فرائض کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 25 · 23 hadiths · Page 1 of 2

4140Sahih Muslim

فرائض کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ وَلَا يَرِثُ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، زہری، علی بن حسین، عمرو بن عثمان، حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر مسلمان کا وارث بنتا ہے۔

Usama bin Zaid reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A Muslim is not entitled to inherit from a non-Muslim, and a non-Muslim is not entitled to inherit from a Muslim.

4141Sahih Muslim

فرائض کو انکے حقداروں کو دینے اور جو بچ جائے مرد عورت کو دیا جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَهُوَ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ

عبدالاعلی بن حماد، وہیب، ابن طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا معین حصہ والوں کو ان کا حصہ دے دو اور جو بچ جائے وہ اس مرد کے لئے ہے جو اس کا زیادہ قریبی ہوگا۔

Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Give the shares to those who are entitled to them, and what remains over goes to the nearest male heir.

4142Sahih Muslim

فرائض کو انکے حقد اروں کو دینے اور جو بچ جائے مرد عورت کو دیا جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا تَرَکَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ

امیہ بن بسطام عیشی، یزید بن زریع، روح بن قاسم، عبداللہ بن طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حصہ والوں کو ان کا حصہ دے دو اور ذوی الفروض جو مال چھوڑے تو قریبی مرد زیادہ حقدار ہے۔

Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Give the shares to those who are entitled to them, and what is left from those who are entitled to it goes to the nearest male heir.

4143Sahih Muslim

فرائض کو انکے حقد اروں کو دینے اور جو بچ جائے مرد عورت کو دیا جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ فَمَا تَرَکَتْ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَی رَجُلٍ ذَکَرٍ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، اسحاق، عبدالرزاق، معمر، ابی طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اصحابِ فرائض میں اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق مال تقسیم کردو۔ ذوی الفروض جو ترکہ چھوڑیں قریبی مرد ہی اس ترکہ کا زیادہ حقدار ہوگا۔

Tawus reported on the authority of his father Ibn Abbas (RA) narrating that Allahs Messenger ﷺ said: Distribute the property amongst Ahl al-Faraid, according to the Book of Allah, and what is left out of them goes to the nearest male heir.

4144Sahih Muslim

فرائض کو انکے حقد اروں کو دینے اور جو بچ جائے مرد عورت کو دیا جانے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ وَرَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ

محمد بن العلاء، ابوکریب ہمدانی، زید بن حباب، یحییٰ بن ایوب، ابن طاو س، حضرت وہیب اور مروح بن قاسم (رح) کی طرح ان اسناد سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔

There is another chain of Tawus reporting like the reports that were mentioned before the previous hadith chain through Tawus (the chains of Wuhaib and Rowh bin Qasim).

4145Sahih Muslim

کلالہ کی میر اث کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرِضْتُ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ يَعُودَانِي مَاشِيَيْنِ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّی نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ يَسْتَفْتُونَکَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِي الْکَلَالَةِ

عمر بن محمد بن بکیر ناقد، سفیان بن عیینہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ میرے پاس میری عیادت کے لئے تشریف لائے۔ مجھ پر بیہوشی طاری ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور اپنے سے مجھ پر پانی ڈالا۔ مجھے افاقہ ہوا۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال میں کیسے فیصلہ کروں؟ آپ ﷺ نے مجھے اس کا کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ آیت میراث يستفتونک قل اللہ يفتيکم في الکلالہ نازل ہوئی۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: I fell sick and there came to me on foot Allahs Messenger ﷺ and Abu Bakr (RA) for inquiring after my health. I fainted. He (the Holy Prophet) performed ablution and then sprinkled over me the water of his ablution. I felt some relief and said: Allahs Messenger, how should I decide about my property? He said nothing to me in response until this verse pertaining to the law of inheritance was revealed: "They ask you for a decision; say: Allah gives you a decision concerning the person who has neither parents nor children" (iv. 177).

4146Sahih Muslim

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ يَمْشِيَانِ فَوَجَدَنِي لَا أَعْقِلُ فَدَعَا بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَشَّ عَلَيَّ مِنْهُ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ کَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَزَلَتْ يُوصِيکُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ

محمد بن حاتم ابن میمون، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ بنو سلمہ میں عیادت کے لئے پیدل تشریف لائے۔ انہوں نے مجھے بیہوش پایا تو آپ ﷺ نے وضو فرمایا پھر اس میں سے مجھ پر پانی چھڑکا۔ مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے مال میں کیسے کروں؟ تو آیت (میراث) يوصيکم اللہ في أولادکم للذکر مثل حظ الأنثيين الخ نازل ہوئی۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: Allahs Apostle ﷺ and Abi Bakr (RA) visited me on foot in Banu Salama, and found me unconscious. He (the Holy Prophet) called for water and performed ablution and sprinkled out of it (the water) over me. I felt relieved. I said: Allahs Messenger, what should I do with my property? And this verse was revealed: "Allah enjoins you concerning your children: for the male is equal of the portion of two females."

4147Sahih Muslim

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ وَمَعَهُ أَبُو بَکْرٍ مَاشِيَيْنِ فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَبَّ عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَأَفَقْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّی نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ

عبیداللہ بن عمر قواریری، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، محمد بن منکدر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری عیادت کی جبکہ میں مریض تھا اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ بھی تھے اور آپ ﷺ پیدل تشریف لائے مجھے بیہوشی میں پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا پھر اپنے وضو کا پانی مجھ پر ڈالا۔ مجھے ہوش آیا تو رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں اپنے مال میں (تقسیم) کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہوئی۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: While I had been ill Allahs Messenger ﷺ visited me and Abu Bakr (RA) was with him, and they both came walking on foot. He (the Holy Prophet) found me unconscious. Allahs Messenger ﷺ performed ablution and then sprinkled over me the water of his ablution. I felt relieved regained my consciousness) and found Allahs Messenger ﷺ there. I said: Allahs Messenger, what should I do with my property? He gave me no reply until the verse (iv. 177) relating to the law of inheritance was revealed.

4148Sahih Muslim

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ لَا أَعْقِلُ فَتَوَضَّأَ فَصَبُّوا عَلَيَّ مِنْ وَضُوئِهِ فَعَقَلْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا يَرِثُنِي کَلَالَةٌ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ يَسْتَفْتُونَکَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِي الْکَلَالَةِ قَالَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ

محمد بن حاتم، بہز، شعبہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں مریض تھا اور ہوش میں نہ تھا آپ ﷺ نے وضو کیا تو لوگوں نے آپ ﷺ کے وضو سے مجھ پر پانی ڈالا مجھے ہوش آیا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کہ رسول ﷺ! میرا وارث کلالہ ہوگا تو آیت میراث نازل ہوئی راوی کہتے ہیں میں نے محمد بن منکدر سے عرض کیا انہوں نے کہا اسی طرح نازل کی گئی۔

Jabir binAbdullah (RA) reported: Whilo I was ill Allahs Messenger ﷺ came to me and found me unconscious. He (the Holy Prophet) performed ablution, and sprinkled over me the water of his ablution. I regained my consciousness and said: Allahs Messenger, my case of inheritance is that of Kalala. Then the verse pertaining to the inheritance (of Kalala) was revealed. I (one of the narrators) said: I said to Muhammad bin Munkadir: (Do you mean this verse) "They ask you; say: Allah gives you decision in regard to Kalala" (iv. 177)? He said: Yes, it was thus revealed.

4149Sahih Muslim

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ وَالْعَقَدِيِّ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرْضِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ قَوْلُ شُعْبَةَ لِابْنِ الْمُنْکَدِرِ

اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، ابوعامر عقدی، محمد بن مثنی، وہب بن جریر، حضرت شعبہ (رح) سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہ حدیث مروی ہے حضرت وہب بن جریر (رح) کی حدیث میں ہے آیت فرائض نازل ہوئی نضر اور عقدی کی حدیث میں ہے آیت الفرض اور ان کی حدیث میں شعبہ (رح) کا قول ابن منکدر سے سوال کا نہیں ہے۔

This hadith is transmitted on the authority of Shubah but with a slight variation of words.

4150Sahih Muslim

کلالہ کی میراث کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَذَکَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنْ الْکَلَالَةِ مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْئٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْکَلَالَةِ وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْئٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ حَتَّی طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ يَا عُمَرُ أَلَا تَکْفِيکَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَائِ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ

محمد بن ابی بکر مقدمی، محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ہشام، قتادہ، سالم بن ابی جعد، حضرت معدان بن ابوطلحہ (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو اللہ کے نبی ﷺ کا ذکر کیا اور حضرت ابوبکر ؓ کا ذکر فرمایا: پھر فرمایا میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا جو میرے نزدیک کلالہ سے زیادہ اہم ہو اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے کسی مسئلہ کہ بارے میں اتنا رجوع نہیں کیا جو میں نے کلالہ میں آپ ﷺ سے رجوع کیا اور آپ ﷺ نے میرے لئے جیسی سختی اس میں کی کسی مسئلہ میں نہیں فرمائی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے میرے سینہ میں اپنی انگلی چبھو کر فرمایا اے عمر! کیا تیرے لئے سورت النساء کی آخری آیت صیف کافی نہیں؟ حضرت عمر ؓ نے کہا اگر میں زندہ رہا اس آیت کے فیصلہ کے مطابق ایسا فیصلہ دوں گا کہ جو قرآن پڑھے یا نہ پڑھے وہ بھی اسی کہ مطابق ہی فیصلہ کرے گا۔

Abu Talha reported: Umar bin al-Khattab (RA) delivered a sermon on Friday and made a mention of Allahs Apostle ﷺ and he also made a mention of Abu Bakr (RA) and then said: I do not leave behind me any problem more difficult than that of Kalala. I did not refer to Allahs Messenger ﷺ more repeatedly than in case of the problem of Kalala, and he (the Holy Prophet) never showed more annoyance to me than in regard to this problem, so much so that he struck my chest with his fingers and said: Umar, does the verse revealed in summer season, at the end of Sura al-Nisa not suffice you? Hadrat Umar (then) said: If I live I would give such verdict about (Kalala) that everyone would be able to decide whether he reads the Quran or he does not.

4151Sahih Muslim

کلالہ کی میراث کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ شَبَابَةَ بْنِ سَوَّارٍ عَنْ شُعْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، سعید بن ابی عروبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن رافع، شبابہ بن سوار، شعبہ، حضرت قتادہ سے بھی اسی طرح ان اسناد سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters.

4152Sahih Muslim

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ مِنْ الْقُرْآنِ يَسْتَفْتُونَکَ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِي الْکَلَالَةِ

علی بن خشرم، وکیع، ابن ابی خالد، ابی اسحاق، حضرت براء ؓ روایت ہے قرآن میں جو سب سے آخر میں آیت نازل کی گئی وہ ہے۔

Al-Bara (RA) reported that the last verse revealed in the Holy Quran is: "They ask thee for a religious verdict; say: Allah gives you a religious verdict about Kalala (the person who has neither parents nor children)" (iv 177).

4153Sahih Muslim

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْکَلَالَةِ وَآخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ بَرَائَةُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی اسحاق، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخری میں نازل کی جانے والی آیت، آیت کلالہ ہے اور آخری سورت مبارکہ سورت برأت (التوبہ) ہے۔

Abu Ishaq said that he heard al-Bara bin Azib (RA) say: The last verse revealed (in the Holy Quran) is that pertaining to Kalala, and the last sura revealed is Sura al-Baraat.

4154Sahih Muslim

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ أَنَّ آخِرَ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ تَامَّةً سُورَةُ التَّوْبَةِ وَأَنَّ آخِرَ آيَةٍ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْکَلَالَةِ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عیسیٰ بن یونس، زکریا، ابی اسحاق، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے جو پوری سورت سب سے آخر میں نازل کی گئی وہ سورت توبہ ہے اور آخری آیت، آیت کلالہ ہے۔

Abu Ishaq said that he heard al-Bara bin Azib (RA) say: The last complete sura revealed (in the Holy Quran) is Sura Tauba (i e. al-Baraat, ix.), and the last verse revealed is that pertaining to Kalala.

4155Sahih Muslim

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ آدَمَ حَدَّثَنَا عَمَّارٌ وَهُوَ ابْنُ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ کَامِلَةً

ابوکریب، یحییٰ بن آدم، عمار، ابن رزیق، ابی اسحاق، حضرت براء ؓ سے اسی طرح حدیث مروی ہے اس میں یہ نہیں کہ آخری پوری سورت نازل کی جانے والی۔

Aba Ishaq reported this hadith on the authority of al-Bara (RA) with a slight variation of words, viz. the last sura that was revealed complete.

4156Sahih Muslim

آیت کلالہ کہ آخر میں نازل کیے جانے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ أَبِي السَّفَرِ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ يَسْتَفْتُونَکَ

عمرو ناقد، ابواحمدزبیری، مالک بن مغول، ابی السفر، حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ آخر آیت جو نازل کی گئی وہ ہے۔

Al-Bara (RA) reported that the last verse revealed was: "They ask of thee religious verdict.." (iv. 177).

4157Sahih Muslim

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمَيِّتِ عَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ وَإِلَّا قَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَالَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ

زہیر بن حرب، ابوصفوان اموی، یونس ایلی، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہ پاس کسی آدمی کی میت لائی جاتی اور اس پر قرض ہوتا تو آپ ﷺ پوچھتے کیا اس نے اپنے قرض کے لئے مال چھوڑا ہے جو قرضہ کو کافی ہو پس اگر بات کی جاتی کہ اس نے قرض کو پورا کرنے کہ لئے ترکہ چھوڑا ہے تو آپ ﷺ اس پر جنازہ پڑھاتے ورنہ فرماتے اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو جب آپ ﷺ پر اللہ عزوجل نے فتوحات کے دروازے کھول دئیے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں مومنوں کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں جو فوت ہوا اور اس پر قرض ہو تو اس کا ادا کرنا مجھ پر ہے اور جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے ورثاء کے لئے ہے

Abu Hurairah (RA) reported that when the body of a dead person having burden of debt upon him was brought to Allahs Messenger ﷺ he would ask whether he had left property enough to clear off his debt, and if the property left had been sufficient for that (purpose), he observed funeral prayer for him, otherwise he said (to his companions): You observe prayer for your companion. But when Allah opened the gateways of victory for him, he said: I am nearer to the believers than themselves, so if anyone dies leaving a debt, its payment is my responsibility, and if anyone leaves a property, it goes to his heirs.

4158Sahih Muslim

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل، زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن ابی اخی ابن شہاب، ابن نمیر، ابن ابی ذئب، حضرت زہری سے حدیث اسی طرح ان اسناد کے ساتھ یہ مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of al-Zuhri through another chain of transmitters.

4159Sahih Muslim

جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہونے کہ بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ قَالَ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنْ عَلَی الْأَرْضِ مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا أَنَا أَوْلَی النَّاسِ بِهِ فَأَيُّکُمْ مَا تَرَکَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَأَنَا مَوْلَاهُ وَأَيُّکُمْ تَرَکَ مَالًا فَإِلَی الْعَصَبَةِ مَنْ کَانَ

محمد بن رافع، شبابہ، ورقاء، ابی الزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کہ قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے زمین پر کوئی ایسا مومن نہیں مگر میں تمام لوگوں سے زیادہ اس کے قریب ہوں۔ پس تم میں سے جو قرض یا بچے چھوڑ گیا تو میں اس کا مدد کرنے والا ہوں (ادائیگی قرض و پرورش یتامی) اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں میں سے جو بھی ہو اس کا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ having said this: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, there is no believer on the earth with whom I am not the nearest among all the people. He who amongst you (dies) and leaves a debt, I am there to pay it, and he who amongst you (dies) leaving behind children I am there to look after them. And he who amongst you leaves behind property, that is for the inheritor whoever he is.