قسامت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 30 · 56 hadiths · Page 3 of 3

4382Sahih Muslim

آخرت میں قتل کی سزا اور قیامت کے دن اس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سب سے پہلے کیے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ عَنْ شُعْبَةَ يُقْضَی وَبَعْضُهُمْ قَالَ يُحْکَمُ بَيْنَ النَّاسِ

عبیداللہ بن معاذ، یحییٰ بن حبیب، خالد ابن حارث، بشربن خالد، محمد بن ابی عدی، شعبہ، اعمش، ابی وائل، عبداللہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں معنی و مفہوم وہی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah through another chain of transmitters with a slight variation of words.

4383Sahih Muslim

خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَيَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الزَّمَانَ قَدْ اسْتَدَارَ کَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَهْرُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ثُمَّ قَالَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَيْکُمْ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَيَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي کُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلِّغُهُ يَکُونُ أَوْعَی لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ فِي رِوَايَتِهِ وَرَجَبُ مُضَرَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن حبیب حارثی، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابن سیرین، ابن ابی بکرہ، حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ گھوم کر اپنی اسی حالت و صورت پر آگیا جیسا کہ اس دن تھا جس دن اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا سال میں بارہ ماہ ہیں جن میں چار ماہ محترم و معزز ہیں تین متواتر اور ملے ہوئے ہیں ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور مضر کا مہینہ رجب جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہے پھر فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھنے والے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہے کہ آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھیں گے۔ پھر فرمایا کیا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے ہم نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ہم نے خیال آپ ﷺ اس کے علاوہ نام رکھیں گے۔ پھر فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ فرمایا بیشک تمہارے خون اور مال راوی محمد کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسا کہ اس دن کی حرمت اس تمہارے شہر میں اس مہینے میں ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے تو تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ میرے بعد تم کافر یا گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔ آ گاہ رہو چاہیے کہ موجود غائب تک پہنچا دے۔ ہوسکتا ہے جس کو یہ بات پہنچائی جائے وہ زیادہ حفاظت و یاد کرنے والا ہو جس سے اس نے سنا پھر فرمایا سنو کیا میں نے (پیغام حق) پہنچا دیا؟ آ گے روایت کے الفاظ کا اختلاف ذکر کیا ہے کہ ابن حبیب نے کہا اور ابوبکر کی روایت میں (فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي) کے الفاظ ہیں۔

Abu Bakra (RA) reported that (in the Farewell Address) Allahs Apostle ﷺ said: Time has completed a cycle and come to the state of the day when Allah created the heavens and the earth. The year is constituted of twelve months, of which four are sacred; three of them consecutive, viz. Dhul-Qada, Dhul- Hijja and Muharram, and also Rajab the month of Mudar which comes between Jumada and Shaban. He (the Holy Prophet) then said: which month is this? We said Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) remained silent for some time until we thought that he would give it a name other than that (by which it was known). He said: Is it not Dhal-Hijja? We said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophety remained silent until we thought that he would give it another name. He (the Holy Prophet) said: Is it not the Balda (the city of Makkah)? We said: Yes. He said: What day is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophet) remained silent until we thought that he would give it another name. He said: Is it not the Day of Sacrifice? We said: Allahs Messenger. yes. Thereupon he said: Your blood, your property (Muhammad, one of the narrators, said: I think, he also said this) and your honour are sacred to you like the sacredness of this day of yours, in this city of yours, and in this month of yours. You will soon meet your Lord and He will ask you about your deeds. So do not turn after me unbelievers (or misguided), some of you striking the necks of the others. Behold I let him who is present convey to him who is absent, for many a one whom a message is conveyed has a more retentive memory than one who hears. He again said: Behold! have I not delivered (the message) to you? This hadith has been narrated through another chain of transmitters, but with a slight variation of words.

4384Sahih Muslim

خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْيَوْمُ قَعَدَ عَلَی بَعِيرِهِ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَی اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَی اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ قَالَ ثُمَّ انْکَفَأَ إِلَی کَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَإِلَی جُزَيْعَةٍ مِنْ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا

نصر بن علی جہضمی، یزید بن زریع، عبداللہ بن عون، محمد بن سیرین، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب (حجۃ الوداع) کا دن تھا تو آپ ﷺ اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی اور آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آج کونسا دن ہے؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھیں گے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ نحر کا دن نہیں؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر ہی جانتے ہیں راوی کہتے ہیں یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام رکھیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ شہر (مکہ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے امول اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن اس مہینے اور اس شہر میں حرام ہے پس موجود لوگ غائب کو (یہ بات) پہنچا دیں۔ پھر آپ دو سرمئی مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا اور پھر آپ ﷺ بکریوں کے ایک ریوڑ کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم کردیا۔

Abu Bakra (RA) reported that when it was that day (the 10th of Dhul-Hijja) he mounted his camel and a person caught its nosestring, whereupon he said: Do you know which day is this? They said: Allah and His Messenger know best. The Holy Prophet ﷺ [may peace be upon him] kept silent until we thought that he would give that another name. He said: Is it not the day of Nahr (Sacrifice) (10th of Dhul- Hijja)? We said: Allahs Messenger, yes. He (again) said: Which month is it? We said: Allah and His Messenger knows best. He said: Is it not Dhul-Hijja? We said: Allahs Messenger, yes. He said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said (that the Holy Prophet ﷺ kept silent until we thought that he would give it another name besides its (original) name. He said: Is it not Balda (the city of Makkah)? We said: Yes, Allahs Messenger. He (then) said: Verily your blood (lives) and your property and your honour are as sacred unto you as sacred is this day of yours, in this month of yours, in this city of yours. Let him who is present convey it to one who is absent. He then turned his attention towards two multicoloured (black and white) rams and slaughtered them, and two goats, and distributed them amongst us.

4385Sahih Muslim

خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْيَوْمُ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَعِيرٍ قَالَ وَرَجُلٌ آخِذٌ بِزِمَامِهِ أَوْ قَالَ بِخِطَامِهِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ

محمد بن مثنی، حماد بن مسعدہ، ابن عون، محمد، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اس دن (حجۃ الوداع) جب نبی کریم ﷺ اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی آپ ﷺ کے اونٹ کی لگام پکٹرنے والا تھا۔ باقی حدیث یزید بن زریع کی طرح روایت کی۔

Abu Bakra (RA) reported that when it was the day of (Dhul-Hijja) Allahs Apostle ﷺ mounted the camel and addressed and a person had been holding its nosestring. The rest of the hadith is the same.

4386Sahih Muslim

خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَسَمَّی الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْکُرُ وَأَعْرَاضَکُمْ وَلَا يَذْکُرُ ثُمَّ انْکَفَأَ إِلَی کَبْشَيْنِ وَمَا بَعْدَهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ

محمد بن حاتم بن میمون، یحییٰ بن سعید، قرہ بن خالد، محمد بن سیرین، عبدالرحمن بن ابی بکرہ اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔ حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نحر کے دن ارشاد فرمایا تو فرمایا یہ دن کون سا ہے؟ باقی حدیث گزر چکی لیکن اس حدیث میں تمہاری عزت کا لفظ ذکر نہیں کیا اور نہ یہ ذکر کیا کہ پھر آپ ﷺ مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور جو اس کے بعد ہے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ (تمہارا خون وغیرہ) اس دن کی حرمت کی طرح ہے۔ اس مہینے میں اور اس شہر میں تمہارے اپنے رب سے ملاقات کے دن تک۔ آگاہ رہو کیا میں نے پہنچا دیا؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ گواہ رہ۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Bakra (RA) through another chain of transmitters (and the words are): "Allahs Messenger ﷺ addressed us on the day of Nahr (Sacrifice) and said: What day is this? And the rest of the hadith is the same except that he did not make mention of" your honour," and also did not make mention of this: He then turned his attention towards two rams and what follows, and in a hadith (the words pertaining to sacred- ness are recorded in this way):" Like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours to the day when you will meet your Lord. Behold, have I not conveyed (the Message of God)? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness."

4387Sahih Muslim

قتل کے اقرار کی صحت اور مقتول کے ولی کو حق قصاص اور اس سے معافی طلب کرنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا قَتَلَ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَتَلْتَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ قَالَ نَعَمْ قَتَلْتَهُ قَالَ كَيْفَ قَتَلْتَهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ قَالَ مَا لِي مَالٌ إِلَّا كِسَائِي وَفَأْسِي قَالَ فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ قَالَ أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ وَقَالَ دُونَكَ صَاحِبَكَ فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ فَرَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ وَأَخَذْتُهُ بِأَمْرِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَعَلَّهُ قَالَ بَلَى قَالَ فَإِنَّ ذَاكَ كَذَاكَ قَالَ فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ

عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابویونس، سماک بن حرب، علقمہ ابن وائل، حضرت وائل ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھنے والا تھا آدمی آیا جو دوسرے آدمی کو تسمہ سے کھینچتا تھا اس نے کہا اے اللہ کے رسول! ﷺ اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اسے قتل کیا؟ مدعی نے کہا اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو میں گواہی پیش کروں گا اس نے کہا جی ہاں میں نے اسے قتل کیا ہے آپ ﷺ نے کہا تو نے اسے کس وجہ سے قتل کیا؟ اس نے کہا میں اور وہ دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دے کر غصہ دلایا میں نے کلہاڑی سے اس کے سر میں ضرب مار کر اسے قتل کردیا تو اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے جو تو اسے اپنی جان کے بدلہ میں ادا کرسکے؟ اس نے عرض کیا کہ میرے پاس میری چادر اور کلہاڑی کے سوا کوئی چیز نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا تیری قوم کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ وہ تجھے چھڑا لے گی اس نے عرض کیا میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ آسان ہوں یعنی میری کوئی وقعت نہیں آپ ﷺ نے وہ تسمہ اس یعنی وارث مقتول کی طرف پھینک دیا اور فرمایا کہ اپنے ساتھی کو لے جا وہ آدمی اسے لے کر چلا جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی کی طرح ہوجائے گا وہ آدمی لوٹ آیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول مجھے یہ بات پہنچی ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ اسے قتل کرے گا تو اسی کی طرح ہوجائے گا حالانکہ میں نے اسے آپ ﷺ کے ہی حکم سے پکڑا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں چاہتا کہ وہ تیرا اور تیرے ساتھی کا گناہ سمیٹ لے؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ایسا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا اگر ایسا ہی ہے تو بہت اچھا یہ اسی طرح ہے راوی کہتے ہیں کہ اس نے اس کا تسمہ پھینک دیا اور اس کے راستہ کو کھول دیا یعنی آزاد کردیا۔

Alqama bin Wail reported on the authority of his-father: While I was sitting in the company of Allahs Apostle ﷺ , a person came there dragging another one with the help of a strap and said: Allahs Messenger, this man has killed my brother. Allahs Messenger ﷺ said to him: Did you kill him? And the other man said: (In case he did not make a confession of this, I shall bring a witness against him). He (the murderer) said: Yes, I have killed him. He (the Holy Prophet) said: Why did you kill him? He said: I and he were striking down the leaves of a tree and he abused me and enraged me, and to I struck his head with an axe and killed him, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Have you anything with you to pay blood-wit on your behalf? He said: I do not possess any property but this robe of mine and this axe of mine. He (the Holy, Prophet) said: Do you think your people will pay ransom for you? He said: I am more insignificant among my people than this (that I would not be able to get this benefit from my tribe). He (the Holy Prophet) threw the strap towards him (the claimant of the blood-wit) saying: Take away your man. The man took him away, and as he returned, Allahs Messenger ﷺ said: If he kills him, he will be like him. He returned and said: Allahs Messenger, it has reached me that you have said that "If he killed him, he would be like him." I caught hold of him according to your command, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Dont you like that he should take upon him (the burden) of your sin and the sin of your companion (your brother)? He said: Allahs Apostle, why not? The Messenger of Allah ﷺ said: If it is so, then let it be. He threw away the strap (around the offender) and set him free.

4388Sahih Muslim

قتل کے اقرار کی صحت اور مقتول کے ولی کو حق قصاص اور اس سے معافی طلب کرنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ فَانْطَلَقَ بِهِ وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ فَأَتَی رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّی عَنْهُ قَالَ إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فَأَبَی

محمد بن حاتم، سعید بن سلیمان، ہشیم، اسماعیل بن سالم، حضرت علقمہ بن وائل ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا اور مقتول کا وارث اسے کھینچ کر اس حالت میں لے چلا کہ اس کی گردن میں تسمہ تھا جس سے اسے گھسیٹتا تھا۔ جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ پس ایک آدمی وراث مقتول کے پاس آیا اسے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بتایا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا۔ اسماعیل بن سالم نے کہا میں نے حبیب بن ثابت (رح) سے اس کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ مجھے ابن اشوع نے یہ حدیث بیان کی نبی کریم ﷺ نے وارث مقتول سے معاف کرنے کا کہا تھا تو اس نے انکار کردیا۔

Alaqama bin Wail reported on the authority of his father that a person was brought to the Messenger of Allah ﷺ who had killed another person, and the heir of the person slain had dragged him (to the Holy Prophet) with a strap around his neck. As he turned away Allahs Messenger ﷺ said: The killer and the killed are (doomed) to fire. A person came to the other person (the heir of the deceased) and he reported to him the words of the Messenger of Allah ﷺ , and so he let him off. Ismail bin Salim said: I made a mention of it to Habib bin Abu Thabit and he said: Ibn Ashwa reported to me that Allahs Apostle ﷺ had asked him to pardon him, but he refused.

4389Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَی فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بنی ہزیل کی دو عورتوں میں سے ایک عورت نے دوسری کو پھینکا (دھکا دیا) تو اس کا بچہ ضائع ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔

Abu Hurairah (RA) reported that among two women of the tribe of Hudhail one flung a stone upon the other causing an abortion to her. Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) gave judgment that a male or a female slave of best quality be given as compensation.

4390Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَی عَصَبَتِهَا

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی لحیان کی ایک عورت کے حمل کے بچے میں جو مردہ ضائع ہوگیا تھا رسول اللہ ﷺ نے ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا پھر وہ عورت جس کے خلاف غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا فوت ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کی اولاد اور خاوند کے لئے ہوگی اور دیت اس کے خاندان پر ہوگی۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ gave judgment in case of the abortion of a woman of Banu Lihyan (that the offender and near relative should give compensation in the form of) good quality of a slave or a slave-girl. And the woman about whom the judgment was given for compensation died and thereupon Allahs Messenger ﷺ gave judgment that her inheritance goes to her sons and her husband, and the payment of the blood-wit lies with the family of (one who struck her).

4391Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَی بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَی عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَکَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْکُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ

ابوطاہر، ابن وہب، حرملہ ابن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کی طرف پتھر پھینکا تو وہ اور جو اس کے پیٹ میں تھا ہلاک ہوگئے انہوں (لواحقین) نے اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے بچے کی دیت میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا اور عورت کی دیت کا فیصلہ مارنے والی عورت کے خاندان پر دینے کا کیا اور اس کے بیٹے کو اس کا وارث بنایا اور جو ان کے ساتھ ہوں۔ حمل بن نابغہ الہذلی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ میں اس کا تاوان کیسے ادا کروں؟ جس نے نہ پیا اور نہ کھایا نہ بولا اور نہ چلایا پس اس طرح کے بچے کی دیت کو ٹالا جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اپنی قافیہ بندی والی گفتگو کی وجہ سے کاہنوں کا بھائی ہے

Abu Hurairah (RA) reported that two women of the tribe of Hudhail fought with each other and one of them flung a stone at the other, killing her and what was in her womb. The case was brought to Allahs Messenger ﷺ and he gave judgment that the diyat (indemnity) of her unborn child is a male or a female slave of the best quality, and he also decided that the diyat of the woman is to be paid by her relative on the fathers side, and he (the Holy Prophet) made her sons and those who were with them her heirs. Hamal bin al-Nabigha al-Hudhali said: Messenger of Allah, why should I pay blood-wit for one who neither drank, nor ate, nor spoke, nor made any noise; it is like a nonentity (it is, therefore, not justifiable to demand blood-wit for it). Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: He seems to be one of the brothers of soothsavers on account of the rhymed speech which he has composed.

4392Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ وَقَالَ فَقَالَ قَائِلٌ کَيْفَ نَعْقِلُ وَلَمْ يُسَمِّ حَمَلَ بْنَ مَالِکٍ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دو عورتیں لڑ پڑیں۔ باقی حدیث گزر گی لیکن اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے اس کے بیٹے اور جو ان کے ساتھ ہوں کو وارث بنایا اور کہا کہنے والے نے ہم دیت کیسے ادا کریں اور حمل بن مالک کا نام نہیں لیا۔

Abu Hurairah (RA) reported that two women fought-the rest of the hadith is the same but herein no mention has been made of: He made her son and those who were with them her heirs. Someone said: Why should we pay blood-wit? And he did not name Hamal bin Malik.

4393Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ ضَرَبَتْ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ وَهِيَ حُبْلَی فَقَتَلَتْهَا قَالَ وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَی عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا أَکَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعٌ کَسَجْعِ الْأَعْرَابِ قَالَ وَجَعَلَ عَلَيْهِمْ الدِّيَةَ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، منصور، ابراہیم، عبید بن نضیلہ خزاعی، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی لکڑی سے مارا اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی۔ اس نے اسے ہلاک کردیا اور ان میں سے ایک لحیانیہ تھی تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے وارثوں پر رکھی اور ایک غلام پیٹ کے بچے کی وجہ سے قاتلہ کے رشتہ داروں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نے نہ کھایا اور نہ پیا اور نہ چیخاچلا۔ پس ایسے بچہ کی دیت نہیں دی جاتی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا یہ دیہاتیوں کی طرح مسجع (بناوٹی) گفتگو کرتا ہے اور ان پر دیت لازم کردی۔

al-Mughirah bin Shubah reported that a woman struck her co-wife with a tent-pole and she was pregnant and she killed her. One of them belonged to the tribe of Lihyan. Allahs Messenger ﷺ made the relatives of the murderer responsible for the payment of blood-wit on her behalf, and fixed a slave or a female slave as the indemnity for what was in her womb. One of the persons amongst the relatives of the murderer said: Should we pay indemnity for one who, neither ate, nor drank, nor made any noise, who was just like a nonentity? Thereupon Allahs Messenger ﷺ remarked: He speaks rhymed phrases like the people of the desert. He did impose indemnity upon them.

4394Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَتَلَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُتِيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَی عَلَی عَاقِلَتِهَا بِالدِّيَةِ وَکَانَتْ حَامِلًا فَقَضَی فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ فَقَالَ بَعْضُ عَصَبَتِهَا أَنَدِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ قَالَ فَقَالَ سَجْعٌ کَسَجْعِ الْأَعْرَابِ

محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، منصور، ابراہیم، عبید ابن نضیلہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی لکڑی کے ساتھ ہلاک کردیا تو اس مقدمہ میں رسول اللہ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے (قاتلہ) کے خاندان پر دیت کا فیصلہ کیا۔ وہ حاملہ تھی تو آپ ﷺ نے پیٹ کے بچے کا بدلہ ایک غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعض رشتہ داروں نے کہا کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نہ کھایا اور پیا اور چیخا نہ چلایا اور اس طرح کی دیت نہیں دی جاتی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ دیہاتوں کی طرح مسجع گفتگو ہے

al-Mughirah bin Shubahh reported: A woman killed her fellow-wife with a tent-pole. Her case was brought to Allahs Messenger ﷺ , and he gave judgment that blood-wit should be paid by the relatives (of the offender) on the fathers side. And as she was pregnant, he decided regarding her unborn child that a male or a female slave of good quality be given. Some of her offenders relatives said: Should we make compensation for one who never ate, nor drank, nor made any noise, who was like a nonentity? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: He was talking rhymed phrases like the rhymed phrases of desert Arabs.

4395Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ وَمُفَضَّلٍ

محمد بن حاتم، محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، منصور، جریر، مفضل اسی حدیث کی دوسری اسند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters.

4396Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِمْ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ فَأَسْقَطَتْ فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ فَقَضَی فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَی أَوْلِيَائِ الْمَرْأَةِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ دِيَةَ الْمَرْأَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور ؓ نے بھی ان اسناد سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ وہ گرائی گئی اور یہ بات نبی ﷺ تک پہنچائی تو آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام کا فیصلہ کیا اور اسے عورت کے رشتہ داروں کے ذمہ لازم کیا اور اس حدیث میں عورت کی دیت کا ذکر نہیں۔

Mansur transmitted this hadith with a slight variation of words.

4397Sahih Muslim

حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا قَالَ وَقَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ الْآخَرَانِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَکَ قَالَ فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلمَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابی بکر، اسحاق، وکیع، ہشام بن عروہ، حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر خطاب ؓ نے لوگوں سے عورت کے پیٹ کے بارے میں مشورہ طلب کیا تو مخیرہ بن شعبہ نے کہا میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ کیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جو تیرے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہے اسے میرے پاس لے آؤ۔ تو محمد بن مسلمہ ؓ نے ان کی گواہی دی۔

Miswar bin Makhrama reported that Umar bin Khattab consulted people about the diyat of abortion of an unboam child. Mughira bin Shubahh said: I bear witness to the fact that Allahs Messenger ﷺ gave judgment about it that a good quality of slave or female slave should be given for it. Thereupon Umar said: Bring one who may bear witness to you. Then Muhammad bin Maslama bore witness to him.