پینے کی چیزوں کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 38 · 258 hadiths · Page 1 of 13

5127Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَی فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَی وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِکَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ فَقَالَتْ أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَکْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنْ السَّنَامِ قَالَ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَلِيٌّ فَنَظَرْتُ إِلَی مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَی حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّی خَرَجَ عَنْهُمْ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، حجاج بن محمد بن جریج، ابن شہاب، علی بن حسین ابن علی، حسین بن علی، حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجھے ایک اونٹنی ملی اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک اور اونٹنی عطاء فرما دی میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو انصار کے ایک آدمی کے دروازہ پر بٹھا دیا اور میں یہ چاہتا تھا کہ میں ان پر اذخر لاد کر لاؤں تاکہ میں اسے بیچوں اور میرے ساتھ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی تھا الغرض میرا حضرت فاطمہ ؓ کے ولیمہ کی تیاری کا ارادہ تھا اور اسی گھر میں حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ؓ شراب پی رہے تھے ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو کہ شعر پڑھ رہی تھی اور کہہ رہی تھی اے حمزہ ان موٹی اونٹنیوں کو ذبح کرنے کے لئے اٹھو حضرت حمزہ یہ سن کر اپنی تلوار لے کر ان اونٹنیوں پر دوڑے اور ان کی کوہان کاٹ دی اور ان کی کھوکھوں کو پھاڑ ڈالا پھر ان کا کلیجہ نکال دیا میں نے ابن شہاب سے کہا کیا کوہان بھی لے گئے؟ انہوں نے کہا ہاں کوہان بھی تو کاٹ لئے ابن شہاب کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا جب میں نے یہ خطرناک منظر دیکھا تو میں اسی وقت اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں آیا تو حضرت زید بن حارثہ بھی آپ ﷺ کے پاس تھے میں نے آپ کو اس سارے واقعہ کی خبر دی تو آپ ﷺ باہر نکلے اور حضرت زید بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا آپ حضرت حمزہ کے پاس تشریف لے گئے اور ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا حضرت حمزہ نے آپ ﷺ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگے کہ آپ لوگ تو میرے آباؤ اجداد کے غلام ہو، رسول اللہ ﷺ الٹے پاؤں واپس لوٹ پڑے یہاں تک کہ وہاں سے چلے آئے۔

Ali bin Abu Talib reported; There fell to my lot along with Allahs Messenger ﷺ an old she-camel from the spoils of Badr. Allahs Messenger ﷺ granted me another camel. I made them kneel down one day at the door of an Ansari, and I wanted to carry on them Idhkhir (a kind of grass) in order to sell that. There was with me a goldsmith of the tribe of Qainuqa. I saught to give a wedding feast (on the occasion of marriage with) Fatima with the help of that (the price accrued from the sale of this grass). And Hamza bin Abdul Muttalib was busy in drinking in that house in the company of a singing girl who was singing to him. She said: Hamza, get up for slaughtering the fat she-camels. Hamza attacked them with the sword and cut off their humps and ripped their haunches, and then took out their livers. I said to Ibn Shihab: Did he take out anything from the hump? He said: He cut off the humps altogether. Ibn Shihab reported Ali having said: I saw this (horrible) sight and it shocked me, and I came to Allahs Apostle ﷺ and there was Zaid bin Haritha with him and communicated to him this news. He came in the company of Zaid and I also went along with him and he went to Hamza and he expressed anger with him. Hamza raised his eyes and said: Are you (not) but the servants of my father? Allahs Messenger ﷺ turned back on his heels (on hearing this) until he went away from them.

5128Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن جریج سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters.

5129Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ کَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ کَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنْ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنْ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنْ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنْ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَی جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا شَارِفَايَ قَدْ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَکْبَادِهِمَا فَلَمْ أَمْلِکْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِکَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا قُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالُوا فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَائِ فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا فَأَخَذَ مِنْ أَکْبَادِهِمَا فَقَالَ عَلِيٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی أَدْخُلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ قَالَ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَةُ عَلَی نَاقَتَيَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّی جَائَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَی رُکْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَی سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَی وَجْهِهِ فَقَالَ حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ فَنَکَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَی وَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ

ابوبکر بن اسحاق، سعید بن کثیر بن عفیر، ابوعثمان مصری، عبداللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، علی بن حسین بن علی، حسین بن علی، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن مال غنیمت میں سے میرے حصہ میں ایک اونٹنی آئی تھی اور اسی دن رسول اللہ ﷺ نے خمس میں سے مجھے ایک اونٹنی عطا فرمائی تو جب میں نے ارادہ کیا کہ میں حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے خلوت کروں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار آدمی سے اپنے ساتھ چلنے کا وعدہ لے لیا تاکہ ہم اذخر گھاس لا کر سناروں کے ہاتھ فروخت کردیں اور پھر اس کی رقم سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں تو اسی دوران میں اپنی اونٹنیوں کا سامان پالان کے تختے بوریاں اور رسیاں جمع کرنے لگا اور اس وقت میری دونوں اونٹنیاں انصاری آدمی کے گھر کے پاس بیٹھیں تھیں جب میں نے سامان اکٹھا کرلیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں اور ان کی کھوکھیں بھی کٹی ہوئی ہیں اور ان کے کلیجے نکلے ہوئے ہیں میں دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابونہ کرسکا میں نے کہا کہ یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب نے اور حضرت حمزہ چند شراب خور انصاریوں کے ساتھ اسی گھر میں موجود ہیں حضرت حمزہ اور ان کے ساتھیوں کو ایک گانے والی عورت نے ایک شعر سنایا تھا کہ سنو اے حمزہ ان موٹی موٹی اونٹنیوں کو ذبح کرنے کے لئے اٹھو حضرت حمزہ تلوار لے کر اٹھے اور ان اونٹینوں کے کوہان کو کاٹ دیا اور ان کو کھوکھیں کاٹ دیں اور ان کے کلیجے نکال دیئے حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں فوراً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چل پڑا یہاں تک کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں آگیا حضرت زید بن حارث بھی آپ ﷺ کے پاس موجود تھے حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے کے آثار سے حالات معلوم کر لئے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تجھے کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ کی قسم میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی دن نہیں دیکھا حمزہ نے میری اونٹینوں پر حملہ کر کے ان کے کوہان کاٹ لئے ہیں اور ان کی کھوکھیں پھاڑ ڈالی ہیں اور حمزہ اس وقت گھر میں موجود ہیں اور ان کے ساتھ کچھ اور شراب خور بھی ہیں حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ کر پیدل ہی چل پڑے اور میں اور حضرت زید بن حارثہ بھی آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دروازہ میں آئے جہاں حضرت حمزہ تھے آپ ﷺ اندر آنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی تو دیکھا کہ وہ سب شراب پئے ہوئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ کو ان کے اس فعل پر ملامت کرنا شروع کی حمزہ کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا پھر آپ ﷺ کے گھٹنوں کی طرف دیکھا پھر نگاہ بلند کی تو آپ ﷺ کی ناف کی طرف دیکھا پھر نگاہ بلند کی تو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا پھر حمزہ ؓ کہنے لگے کہ تم تو میرے باپ کے غلام ہو رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ حمزہ نشہ میں مبتلا ہیں پھر رسول اللہ ﷺ الٹے پاؤں باہر تشریف لائے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ باہر نکل آئے۔

Husain bin Ali reported Ali having said: There fell to my lot a she-camel out of the spoils of war on the Day of Badr, and Allahs Messenger ﷺ gave me (another) she-camel on that day out of the Khums (one-fifth reserved for Allah and His Messenger). When I made up my mind to consummate my marriage with Fatima, the daughter of Allahs Messenger ﷺ , I prevailed upon a goldsmith of the tribe of Qainuqa to go along with me so that we might bring Idhkhir wishing to sell that to the goldsmiths and thus I should be able to arrange my wedding feast. While I was arranging the equipments, i. e. litters, sacks and ropes, my two she-camels were sitting down at the side of the apartment of a person of the Ansar. I collected (the different articles of equipment) and found to my surprise that their humps had been chopped off and their haunches had been cut off and their livers had been taken out. I could not help weeping when I saw that plight of theirs. I said: Who has done that? They said: Hamza bin Abdul Muttalib has done this. and he is in this house dead drunk in the company of some of the Ansar with a singing girl singing before him and his companions. She said in her song: O Hamza, get up and attack these falty she-camels. Thereupon Hamza stood up with a sword (in his hand) and cut off their humps and ripped their haunches and tore out their livers. Ali said: I went away until I came to Allahs Messenger ﷺ and there was with him Zaid bin Haritha. Allahs Messenger ﷺ recognised from my face what I had experienced, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: What has happened to you? I said: Messenger of Allah, by Allah, I have never seen (such an unfortunate day) as this day. Hamza has committed aggression to my she-camels, and has cut off their humps. and ripped their haunches, and he is in a house in the company of some drunkards. (Hearing this) Allahs Messenger ﷺ sent for his mantle and, putting it on him, he proceeded, and I and Zaid bin Haritha followed him, until he came to the door (of the house) in which there was Hamza. He (the Holy Prophet) sought permission which they granted him. They were all drunk. Allahs Messenger ﷺ began to reprimand Hamza for what he had done. Hamzas eyes were red. He cast a glance at Allahs Messenger ﷺ and then looked towards his knees, and then lifted his eyes and cast a glance at his waist and then lifted his eyes and saw his face. And then Hamza said: Are you anything but the slaves of my father? Alahs Messenger ﷺ came to know that he was intoxicated, and he thus turned upon his heels, and came out, and we also came out along with him.

5130Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

محمد بن عبداللہ بن قہزاذ، عبداللہ بن عثمان، عبداللہ بن مبارک، یونس زہری، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

The above hadith has been narrated likewise through another chain of transmitters.

5131Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي فَقَالَ اخْرُجْ فَانْظُرْ فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَجَرَتْ فِي سِکَکِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا فَهَرَقْتُهَا فَقَالُوا أَوْ قَالَ بَعْضُهُمْ قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ قَالَ فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَی الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ

ابوربیع سلیمان بن داؤد عتکی، حماد ابن زید، ثابت، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ جس دن شراب حرام کی گئی اس دن میں حضرت ابوطلحہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا وہ شراب خشک کشمش اور چھوہاروں کی بنی ہوئی تھی اسی دوران میں نے آواز سنی حضرت ابوطلحہ کہنے لگے کہ باہر نکل کر دیکھو میں باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک منادی آواز لگا رہا ہے آگاہ رہو کہ شراب حرام کردی گئی ہے راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ کی تمام گلیوں میں یہ اعلان کردیا گیا حضرت ابوطلحہ نے مجھ سے کہا کہ باہر نکل کر اس شراب کو بہا دو تو میں نے باہر جا کر اس شراب کو بہا دیا لوگوں نے کہا یا لوگوں میں سے کسی نے کہا فلاں فلاں شہید کردیئے گئے اور ان کے پیٹوں میں تو شراب تھی راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت انس ؓ کی حدیث کا حصہ ہے یا نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو پہلے کھاچکے جبکہ آئندہ پرہیزگار ہوئے اور ایمان لائے اور نیک اعمال کئے۔

Anas bin Malik (RA) reported: I was the cup-bearer of some people in the house of Abu Talha on the day when liquor was forbidden. Their liquor had been prepared from dry dates or fresh dates when the announcer made the announcement. He (Abu Talha) said to me: Go out and find out (what the announcement is). I got out (and found) an announcer making this announcement: Behold, liquor has been declared unlawful. He said: The liquor (was spilt and) flawed in the lanes of Madinah. Abu Talha said to me: Go out and spill it, and I spilt it. They said or some of them said: Such and such were killed, such and such were killed for (the wine) had been in their stomachs. He (the narrator) said. I do not know whether it is the narration transmitted by Anas, (or by someone else). Then Allah, the Exalted and Majestic, revealed: "There shall be no sin (imputed) unto those who have believed and done good works for what they may have eaten as long as they fear (Allah) and believe and do good works" (v. 93).

5132Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ الْفَضِيخِ فَقَالَ مَا کَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِکُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ بَلَغَکُمْ الْخَبَرُ قُلْنَا لَا قَالَ فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ يَا أَنَسُ أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ قَالَ فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ

یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، عبدالعزیز بن صہیب، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ سے لوگوں نے فضیخ شراب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا ہمارے لئے تمہاری اس فضیخ کے علاوہ اور کوئی شراب ہی نہیں تھی اور میں یہی فضیخ شراب حضرت ابوطلحہ ؓ اور حضرت ابوایوب اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ لوگوں کو اپنے گھر میں پلا رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کیا آپ کو یہ خبر پہنچی ہے؟ ہم نے کہا نہیں اس نے کہا شراب حرام کردی گئی ہے تو حضرت ابوطلحہ نے کہا اے انس ان مشکوں کو بہا دو راوی کہتے ہیں کہ اس آدمی کی خبر کے بعد نہ ہی انہوں نے کبھی شراب پی اور نہ انہوں نے شراب کے بارے میں پوچھا۔

Abdul Aziz bin Suhaib (RA) reported: They (some persons) asked Anas bin Malik (RA), about Fadikh (that is, a wine prepared from fresh dates), whereupon he said: There was no liquor with us except this Fadikih of yours. It was only this Fadikh that I had been serving to Abu Talha and Abu Ayyub and some persons from amongst the Companions of the Messenger of Allah ﷺ in our house. When a person came and said: Has the news reached you? We said, No. He said: Verily liquor has been declared forbidden. Thereupon, Abd Talha said: Anas, spill these large pitchers. He (the narrator) said: They then never reverted to it, nor even asked about this after the announcement by that person.

5133Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَی الْحَيِّ عَلَی عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ فَقَالُوا اکْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَکَفَأْتُهَا قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَنَسٍ کَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ سُلَيْمَانُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِکَ أَيْضًا

یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، سلیمان تیمی، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں کھڑے کھڑے اپنے چچازاد قبیلہ والوں کو فضیخ شراب پلا رہا تھا اور میں ان میں سے سب سے کم عمر تھا تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا شراب حرام کردی گئی ہے تو لوگوں نے کہا اے انس اس شراب کو بہادو تو میں نے وہ شراب بہا دی سلیمان تیمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ وہ شراب کس چیز کی تھی حضرت انس ؓ نے فرمایا وہ شراب گدری اور پکی ہوئی کھجوروں کی بنی ہوئی تھی حضرت ابوبکر ؓ کہتے ہیں کہ اس دن ان کی شراب یہی تھی سلیمان کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک آدمی نے حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ وہ بھی اسی طرح فرماتے تھے۔

Anas bin Malik (RA) reported: I was standing amongst the uncles of my tribe serving them Fadikh while I was the youngest of them, when a person came and said: Verily the use of liqour has been prohibited. They said: Anas, spill it away. So I spilt it. He (one of the narrators Sulaiman Taimi) said that he asked Anas what that was (the Fadikh). He said: It had been prepared from unripe and ripe dates. Abu Bakr (RA) bin Anas said: It was their liquor in those days. Sulaiman said: A person narrated it to me from Anas bin Malik (RA) that he had said so.

5134Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَنَسٌ کُنْتُ قَائِمًا عَلَی الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَنَسٍ کَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْکِرْ أَنَسٌ ذَاکَ و قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ کَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُا کَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ

محمد بن عبدالاعلی، معتمر، انس، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہو کر اپنے قبیلے والوں کو (شراب) پلا رہا تھا (پھر آگے) ابن علیہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ اس حدیث میں ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر بن انس ؓ نے فرمایا اس دن ان کی یہی شراب تھی اور حضرت انس بھی اس وقت وہاں موجود تھے انہوں نے کوئی نکیر نہیں کی ابن عبدالاعلی کہتے ہیں کہ مجھ سے معتمر نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ کچھ لوگ جو میرے ساتھ تھے انہوں نے خود حضرت انس ؓ سے سنا کہ وہ فرماتے ہیں کہ اس دن ان کی شراب یہی تھی۔

Anas reported: I was standing amongst the members of my (tribe) and serving them liquor. The rest of the hadith is the same, but with this variation that Abu Bakr (RA) bin Anas said: It was their liquor in those days (prepared from dates), and Anas was present there and he did not deny this (fact). Mutamir reported on the authority of his father: A person who was with me told me that he had heard Anas saying that that was their liquor in those days.

5135Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ فَقَالَ حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فَأَکْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ قَالَ قَتَادَةُ وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ لَقَدْ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ وَکَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ

یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوطلحہ حضرت ابودجانہ حضرت معاذ بن جبل ؓ اور انصار کی ایک جماعت کو شراب پلا رہا تھا تو آنے والا (ایک آدمی اندر) داخل ہوا اور اس نے کہا آج ایک نئی بات ہوگئی کہ شراب کی حرمت نازل ہوگئی ہے تو ہم نے اس شراب کو اسی دن بہا دیا اور وہ شراب گچی اور خشک کھجوروں کی بنی ہوئی تھی حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ جب شراب حرام کردی گئی تھی تو عام طور پر ان دنوں میں ان کی شراب یہی تھی

Anas bin Malik (RA) reported I was serving wine to Abu Talha and Abu Dujana and Muadh bin jabal admidst a group of Ansar when a visitor came to us and said: There is fresh news; the (verses) concerning the prohibition of liquor have been revealed. So we spilt it on that day; and it was a mixture of dry dates and fresh dates. Anas bin Malik (RA) said: While Khamr was declared unlawful, the common liquor of theirs was then a mixture of dry dates and fresh dates.

5136Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَائَ مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ

ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، ابن بشار، معاذ بن ہشام، ابوقتادہ، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوطلحہ اور حضرت ابودجانہ ؓ اور سہیل بن بیضاء کو اس مشکیزے میں سے شراب پلا رہا تھا کہ جس میں گچی اور خشک کھجوروں کی بنی ہوئی شراب تھی آگے حدیث سعید کی حدیث کی طرح ہے۔

Anas bin Malik (RA) said: I was serving wine to Abu Talha, Abu Dujana, and Suhail bin Baida from a waterskin which contained the mixture of unripe dates and fresh dates. The rest of the hadith is the same.

5137Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّهْوُ ثُمَّ يُشْرَبَ وَإِنَّ ذَلِکَ کَانَ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، قتادہ بن دعامہ، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ خشک اور گچی کھجوروں کو پانی میں بھگویا جائے اور پھر اس کو پیا جائے اور ان لوگوں کی ان دنوں میں عام طور پر یہی شراب تھی جس دن کہ شراب کو حرام کیا گیا

Anas bin Malik (RA) is reported to have said that Allahs Messenger ﷺ had forbidden to mixture fresh dates and unripe dates and then drinking (the wine prepared out of it), and that was their common intoxicant when liquor was prohibited.

5138Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ فَأَتَاهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ قُمْ إِلَی هَذِهِ الْجَرَّةِ فَاکْسِرْهَا فَقُمْتُ إِلَی مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّی تَکَسَّرَتْ

ابوطاہر، ابن وہب، مالک بن انس، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت ابوطلحہ اور حضرت ابی بن کعب ؓ کو فضیخ اور خشک کھجوروں کی بنی ہوئی شراب پلا رہا تھا تو اسی دوران ایک آنے والے نے آکر کہا شراب حرام کردی گئی ہے تو حضرت ابوطلحہ نے کہا اے انس اٹھو اور اس گھڑے کو توڑ ڈالو تو میں نے پتھر کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اس گھڑے کو نیچے سے مارا تو وہ گھڑا ٹوٹ گیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: I was serving drink to Abu Ubaida bin jarrah, Abu Talha and Ubayy bin Kab prepared from unripe dates and fresh dates when a visitor came and he said: Verily liquor has been prohibited. Thereupon, Abu Talha said: Anas, stand up and break this pitcher. I stood up and (took hold) of a pointed stone and struck the pitcher with its lower part until it broke into pieces.

5139Sahih Muslim

شراب کی حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ شراب انگور اور کھجور سے تیار ہوتی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا لَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ فِيهَا الْخَمْرَ وَمَا بِالْمَدِينَةِ شَرَابٌ يُشْرَبُ إِلَّا مِنْ تَمْرٍ

محمد بن مثنی، ابوبکر حنفی، عبدالحمید بن جعفر، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی جس آیت میں شراب کو حرام قرار دیا گیا تھا مدینہ منورہ میں سوائے کھجور کے اور کوئی شراب نہیں پی جاتی تھی۔

Anas bin Malik (RA) reported: Allah revealed the verse in which Allah prohibited the use of liquor. In those days no other liquor was drunk but that prepared from dates.

5140Sahih Muslim

شراب کا سرکہ بنانے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلًّا فَقَالَ لَا

یحییٰ بن یحیی، عبدالرحمن بن مہدی، زہیر بن حرب، عبدالرحمن، سفیان سدی، یحییٰ بن عباد، انس، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے شراب کا سرکہ بنانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں۔

Anas reported that Allahs Messenger ﷺ was asked about the use of Khamr from which vinegar is prepared. He said: No (it is prohibited).

5141Sahih Muslim

شراب کے دوا بنانے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ الْجُعْفِيَّ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ أَوْ کَرِهَ أَنْ يَصْنَعَهَا فَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَائِ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَائٍ وَلَکِنَّهُ دَائٌ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، علقمہ بن وائل، وائل حضرمی، حضرت طارق بن سوید جعفی ؓ نے نبی ﷺ سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا یا آپ ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا کہ شراب کا کچھ بنایا جائے حضرت طارق نے عرض کیا کہ میں شراب کو دوا کے لئے بناتا ہوں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔

Wail al-Hadrami reported that Tariq bin Suwaid a-Jufi asked Allahs Apostle ﷺ about liquor. He forbade (its use) and he expressed hatred that it should be prepared. He (Tariq) said: I prepare it as a medicine, whereupon he (the Holy Prophet) said: It is no medicine, but an ailment.

5142Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کھجور اور انگور سے جو شراب بنائی جاتی ہے اسے بھی خمر کہا جاتا ہے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا کَثِيرٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، حجاج بن ابی عثمان، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوکثیر، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شراب ان دو درختوں یعنی کھجور اور انگور سے بنائی جاتی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having said: Wine is prepared from the (fruit) of these two trees-date-palm and vine.

5143Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کھجور اور انگور سے جو شراب بنائی جاتی ہے اسے بھی خمر کہا جاتا ہے۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو کَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اوزاعی، ابوکثیر، ابوہریرہ ؓ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ شراب ان دو درختوں یعنی کھجور اور انگور سے بنائی جاتی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through a different chain of transmitters.

5144Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کھجور اور انگور سے جو شراب بنائی جاتی ہے اسے بھی خمر کہا جاتا ہے۔

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ وَعِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ وَعُقْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ عَنْ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْکَرْمَةِ وَالنَّخْلَةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ الْکَرْمِ وَالنَّخْلِ

زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، اوزعی، عکرمہ بن عمار، عقبہ بن نوام، ابی کثیر، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شراب ان دو درختوں یعنی کھجور اور انگور سے بنائی جاتی ہے ابوکریب نے اپنی روایت میں الْکَرْمَةِ اور النَّخْلَةِ کو بغیر تا کے یعنی کرم اور نخل کہا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Wine comes from vine and date-palms. Abu Kuraib has narrated it with a slight variation of words.

5145Sahih Muslim

کجھور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ سَمِعْتُ عَطَائَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی أَنْ يُخْلَطَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَالتَّمْرُ

شیبان بن فروخ، جریر بن حازم، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ کشمش اور کھجور کو یا گچی گچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر (پانی میں بھگویا جائے)۔

Messenger (may peace upon him) prohibited the mixing of grapes and fresh dates, and dry dates and Jabir bin Abdullah al-Ansari reported that Allahs fresh dates.

5146Sahih Muslim

کجھور اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَی أَنْ يُنْبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَنَهَی أَنْ يُنْبَذَ الرُّطَبُ وَالْبُسْرُ جَمِيعًا

قتیبہ بن سعید، لیث، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے کھجور اور کشمش کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور اس چیز سے بھی منع فرمایا ہے کہ کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر اس کی نبیذ بنائی جائے۔

Jabir bin Abdullah al-Ansari reported that Allahs Messenger ﷺ prohibited the (preparation of) Nabidh by mixing together fresh dates and grapes, and he prohibited the preparation of Nabidh by mixing the fresh dates and unripe dates together.