کھیتی باڑی کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 24 · 178 hadiths · Page 7 of 9

4082Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی خَيْبَرَ فَجَائَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَفْعَلْ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا

یحییٰ بن یحیی، مالک، عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو خیبر کا عامل مقرر فرمایا تو وہ عمدہ کھجور لے کر حاضر ہوا تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہیں اس نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ ہم اس کا ایک صاع دو صاع کے بدلے اور دو صاع تین صاع کے بدلے لیتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا مت کرو گھیٹا دراہم کے بدلے فروخت کر اور پھر عمدہ کھجور ان دراہم کے عوض خرید لے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ deputed a person to collect revenue from Khaibar. He brought fine quality of dates, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Are all the dates of Khaibar like this)? He said: No. We got one sa (of fine dates) for two sas (of inferior dates), and (similarly) two sas for three sas. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Dont do that rather sell the inferior quality of dates for dirhams (money), and then buy the superior quality with the help of dirhams.

4083Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُمَا جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُا جَائَ بِلَالٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ هَذَا فَقَالَ بِلَالٌ تَمْرٌ کَانَ عِنْدَنَا رَدِيئٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِکَ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَکِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ سَهْلٍ فِي حَدِيثِهِ عِنْدَ ذَلِکَ

اسحاق بن منصور، یحییٰ بن صالح، معاویہ، ابن سلام، محمد بن سہیل تمیمی، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، ابن کثیر، عقبہ بن عبدالغافر، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ حضرت بلال ؓ کھجور لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا یہ کہاں سے لائے ہو حضرت بلال ؓ نے عرض کیا ہمارے پاس ردی کھجوریں تھیں میں ان میں سے دو صاع کو ایک صاع کے بدلے نبی کریم ﷺ کے کھانے کے لئے فروخت کر کے لایا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افسوس یہ تو عین سود ہے ایسا مت کرو البتہ جب تم کھجور خریدنے کا ارادہ کرو دوسری بیع کے ساتھ پھر اس قیمت کے بدلے یہ خرید لو ابن سہم نے اپنی حدیث میں عِنْدَ ذَلِکَ ذکر نہیں کیا۔

Abd Said reported: Bilal (RA) came with fine quality of dates. Allahs Messenger ﷺ said to him: From where (you have brought them)? Bilal (RA) said: We had inferior quality of dates and I exchanged two sas (of inferior quality) with one sa (of fine quality) as food for Allahs Apostle ﷺ , whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Woe! it is in fact usury; therefore, dont do that. But when you intend to buy dates (of superior quality), sell (the inferior quality) in a separate bargain and then buy (the superior quality). And in the hadith transmitted by Ibn Sahl there is no mention of" whereupon"

4084Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

و حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی قزعہ باہلی، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کھجوریں ہماری کھجوروں کی نسبت کتنی عمدہ ہیں تو اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم اپنی کھجور کے دو صاع اس کھجور کے ایک صاع کے بدلے فروخت کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سود ہے ان کو واپس کردو تم ہماری کھجوروں کو فروخت کرو اور ان میں سے اس رقم سے ہمارے لئے خریدو۔

Abu Said (RA) reported: Dates were brought to Allahs Messenger ﷺ , and he said: These dates are not like our dates, whereupon a man said: We sold two sas of our dates (in order to get) one sa, of these (fine dates), whereupon Allahs Messenger ﷺ said: That is interest; so return (these dates of fine quality), and get your (inferior dates) ; then sell our dates (for money) and buy for us (with the help of money) such (fine dates).

4085Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ کُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنْ التَّمْرِ فَکُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ

اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی، ابی سلمہ، حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ملی جلی کھجوریں دی جاتی تھیں تو ہم دو صاع ایک صاع کے بدلے فروخت کرتے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو فرمایا دو صاع کھجور کے بدلے ایک صاع کھجور اور دو صاع گندم کے بدلے ایک صاع گندم اور ایک درہم دو درہم کے برابر نہیں یعنی ایسی بیع نہ کرو۔

Abu Said (RA) reported: We were given to eat, during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ , dates of different qualities mixed together, and we used to sell two sas of these for one sa, (of fine quality of dates). This reached Allahs Messenger ﷺ , whereupon he said: There should be no exchange of two sas of (inferior) dates for one sa (of fine dates) and two sas of (inferior) wheat for one sa of (fine) wheat. and one dirham for two dirharms.

4086Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا بَأْسَ بِهِ فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا بَأْسَ بِهِ قَالَ أَوَ قَالَ ذَلِکَ إِنَّا سَنَکْتُبُ إِلَيْهِ فَلَا يُفْتِيکُمُوهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَائَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَأَنْکَرَهُ فَقَالَ کَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا قَالَ کَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا أَوْ فِي تَمْرِنَا الْعَامَ بَعْضُ الشَّيْئِ فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ فَقَالَ أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لَا تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَکَ مِنْ تَمْرِکَ شَيْئٌ فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنْ التَّمْرِ

عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، سعید الجریری، حضرت ابونضرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس ؓ سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کیا ہاتھوں ہاتھ میں نے کہا ہاں تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں میں نے ابوسعید ؓ کو اس کی خبر دی میں نے کہا میں نے ابن عباس ؓ سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کیا ہاتھوں ہاتھ؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ابوسعید ؓ نے فرمایا کیا انہوں نے اسی طرح فرمایا ہے؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تم کو ایسا فتوی نہ دیں گے اور کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے پاس بعض جوان کھجور لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اس پر تعجب کیا اور فرمایا ہماری زمینوں کی کھجوریں تو ایسی نہیں ہیں اس نے کہا ہماری زمین کی کھجوروں یا ہمارے اس سال کی کھجوروں کو کچھ عیب آگیا تھا میں نے یہ کھجوریں لیں اور اس کے عوض میں کچھ زیادہ کھجوریں دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تو نے زیادہ دیا اور سود دیا اب ان کے قریب نہ جانا جب تجھے اپنی کھجوروں میں کچھ عیب معلوم ہو تو ان کو بیچ ڈال پھر کھجور میں سے جس کا تو ارادہ کرے خرید لے۔

Abu Nadra reported: I asked Ibn Abbas (RA) about the conversion (of gold and silver for silver and gold). We said: Is it hand to hand exchange? I said: Yes. whereupon he said: There is no harm in it. I informed Abu Said about it, telling him that I had asked Ibn Abbas about it and he said: Is it hand to hand exchange? I said: Yes, whereupon he said: There is no harm in it. He (the narrator) said, or he said like it: We will soon write to him, and he will not give you this fatwa (religious verdict). He said: By Allah, someone of the boy-servants of Allahs Messenger ﷺ brought dates, but he refused to accept them (on the plea) that those did not seem to be of the dates of our land. He said: Something had happened to the dates of our land, or our dates. So I got these dates (in exchange by giving) excess (of the dates of our land), whereupon he said: You made an addition for getting the fine dates (in exchange) which tantamounts, to interest; dont do that (in future). Whenever you find some doubt (as regards the deteriorating quality of) your dates, sell them, and then buy the dates that you like.

4087Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا فَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا فَأَنْکَرْتُ ذَلِکَ لِقَوْلِهِمَا فَقَالَ لَا أُحَدِّثُکَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَهُ صَاحِبُ نَخْلِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ وَکَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا اللَّوْنَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّی لَکَ هَذَا قَالَ انْطَلَقْتُ بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ کَذَا وَسِعْرَ هَذَا کَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلَکَ أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِکَ فَبِعْ تَمْرَکَ بِسِلْعَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِکَ أَيَّ تَمْرٍ شِئْتَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَکُونَ رِبًا أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَهَانِي وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَائِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ بِمَکَّةَ فَکَرِهَهُ

اسحاق بن ابراہیم، عبدالاعلی، داود، حضرت ابونضرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر ؓ سے اور ابن عباس ؓ سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج خیال نہ کیا میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ان سے میں نے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا جو زیادتی کی وہ سود ہے میں نے ابن عمر اور ابن عباس ؓ کے قول کی وجہ سے اس کا انکار کیا تو ابوسعید نے فرمایا میں تجھ سے سوائے اس کے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کچھ بھی بیان نہیں کرتا ایک کھجور والا ایک صاع عمدہ کھجور لایا اور نبی کریم ﷺ کی کھجور بھی اس رنگ کی تھیں اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیرے پاس یہ کھجور کہاں سے آئی تو اس نے کہا میں دو صاع کھجور لے گیا اور اس کے عوض یہ ایک صاع کھجور خرید کر لایا کیونکہ اس کا نرخ بازار میں اسی طرح ہے اور اس کا بھاؤ اسی طرح ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ہلاکت ہو تو نے سود دیا جب تو اس کا ارادہ کرے تو اپنی کھجور کو کسی چیز کے بدلے فروخت کر دے پھر تو اپنے سامان کے عوض جو کھجور چاہئے خرید لے ابوسعید ؓ نے کہا کھجور کھجور کے بدلے زیادہ حقدار ہے کہ وہ سود ہوجائے یا چاندی چاندی کے عوض ابونضرہ کہتے ہیں اس کے بعد میں ابن عمر کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے منع کردیا اور حضرت ابن عباس ؓ کے پاس میں نہ جاسکا ابوصہبا (رح) نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے ابن عباس ؓ سے مکہ میں اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے ناپسند فرمایا۔

Abu Nadra reported: I asked Ibn Umar (RA) and Ibn Abbas (RA) about the conversion of gold with gold but they did not find any harm in that. I was sitting in the company of Abd Said al-Khudri (RA) and asked him about this exchange, and he said: Whatever is addition is an interest. I refused to accept it on account of their statement (statement of Ibn Abbas and Ibn Umar). He said: I am not narrating to you except what I heard from Allahs Messenger ﷺ . There came to him the owner of a date-palm with one sa of fine dates, and the dates of Allahs Apostle ﷺ were of that colour. Allahs Apostle ﷺ said to him: Where did you get these dates? I went with two sas of (inferior dates) and bought one sa of (these fine dates), for that is the prevailing price (of inferior dates) in the market and that is the price (of the fine quality of dates in the market), whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Woe be upon you! You have dealt in interest, when you decide to do it (i. e. exchange superior quality of dates for inferior quality) ; so you should sell your dates for another commodity (or currency) and then with the help of that commodity buy the dates you like. Abu Saad said: When dates are exchanged for dates (with different qualities) there is the possibility (of the element of) interest (creeping into that) or when gold is exchanged for gold having different qualities. I subsequently came to Ibn Umar and he forbade me (to do it), but I did not come to Ibn Abbas; (RA) . He (the narrator) said: Abu as-Sahba narrated to me: He asked Ibn Abbas (RA) in Makkah, and he too disapproved of it.

4088Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلًا بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَی فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْئٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ وَجَدْتَهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ وَلَکِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ

محمد بن عباد، محمد بن حاتم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ابن عباد، سفیان، عمرو، ابی صالح، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ کہ دینار دینار کے ساتھ اور درہم درہم کے ساتھ برابر برابر فروخت ہو جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو یہ سود ہوا راوی کہتے ہیں میں نے ان سے عرض کیا ابن عباس ؓ تو اس کے خلاف کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا میں ابن عباس ؓ سے ملا تو میں نے کہا جو آپ کہتے ہیں اس کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کیا اس بارے میں آپ نے کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے یا اسے آپ ﷺ نے اللہ عزوجل کی کتاب میں پایا ہے تو انہوں نے کہا میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سنا نہیں اور نہ اللہ کی کتاب میں پایا لیکن مجھے اسامہ بن زید ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سود ادھار میں ہے۔

Abu Salih reported: I heard Abu Said al-Khudri (RA) said: Dinar (gold) for gold and dirham for dirham can be (exchanged) with equal for equal; but he who gives more or demands more in fact deals in interest. I sald to him: Ibn Abbas (RA) says otherwise, whereupon he said: I met Ibn Abbas (RA) and said: Do you see what you say; have you heard it from Allahs Messenger ﷺ , or found it in the Book of Allah, the Glorious and Majestic? He said: I did not hear it from Allahs Messenger ﷺ . and I did not find it in the Book of Allah (Glorious and Majestic), but Usama bin Zaid narrated it to me that Allahs Apostle ﷺ said: There can be an element of interest in credit.

4089Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید، ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہے۔

Ubaidullah bin Abu Yazid heard Ibn Abbas (RA) as saying: Usama bin Zaid reported Allahs Apostle ﷺ as saying: There can be an element of interest in credit (when the payment is not equal).

4090Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا فِيمَا کَانَ يَدًا بِيَدٍ

زہیر بن حرب، عفان، محمد بن حاتم، بہز، وہیب، ابن طاو س، ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نقد بہ نقد میں سود نہیں ہے۔

Ibn Abbas; (RA) reported on the authority of Usama bin Zaid Allahs Messenger ﷺ as having said this: There is no element of interest when the money or commodity is exchanged hand to hand.

4091Sahih Muslim

کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا هِقْلٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ قَوْلَکَ فِي الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَلَّا لَا أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا کِتَابُ اللَّهِ فَلَا أَعْلَمُهُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ

حکم بن موسی، ہقل، اوزاعی، حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوسعید خدری ؓ نے ابن عباس ؓ سے ملاقات کی تو ان سے عرض کیا آپ اپنے قول بیع صرف کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے یا اس بارے میں اللہ کی کتاب میں اس کی وضاحت پائی ہے؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہرگز نہیں، میں کچھ نہیں کہتا۔ رہا اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد تو آپ ﷺ اس کو زیادہ جاننے والے ہیں اور رہی اللہ کی کتاب تو میں اس کا علم نہیں رکھتا لیکن مجھے اسامہ بن زید ؓ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہے۔

Ata bin Abu Rabah reported: Abu Said al-Khudri (RA) met Ibn Abbas (RA) and said to him: What do you say in regard to the conversion (of commodities or money) did you hear it from Allahs Messenger ﷺ , or is it something which you found In Allahs Book, Majestic and Glorious? Thereupon Ibn Abbas (RA) (Allah be pleated with them) said: I dont say that. So far at Allahs Massenger ﷺ is concerned, you know him better, and to far as the Book of Allah to concerned, I do not know it (more than you do), but Usama bin Zaid (RA) narrated to me Allahs Messenger ﷺ as having said this: Beware, there can be an element of interest in credit.

4092Sahih Muslim

سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ سَأَلَ شِبَاکٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ قَالَ قُلْتُ وَکَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ قَالَ إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، مغیرہ، شباک، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے یا کھلانے والے پر لعنت فرمائی۔ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا اس کے لکھنے والا اور اس کے گواہ تو کہا ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنا۔

Abdullah (b. Masud) (RA) said that Allahs Messenger ﷺ cursed the one who accepted interest and the one who paid it I asked about the one who recorded it, and two witnesses to it. He (the narrator) said: We narrate what we have heard.

4093Sahih Muslim

سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ وَکَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَائٌ

محمد بن صباح، زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، ہشیم، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی اور ارشاد فرمایا یہ سب گناہ میں برابر شریک ہیں۔

Jabir said that Allahs Messenger ﷺ cursed the accepter of interest and its payer, and one who records it, and the two witnesses, and he said: They are all equal.

4094Sahih Muslim

حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَأَهْوَی النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَی أُذُنَيْهِ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ کَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَی الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ کَالرَّاعِي يَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی يُوشِکُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی، زکریا، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور حضرت نعمان ؓ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا آپ ﷺ فرماتے تھے حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو شبہ میں ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑگیا تو وہ حرام میں پڑگیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے، تو قریب ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں خبردار رہو ہر بادشاہ کے لئے چراگاہ کی حد ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ کی حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں آگاہ رہو جسم میں ایک لوتھڑا ہے جب وہ سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور جب وہ بگڑ کیا تو سارا ہی بدن بگڑ کیا آگاہ رہو کہ وہ دل ہے۔

Numan bin Bashir (RA) reported: I heard Allahs Messenger (may peace be upon himn) as having said this (and Numan) pointed towards his ears with his fingers): What is lawful is evident and what is unlawful is evident, and in between them are the things doubtful which many people do not know. So he who guards against doubtful things keeps his religion and honour blameless, and he who indulges in doubtful things indulges in fact in unlawful things, just as a shepherd who pastures his animals round a preserve will soon pasture them in it. Beware, every king has a preserve, and the things God his declaced unlawful are His preserves. Beware, in the body there is a piece of flesh; if it is sound, the whole body is sound and if it is corrupt the whole body is corrupt, and hearken it is the heart.

4095Sahih Muslim

حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ قَالَا حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zakariya with the same chain of transmitters.

4096Sahih Muslim

حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ وَأَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَکَرِيَّائَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَکْثَرُ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، مطرف، ابی فروہ ہمدانی، قتیبہ، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، ابن عجلان، عبدالرحمن بن سعید، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر ؓ ہی سے یہ حدیث دوسرے راویوں سے بھی مروی ہے لیکن زکریا کی حدیث ان تمام روایات میں سے زیادہ مکمل اور پوری ہے۔

AI-Numan bin Bashir reported it from Allahs Apostle ﷺ . The hadith narrated by Zakariya is, however, more complete and lengthy than the other ones.

4097Sahih Muslim

حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَکَرِيَّائَ عَنْ الشَّعْبِيِّ إِلَی قَوْلِهِ يُوشِکُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد، خالد بن یزید، سعید بن ابی ہلال، عون بن عبداللہ بن عامر شعبی، حضرت نعمان بن بشیر بن سعد ؓ صحابی رسول ﷺ سے روایت ہے کہ وہ حمص میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے باقی حدیث مبارکہ زکریا شعبی کے واسطہ سے ان کے قول " قریب ہے کہ وہ اس حرام میں واقع ہوجانے تک " ذکر کی ہے۔

Numan bin Bashir bin Sad, a Companion of Allahs Messenger ﷺ was heard delivering a sermon at Hims and was saying: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The lawful is evident and the unlawful is evident, the rest of the hadith is the same as related by Zakariya.

4098Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ کَانَ يَسِيرُ عَلَی جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ قَالَ بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ قُلْتُ لَا ثُمَّ قَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَی أَهْلِي فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَقَالَ أَتُرَانِي مَاکَسْتُکَ لِآخُذَ جَمَلَکَ خُذْ جَمَلَکَ وَدَرَاهِمَکَ فَهُوَ لَکَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، زکریا، عامر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے وہ چلتے چلتے تھک گیا انہوں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا کہتے ہیں مجھے نبی کریم ﷺ ملے آپ ﷺ نے میرے لئے دعا کی اور اونٹ کو مارا تو وہ ایسے چلنے لگا کہ اس جیسا کبھی نہ چلا تھا آپ ﷺ نے فرمایا اسے مجھے ایک اوقیہ پر بیچ دو میں نے کہا نہیں پھر فرمایا اس کو مجھے فروخت کردو تو میں نے اسے آپ ﷺ کو ایک اوقیہ پر فروخت کردیا اور اس پر سوار ہو کر اپنے اہل و عیال تک جانے کا استثناء کیا جب میں پہنچا تو آپ ﷺ کے پاس وہ اونٹ لے کر حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت نقد ادا کردی پھر میں واپس آگیا تو آپ ﷺ نے میرے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ میں نے تم سے کم قیمت لگوائی ہے تاکہ تجھ سے تیرا اونٹ لے لوں اپنا اونٹ بھی لے جا اور دراہم بھی تیرے ہیں۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that he was travelling on his camel which had grown jaded, and he decided to let it off. When Allahs Apostle ﷺ met him and prayed for him and struck it, so it trotted as it had never trotted before. He said: Sell it to me for an uqaya. I said: No. He again said: Sell it to me. So I sold it to him for an uqaya, but made the stipulation that I should be allowed to ride back to my family. Then when I came to (my place) I took the camel to him and he paid me its price in ready money. I then went back and he sent: (someone) behind me (and as I came) he said: Do you see that I asked you to reduce price for buying your camel. Take your camel and your coins; these are yours.

4099Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ

علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، زکریا، عامر، جابر بن عبداللہ اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.

4100Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَکَادُ يَسِيرُ قَالَ فَقَالَ لِي مَا لِبَعِيرِکَ قَالَ قُلْتُ عَلِيلٌ قَالَ فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيْ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ قَالَ فَقَالَ لِي کَيْفَ تَرَی بَعِيرَکَ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَکَتُکَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَکُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَی أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّی أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَی الْمَدِينَةِ حَتَّی انْتَهَيْتُ فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنْ الْبَعِيرِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ مَا تَزَوَّجْتَ أَبِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا قَالَ أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِکْرًا تُلَاعِبُکَ وَتُلَاعِبُهَا فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوْ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَکَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ

عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، مغیرہ، شعبی، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ کیا آپ ﷺ مجھ سے ملے اور میری سواری پانی لانے والا ایک اونٹ تھا جو تھک گیا اور چلنے سے عاجز آگیا تھا آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تیرے اونٹ کو کیا ہوگیا میں نے عرض کیا بیمار ہوگیا ہے تو رسول اللہ ﷺ پیچھے ہوئے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں سے آگے ہی چلتا رہا آپ ﷺ نے مجھ سے کہا اب اپنے اونٹ کو تو کیسا خیال کرتا ہے میں نے عرض کیا بہت اچھا تحقیق اسے آپ ﷺ کی برکت پہنچی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اسے مجھے فروخت کرتا ہے میں نے شرم کی اور میرے پاس اس اونٹ کے علاوہ کوئی دوسرا پانی لانے والا نہ تھا میں نے عرض کیا جی ہاں پھر میں نے اس شرط پر آپ ﷺ کو وہ اونٹ بیچ دیا کہ میں مدینہ کے پہنچنے تک اس پر سواری کروں گا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میری نئی نئی شادی ہوئی ہے میں نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی میں لوگوں سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گیا جب میں پہنچا میرے ماموں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں اس کی خبر دی جو میں کرچکا تھا تو اس نے مجھے اس بارے میں ملامت کی حضرت جابر ؓ کہتے ہیں جب میں نے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے کنورای سے شادی کی ہے یا بیوہ سے تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے بیوہ سے شادی کی ہے تو آپ ﷺ نے کہا تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے والد فوت یا شہید ہوچکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں میں نے ان کی ہم عمر لڑکی سے نکاح کرنا پسند نہ کیا جو انہیں ادب نہ سکھائے اور نہ ان کی نگرانی کرے بیوہ سے شادی میں نے اس لئے کی ہے تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھائے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو میں صبح صبح ہی آپ ﷺ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا آپ ﷺ نے اس کی قیمت ادا کردی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس کردیا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: I went on an expedition with Allahs Messenger ﷺ . He overtook me and I was on a water-carrying camel who had grown tired and did not walk (trot). He (the Holy Prophet) said to me: What is the matter with your camel? I said: It is sick. He (the Holy Prophet) stepped behind and drove it and prayed for it, and then it always moved ahead of other camels. He (then) said: How do you find your camel? I said: It is, by the grace of your prayer, all right. He said: Would you sell this (camel) to me? I felt shy (to say him," No") as we had no other camel for carrying water, but (later on) I said: Yes, and to I sold it to him on the condition that (I would be permitted) to ride it until I reached Madina. I said to him: Allahs Messenger, I am newly married, so I asked his permission (to go ahead of the caravan). He permitted me, and I reached Madinah well in advance of other people, until I reached my destination. There my maternal uncle met me and asked me about the camel, and I told him what I had done with regard to it. He reproved me in this connection. He (Jabir) said: When I asked his permission (to go ahead of the caravan) Allahs Messenger ﷺ inquired of me whether I had married a virgin or a non-virgin. I said to him: I have married a non-virgin. He said: Why did you not marry a virgin who would have played with you and you would have played with her? I said to him: Allahs Messenger, my father died (or he fell as a martyr), and I have small sisters to (look after), so I did not like the idea that I should marry a woman who is like them and thus be not able to teach them manners and look after them properly. So I have married a non-virgin so that she should be able to look after them and teach them manners, When Allahs Messenger ﷺ came to Madinah, I went to him in the morning with the camel. He paid me its price and returned that (the camel) to me.

4101Sahih Muslim

اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ ثُمَّ قَالَ لِي بِعْنِي جَمَلَکَ هَذَا قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ لَکَ قَالَ لَا بَلْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَکَ بِهَا قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ قَالَ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا قَالَ فَقُلْتُ لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَکَانَ فِي کِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، سالم بن ابی جعد، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم مکہ سے مدینہ کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے تو میرا اونٹ بیمار ہوگیا اور باقی حدیث کو اسی قصہ کے ساتھ بیان کیا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تو اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دے؟ میں نے کہا: بلکہ وہ آپ ﷺ کے لئے (ہدیہ) ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! بلکہ اسے مجھے فروخت کردے۔ میں نے کہا: بلکہ وہ تو آپ ﷺ ہی کے لئے ہے، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! بلکہ اسے مجھے فروخت کردے۔ تو میں نے عرض کیا میرے ذمہ ایک آدمی کا ایک اوقیہ سونا قرض ہے تو یہ اس کے عوض آپ ﷺ لے لیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے خرید لیا اور اسی اونٹ پر مدینہ چلے جانا جب میں مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ سونا اور کچھ زائد دے دو تو انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا اور کچھ زائد دے دیا میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی یہ زیادتی (ازراہ محبت کہا) کبھی مجھ سے جدا نہ ہوگی فرماتے ہیں کہ وہ سونا میرے پاس ایک تھیلی میں رہا حتی کہ حرہ کے دن اسے مجھ سے شام والوں نے لے لیا۔

Jabir reported: We went from Makkah to Madinah with Allahs Messenger ﷺ when my camel fell ill, and the rest of the hadith is the same. (But it in also narrated in it:) He (the Holy Prophet) said to me: Sell your camel to me. I said: No, but it is yours. He said: No. (it cant be), but sell it to me. I said: No, but, Allahs Messenger, it is yours. He said: No, it cant be, but sell it to me. I said: Then give me an uqaya of gold for I owe that to a person and then it would be yours. He (the Holy Prophet) said: I take it (for an uqiya of gold) and you reach Madinah on it. As I reached Madinah, Allahs Messenger ﷺ said to Bilal (RA) : Give him an uqiya of gold and make some extra payment too. He (Jabir) said: He gave me an uqiya of gold and made an addition of a qirat. He (Jabir) said: The addition made by Allahs Messenger ﷺ was with me (as a sacred trust for belssing) and lay with me in a pocket until the people of Syria took it on the Day of Harra.