بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ایوب اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
The above hadith is likewise narrated through another chain of transmission on the authority of Abi Qilabah.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَائً بِسَوَائٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا کَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا کَانَ يَدًا بِيَدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، خالد الحذاء، ابی قلابہ، ابی اشعث، حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سونا سونے کے عوض چاندی، چاندی کے بدلے گندم، گندم کے عوض جو، جو کے عوض کھجور، کھجور کے بدلے نمک، نمک کے بدلے برابر برابر، ٹھیک ٹھیک، ہاتھوں ہاتھ ہو پس جب یہ اقسام تبدیل ہوجائیں تو جب وہ ہاتھوں ہاتھ ہو تو تم جیسے چاہو فروخت کرو۔
Ubida bin al-Simit (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Gold is to be paid for by gold, silver by silver, wheat by wheat, barley by barley, dates by dates, and salt by salt, like for like and equal for equal, payment being made hand to hand. If these classes differ, then sell as you wish if payment is made hand to hand.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَی الْآخِذُ وَالْمُعْطِي فِيهِ سَوَائٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل بن مسلم عبدی، عبدالمتوکل، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سونا سونے کے ساتھ چاندی چاندی کے ساتھ گندم گندم کے ساتھ جو جو کے ساتھ کھجور کھجور کے ساتھ نمک نمک کے ساتھ برابر برابر، نقد بہ نقد فروخت کرو جس نے زیادتی طلب کی تو اس نے سودی کاروبار کیا لینے اور دینے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Gold is to be paid for by gold, silver by silver, wheat by wheat, barley by barley, dates by dates, salt by salt, like by like, payment being made hand to hand. He who made an addition to it, or asked for an addition, in fact dealt in usury. The receiver and the giver are equally guilty.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ الرَّبَعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ النَّاجِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
عمرو ناقد، یزید بن ہارون، سلیمان ربعی، ابوالمتوکل ناجی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونا سونے کے بدلے برابر برابر باقی اسی طرح ذکر کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Said al-Khudri (RA) through another chain of transmitters.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَی إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ
ابوکریب، محمد بن العلاء، واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کھجور کھجور کے ساتھ گندم گندم کے ساتھ جو جو کے ساتھ اور نمک نمک کے ساتھ برابر برابر، نقد ونقد فروخت کرو جس نے زیادتی کی یا زیادتی کا طالب ہوا تو اس نے سودی لین دین کیا الاّ یہ کہ اس کی اجناس تبدیل ہوجائیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Dates are to be paid for by dates, wheat by wheat, barley by barley, salt by salt, like for like, payment being made on the spot. He who made an addition or demanded an addition, in fact, dealt in usury except in case where their classes differ.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ يَدًا بِيَدٍ
ابوسعید اشج، محاربی، حضرت فضیل بن غزوان نے بھی اس سند کے ساتھ یہ حدیث روایت کی ہے لیکن یدا بید کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Fudail bin Ghazwan with the same chain of transmitters, but he made no mention of (payment being) made on the spot.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ اسْتَزَادَ فَهُوَ رِبًا
ابوکریب، واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، ابن ابی نعم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سونا سونے کے عوض وزن وزن کے ساتھ برابر برابر ہو اور چاندی چاندی کے ساتھ وزن وزن کے ساتھ برابر برابر ہو جس نے زیادہ کیا یا زیادتی کو طلب کیا تو یہ سود ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Gold is to be paid for by gold with equal weight, like for like, and silver is to be paid for by silver with equal weight, like for like. He who made an addition to it or demanded an addition dealt in usury.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي تَمِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، سلیمان ابن بلال، موسیٰ بن ابی تمیم، سعید بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دینار دینار کے بدلے اور زیادتی ان میں جائز نہیں اور درہم درہم کے بدلے اور ان میں زیادتی نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Let dinar be exchanged for dinar, with no addition on either side and dirham be exchanged for dirham with no addition on either side.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ أَبِي تَمِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، موسیٰ بن ابی تمیم اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Musa bin Abu Tamim with the same chain of transmitters.
چاندی کی سونے کے بدلے قرض کے طور پر بیع کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ بَاعَ شَرِيکٌ لِي وَرِقًا بِنَسِيئَةٍ إِلَی الْمَوْسِمِ أَوْ إِلَی الْحَجِّ فَجَائَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي فَقُلْتُ هَذَا أَمْرٌ لَا يَصْلُحُ قَالَ قَدْ بِعْتُهُ فِي السُّوقِ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ فَأَتَيْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَنَحْنُ نَبِيعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ مَا کَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَمَا کَانَ نَسِيئَةً فَهُوَ رِبًا وَائْتِ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ تِجَارَةً مِنِّي فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِکَ
محمد بن حاتم بن میمون، سفیان بن عیینہ، عمرو، حضرت ابومنہال سے روایت ہے کہ میرے شریک نے چاندی حج کے موسم یا حج تک کے ادھار میں فروخت کی۔ میرے پاس آکر اس نے مجھے اس کی خبر دی تو میں نے کہا یہ معاملہ تو درست نہیں اس نے کہا اسے میں نے بازار میں فروخت کیا اور کسی نے مجھے اس پر منع نہیں کیا تو میں نے براء بن عازب کے پاس جا کر ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے اور ہم یہ بیع کیا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا جو نقد بہ نقد ہو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو تو وہ سود ہے اور تو زید بن ارقم کے پاس جا کیونکہ وہ تجارت میں مجھ سے بڑے ہیں میں نے ان کے پاس جا کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح فرمایا۔
Abu Minhal reported: My partner sold silver to be paid in the (Hajj) season or (in the days of) Hajj. He (my partner) came to me and informed me, and I said to him: Such transaction is not desirable. He said: I sold it in the market (on loan) but nobody objected to this. I went to al-Bara bin Azib (RA) and asked him, and he said: Allahs Apostle ﷺ came to Madinah and we made such transaction, whereupon he said: In case the payment is made on the spot, there is no harm in it, and in case (it is sold) on loan, it is usury. You better go to Zaid bin Arqam, for he is a greater trader than I; so I went to him and asked him, and he said like it.
چاندی کی سونے کے بدلے قرض کے طور پر بیع کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ يَقُولُ سَأَلْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ سَلْ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَهُوَ أَعْلَمُ فَسَأَلْتُ زَيْدًا فَقَالَ سَلْ الْبَرَائَ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ ثُمَّ قَالَا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، حبیب، حضرت ابوالمنہال سے روایت ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب ؓ سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا زید بن ارقم ؓ سے پوچھو وہ زیادہ جاننے والے ہیں پھر دونوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے چاندی کو سونے کے عوض ادھار بیع کرنے سے منع فرمایا۔
Habib reported that he heard Abu Minhal as saying: I asked al-Bara bin Azib (RA) about the exchange of (gold for silver or vice versa), whereupon he said: you better ask Zaid bin Arqam for he knows more than I. So I asked Zaid but he said: You better ask al-Bara for he knows more than I. Then both of them said: Allahs Messenger ﷺ forbade the sale of silver for gold when payment is to be made in future.
چاندی کی سونے کے بدلے قرض کے طور پر بیع کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَائً بِسَوَائٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ کَيْفَ شِئْنَا وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ کَيْفَ شِئْنَا قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ هَکَذَا سَمِعْتُ
ابوربیع عتکی، عباد بن عوام، یحییٰ بن ابی اسحاق، عبدالرحمن بن ابی بکرہ، حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ برابر برابر ہوں اور ہمیں حکم دیا کہ ہم چاندی کو سونے کے ساتھ جیسے چاہیں خریدیں اور سونے کو چاندی کے عوض جیسے چاہیں خریدا کریں ایک آدمی نے سوال کیا کہ نقد بہ نقد تو فرمایا میں نے اسی طرح سنا۔
Abdul Rabman bin Abia Bakra reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ forbade the sale of gold for gold, and silver for silver except equal for equal, and commanded us to buy silver for gold as we desired and buy gold for silver as we desired. A person asked him (about the nature of payment), whereupon he said: It is to be made on the spot. This is what I heard (from Allahs Messenger (may peace be upon him ).
چاندی کی سونے کے بدلے قرض کے طور پر بیع کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَکْرَةَ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن منصور، یحییٰ بن صالح، معاویہ، یحیی، ابن ابی کثیر، یحییٰ بن ابی اسحاق، عبدالرحمن بن ابی بکرہ، حضرت ابوبکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح منع فرمایا۔
Abdul Rabman bin Abu Bakra (RA) said: Allahs Messenger ﷺ prohibited us. The rest of the hadith is the same.
سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلَادَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنْ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلَادَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، ابن وہب، ابوہانی، علی بن رباح، حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ہار لایا گیا اور آپ ﷺ خبیر میں تھے اس میں پتھر کے نگ اور سونا تھا اور یہ مال غنیمت میں سے تھا جو بیچا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہار میں موجود سونے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے علیحدہ کرلیا جائے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے کو سونے کے برابر وزن کر کے فروخت کرو۔
Fadala bin Ubaid al-Ansari reported: A necklace having gold and gems in it was brought to Allahs Messenger ﷺ in Khaibar and it was one of the spoils of war and was put to sale. Allahs Messenger ﷺ said: The gold used in it should be separated, and then Allahs Messenger ﷺ further said: (Sell) gold for gold with equal weight.
سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَکْثَرَ مِنْ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تُبَاعُ حَتَّی تُفَصَّلَ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابی شجاع، سعید بن یزید، خالد بن ابی عمران، حنش صنعانی، حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ میں نے خبیر کے دن ایک ہار بارہ دینار میں خریدا اس میں سونا اور پتھر کے نگ تھے جب میں نے اس سے سونا جدا کیا تو میں نے اس میں سونا بارہ دینا سے زیادہ پایا تو میں نے اس بات کا نبی کریم ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا سونے کو فروخت نہ کیا جائے جب تک کہ اسے جدا نہ کیا جائے۔
Fadila bin Ubaid (RA) reported: I bought on the day (of the Victory of Khaibar) a necklace for twelve dinars (gold coins). It was made of gold studded with gems. I separated (gold from gems) in it, and found (gold) of more (worth) than twelve dinars. I made a mention of it to Allahs Apostle ﷺ , whereupon he said: It should not be sold unless it is separated.
سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن المبارک، حضرت سعید ؓ بن زید ؓ سے بھی اسی طرح حدیث اس سند کے ساتھ مروی ہے۔
A hadith like this is narrated on the authority of Said bin Yazid with the same chain of transmitters.
سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ نُبَايِعُ الْيَهُودَ الْوُقِيَّةَ الذَّهَبَ بِالدِّينَارَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ
قتیبہ، لیث، ابن ابی جعفر، جلاح، حنش صنعانی، حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ ہم خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم یہود سے ایک اوقیہ سونے کے بدلے دو یا تین دینار کے ساتھ بیع کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے سوائے وزن کے مت فروخت کرو۔
Fadala bin Ubaid reported: We were in the company of Allahs Messenger ( may peace be upon him) on the day (of the Victory of) Khaibar, and made transaction with the Jews for the uqiya of gold for the dinars or three (gold coins), whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Do not sell gold for gold but for equal weight
سونے والی ہار کی بیع کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَغَيْرِهِمَا أَنَّ عَامِرَ بْنَ يَحْيَی الْمَعَافِرِيَّ أَخْبَرَهُمْ عَنْ حَنَشٍ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ فِي غَزْوَةٍ فَطَارَتْ لِي وَلِأَصْحَابِي قِلَادَةٌ فِيهَا ذَهَبٌ وَوَرِقٌ وَجَوْهَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا فَسَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ فَقَالَ انْزِعْ ذَهَبَهَا فَاجْعَلْهُ فِي کِفَّةٍ وَاجْعَلْ ذَهَبَکَ فِي کِفَّةٍ ثُمَّ لَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ
ابوطاہر، ابن وہب، قرہ بن عبدالرحمن معافری، عمر بن حارث، حضرت حنش سے روایت ہے کہ ہم حضرت فضالہ بن عبید ؓ کے ساتھ ایک جنگ میں تھے میرے اور میرے ساتھی کے حصہ میں ایک ایسا ہار آیا جس میں سونا اور چاندی اور جواہر تھے میں نے اس کے خریدنے کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے پوچھا تو انہوں نے کہا اس کا سونا جدا کر کے ایک پلڑے میں رکھو اور اپنے سونے کو دوسرے پلڑے میں رکھ پھر برابر برابر کے سواء تم حاصل نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ برابر برابر کے سوا حاصل نہ کرے۔
Hanash reported: We were along with Fadala bin Ubaid (RA) in an expedition. There fell to my and my friends lot a necklace made of gold, silver and jewels. I decided to buy that. I asked Fadala bin Ubaid, whereupon he said: Separate its gold and place it in one pan (of the balance) and place your gold in the other pan, and do not receive but equal for equal, for I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who believes in Allah and the Hereafter should not take but equal for equal.
کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ فَقَالَ بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَائَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِکَ فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ لِمَ فَعَلْتَ ذَلِکَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَإِنِّي کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ قَالَ وَکَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ قِيلَ لَهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ قَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ
ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، عمرو، ابوطاہر، ابن وہب، عمر بن حارث، بسربن سعید، معمر بن عبداللہ، حضرت عمر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے غلام کو گندم کا ایک صاع دے کر بھیجا تو اسے کہا اس کو بیچ دینا پھر اس کی قیمت سے جو خرید لینا غلام گیا تو اس نے ایک صاع اور کچھ زیادہ لے لئے اور جب معمر کے پاس آیا تو انہیں اس کی خبر دی معمر ؓ نے اسے کہا تو نے ایسا کیوں کیا جاؤ اور اسے واپس کر کے آؤ اور برابر سے زیادہ نہ لو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے غلہ غلہ کے بدلے برابر برابر ہو اور ان دنوں میں ہمارا اناج جو تھا آپ ﷺ سے کہا گیا کہ یہ اس کی مثل تو نہیں ہے کہا میں ڈرتا ہوں کہ یہ اس کی مثل نہ ہوجائے۔
Mamar binAbdullah reported that he sent his slave with a sa of wheat and said to him: Sell it, and then buy with it barley. The slave went away and he got a sa (of barley) and a part of sa over and above that. When he came to Mamar he informed him about that, whereupon Mamar said to him: Why did you do that? Go back and return that, and do not accept but weight, for weight, for I used to hear from Allahs Apostle ﷺ as saying: Wheat for wheat and like for like. He (one of the narrators) said: Our food in those days consisted of barley. It was said to him (Mamar) that (wheat) is not like that (barley). He replied: I am afraid these may not be similar
کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَی خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنْ الْجَمْعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلُوا وَلَکِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَکَذَلِکَ الْمِيزَانُ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان ابن بلال، عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی عدی انصاری میں سے ایک شخص کو خیبر کا عامل مقرر فرمایا وہ عمدہ کھجور لے کر حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی طرح ہیں اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ ہم ایک صاع دو صاع کے بدلے خریدتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ برابر برابر بیچ دو یا اس کی قیمت سے دوسری خرید لو اور اسی طرح تول اور وزن میں بھی برابری کرو۔
Abu Hurairah (RA) and Abu Said al-Khudri (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ deputed a person from Banu Adi al-Ansari to collect revenue from Khaibar. He came with a fine quality of dates, whereupon Allahs Messenger ﷺ said to him: Are all the dates of Khaibar like this? He said: Allahs Messenger, it is not so. We buy one sa of (fine quality of dates) for two sas out of total output (including even the inferior quality of dates), whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Dont do that, but like for like, or sell this (the inferior quality and receive the price) and then buy with the price of that, and that would make up the measure.