پتھر اور دھاری دار چیز و بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کے ثبوت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ فَرَضَخَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ
یحییٰ بن حبیب الحارثی، خالد یعنی ابن حارث، ابوکریب، ابن ادریس، شعبہ اسی حدیث مبارکہ کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔ ابن ادریس کی حدیث میں ہے اس کا سر دو پتھروں کے درمیاں کچلا۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters and in the hadith narrated on the authority of Ibn Idris (the words are): "He (commanded) to crush his head between two stones."
پتھر اور دھاری دار چیز و بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَی حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي الْقَلِيبِ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّی يَمُوتَ فَرُجِمَ حَتَّی مَاتَ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ایوب، ابی قلابہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ یہود سے ایک آدمی نے انصار میں سے ایک لڑکی کو قتل کردیا اس کے کچھ زیورات کی وجہ سے پھر اسے کنوئیں میں ڈال دیا اور اس کا سر پتھروں سے کچل دیا وہ پکڑا گیا۔ اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے حکم دیا کہ اس کے مرنے تک اسے پتھر مارے جائیں پس وہ رجم کیا گیا یہاں تک کہ مرگیا۔
Anas reported that a Jew killed a girl of the Ansar for her ornaments and then threw her in a well and smashed her head with a stone. He was caught and brought to the Messenger of Allah ﷺ , and he commanded that he should be stoned to death. So he was stoned until he died.
پتھر اور دھاری دار چیز و بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کے ثبوت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن منصور، محمد بن بکر، ابن جریج، معمر، حضرت ایوب سے بھی یہ حدیث اس سند سے روایت کی گئی ہے
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.
پتھر اور دھاری دار چیز و بھاری چیز سے قتل کرنے میں قصاص اور عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کرنے کے ثبوت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَ رَأْسُهَا قَدْ رُضَّ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَسَأَلُوهَا مَنْ صَنَعَ هَذَا بِکِ فُلَانٌ فُلَانٌ حَتَّی ذَکَرُوا يَهُودِيًّا فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَأَقَرَّ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ
ہداب بن خالد، ہمام، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی ایسی حالت میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچلا گیا تھا لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا فلاں نے یا فلاں نے؟ یہاں تک کہ انہوں نے ایک یہودی کا ذکر کیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا اس یہودی کو گرفتار کیا گیا اس نے اقرار کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھروں سے کچل دیا جائے۔
Anas bin Malik (RA) reported: A girl was found with her head crushed between two stones. They asked her as to who had done that-has so and so (done it) until they mentioned a Jew. She indicated with the nod of her head (that it was so). So the Jew was caught, and he made confession (of his guilt). And Allahs Messenger ﷺ commanded that his head be smashed with stones.
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَاتَلَ يَعْلَی بْنُ مُنْيَةَ أَوْ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ فَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی ثَنِيَّتَيْهِ فَاخْتَصَمَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيَعَضُّ أَحَدُکُمْ کَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، زرارہ، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ یعلی بن منیہ یا ایک آدمی سے جھگڑا ہوا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو منہ میں ڈال کر دانتوں سے کاٹنا چاہا تو اس نے اپنے ہاتھ کو اس کے منہ سے کھینچا جس سے اس کے سامنے کا دانت اکھڑ گیا ابن مثنی نے کہا سامنے کے دونوں دانت۔ انہوں نے اپنا جھگڑا نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے ایک اس طرح کاٹتا ہے جس طرح اونٹ کاٹتا ہے اس کے لئے دیت نہیں ہے۔
Imran bin Husain reported: Yala bin Munya or Ibn Umayya fought with a person, and the one bit the hand of the other. And he tried to draw his hand from his mouth and thus his foreteeth were pulled out. They referred their dispute to Allahs Apostle ﷺ , whereupon he said: Does any one of you bite as the camel bites? So there is no blood-wit for it.
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ يَعْلَی عَنْ يَعْلَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، عطاء، ابن یعلی، حضرت یعلی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح حدیث مبارکہ اس سند سے بھی روایت کی ہے
This hadith has been transmitted on the authority of Yala.
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ فَجَذَبَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهُ وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَأْکُلَ لَحْمَهُ
ابوغسان مسمعی، معاذ یعنی ابن ہشام، ابی قتادہ، زرارہ بن اوفی، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی کلائی پر کاٹا۔ اس نے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو کاٹنے والے کے سامنے کے دو دانت گرگئے۔ اس نے اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے (اس کے دعوی کو) باطل کردیا اور فرمایا کیا تو نے اس کا گوشت کھانے کا ارادہ کیا تھا۔
Imran bin Husain reported that a person bit the arm of another person; he pulled it out and his foretooth fell down. This matter was taken to Allahs Apostle ﷺ , and he turned it down saying: Did you want to eat his flesh?
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَی بْنِ مُنْيَةَ عَضَّ رَجُلٌ ذِرَاعَهُ فَجَذَبَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهَا کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
ابوغسان مسمعی، معاذ بن ہشام، قتادہ، بدیل، عطاء بن ابی رباح، حضرت صفوان بن یعلی ؓ سے روایت ہے کہ یعلی بن مینہ کے مزدور کی کلائی کو ایک آدمی نے کاٹا۔ اس نے کلائی کو کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت گرگئے۔ اس نے یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے باطل کردیا اور فرمایا کیا تو نے اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح کاٹنے کا ارادہ کیا۔
Safwan bin Yala reported that a person bit the arm of the servant of Yala bin Munya. He pulled it and his foretooth fell. The matter was referred to Allahs Apostle ﷺ and he turned it down and said: Did you intend to bite his hand, as the camel bites?
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ ثَنَايَاهُ فَاسْتَعْدَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَأْمُرُنِي تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيکَ تَقْضَمُهَا کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ادْفَعْ يَدَکَ حَتَّی يَعَضَّهَا ثُمَّ انْتَزِعْهَا
احمد بن عثمان نوفلی، قریش بن انس، ابن عون، محمد بن سیرین، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس نے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس (دوسرے) کے سامنے کے دو دانت گرگئے۔ (جس کے دانت گرگئے تھے) اس نے رسول اللہ ﷺ سے فریاد کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو چاہتا ہے کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رکھے اور تو اسے اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹے اچھا تم اپنا ہاتھ (اس کے منہ میں) رکھو یہاں تک کہ وہ اسے کاٹے پھر تو اسے کھینچ۔
Imran bin Husain reported that a person bit the hand of a person. He withdrew his hand and his foretooth or foreteeth fell down. He (the man who lost his teeth) referred the matter to Allahs Messenger ﷺ and he said, What do you want me to do? Do you ask me that I should order him to put his hand in your mouth, and you should bite it as the camel bites? If you want retaliation, then the only way out is that you put your hand in his mouth (allow him) to bite that and then draw it away.
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَائٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی بْنِ مُنْيَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ يَعْنِي الَّذِي عَضَّهُ قَالَ فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهُ کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
شیبان بن فروخ، ہمام، عطاء، صفوان بن یعلی بن منیہ، حضرت یعلی بن منیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی حاضر ہوا جس نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت گرگئے یعنی جس نے کاٹا۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اسے باطل قرار دیا اور فرمایا کیا تم اسے اونٹ کی طرح کاٹنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
Safwan bin Yala bin Munya reported on the authority of his father that there came to Allahs Apostle ﷺ a person who had bitten the hand of another person and who had withdrawn his hand (and as a result thereof) his foreteeth had fallen (those which had bitten). The Apostle of Allah ﷺ turned down his (claim), and said: Do you wish to bite as the camel bites?
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوکَ قَالَ وَکَانَ يَعْلَی يَقُولُ تِلْکَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي فَقَالَ عَطَائٌ قَالَ صَفْوَانُ قَالَ يَعْلَی کَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ قَالَ لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ فَانْتَزَعَ إِحْدَی ثَنِيَّتَيْهِ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن جریج، عطاء، حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں لڑائی کی اور یعلی کہتے تھے کہ یہی غزوہ ہے کہا کہ صفوان نے کہا یعلی کہتے تھے کہ میرا ایک مزدور تھا وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو کاٹا تو کاٹنے والے کا ایک دانت سامنے والے دو دانتوں میں سے گرگیا وہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اس کے دانت کو بیکار کردیا۔ (یعنی دیت نہیں دلائی)
Safwan bin Yala bin Umayya thus reported from his father: I participated in the expedition to Tabuk with Allahs Apostle ﷺ . And Yala used to say: That was the most weighty of my deeds, in my opinion. Safwan said that Yala had stated: I had a servant; he quarrelled with another person, and the one bit the hand of the other. (Ata said that Safwan had told him which one had bitten the hand of the other.) So he whose hand was bitten drew it from (the mouth) of the one who had bitten it and (in this scuffle) one of his foreteeth was also drawn out. They both came to Allahs Apostle ﷺ and he declared his (claim for the compensation of) tooth as invalid.
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَاه عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عمر بن زرارہ، اسماعیل بن ابراہیم، حضرت ابن جریج (رح) سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters.
دانتوں یا اس کے برابر میں قصاص کے اثبات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ الْقِصَاصُ کِتَابُ اللَّهِ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّی قَبِلُوا الدِّيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم، حماد، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے کسی انسان کو زخمی کردیا۔ انہوں نے اس کا مقدمہ نبی کریم ﷺ کے پاس پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قصاص یعنی بدلہ لیا جائے گا ام ربیع نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا فلاں سے بدلہ لیا جائے گا؟ اللہ کی قسم! اس سے بدلہ نہیں لیا جائے گا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ پاک ہے۔ اے ام ربیع بدلہ لینا اللہ کی کتاب (کا حکم) ہے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم اس سے کبھی بدلہ نہ لیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ مسلسل اسی طرح کہتی رہی۔ یہاں تک کہ ورثاء نے دیت قبول کرلی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔
Anas reported that Umm Haritha, the sister of Rubayyi (she was the fathers sister of Hadrat Anas) injured a person (she broke his teeth). The dispute was referred to Allahs Apostle ﷺ . Allahs Messenger ﷺ said: Retribution, retribution. Umm Rubayyi said: Messenger of Allah, will retribution be taken from so and so? By Allah, it shall not be taken from her (i. e. from Umm Haritha). Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Hallowed be Allah. O Umm Rubayyi, Qisas (retribution is a command, prescribed) in the Book of Allah. She said: No, by Allah, Qisas will never be taken from her; and she went on saying this until they (the relatives of the one who had been injured) accepted the blood-wit. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Verily there are amongst the servants of Allah (such pious persons) who, if they take oath of Allah, He honours it.
کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَی ثَلَاثٍ الثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِکُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین کے علاوہ کسی ایسے مسلمان مرد کا خون بہانا جائز نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ ایک شادی شدہ زانی، دوسرا جان کے بدلے جان اور دین کو چھوڑنے والا اور جماعت میں تفریق ڈالنے والا۔
Abdullah (b. Masud) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is not permissible to take the life of a Muslim who bears testimony (to the fact that there is no god but Allah, and I am the Messenger of Allah, but in one of the three cases: the married adulterer, a life for life, and the deserter of his Din (Islam), abandoning the community.
کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابن نمیر، ابن ابی عمر، سفیان، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash.
کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ التَّارِکُ الْإِسْلَامَ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ أَوْ الْجَمَاعَةَ شَکَّ فِيهِ أَحْمَدُ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ قَالَ الْأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ
احمد بن حنبل، محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو مسلمان مرد گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون حلال نہیں سوائے تین آدمیوں کے ایک اسلام کو چھوڑنے والا جماعت میں تفریق ڈالنے والا دوسرا شادی شدہ زنا کرنے والا اور تیسرا جان کے بدلے جان حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی اسی طرح یہ حدیث مروی ہے۔
Abdullah (b. Masud) reported: Allahs Messenger ﷺ stood up and said: By Him besides Whom there is no god but He, the blood of a Muslim who bears the testimony that there is no god but Allah, and I am His Messenger, may be lawfully shed only in case of three persons: the one who abandons Islam, and deserts the community [Ahmad, one of the narrators, is doubtful whether the Holy Prophet ﷺ used the word lil-jamaah or al-jamaah), and the married adulterer, and life for life.
کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَلَمْ يَذْکُرَا فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرَهُ
حجاج بن شاعر، قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اعمش اسی حدیث کی اور سند ذکر کی ہے لیکن اس میں نبی کریم ﷺ کا قول اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں مذکور نہیں ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of narrators but with a slight variation of words, i. e. he did not say: By Him besides Whom there is no god.
قتل کی ابتداء کرنے والے کے گناہ کے بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ کَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی نفس ظلما قتل کیا جاتا ہے تو اس کے گناہ کا ایک حصہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر بھی ڈالا جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا ہے جس نے قتل کی ابتداء کی۔
Abdullah (b. Masud) reported: Allahs Apostle ﷺ having said: No person who is killed unjustly, but the share of (this offence of his also) falls upon the first son of Adam, for he was the first to introduce killing.
قتل کی ابتداء کرنے والے کے گناہ کے بیان
و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَعِيسَی بْنِ يُونُسَ لِأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ لَمْ يَذْکُرَا أَوَّلَ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عیسیٰ بن یونس، ابن ابی عمر، سفیان، اعمش اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں لیکن ان میں قتل کی ابتداء کا ذکر ہے پہلے ہونے کو نہیں بیان کیا گیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Jarir and Isa bin Yunus with a slight variation of words.
آخرت میں قتل کی سزا اور قیامت کے دن اس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سب سے پہلے کیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَائِ
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، وکیع، اعمش، ابی وائل، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
Abdullah bin (Masud) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The first (thing) that will be decided among people on the Day of Judgment will pertain to bloodshed.