پچھنے لگانے کی اجرت کے حلال ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ وَکَلَّمَ سَيِّدَهُ فَخَفَّفَ عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَلَوْ کَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، عاصم، شعبی، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بنی بیاضہ کے ایک غلام نے نبی کریم ﷺ کو پچھنے لگائے نبی کریم ﷺ نے اسے اس کی مزدوری دی اور اس کے مالک سے سفارش کی تو اس نے اس کا خراج کم کردیا اگر پچھنے لگانے کی کمائی حرام ہوتی تو اسے نبی کریم ﷺ اجرت نہ دیتے۔
Ibn Abbas (RA) reported: The slave of Banu Bayada cupped Allahs Apostle ﷺ and he gave him his wages, and talked to his master and he reduced the charges, and if this earning was unlawful Allahs Apostle ﷺ would not have given it.
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَبُو هَمَّامٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی يُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ وَلَعَلَّ اللَّهَ سَيُنْزِلُ فِيهَا أَمْرًا فَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْئٌ فَلْيَبِعْهُ وَلْيَنْتَفِعْ بِهِ قَالَ فَمَا لَبِثْنَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی حَرَّمَ الْخَمْرَ فَمَنْ أَدْرَکَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَيْئٌ فَلَا يَشْرَبْ وَلَا يَبِعْ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ بِمَا کَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَسَفَکُوهَا
عبیداللہ بن عمر قواریری، عبدالاعلی بن عبدالاعلی، ابوہمام، سعید جریری، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مدینہ میں ایک خطبہ میں سنا آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ شراب کی حرمت کا اشارہ کرتا ہے شاید اس بارے میں عنقریب کوئی حکم نازل کریں گے جس کے پاس اس میں سے کچھ ہو تو چاہیے کہ وہ اسے بیچ لے اور اس سے نفع اٹھا لے ہم چند دن ٹھہرے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام کردیا ہے تو جس شخص کو یہ آیات پہنچ جائے اور اس کے پاس شراب میں سے کچھ موجود ہو تو نہ پیے اور نہ فروخت کرے۔ ابوسعید ؓ نے کہا تب جن لوگوں کے پاس شراب میں سے جو بھی موجود تھا انہوں نے اسے مدینہ کے راستہ (نالیوں) میں بہا دیا۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ addressing in Madinah. He said: O people, Allah is giving an indication (of the prohibition) of wine. and He is probably soon going to give an order about it. So he who has anything of it with him should sell that, and derive benefit out of it. He (the narrator) said: We waited for some time that Allahs Apostle ﷺ said: Verily Allah, the Exalted, has forbidden wine. So who hears this verse and he has anything of it with him, he should neither drink it nor sell it. He (the narrator) said: The people then brought whatever they had of it with them on the streets of Madinah and spilt that.
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَنَّهُ جَائَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنْ الْعِنَبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلًا أَهْدَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا قَالَ لَا فَسَارَّ إِنْسَانًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ سَارَرْتَهُ فَقَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا فَقَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّی ذَهَبَ مَا فِيهَا
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، زید بن اسلم، حضرت عبدالرحمن بن وعلہ سبائی مصری سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابن عباس ؓ سے انگور کے شیرے کے بارے میں سوال کیا تو ابن عباس نے فرمایا ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو شراب کی ایک مشک ہدیہ کی تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ اللہ نے اسے حرام کردیا ہے؟ تو اس نے کہا نہیں اور اس نے کسی دوسرے آدمی سے سرگوشی کی رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا تو نے کس بارے میں سرگوشی کی تو اس نے کہا کہ میں نے اس سے شراب کے فروخت کرنے کے لئے کہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا اس نے اس کی بیع کو بھی حرام کیا ہے تو اس نے مشک کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ جو کچھ اس میں تھا سارا بہہ گیا۔
Abdul Rahman bin Waala as-Sabai (who was an Egyptian) asked Abdullah bin Abbas (RA) ; (RA) about that which is extracted from the grapes, whereupon he said: A person presented to Allahs Messenger ﷺ a small water-skin of wine. Allabs Messenger ﷺ said to him: Do you know that Allah has forbidden it? He said: No. He then whisper- ed to another man. Allahs Messenger ﷺ asked him what he had whispered. He said: I advised him to sell that, whereupon he (the Holy Prophet) said: Verily He Who has forbidden its drinking has forbidden its sale also. He (the narrator) said: He opened the waterskin until what was contained in it was spilt.
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابوطاہر، ابن وہب، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن وعلہ، عبداللہ عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
Abdul Rahman bin Waala narrated this on the authority of Abdullah bin Abbas (RA) .
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ نَهَی عَنْ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر، اسحاق، جریر، منصور، ابی ضحیٰ، مسروق، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے اور یہ آیات لوگوں کے سامنے تلاوت کیں پھر شراب کی تجارت سے منع فرمایا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: When the concluding verses of Sura Baqarah were revealed, Allahs Messenger ﷺ went out and read them out to the people and then forbade them to trade in wine.
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتْ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب سود کے بارے میں سورت بقرہ کی آخری آیات نازل کی گئیں تو رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اور شراب کی تجارت کو حرام کیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: When the concluding verses of Sura Baqarah pertaining to Riba were revealed, Allahs Messenger ﷺ went out to the mosque and he forbade the trade in wine.
شراب مردار خنزیر اور بتوں کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَکَّةَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَالْخِنْزِيرِ وَالْأَصْنَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَی بِهَا السُّفُنُ وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ فَقَالَ لَا هُوَ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَکَلُوا ثَمَنَهُ
قتیبہ بن سعید، لیث، یزید بن ابی حبیب، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے فتح مکہ والے سال مکہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام کیا ہے آپ ﷺ کو کہا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ مردار کی چربی کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ اس سے کشتیوں کو (پیندے میں) ملا جاتا ہے اور چمڑوں کو اس سے رنگا جاتا ہے اور لوگ اس سے روشنی کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں وہ حرام ہے پھر اسی وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ یہود کو ہلاک کرے کہ اللہ نے جب ان پر اس مردار کی چربی کو حرام کیا تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے فروخت کردیا اور اس کی قیمت کھائی۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying in the Year of Victory while he was in Makkah: Verily Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, carcass, swine and idols, It was said: Allahs Messenger, you see that the fat of the carcass is used for coating the boats and varnishing the hides and people use it for lighting purposes, whereupon he said: No, it is forbidden, Then Allahs Messenger ﷺ said: May Allah the Exalted and Majestic destroy the Jews; when Allah forbade the use of fat of the carcass for them, they melted it, and then sold it and made use of its price (received from it).
شراب مردار خنزیر اور بتوں کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ قَالَ کَتَبَ إِلَيَّ عَطَائٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، عبدالحمید بن جعفر، یزید بن ابی حبیب، عطاء، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے فتح مکہ کے سال سنا باقی حدیث وہی ہے جو اوپر روایت کی گئی۔
Yazid bin Abu Habib reported: Ata reported to me that he heard Jabir (b. Abdullah) saying it that he had heard that from Allahs Messenger ﷺ in the Year of Victory.
شراب مردار خنزیر اور بتوں کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا فَقَالَ قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَجَمَلُوهَا فَبَاعُوهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابی بکر، سفیان بن عیینہ، عمرو طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ کو یہ بات پہنچی کہ سمرہ ؓ نے شراب فروخت کی ہے تو انہوں نے کہا سمرہ کو اللہ ہلاک کرے کیا وہ نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ یہود پر لعنت کرے ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے پگھلایا اور فروخت کردیا۔
Ibn Abbas (RA) reported: This news reached Umar that ahadeeth had sold wine, whereupon he said: May Allah destroy ahadeeth; does he not know that Allahs Messenger ﷺ said:" Let there be the curse of Allah upon the Jews that fat was declared forbidden for them, but they melted it and then sold it"?
شراب مردار خنزیر اور بتوں کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح ابن قاسم، عمرو بن دینار یہ حدیث مبارکہ اس سند کے ساتھ بھی روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amr bin Dinar with the same chain of transmitters.
شراب مردار خنزیر اور بتوں کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا وَأَکَلُوا أَثْمَانَهَا
اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ یہود کو ہلاک کرے اللہ نے ان پر چربی حرام کی تو انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: May Allah destroy the Jews for Allah forbade the use of fat for them, but they sold it and made use of its price.
شراب مردار خنزیر اور بتوں کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَ عَلَيْهِمْ الشَّحْمُ فَبَاعُوهُ وَأَکَلُوا ثَمَنَهُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ یہود کو ہلاک کرے ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے فروخت کردیا اور اس کی قیمت کو کھایا۔
Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not sell gold for gold, except like for like, and dont increase something of it upon something; and dont sell silver unless like for like, and dont increase some thing of it upon something, and do not sell for ready money something to be given later.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے کو سونے کے عوض برابر برابر ہی فروخت کرو اور کم زیادہ کر کے فروخت نہ کرو اور چاندی بھی چاندی کے عوض برابر برابر ہی فروخت کرو اور کم زیادہ کر کے فروخت نہ کرو اور ان میں سے کوئی موجود چیز غائب کے عوض فروخت نہ کرو۔
Nafi reported that Ibn Umar told him that a person of the tribe of Laith said that Abu Said al-Khudri narrated it (the above-mentioned hadith) from tile Messenger of Allah ﷺ in a narration of Qutaiba. So Abduliali and Nafi went along with him, and in the hadith transmitted by Ibn Rumh (the words are) that Nafi said: Abdullah (b. Umar) went and I along with the person belonging to Banu Laith entered (the house) of Said al-Khudri, and he (Abdullah bin Umar (RA) ) said: I have been informed that you say that Allahs Messenger ﷺ forbade the sale of silver with silver except in case of like for like, and sale of gold for gold except in case of like for like. Abu Said pointed towards this eyes and his ears with his fingers and said: My eyes saw, and my ears listened to Allahs Messenger ﷺ saying: Do not sell gold for gold, and do not sell silver for silver except in case of like for like, and do not increase something of it upon something, and do not sell for ready money something, not present, but hand to hand.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَأْثُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ وَنَافِعٌ مَعَهُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ قَالَ نَافِعٌ فَذَهَبَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَنَا مَعَهُ وَاللَّيْثِيُّ حَتَّی دَخَلَ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَخْبَرَنِي أَنَّکَ تُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَعَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ فَأَشَارَ أَبُو سَعِيدٍ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَی عَيْنَيْهِ وَأُذُنَيْهِ فَقَالَ أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ وَسَمِعَتْ أُذُنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهُ عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِيعُوا شَيْئًا غَائِبًا مِنْهُ بِنَاجِزٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ کو بنی لیث میں سے ایک آدمی نے کہا کہ حضرت ابوسعید خدری رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ قتبیہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ گئے اور حضرت نافع آپ کے ساتھ تھے اور ابن رمح کی روایت میں ہے نافع نے کہا کہ حضرت عبداللہ گئے میں اور لیث ان کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ ابوسعید خدری ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو کہا مجھے اس نے خبر دی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے چاندی کو چاندی کے عوض بیچنے سے منع کیا علاوہ ازیں اس کے کہ وہ برابر برابر ہو اور سونے کو سونے کے عوض بیچنے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ برابر برابر ہو تو ابوسعید ؓ نے اپنی انگلی سے اپنی آنکھوں اور کانوں کی طرف ارشاد کرتے ہوئے کہا میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ سونے کو سونے کے بدلے فروخت نہ کرو اور چاندی کو چاندی کے بدلے ہاں یہ کہ برابر برابر ہو اور کم زیادہ کر کے فروخت نہ کرو سوائے اس کے کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Said al-Khudri through another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
شیبان بن فروخ، جریر ابن حازم، محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، لیث، نافع، سعید خدری اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Said al-Khudri through another chain of transmitters.
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَائً بِسَوَائٍ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، سہیل، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سونے کو سونے کے ساتھ چاندی کو چاندی کے ساتھ فروخت نہ کرو سوائے اس کے کہ وزن کر کے برابر برابر اور ٹھیک ٹھیک ہو۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not sell gold for gold and silver for silver weight for weight or of the same quality.
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ مَالِکَ بْنَ أَبِي عَامِرٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ
ابوطاہر، ہارون بن سعید، احمد، عیسی، ابن وہب، مخرمہ، سلیمان بن یسار، مالک بن ابی عامر، حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دینار کو دو دینار کے ساتھ اور درہم کو دو درہم کے ساتھ مت فروخت کرو۔
Uthman bin Affan reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not sell a dinar for two dinars and one dirham for two dirhams.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرِنَا ذَهَبَکَ ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَائَ خَادِمُنَا نُعْطِکَ وَرِقَکَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ کَلَّا وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَائَ وَهَائَ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، ابن شہاب، حضرت مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہ میں یہ کہتا ہوا آیا کہ کون دراہم فروخت کرتا ہے تو طلحہ بن عبیداللہ نے کہا اور وہ حضرت عمر بن خطاب کے پاس تشریف فرما تھے کہ ہمیں اپنا سونا دکھاؤ پھر تھوڑی دیر کے بعد آنا جب ہمارا خادم آجائے گا ہم تجھے تیری قیمت ادا کردیں گے تو عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا ہرگز نہیں اللہ کی قسم! تم اس کو اس کی قیمت ادا کرو یا اس کا سونا اسے واپس کردو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چاندی سونے کے عوض سود ہے ہاں اگر نقد بہ نقد ہو اور گندم گندم کے عوض بیچنا سود ہے سوائے اس کے کہ دست بدست ہو اور جو جو کے بدلے فروخت کرنا سود ہے سوائے اس کے جو دست بدست ہو اور کھجور کو کھجور کے بدلے فروخت کرنا سود ہے سوائے اس کے کہ جو نقد بہ نقد ہو۔
Malik bin Aus bin al-Hadathan reported: I came saying who was prepared toexchange dirhams (for my gold), whereupon Talha bin Ubaidullah (RA) (as he was sitting with Umar bin Khattib) said: Show us your gold and then come to us (at a later time). When our servant would come we would give you your silver (dirhams due to you). Thereupon Umar bin al-Khattib (RA) said: Not at all. By Allah, either give him his silver (coins). or return his gold to him, for Allahs Messenger ﷺ said: Exchange of silver for gold (has an element of) interest in it. except when (it is exchanged) on the spot;and wheat for wheat is an interest unless both are handed over on the spot: barley for barley is interest unless both are handed over on the spot; dates for dates is interest unless both are handed over on the Spot.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق، ابن عیینہ، زہری اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
بیع صرف اور سونے کی چاند کے ساتھ نقد بیع کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ کُنْتُ بِالشَّامِ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ فَجَائَ أَبُو الْأَشْعَثِ قَالَ قَالُوا أَبُو الْأَشْعَثِ أَبُو الْأَشْعَثِ فَجَلَسَ فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا غَزَاةً وَعَلَی النَّاسِ مُعَاوِيَةُ فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ کَثِيرَةً فَکَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا أَنْ يَبِيعَهَا فِي أَعْطِيَاتِ النَّاسِ فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِي ذَلِکَ فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَامَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَائً بِسَوَائٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَی فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا فَبَلَغَ ذَلِکَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلَا مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ قَدْ کُنَّا نَشْهَدُهُ وَنَصْحَبُهُ فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ ثُمَّ قَالَ لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ کَرِهَ مُعَاوِيَةُ أَوْ قَالَ وَإِنْ رَغِمَ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَصْحَبَهُ فِي جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَائَ قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ
عبیداللہ بن عمر قواریری، حماد بن زید، ایوب، حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ میں ملک شام میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور مسلم بن یسار بھی اس میں موجود تھے ابواشعث آیا تو لوگوں نے کہا ابوالاشعث آگئے وہ بیٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا ہمارے ان بھائیوں سے حضرت عباد بن صامت ؓ کی حدیث بیان کرو انہوں نے کہا، اچھا! ہم نے معاویہ ؓ کے دور خلافت میں ایک جنگ لڑی تو ہمیں بہت زیادہ غنیمتیں حاصل ہوئیں اور ہماری غنیمتوں میں چاندی کے برتن بھی تھے معاویہ ؓ نے ایک آدمی کو اس کے بیچنے کا حکم دیا لوگوں کی تنخواہوں میں، لوگوں نے اس کے خریدنے میں جلدی کی یہ بات عبادہ بن صامت ؓ کو پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ سونے کی سونے کے ساتھ چاندی کی چاندی کے ساتھ کھجور کی کھجور کے ساتھ اور نمک کی نمک کے ساتھ برابر برابر و نقد بہ نقد کے علاوہ بیع کرنے سے منع کرتے تھے جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود کا کام کیا تو لوگوں نے لیا ہوا مال واپس کردیا یہ بات حضرت معاویہ ؓ کو پہنچی تو وہ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا ان لوگوں کا کیا حال ہے جو رسول اللہ ﷺ سے احادیث روایت کرتے ہیں حالانکہ ہم بھی آپ ﷺ کے پاس حاضر رہے اور صحبت اختیار کی ہم نے اس بارے میں آپ ﷺ سے نہیں سنا عبادہ ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے قصہ کو دوبارہ دہرایا اور کہا ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اگرچہ معاویہ ؓ اس کو ناپسند کریں یا ان کی ناک خاک آلود ہو مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ میں اس کے لشکر میں تاریک رات میں اس کے ساتھ نہ رہوں حماد نے یہی کہا یا ایسا ہی کہا۔
Abil Qiliba reported: I was in Syria (having) a circle (of friends). in which was Muslim bin Yasir. There came Abul-Ashath. He (the narrator) said that they (the friends) called him: Abul-Ashath, Abul-Ashath, and he sat down. I said to him: Narrate to our brother the hadith of Ubadah bin Samit. He said: Yes. We went out on an expedition, Muawiyah being the leader of the people, and we gained a lot of spoils of war. And there was one silver utensil in what we took as spoils. Muawiyah ordered a person to sell it for payment to the people (soldiers). The people made haste in getting that. The news of (this state of affairs) reached Ubadah bin Samit, and he stood up and said: I heard Allahs Messenger ﷺ forbidding the sale of gold by gold, and silver by silver, and wheat by wheat, and barley by barley, and dates by dates, and salt by salt, except like for like and equal for equal. So he who made an addition or who accepted an addition (committed the sin of taking) interest. So the people returned what they had got. This reached Muawiyah. and he stood up to deliver an address. He said: What is the matter with people that they narrate from the Messenger ﷺ such tradition which we did not hear though we saw him (the Holy Prophet) and lived in his company? Thereupon, Ubida bin Samit stood up and repeated that narration, and then said: We will definitely narrate what we heard from Allahs Messenger ﷺ though it may be unpleasant to Muawiyah (or he said: Even if it is against his will). I do not mind if I do not remain in his troop in the dark night. Hammad said this or something like this.