the night to pray, he used to say: O Allah, to Thee be the praise Thou art the light of the heavens and the earth. To Thee be the praise; Thou art the Supporter of the heavens and the earth. To Thee be the praise; Thou art the Lord of the heavens and the earth and whatever is therein. Thou art the Truth; Thy promise is True, the meeting with Thee is True. Paradise is true, Hell is true, the Hour is true. O Allah, I submit to Thee; affirm my faith in Thee; repose my trust in Thee, and I return to Thee for repentance; by Thy help I have disputed; and to Thee I have come for decision, so forgive me my earlier and later sins, the sins that I committed in secret and openly. Thou art my God. There is no god but Thee.
نبی ﷺ کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِکٍ لَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي حَرْفَيْنِ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ مَکَانَ قَيَّامُ قَيِّمُ وَقَالَ وَمَا أَسْرَرْتُ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَيُخَالِفُ مَالِکًا وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ
عمرو ناقد، ابن نمیر، ابن ابی عمر، سفیان، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، سلیمان احول، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا: باقی ابن جریج کی حدیث کے الفاظ مالک کی حدیث کے ساتھ متفق ہیں اور کوئی اختلاف نہیں سوائے دو حرفوں کے ابن جریج نے قیام کی جگہ قیم کا لفظ استعمال کیا اور مَا أَسْرَرْتُ کا لفظ کہا اور باقی ابن عیینہ کی حدیث میں کچھ باتیں زائد ہیں اور مالک اور ابن جریج کی روایت سے کچھ باتوں میں مختلف ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abbas through another chain of transmitters and with slight alteration of two words. Instead of the word Qayyam (Supporter, as used in the above hadith here the word) Qayyim (the Custodian) has been used, and he (further said):" What I did in secret." And in the hadith narrated by Ibn Uyaina there is some addition.