ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ وَهُوَ الْمُلَقَّبُ بِسَبَلَانَ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَهُ مِنْهُمَا سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّ أَسْمَائِکُمْ إِلَی اللَّهِ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ
ابراہیم بن زیاد عباد بن عبداللہ بن عمرو، عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے ناموں میں سے اللہ کے ہاں پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: The names dearest to Allah are Abdullah and Abdul Rahman.
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا نَدَعُکَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقَ بِابْنِهِ حَامِلَهُ عَلَی ظَهْرِهِ فَأَتَی بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لِي قَوْمِي لَا نَدَعُکَ تُسَمِّي بِاسْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَکْتَنُوا بِکُنْيَتِي فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، عثمان، اسحاق، جریر، منصور، سالم ابن ابی جعد، جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا تو اسے اس کی قوم نے کہا ہم تجھے رسول اللہ ﷺ کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے وہ آدمی اپنے بیٹے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر چلا اور نبی ﷺ کے پاس لایا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام محمد رکھا لیکن میری قوم نے مجھے کہا ہم تجھے رسول اللہ ﷺ کے نام پر نام نہیں رکھنے دیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو میں تقسیم کرنے والا ہوں اور تم میں تقسیم کرتا ہوں۔
Jabir bin Abdullah reported that a child was born to a person amongst us and he gave him the name of Muhammad. Thereupon his people said: We will not allow you to give the name of Muhammad (to your child) after the name of Allahs Messenger ﷺ . He set forth with his son carrying him on his back and came to Allahs Apostle ﷺ , and said: Allahs Messenger a son has been born to me and I have given him the name after the name of Allahs Messenger ﷺ , whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Give him my name but do not give him my kunya, for I am Qasim in the sense that I distribute (the spoils of war) and the dues of Zakat amongst you.
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ مُحَمَّدًا فَقُلْنَا لَا نَکْنِکَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تَسْتَأْمِرَهُ قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ وَإِنَّ قَوْمِي أَبَوْا أَنْ يَکْنُونِي بِهِ حَتَّی تَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْيَتِي فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ
ہناد بن سری، عبثر، حصین، سلام بن ابی جعد حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس نے اس کا نام محمد رکھا۔ ہم نے کہا تو رسول اللہ ﷺ کی کنیت نہیں رکھ سکتا جب تک تو آپ ﷺ سے اجازت نہ لے لے گا۔ وہ آپ کے پاس آیا اور عرض کیا میرے ہاں بچہ پیدا ہوا میں نے اس کا نام رسول اللہ کے نام پر رکھا لیکن قوم نے اس سے منع کیا کہ میں آپ کی کنیت آپ ﷺ کی اجازت کے بغیر اختیار کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کینت پر کنیت نہ رکھو مجھے قاسم بنا کر بھیجا گیا ہے میں تم میں تقسیم کرتا ہوں۔
Jabir bin Abdullah reported that a child was born to one of the persons amongst us and he decided to give him the name of Muhammad We said: We will not allow you to give the name after the name of Allahs Messenger ﷺ until you ask him (the Holy Prophet). So he (that person) came and said (to the Holy Prophet): A child was born in my house and I wanted to give him the name (of Muhammad) after the name of Allahs Messenger, whereas my people did not allow me that I should name him after that (sacred) name until I have asked Allahs Apostle ﷺ in this connection, whereupon he said: Give him the name after my name, but do not call him by my kunya, for I have been sent as a Qasim as I distribute amongst you.
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فَإِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ
رفاعہ بن ہیثم واسطی خالد طحان حصین اس سند کے ساتھ یہ بھی حدیث مروی ہے لیکن اس میں قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں میں تم میں تقسیم کرتا ہوں مذکور نہیں ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Husain With the same chain of transmitters but no mention is made of these words: "(I have been sent as a distributor), so I distribute amongst you."
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْيَتِي فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ وَلَا تَکْتَنُوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اعمش، ابوسیعد، اشح، وکیع، اعمش، سالم بن ابی جعد، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو کیونکہ میں ابوالقاسم ہوں اور تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں اور ابوبکر کی روایت میں وَلَا تَکَنَّوْا ہے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Give the name after my name, but do not give the kunya of Abul-Qasim (after my kunya), for I am Abul-Qasim (in the sense) that I distribute amongst you (the spoils of war) and disseminate the knowledge (of revelation). This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr (RA) but with a slight variation of wording.
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ إِنَّمَا جُعِلْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ
ابوکریب ابومعاویہ اعمش، اس سند سے یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ مجھے قاسم بنایا گیا ہے میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔
This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters but there is a slight variation (of wording) that, instead of the word Buithat (I have been sent), the word juilat (I have been made) has been used.
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ فَأَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ مُحَمَّدًا فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَکْتَنُوا بِکُنْيَتِي
محمد بن مثنی محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، سلام، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ انصاری میں سے ایک آدمی کے ہاں بچہ پیدا ہوا اس کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا تو اس نے نبی ﷺ کے پاس حاضر ہو کر پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا انصار نے اچھا کیا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔
Jabir bin Abdullah reported that a child was born to a person from the Ansar and he made up his mind to give him the name of Muhammad. He came to Allahs Apostle ﷺ and, asked him (about it), whereupon he said: The Ansar have done well to give the name (to your children) after my name, but do nct give them the kunya after my kunya.
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُصَيْنٍ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ کُلُّهُمْ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَمَنْصُورٍ وَسُلَيْمَانَ وَحُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالُوا سَمِعْنَا سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَنْ ذَکَرْنَا حَدِيثَهُمْ مِنْ قَبْلُ وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ وَزَادَ فِيهِ حُصَيْنٌ وَسُلَيْمَانُ قَالَ حُصَيْنٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا بُعِثْتُ قَاسِمًا أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ و قَالَ سُلَيْمَانُ فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَقْسِمُ بَيْنَکُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور محمد بن عمرو بن جبلہ محمد بن جعفر، ابن مثنی ابن ابی عدی، شعبہ، حصین بشر بن خالد محمد بن جعفر، شعبہ، سلیم سالم بن ابی جعد جابر بن عبداللہ، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، اسحاق بن منصور نضر بن شمیل شعبہ، قتادہ، منصور سلیمان حصین بن عبدالرحمن سلام بن ابی فعد، جابر بن عبداللہ، ان پانچوں اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن حصین کی روایت میں ہے میں قاسم بنا کر بھیجا گیا ہوں میں تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں اور سلیمان نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تو تمہارے درمیان تقسیم کرنے والا ہوں۔
This hadith has been narrated through different chains of transmitters on the authority of Shubah with a slight variation of wording.
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْکَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقُلْنَا لَا نَکْنِيکَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُکَ عَيْنًا فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ أَسْمِ ابْنَکَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ
عمرو ناقد محمد بن عبداللہ نمیر سفیان، عمرو سفیان بن عیینہ، ابن منکدر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی کے ہاں بچہ پیدا ہوا اس نے اس کا نام قاسم رکھا تو ہم نے اس سے کہا ہم تجھے ابوالقاسم کنیت نہیں رکھنے دیں گے اور نہ اس کنیت کے ساتھ تیری آنکھیں ٹھنڈی ہونے دیں گے اس نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اپنے بیٹے کا نام عبدالرحمن رکھ لو۔
Jabir bin Abdullah reported: A child was born in the house of a person amongst us, and he gave him the name of Qasim. We said: We will not allow you (to give the name) to your child as Qasim (and thus adopt the kunya of Abul-Qasim) and cool your eyes. He (that person) came to Allahs Apostle ﷺ and made a mention of that to him, whereupon he said: Call your son Abdul Rahman.
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ کِلَاهُمَا عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْکُرْ وَلَا نُنْعِمُکَ عَيْنًا
امیہ بن بسطام یزید بن زریع علی بن حجر اسمعل ابن علیہ، روح بن قاسم محمد بن منکدر جابر، ابن عیینہ ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں ہم تیری آنکھیں اس کنیت کے ساتھ ٹھنڈی نہیں ہونے دیں گے مذکور نہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Ibn Uyaina, but there is no mention of this: "We will not allow you to cool your eyes."
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِاسْمِي وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْيَتِي قَالَ عَمْرٌو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، ایوب محمد بن سیرین ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوالقاسم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔
Abu Hurairah (RA) reported that Abul-Qasim ﷺ said: Give name (to your children) after my name but do not give the kunya (of Abul- Qasim) after my kunya. Amr reported from Abu Hurairah (RA) that he did not say that he had heard it directly from Allahs Apostle ﷺ .
ابو القاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور ناموں میں سے جو نام مستحب ہیں ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي فَقَالُوا إِنَّکُمْ تَقْرَئُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَی قَبْلَ عِيسَی بِکَذَا وَکَذَا فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّهُمْ کَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوسعید اشج محمد بن مثنی، عنزی ابن نمیر، ابن ادریس سماک بن حرب، علقمہ بن وائل، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ جب میں نجران آیا تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا تم نے (سورہ مریم میں) (يَا أُخْتَ هَارُونَ ) پڑھا ہے حالانکہ حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ علیہما السلام سے اتنی مدت پہلے گزرے ہیں۔ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ (بنی اسرائیل) انبیاء (علیہم السلام) اور گزرے ہوئے نیک آدمیوں کے ناموں پر اپنے نام رکھتے تھے۔
Mughira bin Shubah reported: When I came to Najran, they (the Christians of Najran) asked me: You read "O sister of Harun" (i. e. Hadrat Maryam) in the Quran, whereas Moses (علیہ السلام) was born much before Jesus. When I came back to Allahs Messenger ﷺ I asked him about that, whereupon he said: The (people of the old age) used to give names (to their persons) after the names of Apostles and pious persons who had gone before them.
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ الرُّکَيْنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الرُّکَيْنَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا بِأَرْبَعَةِ أَسْمَائٍ أَفْلَحَ وَرَبَاحٍ وَيَسَارٍ وَنَافِعٍ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوبکر معتمر بن سلیمان سمرہ یحییٰ معتمر بن سلیمان حضرت سمرہ ؓ بن جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام افلح، رباح، یسار اور نافع رکھنے سے منع فرمایا۔
ahadeeth bin Jundub reported: Allahs Messenger ﷺ forbade us to give names to our servants as these four names: Aflah (Successful), Rabah (Profit), Yasar (Wealth), and Nafi (Beneficial).
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الرُّکَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُسَمِّ غُلَامَکَ رَبَاحًا وَلَا يَسَارًا وَلَا أَفْلَحَ وَلَا نَافِعًا
قتیبہ بن سعید، جریر، ابن ربیع ابنہ سمرہ بن جندب حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے لڑکے کا نام رباح، یسار، افلح اور نافع نہ رکھو۔
ahadeeth bin Jundub reported AUahs Messenger ﷺ as saying: Dont give names to your servants as Rabah, Yasar, Aflah and Nafi.
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ رَبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْکَلَامِ إِلَی اللَّهِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَکْبَرُ لَا يَضُرُّکَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ وَلَا تُسَمِّيَنَّ غُلَامَکَ يَسَارًا وَلَا رَبَاحًا وَلَا نَجِيحًا وَلَا أَفْلَحَ فَإِنَّکَ تَقُولُ أَثَمَّ هُوَ فَلَا يَکُونُ فَيَقُولُ لَا إِنَّمَا هُنَّ أَرْبَعٌ فَلَا تَزِيدُنَّ عَلَيَّ
احمد بن عبداللہ بن یونس زہیر منصور ہلال بن یساف ربیع بن عمیلہ حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کلمات چار ہیں (سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور اللَّهُ أَکْبَرُ ) اور تجھے اس میں سے کسی بھی کلمہ کو شروع کرنا نقصان نہ دے گا اور تم اپنے بچے کا نام یسار، رباح، تجیح اور افلح نہ رکھنا کیونکہ تم کہو گے فلاں یعنی افلح اور وہ نہ ہوگا تو کہنے والا کہے گا افلح (کامیاب) نہیں ہے اور یاد رکھو یہ الفاظ چار ہی ہیں انہیں زیادہ کے ساتھ میری طرف منسوب نہ کرنا۔
ahadeeth bin Jundub reprted: The dearest words to Allah are four: Subhan Allah (Hallowed be Allah), Al-Hamdulillah (Praise be to Allah), Wa la ilaha illa-Allah (There is no god but Allah), Allah-o-Akbar (God is the Greatest). There is no harm for you in which order you begin (them while remembering Allah), and he also said: Do not give these names to your servants, Yasar and Rabah and Nafi and Nafi.
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ زُهَيْرٍ فَأَمَّا حَدِيثُ جَرِيرٍ وَرَوْحٍ فَکَمِثْلِ حَدِيثِ زُهَيْرٍ بِقِصَّتِهِ وَأَمَّا حَدِيثُ شُعْبَةَ فَلَيْسَ فِيهِ إِلَّا ذِکْرُ تَسْمِيَةِ الْغُلَامِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْکَلَامَ الْأَرْبَعَ
اسحاق بن ابرہیم جریر، امیہ بن بسطام یزید بن زریع روح ابن قاسم محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، منصور زہیر جریر، روح زہیر شعبہ، ان تین اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے حضرت شعبہ کی حدیث میں بچے کا نام رکھنے کا ذکر ہے اور چار کلمات ذکر نہیں ہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah and there is no mention but of the fact about giving the name to the servant and there is no mention of the four expressions (of remembrance) and he did not mention the four words
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْهَی عَنْ أَنْ يُسَمَّی بِيَعْلَی وَبِبَرَکَةَ وَبِأَفْلَحَ وَبِيَسَارٍ وَبِنَافِعٍ وَبِنَحْوِ ذَلِکَ ثُمَّ رَأَيْتُهُ سَکَتَ بَعْدُ عَنْهَا فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَنْهَی عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ تَرَکَهُ
محمد بن احمد بن ابی خلف روح ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے یعلی، برکت، افلح، یسار اور نافع وغیرہ نام رکھنے سے منع فرمانے کا ارادہ فرمایا پھر میں نے دیکھا کہ اس کے بعد آپ ﷺ اس سے خاموش ہوگئے اور اس بارے میں کچھ نہ فرمایا پھر رسول اللہ ﷺ انتقال فرما گئے اور اس سے منع نہ فرمایا پھر حضرت عمر ؓ نے اس سے منع کرنے کا ارادہ کیا لیکن یونہی رہنے دیا۔
Jabir bin Abdullah reported: Allahs Messenger ﷺ decided to forbid (his followers) to name persons as Yala (Elevated), Baraka (Blessing), Aflah (Successful), Yasar and Nafi, but I saw that he kept silent after that and he did not say anything until Allahs Messenger ﷺ died. And he did not forbid (his followers to do this), then Umar decided to prohibit (people) from giving these names, but later on gave up the idea.
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ وَقَالَ أَنْتِ جَمِيلَةُ قَالَ أَحْمَدُ مَکَانَ أَخْبَرَنِي عَنْ
احمد بن حنبل زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید عبیداللہ نافع ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عاصیہ کا نام تبدیل کردیا اور فرمایا تو جمیلہ ہے اور احمد نے أَخْبَرَنِي کی جگہ عَنْ کا لفظ ذکر کیا ہے۔
Ibn Umar reported that Allahs Messenger ﷺ changed the name of Asiya (Disobedient) and said: You are Jamila (i. e. good and handsome). Ahmad (one of the narrators) narrated it with a slight variation of wording.
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ کَانَتْ يُقَالُ لَهَا عَاصِيَةُ فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسب بن موسیٰ حماد بن سلمہ عبیداللہ نافع ابن عمر حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ کی ایک بیٹی کو عاصیہ کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام جمیلہ رکھا۔
Ibn Umar reported that Umar had a daughter who was called Asiya. Allahs Messenger ﷺ gave her the name of Jamila.
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی آلِ طَلْحَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَکَانَ يَکْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدَ بَرَّةَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ کُرَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ
عمرو ناقد ابن ابی عمرو عمرو سفیان، محمد بن عبدالرحمن مولیٰ آل طلحہ کریب حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جویریہ کا نام برہ تھا رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام بدل کر جویریہ رکھا اور آپ ﷺ ناپسند کرتے تھے کہ یہ کہا جائے وہ برہ یعنی نیکی سے نکل گیا کریب سے سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ؓ کے الفاظ ہیں۔
Ibn Abbas (RA) reported that the name of Juwairlya (the wife of the Holy Prophet) was Barra (Pious). Allahs Messenger ﷺ changed her name to Juwairiya and said: I did not like that it should be said: He had come out from Barra (Pious). The hadith transmitted on the authority of Ibn Abi Umar is slightly different from it.