برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ زَيْنَبَ کَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ فَقِيلَ تُزَکِّي نَفْسَهَا فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِهَؤُلَائِ دُونَ ابْنِ بَشَّارٍ و قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عطاء، بن ابی میمونہ ابورافع ابوہریرہ ؓ عبیداللہ بن معاذ عبیداللہ بن معاذ ابوشعبہ، عطاء بن ابومیمونہ رافع ابوہریرہ زینب برہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ زینب کا نام برہ تھا تو اسے کہا گیا کہ وہ ازخود پاکیزہ بنتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام زینب رکھ دیا۔
Abu Hurairah (RA) reported that the name of Zainab was Barra. It was said of her: She presents herself to be innocent. Allahs Messenger ﷺ gave her the name of Zainab.
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ کَانَ اسْمِي بَرَّةَ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ قَالَتْ وَدَخَلَتْ عَلَيْهِ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَاسْمُهَا بَرَّةُ فَسَمَّاهَا زَيْنَبَ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابوکریب، ابواسامہ، ولید بن کثیر، محمد بن عمرو بن عطاء، حضرت زینب بنت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ میرا نام برہ تھا رسول اللہ ﷺ نے میرا نام زینب رکھ دیا۔ آپ ﷺ کے پاس (نکاح میں) زینب بنت جحش ؓ آئیں ان کا نام بھی برہ تھا تو آپ ﷺ نے اس کا نام زینب رکھ دیا۔
Zainab, daughter of Umm Salamah, reported: My name first was Barra. Allahs Messenger ﷺ gave me the name of Zainab. Then there entered (into the house of Allahs Prophet ﷺ as a wife) Zainab, daughter of Jahsh, and her name was also Barra, and he gave her the name of Zainab.
برے نام رکھنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ قَالَ سَمَّيْتُ ابْنَتِي بَرَّةَ فَقَالَتْ لِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ هَذَا الِاسْمِ وَسُمِّيتُ بَرَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُزَکُّوا أَنْفُسَکُمْ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْبِرِّ مِنْکُمْ فَقَالُوا بِمَ نُسَمِّيهَا قَالَ سَمُّوهَا زَيْنَبَ
عمرو ناقد ہاشم بن قاسم لیث، یزید بن ابی حبیب، محمد بن عمرو بن عطاء، حضرت محمد بن عمر بن عطا (رح) سے روایت ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا تو مجھے زینب بنت ابوسلمہ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے اور میرا نام برہ رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے نام کو پاکیزہ نہ کہو اللہ ہی تم میں نیکی کرنے والوں کو جانتا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا ہم پھر اس کا کیا نام رکھیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔
Muhammad bin Amr bin Ata reported: I had given the name Barra to my daughter. Zainab, daughter of Abu Salama, told me that Allahs Messenger ﷺ had forbidden me to give this name. (She said): I was also called Barra, but Allahs Messenger ﷺ said: Dont hold yourself to be pious. It is God alone who knows the people of piety among you. They (the Companions) said: Then, what name should we give to her? He said: Name her as Zainab.
شہنشاہ نام رکھنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ قَالَ الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَخْنَعَ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّی مَلِکَ الْأَمْلَاکِ زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ لَا مَالِکَ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْأَشْعَثِيُّ قَالَ سُفْيَانُ مِثْلُ شَاهَانْ شَاهْ و قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو عَنْ أَخْنَعَ فَقَالَ أَوْضَعَ
سعید بن عمرو اشعثی، احمد بن حنبل، ابوبکر بن ابی شیبہ، احمد اشعثی سفیان بن عیینہ، ابوزناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے برا نام یہ ہے کہ کسی آدمی کا نام شہنشاہ رکھا جائے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اللہ کے سوا کوئی شہنشاہ نہیں کا اضافہ کیا ہے حضرت سفیان نے کہا مَلِکَ الْأَمْلَاکِ کا مطلب بادشاہوں کے بادشاہ ہے اور احمد بن حنبل نے کہا میں نے ابوعمر ؓ سے اخنع کا معنی پوچھا تو انہوں نے کہا سب سے زیادہ ذلیل۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The vilest name in Allahs sight is Malik al-Amidh (King of Kings). The narration transmitted on the authority of Shaiba (contains these words): There is no king but Allah, the Exalted and Glorious. Sufyan said: Similarly, the word Shahinshah (is also the vilest appellation). Ahmad bin Hanbal said: I asked Abu Amr about the meaning of Akhna. He said: The vilest.
شہنشاہ نام رکھنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْيَظُ رَجُلٍ عَلَی اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَخْبَثُهُ وَأَغْيَظُهُ عَلَيْهِ رَجُلٍ کَانَ يُسَمَّی مَلِکَ الْأَمْلَاکِ لَا مَلِکَ إِلَّا اللَّهُ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی رسول اللہ ﷺ سے مروی احادیث میں سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض اور بد ترین آدمی وہ ہوگا جس کا نام شہنشاہ رکھا گیا ہوگا اللہ کے سوائے کوئی بادشاہ نہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported from Allahs Messenger ﷺ so many ahadith and one of them was this that Allahs Messenger ﷺ said: The most wretched person in the sight of Allah on the Day of Resurrection and the worst person and target of His wrath would of the person who is called Malik al-Amlak (the King of Kings) for there is no king but Allah.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ ذَهَبْتُ بِعْبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَائَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ هَلْ مَعَکَ تَمْرٌ فَقُلْتُ نَعَمْ فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاکَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
عبدالاعلی بن حماد حماد بن سلمہ ثابت بن انس بن مالک، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن ابوطلحہ انصاری ؓ کی ولادت کے بعد اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت سخت کام میں مشغول تھے یعنی اپنے اونٹ کو روغن مل رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس کھجوریں ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں اور میں نے کچھ کھجوریں آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیں آپ ﷺ نے انہیں اپنے منہ میں ڈال کر چبایا پھر اس بچے کا منہ کھول کر آپ ﷺ نے انہیں بچے کے منہ میں ڈال دیا بچہ نے اسے چوسنا شروع کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار کو کھجوریں پسندیدہ ہیں اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
Anas bin Malik (RA) reported: I took Abdullah bin Abi Talha Ansari to Allahs Messenger ﷺ at the time of his birth. Allahs Messenger ﷺ was at that time wearing a woollen cloak and besmearing the camels with tar. He said: Have you got with you the dates? I said: Yes. He took hold of the dates and put them in his mouth and softened them, then opened the mouth of the infant and put that in it and the child began to lick it. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: The Ansar have a liking for the dates, and he (the Holy Prophet) gave him the name of Abdullah.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَکِي فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ مَا فَعَلَ ابْنِي قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هُوَ أَسْکَنُ مِمَّا کَانَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَائَ فَتَعَشَّی ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ وَارُوا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ أَعْرَسْتُمْ اللَّيْلَةَ قَالَ نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَهُمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْمِلْهُ حَتَّی تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَی بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعَثَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَمَعَهُ شَيْئٌ قَالُوا نَعَمْ تَمَرَاتٌ فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ ثُمَّ حَنَّکَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ابن عون ابن سیرین، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ ؓ کا بیٹا بیمار تھا ابوطلحہ ؓ کہیں باہر تشریف لے گئے تو بچہ فوت ہوگیا جب ابوطلحہ ؓ واپس آئے تو پوچھا میرے بیٹے کیا کیا حال ہے ام سلیم نے کہا وہ پہلے سے افاقہ میں ہے پھر انہیں شام کا کھانا پیش کیا ابوطلحہ ؓ نے کھانا کھایا پھر اپنی بیوی سے صحبت کی جب فارغ ہوئے تو ام سلیم نے کہا بچے کو دفن کردو جب صبح ہوئی تو ابوطلحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے رات کو صحبت بھی کی تو انہوں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ان دونوں کے لئے برکت عطا فرمایا چناچہ ام سلیم کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو ابوطلحہ ؓ نے مجھے کہا کہ اسے اٹھا کر نبی ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ انس اسے نبی ﷺ کی خدمت میں لائے اور ام سلیم نے کچھ کھجوریں بھی ساتھ بھیج دیں نبی ﷺ نے بچہ کے لے کو فرمایا کیا اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے صحابہ نے عرض کیا جی ہاں کھجوریں ہیں آپ ﷺ نے انہیں لے کر چبایا پھر اس کے تالو سے لگایا اور ان کھجوروں کو بچہ کے منہ میں ڈال دیا۔
Anas bin Malik (RA) reported that the son of Abu Talha had been ailing. Abu Talha set out (on a journey) and his son breathed his last (in his absence). When Abu Talha came back, he said (to his wife): What about my child? Umm Sulaim (the wife of Abu Talha) said: He is now in a more comfortable state than before. She served him the evening meal and he took it. He then came to her (and had sexual intercourse with her) and when it was all over she said: Make arrangements for the burial of the child. When it was morning. Abu Talha came to Allahs Messenger ﷺ and informed him, whereupon he said: Did you spend the night with her. He said: Yes. He (the Holy Prophet) then said: O Allah, bless both of them (and as a result of blessing) she gave birth to a child. Abu Talha said to me (Anas bin Malik (RA)) to take the child, (so I took him) and came to Allahs Messenger ﷺ . She (Umm Sulaim) also had sent some dates (along with the child). Allahs Apostle ﷺ took him (the child) (in his lap) and said: Is there anything with you (for Tahnik). They (the Companions) said: Yes. Allahs Apostle ﷺ took hold of them (dates and chewed them). He then put them (the chewed dates) in the mouth of the child and then rubbed his palate and gave him the name of Abdullah.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ
محمد بن بشار، حامد بن مسعدہ ابن عون محمد بن انس، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Anas through another chain of transmitters.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّکَهُ بِتَمْرَةٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن براد، اشعری ابوکریب ابواسامہ برید ابوبردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو میں اسے نبی ﷺ کے پاس لایا آپ ﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور سے گھٹی دی۔
Abu Musa reported: A child was born in my house and I brought him to Allahs Apostle ﷺ (may peace be upod him) and he gave him the name of Ibrahim and he rubbed his palate with dates.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَقَ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا قَالَا خَرَجَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ حِينَ هَاجَرَتْ وَهِيَ حُبْلَى بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَقَدِمَتْ قُبَاءً فَنُفِسَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بِقُبَاءٍ ثُمَّ خَرَجَتْ حِينَ نُفِسَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُحَنِّكَهُ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَكَثْنَا سَاعَةً نَلْتَمِسُهَا قَبْلَ أَنْ نَجِدَهَا فَمَضَغَهَا ثُمَّ بَصَقَهَا فِي فِيهِ فَإِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ بَطْنَهُ لَرِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَتْ أَسْمَاءُ ثُمَّ مَسَحَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ثُمَّ جَاءَ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانٍ لِيُبَايِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ بِذَلِكَ الزُّبَيْرُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ مُقْبِلًا إِلَيْهِ ثُمَّ بَايَعَهُ
حکم بن موسیٰ ابوصالح شعیب ابن اسحاق ہشام بن عروہ عروہ ابن زبیر فاطمہ بنت منذر بن زبیر اسما بنت ابوبکر حضرت عروہ ؓ بن زبیر اور فاطمہ بنت منذر بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ حالت حمل میں ہجرت کے لئے چلیں جب قباء آئیں تو عبداللہ پیدا ہوئے پھر وہ رسول اللہ کی خدمت میں گھٹی کے لئے حاضر ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ کو ان سے لے لیا اور اپنی گود میں بٹھا کر کھجور منگوائی حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ہم تھوڑی دیر کھجوریں تلاش کرتے رہے پھر آپ ﷺ نے اسے چبا کر اس کا لعاب دہن بچہ کے منہ میں ڈالا پس سب سے پہلی چیز جو اس بچہ کے منہ میں گئی وہ رسول اللہ ﷺ کا لعاب تھا اسما نے کہا پھر آپ ﷺ نے اس بچہ پر ہاتھ پھیرا اور آپ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھا پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سات یا آٹھ سال کی عمر میں حضرت زبیر ؓ کے حکم پر آپ ﷺ سے بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے جب اسے اپنی طرف آتے دیکھا تو مسکرائے پھر اسے بیعت کرلیا۔
Urwa bin Zubair and Fatima daughter of Mandhir bin Zubair, reported that Asma daughter of Abu Bakr (RA) was at the time of migration in the family way with Abdullah bin Zubair (in her womb). She came to Quba and gave birth to Abdullah at that place and then sent him to Allahs Messenger ﷺ so that he should rub his palate with chewed dates. Allahs Messenger (may peace he upon him) took hold of him (the child) and he placed him in his lap and then called for dates. Aisha said: Some time was spent before we were able to find them. He (the Holy Prophet) chewed them and then put his saliva in his mouth. The first thing that entered his stomach, was the saliva of Allahs Messenger ﷺ . Asma said: He then rubbed him and blessed him and gave him the name ofAbdullah. He (Abdullah) went to him (the Holy Prophet) when he had attained the age of seven or eight years in order to pledge allegiance to Allahs Messenger ﷺ as Zubair had commanded him to do. Allahs Messenger ﷺ smiled when he saw him coming towards him and then accepted his allegiance.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَکَّةَ قَالَتْ فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ بِقُبَائٍ فَوَلَدْتُهُ بِقُبَائٍ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ فِي حَجْرِهِ ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ فَمَضَغَهَا ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ فَکَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ دَخَلَ جَوْفَهُ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ حَنَّکَهُ بِالتَّمْرَةِ ثُمَّ دَعَا لَهُ وَبَرَّکَ عَلَيْهِ وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ
ابوکریب محمد بن علاء ابواسامہ ہشام، اسماء ؓ سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں عبداللہ بن زبیر ؓ سے حاملہ تھی جب میں مکہ سے نکلی تو میں نے اسے قباء میں جنم دیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا پھر کھجوریں منگوائیں ان کو چبا کر بچہ کے منہ میں لعاب ڈالا اور سب سے پہلی چیز جو اس کے پیٹ میں گئی وہ رسول اللہ کا لعاب مبارک تھا پھر آپ ﷺ نے انہیں کھجور کی گھٹی دی پھر اس کے لئے برکت کی دعا کی اور یہ سب سے پہلے بچے تھے جو مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوئے۔
Asma reported that she had become pregnant at Makkah withAbdullah bin Zubair (in her womb) and she (further) said: I set out (for migration to Madinah) as I was in the advanced stage of pregnancy. I came to Madinah and got down at the place known as Quba and gave birth to a child there. Then I came to Allahs Messenger (may peace he upon him). He placed him (the child) in his lap and then commanded for the dates to be brought. He chewed them and then put the saliva in his mouth. The first thing which went into his stomach was the saliva of Allahs Messenger ﷺ . He then rubbed his palate with dates and then invoked blessings for him and blessed him. He was the first child who was born in Islam (after Migration).
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهَا هَاجَرَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَی بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ
ابوبکر بن ابی شبیہ خالد بن مخلد علی بن مسہر، ہشام بن عروہ حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف حضرت عبداللہ ؓ بن زبیر کے حمل سے ہجرت کی باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
Asma, daughter of Abu Bakr, reported that when she migrated to Allahs Messenger ﷺ in Madinah she was in the family way withAbdullah bin Zubair in her womb.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُؤْتَی بِالصِّبْيَانِ فَيُبَرِّکُ عَلَيْهِمْ وَيُحَنِّکُهُمْ
ابوبکر بن ابی شبیہ عبداللہ بن نمیر ہشام ابن عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بچے لائے جاتے تھے آپ ﷺ ان کے لئے برکت کی دعا فرماتے اور انہیں گھٹی دیتے۔
Aisha reported that the new-born infants were brought to Allahs Messenger ﷺ . He blessed them and rubbed their palates with dates.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جِئْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّکُهُ فَطَلَبْنَا تَمْرَةً فَعَزَّ عَلَيْنَا طَلَبُهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر ہشام حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ بن زبیر ؓ کو نبی ﷺ کی خدمت میں لائے آپ ﷺ نے انہیں گھٹی دی ہم نے کھجور تلاش کی تو ہمیں اس کا تلاش کرنا مشکل ہوا یعنی مشکل سے ملی۔
Aisha reported: We took Abdullah bin Zubair to Allahs Apostle ﷺ so that he should put saliva in his mouth and we had to make a good deal of effort in order to procure them.
پیدا ہونے والے بچے کی گھٹی دینے اور گھٹی دینے کے لئے کسی نیک آدمی کی طرف اٹھا کرلے جانے کے استح اور ولادت کے دن اس کا نام رکھنے کے جواز اور عبداللہ ابراہیم اور تمام انبیاء (علیہ السلام) کے نام پر نام رکھنے کے استح کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَوَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ فَلَهِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْئٍ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ فَاحْتُمِلَ مِنْ عَلَی فَخِذِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْلَبُوهُ فَاسْتَفَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أَقْلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ مَا اسْمُهُ قَالَ فُلَانٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَکِنْ اسْمُهُ الْمُنْذِرُ فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ
محمد بن سہل تمیمی ابوبکر بن اسحاق ابن ابی مریم محمد بن مطرف ابوغسان ابوحازم، سہل بن سعد منذر بن ابی اسید حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ جب منذر بن ابواسید پیدا ہوئے تو انہیں رسول اللہ کی خدمت میں لایا گیا نبی ﷺ نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا ابو اسید بھی حاضر خدمت تھا رسول اللہ اپنے سامنے موجود کسی چیز میں مشغول ہوگئے اباسید نے اپنے بیٹے کو اٹھانے کا حکم دیا تو اسے رسول اللہ کی ران پر سے اٹھا لیا گیا وہ اسے لے گئے جب رسول اللہ ﷺ اپنے کام سے فارغ ہو کر متوجہ ہوئے تو فرمایا بچہ کہاں ہے ابواسید نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے اسے اٹھالیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس کا نام کیا ہے عرض کیا اے اللہ کے رسول فلاں ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں! بلکہ اس کا نام منذر ہے پھر آپ ﷺ نے اس کا نام اسی دن سے منذر رکھ دیا۔
Sahl bin Sad reported that Mundhir bin Aba Usaid was brought to Allahs Messenger ﷺ at the time of his birth Allahs. Apostle ﷺ placed him on his thigh and Abi Usaid kept sitting there. Allahs Apostle ﷺ had been occupied with something else before him. Abu Usaid commanded his child to be lifted from the lap of Allahs Messenger ﷺ and so he was lifted. When Allahs Messenger ﷺ had finished the work he said: Where is the child? Abd Usaid said: Allahs Messenger, we took him away. He said: What is his name? He said; Allahs Messenger, it is so and so, whereupon he (the Holy Prophet) said: Nay, his name is Mundhir, and named him Mundhir on that day.
لا ولد کے لئے اور بچہ کی کنیت رکھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَکَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ کَانَ فَطِيمًا قَالَ فَکَانَ إِذَا جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ فَکَانَ يَلْعَبُ بِهِ
ابوربیع سلیم ابن داؤد عتکی، عبدالوارث ابوتیاح انس بن مالک، شیبان بن فروخ عبدالوارث ابی تیاح، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اخلاق کے اعتبار سے سب سے اچھے تھے میرا ایک بھائی تھا جسے ابوعمیر کہا جاتا تھا راوی کہتا ہے کہ میں گمان کرتا ہوں کہ حضرت انس ؓ نے کہا کہ اس کا دودھ چھوٹ گیا جب رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے تو اسے دیکھ کر فرماتے اے ابوعمیر! نغیر (ایک پرندے کا نام) نے کیا کیا اور وہ اس پرندہ سے کھیلا کرتے تھے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ had the sublimest character among mankind. I had a brother who was called Abu Umair. I think he was weaned. When Allahs Messenger (may peace he upon him) came to our house he saw him, and said: Abu Umair, what has the sparrow done? He (Anas) said that he had been playing with that.
غیر کے بیٹے کو محبت وپیار کی وجہ سے اے میرے بیٹے کہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بُنَيَّ
محمد بن عبیدالغیری ابوعوانہ، ابوعثمان، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اے میرے بیٹے فرمایا۔
Anas b Malik reported that Allahs Messenger ﷺ addressed me: O My Son.
غیر کے بیٹے کو محبت وپیار کی وجہ سے اے میرے بیٹے کہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ مَا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ عَنْ الدَّجَّالِ أَکْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي أَيْ بُنَيَّ وَمَا يُنْصِبُکَ مِنْهُ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّکَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ أَنْهَارَ الْمَائِ وَجِبَالَ الْخُبْزِ قَالَ هُوَ أَهْوَنُ عَلَی اللَّهِ مِنْ ذَلِکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی عمر ابن ابی عمر یزید بن ہارون، اسماعیل بن ابی خالد قیس بن ابی حازم، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ دجال کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے جتنے سوال میں نے کئے اور کسی نے نہیں کئے تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا اے بیٹے تجھے اس کے بارے میں کیا فکر ہے وہ تجھے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا میں نے عرض کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ پانی کی نہریں اور روٹی کے پہاڑ ہوں گے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک یہ بات اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔
Mughira bin Shubah reported that none else had asked more questions from Allahs Messenger ﷺ about the Dajjal than I, but he simply said in a slight mood): O, my son, why are you worried because of him? He will not harm you. I said: The people think that he would have with him rivers of water and mountains of bread, whereupon he said: He would be more insignificant in the sight of Allah than all these things (belonging to him).
غیر کے بیٹے کو محبت وپیار کی وجہ سے اے میرے بیٹے کہنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُغِيرَةِ أَيْ بُنَيَّ إِلَّا فِي حَدِيثِ يَزِيدَ وَحْدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، سریج بن یونس ہیشم اسحاق بن ابراہیم، جریر، محمد بن رافع ابواسامہ اسماعیل ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے فرق یہ ہے کہ ان میں آپ ﷺ نے حضرت مغیرہ کو اے بیٹے نہیں کہا۔
This hadith has been reported on the authority of Ismail, with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
اجازت مانگنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا کُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ فَأَتَانَا أَبُو مُوسَی فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا قُلْنَا مَا شَأْنُکَ قَالَ إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَأْتِيَنَا فَقُلْتُ إِنِّي أَتَيْتُکَ فَسَلَّمْتُ عَلَی بَابِکَ ثَلَاثًا فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُکُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ فَقَالَ عُمَرُ أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُکَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ قَالَ فَاذْهَبْ بِهِ
عمرو بن محمد بن بکیر ناقد سفیان بن عیینہ، یزید بن خصیفہ بسر بن سعید ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں مدینہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسی گھبرائے یا سہمے ہوئے ہمارے پاس آئے ہم نے کہا تجھے کیا ہوا انہوں نے کہا حضرت عمر ؓ نے مجھے اپنے پاس بلایا میں ان کے دروازے پر حاضر ہوا تو میں نے تین مرتبہ سلام کیا لیکن مجھے کوئی جواب نہ ملا تو میں واپس آگیا حضرت عمر ؓ نے (بعد میں) کہا کہ تجھے ہمارے پاس آنے سے کس چیز نے روکا میں نے عرض کیا میں نے آپ کے دروازے پر حاضر ہو کر تین مرتبہ سلام کیا لیکن جواب نہ دیا گیا، تو کوئی اگر تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو چاہئے کہ وہ واپس لوٹ جائے۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس پر گواہی پیش کرو رونہ میں تجھے سزا دوں گا حضرت ابی بن کعب ؓ نے کہا ان کے ساتھ وہی جائے گا جو قوم میں سب سے چھوٹا ہوگا ابوسعید نے کہا میں نے عرض کیا میں قوم میں سب چھوٹا ہوگا ابوسعید نے کہا میں نے عرض کیا میں قوم میں سب سے چھوٹا ہوں فرمایا ان کو لے جاؤ۔
Abu Said Khudri reported: I was sitting in Madinah in the company of the Ansar that Abu Musa came trembling with fear. We said to him: What is the matter? He said: Umar (RA) sent for me. I went to him and paid him salutation thrice at (his) door but he made no response to me and so I came back. Thereupon he (Umar) said: What stood in your way that you did not turn up? I said: I did come to you and paid you salutations at your door three times but I was not given any response, so I came back as the Messenger of Allah ﷺ has said: When any one of you seeks permission three times and he was not granted permission, he should come back. Umar said: Bring a witness to support that you say, otherwise I shall take you to task. Ubayy bin Kab said: None should stand with him (as a witness) but the youngest amongst the people. Abu Said said: I am the youngest amongst the people, whereupon he said: Then you go with him (to support his contention).