Sahih Muslim 4366

قسامت کا بیان

4366Sahih Muslim

انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَاتَلَ يَعْلَی بْنُ مُنْيَةَ أَوْ ابْنُ أُمَيَّةَ رَجُلًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْ فَمِهِ فَنَزَعَ ثَنِيَّتَهُ و قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی ثَنِيَّتَيْهِ فَاخْتَصَمَا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيَعَضُّ أَحَدُکُمْ کَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لَا دِيَةَ لَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، زرارہ، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ یعلی بن منیہ یا ایک آدمی سے جھگڑا ہوا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو منہ میں ڈال کر دانتوں سے کاٹنا چاہا تو اس نے اپنے ہاتھ کو اس کے منہ سے کھینچا جس سے اس کے سامنے کا دانت اکھڑ گیا ابن مثنی نے کہا سامنے کے دونوں دانت۔ انہوں نے اپنا جھگڑا نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے ایک اس طرح کاٹتا ہے جس طرح اونٹ کاٹتا ہے اس کے لئے دیت نہیں ہے۔

Imran bin Husain reported: Yala bin Munya or Ibn Umayya fought with a person, and the one bit the hand of the other. And he tried to draw his hand from his mouth and thus his foreteeth were pulled out. They referred their dispute to Allahs Apostle ﷺ , whereupon he said: Does any one of you bite as the camel bites? So there is no blood-wit for it.