کھیتی باڑی کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 24 · 178 hadiths · Page 8 of 9

4102Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَتَخَلَّفَ نَاضِحِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ فَنَخَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لِي ارْکَبْ بِاسْمِ اللَّهِ وَزَادَ أَيْضًا قَالَ فَمَا زَالَ يَزِيدُنِي وَيَقُولُ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَکَ

ابوکامل جحدری، عبدالواحد بن زیاد، جریری، ابی نضرہ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے تو میرا اونٹ پیچھے رہ گیا اور باقی حدیث گزر چکی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے ٹھونکا دیا پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا اللہ کا نام لے کے سوار ہوجاؤ اور مزید یہ اضافہ کیا کہ آپ ﷺ مجھے زیادہ دیتے جاتے تھے اور فرماتے تھے اللہ تجھے معاف کر دے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: We were with Allahs Messenger ﷺ in a journey and my camel meant for carrying water lagged behind. The rest of the hadith is the same and it is mentioned also: Allahs Messenger ﷺ pricked it and then said to me: Ride in the name of Allah. He constantly made addition (in prayers for me) and went on saying. May Allah forgive you!

4103Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا أَتَی عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْيَا بَعِيرِي قَالَ فَنَخَسَهُ فَوَثَبَ فَکُنْتُ بَعْدَ ذَلِکَ أَحْبِسُ خِطَامَهُ لِأَسْمَعَ حَدِيثَهُ فَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ مِنْهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ قَالَ قُلْتُ عَلَی أَنَّ لِي ظَهْرَهُ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ وَلَکَ ظَهْرُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَتَيْتُهُ بِهِ فَزَادَنِي وُقِيَّةً ثُمَّ وَهَبَهُ لِي

ابوربیع عتکی، حماد، ایوب، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جب نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرا اونٹ تھک چکا تھا آپ ﷺ نے اسے ایک ٹھونکا دیا تو وہ کودنے لگا اور میں اس کے بعد آپ ﷺ کی بات سننے کے لئے اس کی لگام کھینچتا تھا لیکن میں اس پر قادر نہ ہوسکا آخر کار نبی کریم ﷺ مجھ سے آملے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کو مجھے فروخت کردو میں نے آپ ﷺ کو یہ اونٹ پانچ اوقیہ پر بیچ دیا اور عرض کی کہ مدینہ تک اس کی سواری میرے لئے ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا اس کی سواری مدینہ تک تیرے لئے ہے جب میں مدینہ آیا تو میں نے اس اونٹ کو آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے ایک اوقیہ مجھے زیادہ دیا پھر وہ اونٹ بھی مجھے ہبہ کردیا۔

Jabir (RA) reported: My camel had grown tired as Allahs Messenger ﷺ came to me. He goaded it and it began to jump. After that I tried to restrain its rein so that I could listen to his (Prophets) words, but I could not do that. Allahs Apostle ﷺ met me and said: Sell it to me, and I sold it for five uqiyas. I said: On the condition that I may use it as a ride (for going back) to Madinah. He (the Holy Prophet) said: Well, you may use it as a ride up till Madinah. When I came to Madinah I handed over that to him and he made an addition of an uqiya (to that amount which had been agreed upon) and then presented that (camel) to me.

4104Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَافَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ أَظُنُّهُ قَالَ غَازِيًا وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ قَالَ يَا جَابِرُ أَتَوَفَّيْتَ الثَّمَنَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَکَ الثَّمَنُ وَلَکَ الْجَمَلُ لَکَ الثَّمَنُ وَلَکَ الْجَمَلُ

عقبہ بن مکرم عمی، یعقوب بن اسحاق، بشیربن عقبہ، ابی المتوکل ناجی، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اسفار میں سے کسی سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا راوی کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ حضرت جابر ؓ نے کہا جہاد کا سفر کیا اور باقی قصہ بیان کیا اور اس کی حدیث میں یہ اضافہ ہے آپ نے کہا اے جابر! کیا تو نے قیمت پوری لے لی میں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا قیمت بھی تیرے لئے اور اونٹ بھی تیرے ہی لئے ہے

Abd Mutawakkil al-Najl reported from Jabir bin Abdullah (RA) who said: I accompanied Allahs Messenger ﷺ in one of his journeys (the narrator says, he said in Jihad), and he narrated the rest of the hadith, and made this addition: He (the Holy Prophet) said: Jabir, have you received the price? I said: Yes, whereupon he said: Yours is the price as well as the camel; yours is the price as well as the camel.

4105Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا اشْتَرَی مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بِوُقِيَّتَيْنِ وَدِرْهَمٍ أَوْ دِرْهَمَيْنِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ صِرَارًا أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَذُبِحَتْ فَأَکَلُوا مِنْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ فَأُصَلِّيَ رَکْعَتَيْنِ وَوَزَنَ لِي ثَمَنَ الْبَعِيرِ فَأَرْجَحَ لِي

عبداللہ بن معاذعنبری، شعبہ، محارب، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کے مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ دو اوقیہ اور ایک یا دو درہم میں خریدا کہا جب ہم مقام صرار پر پہنچے تو آپ ﷺ نے ایک گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا وہ ذبح کی گئی تو سب نے اس کا گوشت کھایا جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے مجھے مسجد میں آنے اور دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا اور میرے لئے اونٹ کی قیمت وزن کردی اور زیادہ دی

Jabir bin Abdullah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ bought a camel from me for two uqiyas and a dirham or two dirhams. As he reached Sirar (a village near Madinah), he commanded a cow to be slaughtered and it was slaughtered, and they ate of that, and as he (the Holy Prophet) reached Madinah he ordered me to go to the mosque and offer two rakahs of prayer, and he measured for me the price of the camel and even made an excess payment to me.

4106Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا مُحَارِبٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِثَمَنٍ قَدْ سَمَّاهُ وَلَمْ يَذْکُرْ الْوُقِيَّتَيْنِ وَالدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ وَقَالَ أَمَرَ بِبَقَرَةٍ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قَسَمَ لَحْمَهَا

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، شعبہ، محارب، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ قصہ سوائے اس کے بیان کیا کہ آپ نے مجھ سے ایک معین قیمت پر اونٹ خریدا اور دو اوقیہ اور ایک درہم یا دو درہم کا ذکر نہیں کیا اور فرمایا آپ ﷺ نے ایک گائے کے نحر کرنے کا حکم دیا وہ نحر کی گئی پھر اس کا گوشت تقسیم کیا گیا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported this narration from Allahs Apostle ﷺ but with this variation that he said: He (the Holy Prophet) bought the camel from me on a stipulated price. And he did not mention two uqiyas and a dirham or two dirhams, and he comanded a cow (to be slaughtered) and it was slaughtered, and he then distributed its flesh.

4107Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ قَدْ أَخَذْتُ جَمَلَکَ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ وَلَکَ ظَهْرُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی زائدہ، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے تیرا اونٹ چار دینار میں لے لیا اور تیرے لئے مدینہ تک اس کی سواری ہے

Jabir (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ said to him: I have taken your camelfor four dinars, and you may ride upon it to Madinah.

4108Sahih Muslim

جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَکْرًا فَقَدِمَتْ عَلَيْهِ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَأَمَرَ أَبَا رَافِعٍ أَنْ يَقْضِيَ الرَّجُلَ بَکْرَهُ فَرَجَعَ إِلَيْهِ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا خِيَارًا رَبَاعِيًا فَقَالَ أَعْطِهِ إِيَّاهُ إِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَائً

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، مالک بن انس، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابورافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے جوان اونٹ بطور قرض لیا پھر آپ ﷺ کے پاس صدقہ کے اونٹ آئے تو آپ ﷺ نے ابورافع کو حکم دیا کہ اس آدمی کا قرض اس کو واپس کردیں ابورافع نے آپ ﷺ کے پاس آکر عرض کیا کہ میں ان اونٹوں جیسا اونٹ نہیں پاتا بلکہ اس سے بہتر ساتویں سال کے اونٹ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اسے یہی دے دو لوگوں میں سے بہترین وہ ہیں جو ان سے قرض کو اچھی طرح ادا کرنے والے ہوں۔

Abu Rafi reported that Allahs Messenger ﷺ took from a man as a loan a young camel (below six years). Then the camels of Sadaqa were brought to him. He ordered Abu Rafi to return to that person the young camel (as a return of the loan). Abu Rafi returned to him and said: I did not find among them but better camels above the age of six. He (the Holy Propet) said: Give that to him for the best men are those who are best in paying off the debt.

4109Sahih Muslim

جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ أَخْبَرَنَا عَطَائُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَکْرًا بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَإِنَّ خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ قَضَائً

ابوکریب، خالد بن مخلد، محمد بن جعفر، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، ابی رافع رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جوان اونٹ قرض لیا باقی حدیث ویسی ہے سوائے اس کے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں بہترین وہ ہیں جو ان میں سے قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔

Abu Rafi, the freed slave of Allahs Messenger ﷺ , said: Allahs Messenger ﷺ took as a loan (the rest of the hadith is the same), but with this variation that he (the Holy Prophet) said: Good amongst the servants of Allah is he who is best in paying off the debt.

4110Sahih Muslim

جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ لِرَجُلٍ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ فَأَغْلَظَ لَهُ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا فَقَالَ لَهُمْ اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَقَالُوا إِنَّا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا هُوَ خَيْرٌ مِنْ سِنِّهِ قَالَ فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِکُمْ أَوْ خَيْرَکُمْ أَحْسَنُکُمْ قَضَائً

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سلمہ بن کہیل، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کا رسول اللہ ﷺ کے ذمہ حق تھا اس نے سختی سے آپ ﷺ سے تقاضا کیا اصحاب النبی ﷺ نے اسے مارنے کا ارادہ کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا حق والے آدمی کو گفتگو کرنے کا حق ہوتا ہے آپ ﷺ نے صحابہ سے کہا اس کے لئے ایک اونٹ خریدو اور وہ اسے دے دو تو انہوں نے کہا ہمیں اس کے اونٹ سے بہتر اونٹ ہی ملا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہی خرید کر اسے دے دو تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرض کو اچھی طرح ادا کرنے والا ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ owed (something) to a person. He behaved in an uncivil manner with him. This vexed the Companions of the Holy Prophet ﷺ , whereupon Allahs Apostle ﷺ said: He who has a right is entitled to speak, and said to them (his Companions): Buy a camel for him and give that to him. They said: We do not find a camel (of that age) but one with better age than that. He said: Buy that and give that to him, for best of you or best amongst you are those who are best in paying off debt.

4111Sahih Muslim

جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اسْتَقْرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنًّا فَأَعْطَی سِنًّا فَوْقَهُ وَقَالَ خِيَارُکُمْ مَحَاسِنُکُمْ قَضَائً

ابوکریب، وکیع، علی بن صالح، سلمہ بن کہیل، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اونٹ قرض لیا تو اسے اس سے بڑی عمر کا اونٹ عطا کیا اور فرمایا تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو تم میں سے قرض ادا کرنے میں اچھے ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ took a camel on loan, and then returned him (the lender) the camel of a more mature age and said: Good among you are those who are good in clearing off the debt.

4112Sahih Muslim

جا نور کو قرض کے طور پر لینے کا جواز اور بدلے میں اس سے بہتر دینے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يَتَقَاضَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا فَقَالَ أَعْطُوهُ سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ وَقَالَ خَيْرُکُمْ أَحْسَنُکُمْ قَضَائً

محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان، سلمہ بن کہیل، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ سے اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے اس کے اونٹ سے بڑی عمر والا اونٹ دے دو اور فرمایا تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو قرض ادا کرنے میں اچھا ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported: There came a person demanding a camel from Allahs Messenger ﷺ . He (the Holy Prophet) said: Give him (the camel) of that age or of more mature age, and said: Best among you is one who is best in clearing off the debt.

4113Sahih Muslim

حیوان کو اسی حیوان کی جنس کے بدلے کم یا زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَابْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنِيهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَائَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّی يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابی زبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک غلام آیا اور اس نے نبی کریم ﷺ سے ہجرت کی بیعت کی آپ ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے پھر اس کا مالک اسے لینے آیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا اسے مجھے فروخت کردو تو آپ ﷺ نے اسے دو سیاہ حبشی غلام دے کر خرید لیا پھر آپ ﷺ نے اس وقت تک کسی کی بیعت نہ کی یہاں تک کہ اس سے پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ (یا آزاد)۔

Jabir (RA) reported: There came a slave and pledg- ed allegiance to Allahs Apostle ﷺ on migration; he (the Holy Prophet) did not know that he was a slave. Then there came his master and demanded him back, whereupon Allahs Apostle ﷺ said: Sell him to me. And he bought him for two black slaves, and he did not afterwards take allegiance from anyone until he had asked him whether he was a slave (or a free man)

4114Sahih Muslim

گروی رکھنے اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ فَأَعْطَاهُ دِرْعًا لَهُ رَهْنًا

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن العلاء، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے غلہ ادھار پر خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ bought some grain from a Jew on credit and gave him a coat-of- mail of his as a pledge.

4115Sahih Muslim

گروی رکھنے اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اشْتَرَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے اناج خریدا اور لوہے کی زرہ اس کے پاس گروی رکھ دی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ bought from a Jew grain (as loan) and pledged him his iron coat-of-mail.

4116Sahih Muslim

گروی رکھنے اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ ذَکَرْنَا الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ فَقَالَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَی مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَی أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عبدالواحد بن زیاد، اعمش، ابراہیم نخعی، اسود بن یزید، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے مدت معینہ کے ادھار پر اناج خریدا اور اس کے پاس اپنی لوہے کی زرہ گروی رکھ دی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ bought from a Jew grain for a specified time; and gave him iron coat-of-mail of his as a pledge.

4117Sahih Muslim

گروی رکھنے اور سفر کی طرح حضر میں بھی اس کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ مِنْ حَدِيدٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے اسی حدیث کی مثل نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے لیکن اس میں لوہے کی زرہ ہونے کا ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Aisha (Allah be pleased with her), through another chain ol transmitters, but no mention was made of (its being made) of iron.

4118Sahih Muslim

بیع سلم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا وَقَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ السَّنَةَ وَالسَّنَتَيْنِ فَقَالَ مَنْ أَسْلَفَ فِي تَمْرٍ فَلْيُسْلِفْ فِي کَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ

یحییٰ بن یحیی، عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابن ابی نجیح، عبداللہ بن ابی کثیر، منہال، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو وہ لوگ ایک اور دو سال کے ادھار پر پھلوں کی بیع کرتے تھے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کھجور میں بیع سلم کرے تو مقررہ وزن اور معلوم ناپ میں مقررہ مدت تک کے لئے بیع کرے۔

Ibn Abbas (RA) reported that when Allahs Prophet ﷺ came to Madinah, they were paying one and two years in advance for fruits, so he said: Those who pay in advance for anything must do so for a specified weight and for a definite time.

4119Sahih Muslim

بیع سلم کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ کَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُسْلِفُونَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَسْلَفَ فَلَا يُسْلِفْ إِلَّا فِي کَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ

شیبان بن فروخ، عبدالوارث، ابن ابی نجیح، عبداللہ بن کثیر، ابی منہال، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور لوگ بیع سلم کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا جس شخص نے بیع سلم کی ہے وہ بیع سلم مقررہ ناپ اور معلوم وزن میں کرے۔

Ibn Abbas (RA) reported that when Allahs Messenger ﷺ came to (Madinah) and the people were paying in advance (for the fruits, etc.), he said to them: He who makes an advance payment should not make advance payment except for a specified measure and weight (and for a specified period).

4120Sahih Muslim

بیع سلم کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَلَمْ يَذْکُرْ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن سالم، ابن عیینہ، ابن ابی نجیح، عبدالوارث اس حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں مقررہ مدت کا ذکر نہیں ہے۔

Ibn Abu Najih has narrated a hadith like this with the same chain of transmitters, but he has not mentioned:" for a definite period".

4121Sahih Muslim

بیع سلم کے بیان میں

حدثنا أَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ بِإِسْنَادِهِمْ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ يَذْکُرُ فِيهِ إِلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ

ابوکریب، ابن ابی عمر، وکیع، محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، ابن نجیح، حضرت ابن عیینہ کی مثل ابن ابی نجیح سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں مدت مقررہ کا ذکر کیا گیا ہے۔

This hadith has been narrated by Ibn Abu Najih through another chain of transmitters mentioning in it" for a specified period".