حدود کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 31 · 72 hadiths · Page 1 of 4

4398Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطَعُ السَّارِقَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا

یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری، عمرہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ چوتھائی دینار میں چور کا ہاتھ کاٹتے تھے یا اس سے زیادہ میں

Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ cut off the hand of a thief for a quarter of a dinar or more.

4399Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ کَثِيرٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، سلیمان بن کثیر، ابراہیم بن سعد، زہری اسی حدیث کے دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔

This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri.

4400Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ وَاللَّفْظُ لِلْوَلِيدِ وَحَرْمَلَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ولید بن شجاع، ابن وہب، یونس، شہاب، عروہ، عمرہ، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ سوائے چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے نہ کاٹا جائے

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The hand of a thief should not be cut off but for a quarter of a dinar and upwards.

4401Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ وَأَحْمَدَ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَمَا فَوْقَهُ

ابوطاہر، ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ہارون، احمد، ابن وہب، مخرمہ، سلیمان بن ابی یسار، عمرہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ہاتھ نہ کاٹا جائے سوائے چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں۔

Aisha reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The hand (of a thief) should not be cut off but for a quarter of a dinar and what is above that.

4402Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا

بشر بن حکم عبدی، عبدالعزیز بن محمد، یزید بن عبداللہ بن ہاد، ابی بکر بن محمد، عمرہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے سوائے چوتھائی دینار میں یا اس سے زیادہ میں۔

Aisha reported that she heard Allahs Apostle ﷺ as saying: The hand of the thief may not be cut off but for a quarter of a dinar and upwards.

4403Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، اسحاق بن منصور، ابی عامر عقدی، عبداللہ بن جعفر، مخرمہ، یزید ابن عبداللہ ابن ہاد اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Yazid bin Abdullah bin al-Had with the same chain of transmitters.

4404Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

وحدثنا محمدبن عبدالله بن نمير حدثنا حميد بن عبدالرحمن الرواسیعن هشام بن عروة عن ابيه عن عآئشة قالت لم تقطع يدسارق فی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم فی اقل من ثمن المجن جحفة او ترس وکلا هما ذوثمنٍ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، حمید بن عبدالرحمن رواسی، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جحفہ یا ترس ڈھال کی قیمت سے کم میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا اور یہ دونوں (ڈھالیں) قیمت والی ہیں۔

Aisha reported that during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ the hand of the thief was not cut off for less than the price of a shield, iron coat or armour and both of them are valuable.

4405Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

وحدثنا عثمان بن ابی شيبة اخبرنا عبدة بن سليمان وحميد بن عبدالرحمان م وحدثنا ابوبکر بن ابی شيبة حدثنا عبدالرحيم ابن سليمان م وحدثنا ابوکريب حدثنا ابواسامة کلهم عن هشام بهذاالاسناد نحو حديث ابن نمير عن حميد بن عبدالرحمان الرواسی وفی حديث عبدالرحيم وابی اسامة وهو يومئذ ذوثمن

عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، حمید بن عبدالرحمن، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام اسی حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں اور اس میں ہے کہ ان دنوں یہ قیمت والی تھی۔

This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters, and in the hadith narrated by Abdul Rahim and Abu Usama (the words are): "That (the shield) was valuable those days."

4406Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ

یحییٰ بن یحیی، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چور کا ہاتھ ایک ایسی ڈھال کے بدلہ میں کاٹا جس کی قیمت تین دراہم تھے۔

Ibn Umar reported that Allahs Messenger (may peace upon him) cut off the hand of a thief (in case of the theft) of a shield the price of which was three dirhams.

4407Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَأَيُّوبَ بْنِ مُوسَی وَإِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَإِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ وَمُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَی عَنْ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ قِيمَتُهُ وَبَعْضَهُمْ قَالَ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ

قتیبہ بن سعید، ابن رمح، لیث بن سعد، زہیر بن حرب، ابن مثنی، یحیی، قطان، ابن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ، زہیر بن حرب، اسماعیل یعنی ابن علیہ، ابوربیع، ابوکامل، حماد، محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، ایوب سختیانی، ایوب بن موسی، اسماعیل بن امیہ، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابونعیم، سفیان، ایوب، اسماعیل بن امیہ، عبیداللہ، موسیٰ بن عقبہ، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، اسماعیل بن امیہ، ابوطاہر، ابن وہب، حنظلہ بن ابی سفیان جمحی، عبداللہ بن عمر، مالک بن انس، اسامہ بن زید لیثی، نافع ابن عمر، مختلف اسناد سے حدیث زکر کی ہے کہ سارے محدثین حضرت ابن عمر ؓ سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث یحی عن مالک کی طرح روایت کی ہے بعض نے قیمت اور بعض نے اس کا ثمن تین دراہم ذکر کی ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through some other chains of transmitters but with a slight variation of words.

4408Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انڈا چوری کرنے والے چور پر اللہ لعنت کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور جو رسی چوری کرتا ہے اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Let there be the curse of Allah upon the thief who steals an egg and his hand is cut off, and steals a rope and his hand is cut off.

4409Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ کُلُّهُمْ عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ إِنْ سَرَقَ حَبْلًا وَإِنْ سَرَقَ بَيْضَةً

عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش ؓ سے بھی یہ حدیث ان اسناد سے روایت کی گئی ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ وہ رسی چوری کرے اور اگرچہ وہ انڈا ہی چوری کرے۔

This hadith is narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters with a slight variation of words.

4410Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُکَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَهْلَکَ الَّذِينَ قَبْلَکُمْ أَنَّهُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَکُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ إِنَّمَا هَلَکَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ قریش نے ایک مخزوی عورت کے بارے میں مشورہ کیا جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون گفتگو کرے گا؟ تو انہوں نے کہا جو اس بات پر جرات کرسکتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے پیارے اسامہ ؓ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ آپ ﷺ سے اسامہ نے گزارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا تو فرمایا اے لوگو؟ تم میں سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا اس میں سے جب کو کوئی معزز چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور ان میں سے کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کردیتے اور اللہ کی قسم! اگر فاطمہ ؓ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور ابن رمح کی حدیث میں ہے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

Aisha reported that the Quraish had been anxious about the Makhzumi woman who had committed theft, and said: Who will speak to Allahs Messenger ﷺ about her? They said: Who dare it, but Usama, the loved one of Allahs Messenger ﷺ ? So Usama spoke to him. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Do you intercede regarding one of the punishments prescribed by Allah? He then stood up and addressed (people) saying: O people, those who have gone before you were destroyed, because if any one of high rank committed theft amongst them, they spared him; and it anyone of low rank committed theft, they inflicted the prescribed punishment upon him. By Allah, if Fatima, daughter of Muhammad, were to steal, I would have her hand cut off. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Rumh (the words are): "Verily those before you perished."

4411Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ فَقَالُوا مَنْ يُکَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمَهُ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ أُسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمَّا کَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَطَبَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا أَهْلَکَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ أَنَّهُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَکُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِتِلْکَ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا قَالَ يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدُ وَتَزَوَّجَتْ وَکَانَتْ تَأتِينِي بَعْدَ ذَلِکَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، زوجہ نبی سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ قریش نے اس عورت کے بارے میں مشو رہ کیا جس نے غزوہ فتح مکہ میں نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کون گفتگو کرے گا؟ انہوں نے کہا محبوب رسول اللہ ﷺ حضرت اسامہ بن زید ؓ کے علاوہ اس بات پر کوئی جرات نہ کرے گا۔ تو انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا گیا۔ تو اس عورت کے معاملہ میں آپ ﷺ سے اسامہ بن زید ؓ نے گفتگو کی تو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس کا رنگ تبدیل ہوگیا اور فرمایا کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتا ہے؟ تو اسامہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول؟ ﷺ میرے لئے مغفرت طلب کریں۔ جب شام ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کی تعریف بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر فرمایا اما بعد؟ تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ ان میں سے جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دتیے اور جب ان میں سے ضعیف چوری کرتا تو اس پر حد کرتے اور قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا اس عورت کے بارے میں جس نے چوری کی تھی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس کی توبہ بہت عمدہ تھی اور اس کے بعد اس کی شادی ہوئی اور وہ اس کے بعد میرے پاس تھی اور میں اس کی ضرورت رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتی تھی۔

Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that the Quraish were concerned about the woman who had committed theft during the lifetime of Allahs Apostle ﷺ , in the expedition of Victory (of Makkah). They said: Who would speak to Allahs Messenger ﷺ about her? They (again) said: Who can dare do this but Usama b Zaid, the loved one of Allahs Messenger ﷺ ? She was brought to Allahs Messenger ﷺ and Usama bin Zaid spoke about her to him (interceded on her behalf). The colour of the face of Allahs Messenger ﷺ changed, and he said: Do you intercede in one of the prescribed punishments of Allah? He (Usama) said: Messenger of Allah, seek forgiveness for me. When it was dusk. Allahs Messenger ﷺ stood up and gave an address. He (first) glorified Allah as He deserves, and then said: Now to our topic. This (injustice) destroyed those before you that when any one of (high) rank committed theft among them, they spared him, and when any weak one among them committed theft, they inflicted the prescribed punishment upon him. By Him in Whose Hand is my life, even if Fatima daughter of Muhammad were to commit theft, I would have cut off her hand. He (the Holy Prophet) then commanded about that woman who had committed theft, and her hand was cut off. Aisha (further) said: Hers was a good repentance, and she later on married and used to come to me after that, and I conveyed her needs (and problems) to Allahs Messenger ﷺ .

4412Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَتْ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهَا فَأَتَی أَهْلُهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَکَلَّمُوهُ فَکَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَيُونُسَ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ مخزومی عورت مال ومتاع ادھار لے کر منکر ہوجاتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ اس کا اہل و عیال حضرت اسامہ بن زید ؓ کے پاس ان سے گفتگو کرنے کے لئے آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں بات کی۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Aisha reported that a woman from the tribe of Makhzum used to borrow things (from people) and then denied (having taken them). Allahs Apostle ﷺ commanded her hand to be cut off. Her relatives came to Usama bin Zaid and spoke to him (requesting him to intercede on her behalf). He spoke to Allahs Messenger ﷺ about her. The rest of the hadith is the same.

4413Sahih Muslim

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوْ کَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقُطِعَتْ

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ بنی مخزوم میں سے ایک عورت نے چوری کی اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ تو اس نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے ذریعہ پناہ مانگی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔

Jaibir reported that a woman from the tribe of Makhzum committed theft. She was brought to Allahs Apostle ﷺ and she sought refuge (intercession) from Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle ﷺ . Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: By Allah, even if she were Fatima, I would have her hand cut off. And thus her hand was cut off.

4414Sahih Muslim

زنا کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ہشیم، منصور، حسن، حطان بن عبداللہ، رقاشی، حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ اللہ نے فرمایا مجھ سے حاصل کرلو مجھ سے حاصل کرلو۔ تحقیق اللہ نے عورتوں کے لئے راستہ بنایا ہے کنوارا مرد کنواری عورت سے جو زنا کرنے والا ہو تو ان کو سو کوڑے مارو اور ایک سال کے لئے ملک بدر کرو (مصلحت کے تحت) اور شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو سو کوڑے مارو اور رجم یعنی سنگسار کرو۔

Ubadah bin as-Samit reported: Allahs Messenger ﷺ as saying: Receive (teaching) from me, receive (teaching) from me. Allah has ordained a way for those (women). When an unmarried male commits adultery with an unmarried female (they should receive) one hundred lashes and banishment for one year. And in case of married male committing adultery with a married female, they shall receive one hundred lashes and be stoned to death.

4415Sahih Muslim

زنا کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

عمرو ناقد، ہشیم، منصور ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے

The above hadith is likewise narrated through another chain of transmitters.

4416Sahih Muslim

زنا کی حد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ کَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ کُرِبَ لِذَلِکَ وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ قَالَ فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلُقِيَ کَذَلِکَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ خُذُوا عَنِّي فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِکْرُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالاعلی، سعید، قتادہ، حسن، حطان بن عبداللہ رقاشی، حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ ﷺ اس وجہ سے مشکل محسوس کرتے اور آپ ﷺ کا چہرہ اقدس متغیر ہوجاتا راوی کہتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ پر وحی نازل کی گئی تو اسی طرح کی کیفیت ہوگئی۔ پس جب آپ ﷺ سے وہ کیفیت ختم ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ سے حاصل تحقیق عورتوں کے لئے اللہ نے راستہ نکالا ہے۔ شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے یا کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو (اس کی حد) سو کوڑے ہیں اور پتھروں کے ساتھ سنگسار کرنا بھی اور کنوارے مرد کو سو کوڑے مارے جائیں پھر ایک سال کے لئے ملک بدر کردیا جائے۔

Ubadah bin as-Samit reported that whenever Allahs Apostle ﷺ received revelation, he felt its rigour and the complexion of his face changed. One day revelation descended upon him, he felt the same rigour. When it was over and he felt relief, he said: Take from me. Verily Allah has ordained a way for them (the women who commit fornication): (When) a married man (commits adultery) with a married woman, and an unmarried male with an unmarried woman, then in case of married (persons) there is (a punishment) of one hundred lashes and then stoning (to death). And in case of unmarried persons, (the punishment) is one hundred lashes and exile for one year.

4417Sahih Muslim

زنا کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا الْبِکْرُ يُجْلَدُ وَيُنْفَی وَالثَّيِّبُ يُجْلَدُ وَيُرْجَمُ لَا يَذْکُرَانِ سَنَةً وَلَا مِائَةً

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بشار، معاذ بن ہشام، حضرت قتادہ ؓ سے بھی ان اسناد سے یہ حدیث مروی ہے۔ ان کی حدیث میں ہے کہ غیر شادی شدہ زانی کو کوڑے مارے جائیں گے اور سنگسار کیا جائے گا اور ان دونوں نے سال اور سو (کوڑوں) کا ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been reported on the authority of Qatada with the same chain of transmitters except with this variation that the unmarried is to be lashed and exiled, and the married one is to be lashed and stoned. There is neither any mention of one year nor that of one hundred.