انسان اور جانور کی خوراک کی ذخیرہ اندوزی کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ قَالَ کَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ مَعْمَرًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ احْتَکَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ فَقِيلَ لِسَعِيدٍ فَإِنَّکَ تَحْتَکِرُ قَالَ سَعِيدٌ إِنَّ مَعْمَرًا الَّذِي کَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ کَانَ يَحْتَکِرُ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان ابن بلال، یحیی، ابن سعید، سعید بن مسیب، حضرت معمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ذخیرہ اندوزی کی وہ گناہ گار ہے حضرت سعید سے کہا گیا کہ آپ تو خود ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں تو سعید نے کہا معمر جو اس حدیث کو بیان کرتے تھے وہ بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔
Mamar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who hoards is a sinner. It was said to Said (b. al-Musayyib): You also hoard. Said said: Mamar who narrated this hadith also hoarded.
انسان اور جانور کی خوراک کی ذخیرہ اندوزی کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحْتَکِرُ إِلَّا خَاطِئٌ قَالَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ مُسْلِم
سعید بن عمرو اشعثی، حاتم بن اسماعیل، محمد بن عجلان، محمد بن عمرو بن عطاء، سعید بن مسیب، حضرت معمر ؓ بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گناہ گار کے علاوہ کوئی ذخیرہ اندوزنی نہیں کرتا۔
Mamar binAbdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No one hoards but the sinner.
انسان اور جانور کی خوراک کی ذخیرہ اندوزی کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی
عمرو بن عون، خالد بن عبداللہ، عمرو بن یحیی، محمد بن عمر، سعید بن مسیب، حضرت معمر بن ابی معمر ؓ سے روایت ہے جو کہ قبیلہ عدی بن کعب میں سے ایک ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی اور حدیث بعینہ پہلے بیان ہوچکی۔
This hadith has been transmitted on the authority of Sulaiman bin Bilal (RA) from Yahya.
بیع میں قسم کھانے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ الْأُمَوِيُّ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلرِّبْحِ
زہیر بن حرب، ابوصفوان اموی، ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ قسم مال کو نکالنے والی ہے اور نفع کو مٹانے والی ہے۔
Abu Hurairah (RA) said he heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Swearing produces a ready sale for a commodity, but blots out the blessing.
بیع میں قسم کھانے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِيَّاکُمْ وَکَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی شیبہ، اسحاق، ابواسامہ، ولید بن کثیر، معبد بن کعب بن مالک، حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا بیع میں قسم بکثرت کھانے سے بچو کیونکہ وہ سودا تو نکلواتی ہے پھر اس کو مٹا دیتی ہے۔
Abu Qatadah (RA) al-Ansari (RA) reported he heard Allahs Messenger ﷺ say: Beware of swearing; it produces a ready sale for a commodity, but blots out the blessing.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ لَهُ شَرِيکٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّی يُؤْذِنَ شَرِيکَهُ فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ وَإِنْ کَرِهَ تَرَکَ
احمد بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کا زمین یا باغ میں کوئی شریک ہو تو اس کے لئے اپنے شریک سے اجازت لئے بغیر اس کو بیچنا جائز نہیں ہے اگر وہ راضی ہو تو لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who has a partner in a dwelling or a garden, it is not lawful for him to sell that until he is permitted by his partner. If he (the partner) agrees, he should go in for that, and if he disapproves of that, he should abandon (the idea of selling it).
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي کُلِّ شِرْکَةٍ لَمْ تُقْسَمْ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّی يُؤْذِنَ شَرِيکَهُ فَإِنْ شَائَ أَخَذَ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ فَإِذَا بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن ادریس، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مشترک زمین یا باغ میں جس کی تقسیم نہ کی گئی ہو شفعہ کا فیصلہ کیا کہ اس کے لئے اس کا بیچنا جائز نہیں یہاں تک کہ اپنے شریک سے اجازت لے لے اگر وہ چاہے تو لے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے اگر اس نے اپنے شریک کی اجازت کے بغیر اسے فروخت کردیا تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔
Jabir bin Abdullah (RA) said that the Messenger of Allah ﷺ decreed pre-emption in every joint ownership and not divided-the one-it may be a dwelling or a garden. It is not lawful for him (for the partner) to sell that until his partner gives his consent. He (the partner) is entitled to buy it when he desires and he can abandon it if he so likes. And if he (the one partner) sells it without getting the consent of the (other partner), he has the greatest right to it.
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةُ فِي کُلِّ شِرْکٍ فِي أَرْضٍ أَوْ رَبْعٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّی يَعْرِضَ عَلَی شَرِيکِهِ فَيَأْخُذَ أَوْ يَدَعَ فَإِنْ أَبَی فَشَرِيکُهُ أَحَقُّ بِهِ حَتَّی يُؤْذِنَهُ
ابوطاہر، ابن وہب، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شفعہ ہر قسم کے مشترکہ مال میں ہے زمین ہو یا گھر یا باغ اس کو بیچنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک اس کو اپنے شریک پر پیش نہ کرے وہ لے لے یا چھوڑ دے پس اگر وہ انکار کر دے تو اس کا شریک زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ اسے خبر دی جائے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There is pre-emption in everything which is shared, be it land, or a dwelling or a garden. It is not proper to sell it until he informs his partner; he may go in for that, or he may abandon it; and it he (the partner intending to sell his share) does not do that, then his partner has the greatest right to it until he permits him.
ہمسایہ کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمْنَعْ أَحَدُکُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ قَالَ ثُمَّ يَقُولُا أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاکُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَکْتَافِکُمْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے پھر ابوہریرہ ؓ نے کہا مجھے کیا ہے کہ میں تم کو اس سے اعراض کرتے ہوئے دیکھتا ہوں اللہ کی قسم! میں اس لکڑی کو تمہارے کندھوں کے درمیان رکھ دوں گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: None among you should prevent his neighbour from fixing a beam in his wall. Abu Hurairah (RA) then said: What is this that I see you evading (this injunction of the Holy Prophet)? By Allah, I will certainly throw it between your shoulders (narrate this to you.)
ہمسایہ کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری سے بھی یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transrmitters.
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، العلاء بن عبدالرحمن، عباس بن سہیل، سعد بن سعید، حضرت سعید بن زید عمرو بن نفیل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے زمین سے ایک بالشت بھی ظلما لے لی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے۔
Said bin Zaid bin Amr bin Nufail (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who wrongly took a span of land, Allah shall make him carry around his neck seven earths.
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّ أَرْوَی خَاصَمَتْهُ فِي بَعْضِ دَارِهِ فَقَالَ دَعُوهَا وَإِيَّاهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَتْ کَاذِبَةً فَأَعْمِ بَصَرَهَا وَاجْعَلْ قَبْرَهَا فِي دَارِهَا قَالَ فَرَأَيْتُهَا عَمْيَائَ تَلْتَمِسُ الْجُدُرَ تَقُولُ أَصَابَتْنِي دَعْوَةُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ فَبَيْنَمَا هِيَ تَمْشِي فِي الدَّارِ مَرَّتْ عَلَی بِئْرٍ فِي الدَّارِ فَوَقَعَتْ فِيهَا فَکَانَتْ قَبْرَهَا
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، عمر بن محمد، حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ سے روایت ہے کہ ارویٰ نے ان سے گھر کے بعض حصہ کے بارے میں جھگڑا کیا تو انہوں نے کہا کہ اسے چھوڑ دو اور زمین اسے دے دو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے حق کے بغیر ایک بالشت بھی زمین لی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے اے اللہ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اسے اندھا کر دے اور اس کی قبر اس کے گھر میں بنا راوی کہتے ہیں کہ میں نے اسے اندھا اور دیواروں کو ٹٹولتے دیکھا اور کہتی تھی مجھے سعید بن زید کی بد دعا پہنچی ہے اس دوران کہ وہ گھر میں چل رہی تھی گھر میں کنوئیں کے پاس سے گزری تو اس میں گر پڑی اور وہی اس کی قبر بن گئی۔
Said bin Zaid bin Amr bin Nufail (RA) reported that Arwi (bint Uwais) disputed with him (in regard to a part of the land) of his hodse. He said: Leave it and take off your claim from it, for I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who took a span of land without his right would be made to wear around his neck seven earths on the Day of Resurrection. He (Said bin Zaid) said: O Allah, make her blind if she has told a lie and make her grave in her house. He (the narrator) said: I saw her blind groping (her way) by touching the walls and saying: The curse of Said bin Zaid has hit me. And it so happened that as she was walking in her house, she passed by a well in her house and fell therein and that be- came her grave.
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَرْوَی بِنْتَ أُوَيْسٍ ادَّعَتْ عَلَی سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ أَرْضِهَا فَخَاصَمَتْهُ إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا کُنْتُ آخُذُ مِنْ أَرْضِهَا شَيْئًا بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طُوِّقَهُ إِلَی سَبْعِ أَرَضِينَ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ لَا أَسْأَلُکَ بَيِّنَةً بَعْدَ هَذَا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ کَانَتْ کَاذِبَةً فَعَمِّ بَصَرَهَا وَاقْتُلْهَا فِي أَرْضِهَا قَالَ فَمَا مَاتَتْ حَتَّی ذَهَبَ بَصَرُهَا ثُمَّ بَيْنَا هِيَ تَمْشِي فِي أَرْضِهَا إِذْ وَقَعَتْ فِي حُفْرَةٍ فَمَاتَتْ
ابوربیع عتکی، حماد بن زید، حضرت ہشام بن عروہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اروی بنت اویس نے سعید بن زید ؓ پر دعوی کیا کہ اس نے اس کی زمین سے کچھ لے لیا ہے وہ یہ مقدمہ مروان بن حکم کے ہاں لے گئی تو سعید نے کہا کیا میں رسول اللہ ﷺ سے سننے کے بعد اس کی زمین میں سے کچھ حصہ لے سکتا ہوں مروان نے کہا تو نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے لے لی تو اسے ساتوں زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا تو ان سے مروان نے کہا میں آپ سے اس کے بعد گواہ نہ مانگوں گا تو سعید ؓ نے کہا اے اللہ اگر یہ عورت جھوٹی ہے تو اس کی آنکھوں کو اندھا کر دے اور اس کی زمین میں ہی اسے مار تو وہ بینائی جانے سے پہلے نہ مری پھر اچانک وہ اپنی زمین میں چل رہی تھی کہ ایک گڑھے (پرانے کنوئیں) میں گر کر مرگئی۔
Hisham bin Urwa reported on the authority of his father (RA) that Arwa bint Uwais disputed with Said bin Zaid that he had seized some of the land belonging to her. She brought this dispute before Marwan bin al-Hakam. Said said: How could I take a part of her land, after what I heard from Allahs Messenger (may peace be uponhim)? He (Marwan) said: What did you hear from Allahs Messenger ﷺ ? He said: I heard Allahs Messenger ﷺ say: He who wrongly took a span of land would be made to wear around his neck seven earths. Marwan said: I do not ask any evidence from you after this. He (Said) said: O Allah, make her blind if she has told a lie and kill her in her own land. He (the narrator) said: She did not die until she had lost her eyesight, and (one day) as she was walking in her land, she fell down into a pit and died.
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن زکریابن ابی زائدہ، ہشام، حضرت سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس نے ظلما کسی سے ایک بالشت زمین بھی لے لی تو اسے قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے طوق ڈالا جائے گا۔
Said bin Zaid reported: I heard Allahs Apostle ﷺ say: He who took a span of earth wrongly would be made to wear around his neck seven earths on the Day of Resurrection.
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِلَی سَبْعِ أَرَضِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی آدمی بغیر حق کے زمین میں سے ایک بالشت نہیں لیتا مگر یہ کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق ڈالے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: One should not take a span of land without having legitimate right to it, otherwise Allah would make him wear (around his neck) seven earths on the Day of Resurrection.
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ وَکَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ وَأَنَّهُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهَا فَقَالَتْ يَا أَبَا سَلَمَةَ اجْتَنِبْ الْأَرْضَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ ظَلَمَ قِيدَ شِبْرٍ مِنْ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
احمد بن ابراہیم دورقی، عبدالصمد بن عبدالوارث، حرب ابن شداد، یحییٰ ابن کثیر، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان ایک زمین میں جھگڑا تھا اور وہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس حاضر ہوا اور آپ ؓ سے اس جھگڑے کا ذکر کیا تو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا اے ابوسلمہ! زمین سے پرہیز کر کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بالشت بھر زمین کے برابر بھی ظلم کرے تو اسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔
Muhammad bin Ibrahim said that Abu Salama reported to him that there was between him and his people dispute over a piece of land, and he came to Aisha and mentioned that to her, whereupon she said: Abu Salama, abstain from getting this land, for Allahs Messenger ﷺ said: He who usurps even a span of land would be made to wear around his neck seven earths.
ظلم کرنے اور زمین وغیرہ کو غصب کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَخْبَرَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ
اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، یحیی، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس حاضر ہوئے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ذکر کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Salama with another chain of transmitters.
جب راستہ میں اختلاف ہوجائے تو اس کی مقدار کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ جُعِلَ عَرْضُهُ سَبْعَ أَذْرُعٍ
ابوکامل فضیل بن حسین جحدری، عبدالعزیز بن مختار، خالد حذاء، یوسف بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم راستہ میں اختلاف کرو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ رکھ لو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When you disagree about a path, its breadth should be made seven cubits.