وضو کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 3 · 144 hadiths · Page 1 of 8

534Sahih Muslim

وضو کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی أَنَّ زَيْدًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالصَّلَاةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَائٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَکَ أَوْ عَلَيْکَ کُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا

اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، ابان، یحیی، ابوسلام، حضرت ابومالک اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طہارت نصف ایمان کے برابر ہے اور اَلْحَمْدُ لِلَّهِ میزان (عدل) کو بھر دے گا اور سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ سے زمین و آسمان کی درمیانی فضا بھر جائے گی اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیرے لئے حجت ہوگا یا تیرے خلاف ہوگا ہر شخص صبح کو اٹھتا ہے اپنے نفس کو فروخت کرنے والا ہے یا اس کو آزاد کرنے والا ہے۔

Abu Malik at-Ashari reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Cleanliness is half of faith and al-Hamdu Lillah (Praise be to Allah) fills the scale, and Subhan Allah (Glory be to Allah) and al-Hamdu Lillah (Praise be to Allah) fill up what is between the heavens and the earth, and prayer is a light, and charity is proof (of ones faith) and endurance is a brightness and the Holy Quran is a proof on your behalf or against you. All men go out early in the morning and sell themselves, thereby setting themselves free or destroying themselves.

535Sahih Muslim

نماز کے لئے طہارت کے ضروری ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَی ابْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ وَکُنْتَ عَلَی الْبَصْرَةِ

سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوکامل، سعید، ابوعوانہ، سماک بن حرب، مصعب بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ابن عامر (جو کہ بیمار تھے) ان کی عیادت کے لئے آئے ابن عامر نے کہا اے ابن عمر کیا تم اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نماز بغیر طہارت کے قبول نہیں ہوتی اور صدقہ نہیں قبول کیا جاتا اس مال غنیمت میں سے جو تقسیم سے پہلے اڑا لیا جائے اور تم بصرہ کے حاکم ہوچکے ہو۔

Musab bin Sad reported: Abdullah son of Umar came to IbnAmir in order to inquire after his health as he was ailing. He said Ibn Umar, why dont you pray to Allah for me? He said: I heard of Allahs Messenger ﷺ say: Neither the prayer is accepted without purification nor is charity accepted out of the ill-gotten (wealth), and thou wert the (governor) of Basrah.

536Sahih Muslim

نماز کے لئے طہارت کے ضروری ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ ح قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَوَکِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ کُلُّهُمْ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، ابوبکر، وکیع، حضرت سماک بن حرب نبی اکرم ﷺ سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔

A hadith like this is narrated from the Apostle ﷺ with the same chain of transmitters by Muhammad bin Muthanna, Ibn Bashshar, Muhammad bin Jafar,Shubah.

537Sahih Muslim

نماز کے لئے طہارت کے ضروری ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ أَحَدِکُمْ إِذَا أَحْدَثَ حَتَّی يَتَوَضَّأَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق بن ہمام، معمر بن راشد، ہمام بن منبہ سے روایت ہے کہ انہوں نے چند وہ احادیث ذکر کیں جو ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیں ان میں سے بعض احادیث کو ذکر کیا ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں کی جاتی جب وہ بےوضو ہوجائے یہاں تک کہ وہ وضو کرلے۔

Hammam bin Munabbih who is the brother of Wahb bin Munabbih. said: This is what has been transmitted to us by Abu Hurairah (RA) from Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ and then narrated a hadith out of them and observed that the Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of none amongst you would be accepted in a state of impurity till he performs ablution.

538Sahih Muslim

طریقہ وضو اور اس کو پورا کرنے کا بیان

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عَطَائَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَی إِلَی الْمِرْفَقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَی مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَی إِلَی الْکَعْبَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ الْيُسْرَی مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَکَانَ عُلَمَاؤُنَا يَقُولُونَ هَذَا الْوُضُوئُ أَسْبَغُ مَا يَتَوَضَّأُ بِهِ أَحَدٌ لِلصَّلَاةِ

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن عبداللہ بن عمرو بن سرح، حرملہ بن یحییٰ تجیبی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، حمران سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان ؓ نے وضو کا پانی طلب فرمایا اور وضو کیا پس اپنی دونوں ہتھیلیوں کو تین بار دھویا پھر کلی کی اور ناک صاف کیا پھر اپنے چہرہ کو تین بار دھویا پھر اپنے دائیں ہاتھ کو تین بار کہنی تک دھویا پھر بائیں ہاتھ کو کہنی تک تین بار دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دائیں پاؤں کو ٹخنوں تک تین بار دھویا پھر اسی طرح بائیں پاؤں کو دھویا پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے وضو فرمایا میرے اس وضو کی طرح، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا پھر کھڑا ہوا اور دو رکعتیں پڑھیں اس طرح کہ ان میں اپنے دل کی باتیں نہ کرے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ ابن شہاب نے کہا کہ ہمارے علما کہتے ہیں کہ یہ وضو نماز کے لئے سب سے کامل ترین وضو ہے۔

Humran, the freed slave of Uthman, said: Uthman bin Affan called for ablution water and this is how he performed the ablution. He washed his hands thrice. He then rinsed his mouth and cleaned his nose with water (three times). He then washed his face three times, then washed his right arm up to the elbow three times, then washed his left arm like that, then wiped his head; then washed his right foot up to the ankle three times, then washed his left foot like that, and then said: I saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution like this ablution of mine. Then the Messenger of Allah ﷺ said: He who performs ablution like this ablution of mine and then stood up (for prayer) and offered two rakahs of prayer without allowing his thoughts to be distracted, all his previous sins are expiated. Ibn Shihab said: Our scholars remarked: This is the most complete of the ablutions performed for prayer.

539Sahih Muslim

طریقہ وضو اور اس کو پورا کرنے کا بیان

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ أَنَّهُ رَأَی عُثْمَانَ دَعَا بِإِنَائٍ فَأَفْرَغَ عَلَی کَفَّيْهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَائِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَدَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، حمران، عثمان سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میرے سامنے حضرت عثمان نے ایک برتن پانی کا طلب فرمایا پس انہوں نے دونوں ہاتھوں پر تین بارپانی ڈال کر دھویا پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈال کر کلی کی اور ناک صاف کیا پھر اپنے چہرے کو تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک تین بار دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پاؤں کو تین، تین بار دھویا۔ پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا۔ پھر دو رکعتیں ادا کیں اس طرح کہ ان میں اپنے دل کے ساتھ باتیں نہ کرے تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔

Humran, the freed slave of Uthman said: I saw Uthman call for a vessel (of water) and poured water over his hands three times and then washed them. Then he put his right hand in the vessel and rinsed his mouth and cleaned his nose. Then he washed his face three times and his hands up to the elbow three times; then wiped his head, then washed his feet three times. Then he said that the Messenger of Allah ﷺ had said: He who performed ablution like this ablution of mine and offered two rakahs of prayer without allowing his thoughts to be distracted, all his previous sins would be expiated.

540Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ بِفِنَائِ الْمَسْجِدِ فَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ عِنْدَ الْعَصْرِ فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّکُمْ حَدِيثًا لَوْلَا آيَةٌ فِي کِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُکُمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ فَيُحْسِنُ الْوُضُوئَ فَيُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا

قتیبہ بن سعید، عثمان بن محمد بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، قتیبہ، اسحاق بن ابراہیم، عثمان ؓ کے خادم حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے سنا حضرت عثمان ؓ سے اور وہ مسجد کے صحن میں تھے پس ان کے پاس عصر کے وقت مؤذن آیا آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تم سے ایک حدیث بیان کرتا ہوں اگر اللہ کی کتاب میں آیت نہ ہوتی (اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ ) 2۔ البقرۃ: 159) تو میں یہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کوئی مسلمان آدمی وضو نہیں کرتا پس وہ اچھی طرح وضو کرے پھر نماز پڑھتا ہے مگر اللہ معاف کردیتا ہے اس کے وہ تمام گناہ (صغیرہ) جو اس نماز سے پیو ستہ دوسری نماز کے درمیان کئے تھے۔

Humran. the freed slave of Uthman. said: I heard from Uthman bin Affan and he was in the courtyard of the mosque, when the Muadhdhin (announcer of the prayer) came to him at the time of afternoon prayer. So the (Uthman) called for the ablution water and performed ablution and then said: By Allah, I am narrating to you a hadith. If there were not a verse in the Book of Allah, I would have never narrated it to you. I heard Allahs Messenger ﷺ say: If a Muslim performs ablution and does it well and offers prayer, all his (sins) during the period from one prayer to another would be pardoned by Allah.

541Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ فَيُحْسِنُ وُضُوئَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الْمَکْتُوبَةَ

ابوکریب، ابواسامہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، ابوعمر، سفیان، ہشام بن عروہ، حمران، عثمان، عثمان بن عفان، امام مسلم سے روایت نقل ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر فرض نماز ادا کرے باقی حدیث مثل سابق ہے۔

This hadith is also narrated on the authority with the same chain of transmitters and in the hadith of Abu Usama the words are: "He who performed the ablution well and then offered the obligatory prayer."

542Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَکِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ عَنْ حُمْرَانَ أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ قَالَ وَاللَّهِ لَأُحَدِّثَنَّکُمْ حَدِيثًا وَاللَّهِ لَوْلَا آيَةٌ فِي کِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُکُمُوهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوئَهُ ثُمَّ يُصَلِّي الصَّلَاةَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ الَّتِي تَلِيهَا قَالَ عُرْوَةُ الْآيَةُ إِنَّ الَّذِينَ يَکْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنْ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَی إِلَی قَوْلِهِ اللَّاعِنُونَ

زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، صالح، ابن شہاب، عروہ، حمران سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان ؓ وضو کرچکے تو فرمایا اللہ کی قسم میں تم کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں اگر اللہ عزوجل کی کتاب میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں یہ حدیث بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر نماز ادا کرے تو اس کے گناہ متصل نماز تک معاف کر دئیے جاتے ہیں عروہ نے کہا کہ وہ یہ آیت ہے بیشک وہ لوگ جو ہمارے دلائل اور ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم نے اس کو واضح کیا ہے لوگوں کے لئے کتاب اللہ میں یہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔

Humran reported when Uthman performed ablution he said: By Allah, I am narrating to you a hadith had there not been this verse in the Book of Allah. I would not have narrated it to you. Verily I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Not a person is there who performed ablution, and did it well, then offered prayer, but his sins (which he committed) were not pardoned between the prayer that he offered and the next one. Urwa said: The verse is this: "Those who suppress the clear proofs and the guidance which We have sent down"... to His words:" the Cursers" (ii. 15).

543Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ فَدَعَا بِطَهُورٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَکْتُوبَةٌ فَيُحْسِنُ وُضُوئَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُکُوعَهَا إِلَّا کَانَتْ کَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنْ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ کَبِيرَةً وَذَلِکَ الدَّهْرَ کُلَّهُ

عبد بن حمید، حجاج بن شاعر، ابو ولید، اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان ؓ کے پاس حاضر تھا آپ نے وضو کے لئے پانی منگوا کر فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ جو مسلمان فرض نماز کا وقت پائے اور اچھی طرح وضو کرے اور خشوع و خضوع سے نماز ادا کرے تو وہ نماز اس کے تمام پچھلے گناہوں کے لئے کفارہ ہوجائے گی بشرطیکہ اس سے کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ ہوا ہو اور یہ سلسلہ ہمیشہ قائم رہے گا۔

Amr b Said b al-As reported: I was, with Uthman that he called for ablution water and said: I heard Allahs Messenger ﷺ say: When the time for a prescribed prayer comees, if any Muslim performs ablution well and offers his prayer with humility and bowing, it will be an expiation for his past sins, so long as he has not committed a major sin; and this applies to all times.

544Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ قَالَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ بِوَضُوئٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَاسًا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ لَا أَدْرِي مَا هِيَ إِلَّا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ هَکَذَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَکَانَتْ صَلَاتُهُ وَمَشْيُهُ إِلَی الْمَسْجِدِ نَافِلَةً وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ أَتَيْتُ عُثْمَانَ فَتَوَضَّأَ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، قتیبہ، ابوبکر، وکیع، سفیان، ابی نضر، ابوانس، حضرت عثمان ؓ کے مولیٰ حمران سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان ؓ کے پاس وضو کا پانی لے کر آیا پس آپ نے وضو فرمایا اور کہا کہ لوگ احادیث بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے، میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں مگر میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ کو کہ آپ ﷺ نے وضو فرمایا میرے اس وضو کی طرح پھر آپ ﷺ نے فرمایا جو اس طرح وضو کرے گا اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے اس کی نماز اور اس کا مسجد کی طرف چل کر جانا نفل ہوجاتا ہے۔

Humran, the freed slave of Uthman reported: I brought for Uthman bin Affan the ablution water. He performed ablution and then said: Verily the people narrate from the Messenger of Allah ﷺ a hadith. I do not know what these are but (I know this fact) that I saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution like this ablution of mine and then he said: He who performed ablution like this, all his previous sins would be expiated and his prayer and going towards the mosque would have an extra reward. In the tradition narrated by Ibn Abda (the words are): "I came to Uthman and he performed ablution."

545Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ وَأَبِي بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي أَنَسٍ أَنَّ عُثْمَانَ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ فَقَالَ أَلَا أُرِيکُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَزَادَ قُتَيْبَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ عَنْ أَبِي أَنَسٍ قَالَ وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، قتیبہ، ابوبکر، وکیع، سفیان، ابونضر، ابوانس سے روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے اپنے بیٹھنے کی جگہ وضو فرمایا پھر کہا کہ تم کو رسول اللہ ﷺ کا وضو نہ دکھلاؤں پھر آپ نے وضو کیا تین تین بار قتیبہ کی سند میں یہ زیادتی ہے کہ اس وقت حضرت عثمان کے پاس اور صحابہ بھی موجود تھے۔

Abu Anas reported that Uthman performed ablution at Maqiaid and said: Should I not show you the ablution performed by Allahs Messenger ﷺ ? And he then washed (the different parts of the body) three times. Qutaiba has added in his narration the words: "There were with him (with Uthman) Companions of Allahs Messenger ﷺ ."

546Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ قَالَ کُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَی عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلَاتِنَا هَذِهِ قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهَا الْعَصْرَ فَقَالَ مَا أَدْرِي أُحَدِّثُکُمْ بِشَيْئٍ أَوْ أَسْکُتُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ کَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا وَإِنْ کَانَ غَيْرَ ذَلِکَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي کَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلَّا کَانَتْ کَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا

ابوکریب، محمد بن علاء، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، ابوکریب، وکیع، مسعر، جامع بن شداد، ابی صخرہ، حمران بن ابان کی روایت ہے کہ میں حضرت عثمان ؓ کے لئے طہارت کا پانی رکھا کرتا تھا اور آپ پر کوئی دن ایسا نہیں آیا کہ آپ نے کچھ پانی اپنے اوپر نہ بہا لیا ہو (غسل نہ کیا ہو) اور حضرت عثمان ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے حدیث بیان کی ہمارے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد، مسعر نے کہا کہ اس سے مراد نماز عصر ہے، پس آپ ﷺ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ تم کو ایک بات بتاؤں یا خاموش رہوں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر وہ بھلائی کی بات ہے تو ہم سے بیان فرمائیں اور اگر اس کے علاوہ ہے تو اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جو مسلمان پاکی حاصل کرے اور پوری طہارت حاصل کرے پھر پانچوں نمازیں ادا کرتا رہے تو یہ نمازیں اپنے درمیانی اوقات میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہیں۔

Humran bin Abin reported: I used to fetch water for Uthman for his purification. Never was there a day that he did not take a bath with a small quantity of water. And Uthman said: The Messenger of Allah ﷺ at the time of our returning from our prayer told us (certain things pertaining to purification). Misar said: I find that it was afternoon prayer. He said: I do not know whether I should tell you a thing or keep quiet. We said: Messenger of Allah, tell us if it is good and if it is otherwise, Allah and His Apostle ﷺ know better. Upon this he said: A Muslim who purifies (himself) and completes purification as enjoined upon him by Allah and then offers the prayers, that will be expiatious (of his sins he committed) between these (prayers).

547Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ أَبَا بُرْدَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَمَّ الْوُضُوئَ کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَی فَالصَّلَوَاتُ الْمَکْتُوبَاتُ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مُعَاذٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ غُنْدَرٍ فِي إِمَارَةِ بِشْرٍ وَلَا ذِکْرُ الْمَکْتُوبَاتِ

عبیداللہ بن معاذ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، جامع بن شداد، حمران بن ابان سے روایت ہے کہ وہ ابوبردہ سے اس مسجد میں بشر کے دور حکومت میں بیان کرتے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کو اللہ کے حکم کے مطابق پورا کرے تو فرض نمازیں اپنے درمیانی اوقات میں سرزد ہونے والے گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں غندر کی روایت میں حکومت بشر اور فرض نماز کی قید نہیں ہے۔

Jami bin Shaddad reported: I heard Humran bin Aban narrate to Abu Burda in this very mosque during the governorship of Bishr that Uthman bin Alfan said: The Messenger of Allah ﷺ observed: He who completed ablution as Allah, the Exalted, enjoined upon him, his obligatory prayers would be expiatious (for his minor sins that he would commit) during (the interval) between them. This hadith is transmitted by Ibn Muadh, and in the hadith narrated by Ghundar, the words "during the governorship of Bishr" are omitted and there is no mention of the obligatory prayers.

548Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ قَالَ تَوَضَّأَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ يَوْمًا وُضُوئًا حَسَنًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ هَکَذَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الْمَسْجِدِ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ غُفِرَ لَهُ مَا خَلَا مِنْ ذَنْبِهِ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، حمران مولیٰ عثمان روایت کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت عثمان ؓ نے وضو کیا اور بہت اچھی طرح وضو کیا پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے وضو کیا پھر فرمایا جس نے اس طرح وضو کیا پھر مسجد کی طرف نکلا محض نماز ادا کرنے کے ارادہ سے، معاف کئے جاتے ہیں اس کے گزشتہ گناہ۔

Humran, the freed slave of Uthman reported: One day Uthman bin Affan performed the ablution well, and then said: I saw Allahs Messenger ﷺ perform ablution, the best ablution, and then observed: He who performed ablution like this and then went towards the mosque and nothing (but the love of) prayer urged him (to do so), all his previous (minor) sins would be expiated.

549Sahih Muslim

وضو اس کے بعد نماز کی فضیلت کا بیان

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ الْحُکَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمَا عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ مَشَی إِلَی الصَّلَاةِ الْمَکْتُوبَةِ فَصَلَّاهَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ

ابوطاہر، یونس بن عبدالاعلی، عبداللہ قریشی، نافع بن جبیر، عبداللہ بن ابی سلمہ، معاذ بن عبدالرحمن، عثمان سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے جس نے نماز کے لئے پورا پورا وضو کیا پھر فرض نماز پڑھنے کے لئے چلا لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز پڑھی اللہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔

Humran, the freed slave of Uthman bin Affan, reported on the authority of Uthman bin Affan that he heard Allahs Messenger ﷺ say: He who performed ablution for prayer and performed it properly and then went (to observe) obligatory prayer and offered it along with people or with the congregation or in the mosque, Allah would pardon his sins.

550Sahih Muslim

پانچوں نمازیں جمعہ سے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہیں جو کبائر سے بچتے رہیں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ مَوْلَی الْحُرَقَةِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَاةُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَی الْجُمْعَةِ کَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْکَبَائِرُ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن ایوب، اسماعیل بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اپنے درمیانی اوقات میں سرزد ہونے والے گناہوں کے لئے کفارہ ہیں جب تک کبائر کا ارتکاب نہ کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Five prayers and from one Friday prayer to (the next) Friday prayer is an expiation (of the sins committed in between their intervals) if major sins are not committed.

551Sahih Muslim

پانچوں نمازیں جمعہ سے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہیں جو کبائر سے بچتے رہیں

حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَی الْجُمْعَةِ کَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ

نصر بن علی جہضمی، عبدالاعلی، ہشام، محمد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پنچگانہ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہیں جو ان کے درمیان سرزد ہوجائیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: Five prayers and one Friday prayer to (the next) Friday prayer are expiations (for the sins committed in the intervals) between them.

552Sahih Muslim

پانچوں نمازیں جمعہ سے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہیں جو کبائر سے بچتے رہیں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِي صَخْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَقَ مَوْلَی زَائِدَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَی الْجُمْعَةِ وَرَمَضَانُ إِلَی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْکَبَائِرَ

ابوطاہر، ہارون بن سعیدایلی، ابن وہب، ابوصخر، عمر بن اسحاق مولیٰ زائدہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک اپنے درمیان سرزد ہونے والے گناہوں کے لئے کفارہ بن جاتے ہیں جب تک کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported: Verily the Messenger of Allah ﷺ said: Five (daily) prayers and from one Friday prayer to the (next) Friday prayer, and from Ramadhan to Ramadhan are expiations for the (sins) committed in between (their intervals) provided one shuns the major sins.

553Sahih Muslim

وضو کے بعد ذکر مستحب ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ح وَحَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ کَانَتْ عَلَيْنَا رِعَايَةُ الْإِبِلِ فَجَائَتْ نَوْبَتِي فَرَوَّحْتُهَا بِعَشِيٍّ فَأَدْرَکْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا يُحَدِّثُ النَّاسَ فَأَدْرَکْتُ مِنْ قَوْلِهِ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوئَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ مُقْبِلٌ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ قَالَ فَقُلْتُ مَا أَجْوَدَ هَذِهِ فَإِذَا قَائِلٌ بَيْنَ يَدَيَّ يَقُولُ الَّتِي قَبْلَهَا أَجْوَدُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا عُمَرُ قَالَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُکَ جِئْتَ آنِفًا قَالَ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُبْلِغُ أَوْ فَيُسْبِغُ الْوَضُوئَ ثُمَّ يَقُولُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَائَ

محمد بن حاتم بن میمون، ابوعبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، ربیعہ ابن یزید، ابی ادریس خولانی عقبہ بن عامر، ابوعثمان، جبیر بن نفیر، عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ ہمارے اوپر اونٹوں کا چرانا لازم تھا پس جب میری باری آئی تو میں اونٹوں کو شام کو واپس لے کر لوٹا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھڑے ہوئے لوگوں کے سامنے باتیں کرتے ہوئے پایا میں نے بھی آپ ﷺ کے قول میں سے یہ بات معلوم کی کہ جو مسلمان وضو کرے پس اچھی طرح ہو اس کا وضو اور پھر کھڑا ہو پس دو رکعتیں نماز ادا کرے اس طرح کہ اپنے دل اور چہرہ سے پوری توجہ کرنے والا ہو تو اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے میں نے کہا کہ یہ کلام کیسا عمدہ و اعلی ہے پس اچانک ایک کہنے والے نے کہا جو میرے آگے تھا کہ اس سے پہلی بات اور بھی اچھی و عمدہ تھی میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر ؓ تھے تو انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ تم ابھی ابھی آئے ہو اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص وضو کرے اور کامل وضو کرے پھر کہے (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ) تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں ان میں سے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔

Uqba bin Amir reported: We were entrusted with the task of tending the camels. On my turn when I came back in the evening after grazing them in the pastures, I found Allahs Messenger ﷺ stand and address the people. I heard these words of his: If any Muslim performs ablution well, then stands and prays two rakahs setting about them with his heart as well as his face, Paradise would be guaranteed to him. I said: What a fine thing is this! And a narrator who was before me said: The first was better than even this. When I cast a glance, I saw that it was Umair who said: I see that you have just come and observed: If anyone amongst you performs the ablution, and then completes the ablution well and then says: I testify that there is no god but Allah and that Muhammad is the servant of Allah and His Messenger, the eight gates of Paradise would be opened for him and he may enter by whichever of them he wishes.