صلہ رحمی کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 47 · 223 hadiths · Page 1 of 12

6500Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفٍ الثَّقَفِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي قَالَ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّکَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أَبُوکَ وَفِي حَدِيثِ قُتَيْبَةَ مَنْ أَحَقُّ بِحُسْنِ صَحَابَتِي وَلَمْ يَذْکُرْ النَّاسَ

قتیبہ بن سعید، بن جمیل بن طریف ثقفی زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے اچھے سلوک کا حقدار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں۔ اس آدمی نے عرض کیا پھر کس کا؟ (حق ہے) آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں کا۔ اس نے پھر عرض کیا پھر کس کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیری ماں کا۔ اس نے عرض کیا پھر کس کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تیرے باپ کا۔ اور قتیبہ ہی کی روایت میں ہے " میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے " کا ذکر ہے اور اس میں " الناس " یعنی لوگوں کا ذکر نہیں ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that a person came to Allah, s Messenger ﷺ and said: Who among the people is most deserving of a fine treatment from my hand? He said: Your mother. He again said: Then who (is the next one)? He said: Again it is your mother (who deserves the best treatment from you). He said: Then who (is the next one)? He (the Holy Prophet) said: Again, it is your mother. He (again) said: Then who? Thereupon he said: Then it is your father. In the hadith transmitted on the authority of Qutalba, there is no mention of the word" the people".

6501Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أُمُّكَ ثُمَّ أَبُوكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ

ابوکریب محمد بن علاء ہمدانی ابن فضیل عمارہ بن قعقاع ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ میرے اچھے سلوک کا کون حقدار ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیری ماں پھر تیرے باپ کا پھر جو تیرے قریب ہو پھر جو تیرے قریب ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported that a person said: Allahs Messenger, who amongst the people is most deserving of my good treatment? He said: Your mother, again your mother, again your mother, then your father, then your nearest relatives according to the order (of nearness).

6502Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ عَنْ عُمَارَةَ وَابْنِ شُبْرُمَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَزَادَ فَقَالَ نَعَمْ وَأَبِيکَ لَتُنَبَّأَنَّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، شریک، عمارۃ، ابن شبرمۃ، ابنی زرعۃ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا پھر جریر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ تیرے باپ کی قسم تجھے آگاہ کردیا جائے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported: A person came to Allahs Apostle ﷺ . The rest of the hadith is the same as transmitted by jarir but with this addition: By your father, you would get the information.

6503Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ مَنْ أَبَرُّ وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ

محمد بن حاتم، شبابہ، محمد بن طلحہ، احمد بن خراش، حبان، وہیب ابن شبرمہ سے ان سندوں کے ساتھ روایت ہے وہیب کی روایت میں ہے کہ کون نیکی کا حقدار ہے اور محمد بن طلحہ کی روایت میں ہے کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ کون میرے اچھے سلوک کا زیادہ حقدار ہے پھر جریر کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shubruma with the same chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of Wuhaib there is a slight variation of wording. Same is the case with the hadith transmitted on the authority of Muhammad bin Talha (and the words are):" Who amongst the people deserves the best treatment from me".

6504Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا حَبِيبٌ عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، حبیب محمد بن مثنی یحییٰ ابن سعید قطان شعبہ، حبیب ابی عباس حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ ﷺ سے جہاد میں جانے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے والدین زندہ ہیں اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تو ان کی خدمت میں رہ تیرے لئے یہی جہاد ہے۔

Abdullah bin Amr reported that a person came to Allahs Apostle ﷺ and sought permission (to participate) in Jihad, whereupon he (the Holy Prophet) said: Are your parents living? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should put in your best efforts (in their) service.

6505Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُا جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ قَالَ مُسْلِم أَبُو الْعَبَّاسِ اسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ الْمَکِّيُّ

عبیداللہ بن معاذ شعبہ، حبیب ابوعباس حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا پھر آگے مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Habib with the several chains of transmitters.

6506Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ جَمِيعًا عَنْ حَبِيبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوکریب ابن بشر مسعر محمد بن حاتم، معاویہ عمرو ابی اسحاق قاسم بن زکریا، حسین بن علی حضرت حبیب ؓ سے ان سندوں کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Habib with the same chain of transmitters.

6507Sahih Muslim

نبی ﷺ کے اس فرمان کے بیان میں کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی طرح ہے کہ سو میں مجھے ایک بھی سواری کے قابل نہیں ملتا۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أُبَايِعُکَ عَلَی الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنْ اللَّهِ قَالَ فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْکَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ بَلْ کِلَاهُمَا قَالَ فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنْ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَارْجِعْ إِلَی وَالِدَيْکَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا

سعید بن منصور، عبداللہ بن و ہب عمرو بن حا رب یزید بن ابی حبیب، ام سلیم حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا میں ہجرت اور جہاد کی آپ ﷺ (کے ہاتھ پر) بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر چاہتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے اس نے عرض کیا جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اللہ سے اس کا اجر چاہتے ہو اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا اپنے والدین کی طرف جا اور ان دونوں سے اچھا سلوک کر۔

Yazid bin Abu Habib reported that Naim, the freed slave of Umm Salamah, reported to him that Abdullah bin Amr bin As said: There came to Allahs Apostle ﷺ a person and said: I owe allegiance to you for migration and Jihad seeking reward only from Allah. He (the Holy Prophet) said: Is one from amongst your parents living? He said: Yes, of course, both are living. He further asked: Do you want to seek reward from Allah? He said: Yes. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Go back to your parents and accord them benevolent treatment.

6508Sahih Muslim

والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا نفلی نماز وغیرہ مقدم ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَةٍ فَجَائَتْ أُمُّهُ قَالَ حُمَيْدٌ فَوَصَفَ لَنَا أَبُو رَافِعٍ صِفَةَ أَبِي هُرَيْرَةَ لِصِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّهُ حِينَ دَعَتْهُ کَيْفَ جَعَلَتْ کَفَّهَا فَوْقَ حَاجِبِهَا ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا إِلَيْهِ تَدْعُوهُ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّکَ کَلِّمْنِي فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي فَقَالَ اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ فَرَجَعَتْ ثُمَّ عَادَتْ فِي الثَّانِيَةِ فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ أَنَا أُمُّکَ فَکَلِّمْنِي قَالَ اللَّهُمَّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا جُرَيْجٌ وَهُوَ ابْنِي وَإِنِّي کَلَّمْتُهُ فَأَبَی أَنْ يُکَلِّمَنِي اللَّهُمَّ فَلَا تُمِتْهُ حَتَّی تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ قَالَ وَلَوْ دَعَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَنَ لَفُتِنَ قَالَ وَکَانَ رَاعِي ضَأْنٍ يَأْوِي إِلَی دَيْرِهِ قَالَ فَخَرَجَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْقَرْيَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا الرَّاعِي فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقِيلَ لَهَا مَا هَذَا قَالَتْ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الدَّيْرِ قَالَ فَجَائُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَنَادَوْهُ فَصَادَفُوهُ يُصَلِّي فَلَمْ يُکَلِّمْهُمْ قَالَ فَأَخَذُوا يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ نَزَلَ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا لَهُ سَلْ هَذِهِ قَالَ فَتَبَسَّمَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ فَقَالَ مَنْ أَبُوکَ قَالَ أَبِي رَاعِي الضَّأْنِ فَلَمَّا سَمِعُوا ذَلِکَ مِنْهُ قَالُوا نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِکَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ لَا وَلَکِنْ أَعِيدُوهُ تُرَابًا کَمَا کَانَ ثُمَّ عَلَاهُ

شیبان بن فروخ سلیمان بن مغیرہ حمید بن ہلال ابی رافع حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جریج اپنے عبادت خانے میں عبادت کر رہے تھے کہ ان کی ماں آگئی حمید کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ان کی اس طرح صفت بیان کی جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے صفت بیان کی تھی جس وقت ان کی ماں نے ان کو بلایا تو انہوں نے اپنی ہتھیلی اپنی پلکوں پر رکھی ہوئی تھی پھر اپنا سر ابن جریج کی طرف اٹھا کر ابن جریج کو آواز دی اور کہنے لگیں اے جریج میں تیری ماں ہوں مجھ سے بات کر ابن جریج اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ابن جریج نے کہا اے اللہ ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز ہے پھر ابن جریج نے نماز کو اختیار کیا پھر ان کی ماں نے کہا اے اللہ! یہ جریج میرا بیٹا ہے میں اس سے بات کرتی ہوں تو یہ میرے ساتھ بات کرنے سے انکار کردیتا ہے اے اللہ ابن جریج کو اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ یہ بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے آپ ﷺ نے فرمایا اگر جریج کی ماں اس پر یہ دعا کرتی کہ وہ فتنہ میں پڑجائے تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتا آپ ﷺ نے فرمایا بھیڑوں کا ایک چرواہا تھا جو جریج کے عبادت خانہ میں ٹھہرتا تھا (ایک دن) گاؤں سے ایک عورت نکلی تو اس چرواہے نے اس عورت کے ساتھ برا کام کیا تو وہ عورت حاملہ ہوگئی (جس کے نتیجہ میں) اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی ولادت ہوئی تو اس عورت سے پوچھا گیا کہ یہ لڑکا کہاں سے لائی ہے اس عورت نے کہا اس عبادت خانہ میں جو رہتا ہے یہ اس کا لڑکا ہے (یہ سنتے ہی اس گاؤں کے لوگ) پھاؤڑے لے کر آئے اور انہیں (جریج کو) آواز دی وہ نماز میں تھے انہوں نے کوئی بات نہ کی تو لوگوں نے اس کا عبادت خانہ گرانا شروع کردیا جب جریج نے یہ ماجرا دیکھا تو وہ اترا لوگوں نے اس سے کہا کہ اس عورت سے پوچھ یہ کیا کہتی ہے جریج ہنسا اور پھر اس نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس نے کہا تیرا باپ کون ہے؟ اس بچے نے کہا میرا باپ بھیڑوں کا چراوہا ہے جب لوگوں نے اس بچے کی آواز سنی تو وہ کہنے لگے کہ ہم نے آپ کا جتنا عبادت خانہ گرایا ہے ہم اس کے بدلے میں سونے اور چاندی کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے پہلے کی طرح مٹی ہی کا بنادو اور پھر ابن جریج اوپر چلے گئے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Juraij was one who was devoted to (prayer) in the temple. His mother came to him. Humaid said that Abu Rafi demonstrated before us like the demonstration made by abu Hurairah to whom Allahs Messenger ﷺ had demonstrated as his mother called him placing her palms upon the eyebrows and lifting her head for calling him and said: Juraij, it is your mother, so talk to her. She found him at that time absorbed in prayer, so he said (to himself): O Lord, my mother (is calling me) (whereas I am absorbed) in my prayer. He opted for prayer. She (his mother) went back, then came again for the second time and said: O Juraij, it is your mother (calling you), so talk to me. He said: O Allah. there is my mother also and my prayer, and he opted for prayer. She said: O Allah, this Juraij is my son. I pray to talk to him but he refuses to talk to me. O Allah, dont bring death to him unless he has seen the prostitutes, and had she invoked the curse upon him (from the heart of her heart) he would have been involved in some turmoil. There was a shepherd living near by his temple (the temple where Juraij was engaged in prayer). It so happened that a woman of that village came there and that shepherd committed fornication with her and she became pregnant and gave birth to a child. It was said to her: Whose child is this? She said: He is the child of one who is living in this temple. So there came persons with hatchets and spades. They called Juraij. He was absorbed in prayer and he did not talk to them and they were about to demolish that temple that he saw them and then came to them and they said: Ask her (this woman) what she says. He smiled and then touched the head of the child and said: Who is your father? He (the child) said: My father is the shepherd of the sheep, and when they heard this, they said: We are prepared to rebuild with gold and silver what we have demolished from your temple. He said: No, rebuild it with clay as it had been before. He then went up (to his room and absorbed himself in prayer).

6509Sahih Muslim

والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا نفلی نماز وغیرہ مقدم ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَتَکَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ وَکَانَ جُرَيْجٌ رَجُلًا عَابِدًا فَاتَّخَذَ صَوْمَعَةً فَکَانَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ يَا رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَانْصَرَفَتْ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَتْ يَا جُرَيْجُ فَقَالَ أَيْ رَبِّ أُمِّي وَصَلَاتِي فَأَقْبَلَ عَلَی صَلَاتِهِ فَقَالَتْ اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ حَتَّی يَنْظُرَ إِلَی وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ فَتَذَاکَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ جُرَيْجًا وَعِبَادَتَهُ وَکَانَتْ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ يُتَمَثَّلُ بِحُسْنِهَا فَقَالَتْ إِنْ شِئْتُمْ لَأَفْتِنَنَّهُ لَکُمْ قَالَ فَتَعَرَّضَتْ لَهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا فَأَتَتْ رَاعِيًا کَانَ يَأْوِي إِلَی صَوْمَعَتِهِ فَأَمْکَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَحَمَلَتْ فَلَمَّا وَلَدَتْ قَالَتْ هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ فَأَتَوْهُ فَاسْتَنْزَلُوهُ وَهَدَمُوا صَوْمَعَتَهُ وَجَعَلُوا يَضْرِبُونَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُکُمْ قَالُوا زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ فَوَلَدَتْ مِنْکَ فَقَالَ أَيْنَ الصَّبِيُّ فَجَائُوا بِهِ فَقَالَ دَعُونِي حَتَّی أُصَلِّيَ فَصَلَّی فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَی الصَّبِيَّ فَطَعَنَ فِي بَطْنِهِ وَقَالَ يَا غُلَامُ مَنْ أَبُوکَ قَالَ فُلَانٌ الرَّاعِي قَالَ فَأَقْبَلُوا عَلَی جُرَيْجٍ يُقَبِّلُونَهُ وَيَتَمَسَّحُونَ بِهِ وَقَالُوا نَبْنِي لَکَ صَوْمَعَتَکَ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ لَا أَعِيدُوهَا مِنْ طِينٍ کَمَا کَانَتْ فَفَعَلُوا وَبَيْنَا صَبِيٌّ يَرْضَعُ مِنْ أُمِّهِ فَمَرَّ رَجُلٌ رَاکِبٌ عَلَی دَابَّةٍ فَارِهَةٍ وَشَارَةٍ حَسَنَةٍ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَ هَذَا فَتَرَکَ الثَّدْيَ وَأَقْبَلَ إِلَيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی ثَدْيِهِ فَجَعَلَ يَرْتَضِعُ قَالَ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْکِي ارْتِضَاعَهُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ فِي فَمِهِ فَجَعَلَ يَمُصُّهَا قَالَ وَمَرُّوا بِجَارِيَةٍ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ وَهِيَ تَقُولُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِيلُ فَقَالَتْ أُمُّهُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَتَرَکَ الرَّضَاعَ وَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا فَهُنَاکَ تَرَاجَعَا الْحَدِيثَ فَقَالَتْ حَلْقَی مَرَّ رَجُلٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهُ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَمَرُّوا بِهَذِهِ الْأَمَةِ وَهُمْ يَضْرِبُونَهَا وَيَقُولُونَ زَنَيْتِ سَرَقْتِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ ابْنِي مِثْلَهَا فَقُلْتَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا قَالَ إِنَّ ذَاکَ الرَّجُلَ کَانَ جَبَّارًا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ وَإِنَّ هَذِهِ يَقُولُونَ لَهَا زَنَيْتِ وَلَمْ تَزْنِ وَسَرَقْتِ وَلَمْ تَسْرِقْ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا

زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، جریر، ابن حازم، محمد بن سیرین، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا پن گھوڑے میں سوائے تین بچوں کے اور کسی نے کلام نہیں کیا حضرت عیسیٰ بن مریم اور صاحب جریج اور جریج ایک عبادت گزار آدمی تھا اس نے ایک عبادت خانہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ نماز پڑھتا تھا جریج کی ماں آئی اور وہ نماز میں تھا اس کی ماں نے کہا اے جریج! (جریج نے اپنے دل میں) کہا اے میرے پروردگار ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف میری نماز ہے پھر وہ نماز کی طرف متوجہ رہا اور اس کی ماں واپس چلی گئی پھر اگلے دن آئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا تو وہ کہنے لگی اے جریج! (جریج نے اپنے دل میں) کہا اے میرے پروردگار ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میں نماز میں ہوں پھر وہ اپنی نماز کی طرف متوجہ رہا پھر اس کی ماں نے کہا اے اللہ جب تک جریج فاحشہ عورتوں کا چہرہ نہ دیکھ لے اس وقت تک اسے موت نہ دینا بنی اسرائیل (کے لوگ) جریج اور اس کی عبادت کا بڑا تذکرہ کرتے تھے بنی اسرائیل کی ایک عورت بڑی خوبصورت تھی وہ کہنے لگی کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں جریج کو فتنے میں مبتلا کر دوں وہ عورت جریج کی طرف گئی لیکن جریج نے اس عورت کی طرف توجہ نہ کی ایک چرواہا جریج کے عبادت خانے میں رہتا تھا اس عورت نے اس چرواہے کو اپنی طرف بلایا۔ اس چرواہے نے اس عورت سے اپنی خواہش پوری کی جس سے وہ عورت حاملہ ہوگئی تو جب اس عورت کے ہاں ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی تو اس نے کہا یہ جریج کا لڑکا ہے (یہ سن کر) لوگ آئے اور انہوں نے جریج کو اس کے عبادت خانہ سے نکالا اور اس کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور لوگوں نے جریج کو مارنا شروع کردیا جریج نے کہا تم لوگ یہ سب کچھ کس وجہ سے کر رہے ہو لوگوں نے جریج سے کہا تو نے اس عورت سے بدکاری کی ہے اور تجھ سے لڑکا پیدا ہوا ہے جریج نے کہا وہ بچہ کہاں ہے تو لوگ اس بچے کو لے کر آئے جریج نے کہا مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں جریج نے نماز پڑھی پھر وہ نماز سے فارغ ہو کر اس بچے کے پاس آیا اور اس بچے کے پیٹ میں انگلی رکھ کر کہا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے اس لڑکے نے کہا فلاں چرواہا۔ پھر لوگ جریج کی طرف متوجہ ہوئے اس کو بوسہ دینے لگے اور اسے چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم آپ کے لئے سونے کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں جریج نے کہا نہیں بلکہ تم اسے اسی طرح مٹی کا بنادو پھر لوگوں نے اسی طرح بنادیا اور تیسرا وہ بچہ کہ جس نے پن گھوڑے میں بات کی اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک بچہ اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا تو ایک آدمی ایک عمدہ سواری پر بہترین لباس پہنے ہوئے وہاں سے گزرا تو اس بچے کی ماں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے پھر وہ بچہ دودھ چھوڑ کر اس سوار کی طرف مڑا اور اسے دیکھتا رہا پھر وہ بچہ کہنے لگا اے اللہ مجھے اس جیسا نہ بنانا پھر وہ بچہ پستان کی طرف متوجہ ہوا اور دودھ پینے لگا راوی کہتے ہیں گویا کہ میں رسول اللہ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ حکایت بیان کر رہے ہیں اس کے دودھ پینے کو اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈال کر آپ ﷺ نے اپنی انگلی کو چوسنا شروع کردیا۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ ایک لونڈی کے پاس سے گزرے جسے لوگ مارتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے اور چوری کی ہے اور وہ کہتی ہے حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَکِيلُ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے اور بہتر کار ساز ہے تو اس بچے کی ماں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس عورت کی طرح نہ بنانا تو اس بچے نے دودھ پینا چھوڑ کر اس باندی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا اے اللہ مجھے اس جیسا بنا دے پس اس موقع پر ماں اور بیٹے کے درمیان ایک مکالمہ ہوا ماں نے کہا اے سر منڈے ایک خوبصورت شکل والا آدمی گزرا تو میں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے تو نے کہا اے اللہ مجھے اس جیسا نہ بنا اور لوگ اس باندی کے پاس سے گزرے تو لوگ اسے مارتے ہوئے کہہ رہے تھے تو نے زنا کیا ہے اور چوری کی ہے تو میں نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسا نہ بنانا تو نے کہا اے اللہ مجھے اس عورت جیسا بنا دے بچے نے کہا بیشک وہ آدمی ظالم تھا تو میں نے کہا اے اللہ مجھے اس جیسا نہ بنا اور یہ عورت جسے لوگ کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے حالانکہ اس نے زنا نہیں کیا اور تو نے چوری کی ہے حالانکہ اس نے چوری نہیں کی تھی میں نے کہا اے اللہ مجھے اس جیسا بنا دے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: None spoke in the cradle but only three (persons), Christ son of Mary, the second one the companion of Juraij. Juraij had got constructed a temple and confined himself in that. His mother came to him as he was busy in prayer and she said: Juraij. He said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged in) my prayer. He continued with the prayer. She returned and she came on the next day and he was busy in prayer, and she said: Juraij. And he said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged) in prayer, and he continued with the prayer and she went back, and then on the next day she again came and he was busy in prayer and she said: Juraij. And he said: My Lord, my mother (is calling me while I am engaged in my prayer, and he continued with the prayer, and she said: My Lord, dont give him death unless he has seen the fate of the prostitutes. The story of Juraij and that of his meditation and prayer gained currency amongst Bani Israil. There was a prostitute who had been a beauty incarnate. She said (to the people): If you like I can allure him to evil. She presented herself to him but he paid no heed (to her). She came to a shepherd who lived near the temple and she offered herself to him and he had a sexual intercourse with her and so she became pregnant arid when she gave birth to a child she said: This is from Juraij. So they came and asked him to get down and demolished the temple and began to beat him. He said: What is the matter? They said: You have committed fornication with this prostitute and she has given birth to a child from your loins. He said: Where is the child? They brought him (the child) and he said: just leave me so that I should observe prayer. And he observed prayer and when he finished, he came to the child. He struck his stomach and said: O boy, who is your father? lie said: He is such shepherd. So they turned towards Juraij, kissed him and touched him (for seeking blessing) and said: We are prepared to construct your temple with gold. He said. No, just rebuild it with mud as it had been, and they did that. Then there was a babe who was sucking his mother that a person dressed in fine garment came riding upon a beast. His mother said: O Allah, make my child like this one. He (the babe) left sucking and began to see towards him, and said: O Allah, dont make me like him. He then returned to the chest and began to suck the milk of his mother. He ( Abu Hurairah (RA) ) said: I perceived as if I am seeing Allahs Messenger ﷺ as he is explaining the scene of his sucking milk with his forefinger in his mouth and sucking that. He ( Abu Hurairah (RA) ) further reported Allahs Apostle ﷺ (may be peace upon him) as saying: There happened to pass by him a girl who was being beaten and they were saying: You have committed adultery and you have committed theft and she was saying: Allah is enough for me and He is my good Protector, and his mother said: O Allah, dont make my child like her and he left sucking the milk, and looked towards her and said: O Allah, make me like her, and there was a talk between them. She said: O with shaven head, a good-looking person happened to pass by and I said: O Allah, make my child like him, and you said: O Allah, dont make me like him, and they passed by a girl while they were beating her and saying: You committed fornication and you committed theft, and I said: O Allah, dont make my child like her, and you said: O Allah, make me like her. Thereupon he said: That person was a tyrant, and I said: O Allah, dont make me like him, and they were saying about her: You committed fornication whereas in fact she had not committed that and they were saying: You have committed theft whereas she had not committed theft, so I said: O Allah, make me like her.

6510Sahih Muslim

وہ بد نصیب جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ أَبَوَيْهِ عِنْدَ الْکِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ کِلَيْهِمَا فَلَمْ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ

شیبان بن فروخ ابوعوانہ، سیہل حضرت ابویوہرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ناک خاک آلود ہوگئی پھر ناک خاک آلود ہوگئی پھر ناک خاک آلود ہوگئی عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول وہ کون آدمی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Let him be humbled into dust; let him be humbled into dust. It was said: Allahs Messenger, who is he? He said: He who sees either of his parents during their old age or he sees both of them, but he does not enter Paradise.

6511Sahih Muslim

وہ بد نصیب جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُهُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ قِيلَ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْکِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ کِلَيْهِمَا ثُمَّ لَمْ يَدْخُلْ الْجَنَّةَ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ناک خاک آلود ہوگئی پھر ناک خاک آلود ہوگئی پھر ناک خاک آلود ہوگئی عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول! وہ کون آدمی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور (ان کی خدمت کر کے) پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Let him be humbled, let him be humbled. It was said: Allahs Messenger, who is he? He said. He who finds his parents in old age, either one or both of them, and does not enter Paradise.

6512Sahih Muslim

وہ بد نصیب جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَغِمَ أَنْفُهُ ثَلَاثًا ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، سہیل، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی ناک خاک آلود ہوگئی پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Let him be humbled thrice, and the rest of the hadith is the same.

6513Sahih Muslim

ماں باپ کے دوستوں وغیرہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ لَقِيَهُ بِطَرِيقِ مَکَّةَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ وَحَمَلَهُ عَلَی حِمَارٍ کَانَ يَرْکَبُهُ وَأَعْطَاهُ عِمَامَةً کَانَتْ عَلَی رَأْسِهِ فَقَالَ ابْنُ دِينَارٍ فَقُلْنَا لَهُ أَصْلَحَکَ اللَّهُ إِنَّهُمْ الْأَعْرَابُ وَإِنَّهُمْ يَرْضَوْنَ بِالْيَسِيرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَبَا هَذَا کَانَ وُدًّا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ

ابوطاہر، احمد بن عمرو بن، سرح، عبداللہ بن وہب، سعید بن ابی ایوب، سلید بن ابی ولید، عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی مکہ مکرمہ کے راستے میں ان سے ملا۔ حضرت عبداللہ نے اس دیہاتی پر سلام کیا اور اسے اپنے گدھے پر سوار کرلیا جس پر وہ سوار تھے اور اسے عمامہ عطا کیا جو ان کے اپنے سر پر تھا حضرت ابن دینار نے کہا ہم نے ان سے کہا اللہ آپ کو بہتر بدلہ عطا فرمائے وہ دیہاتی لوگ ہیں جو تھوڑی سی چیز پر راضی ہوجاتے ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا اس دیہاتی کا باپ حضرت عمر بن خطاب کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرماتے ہیں بیٹے کی نیکیوں میں سے سب سے بڑی نیکی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے۔

Ibn Dinar reported that a desert Arab met Abdullah bin Umar on the way to Makkah. Abdullah greeted him and mounted him upon the donkey on which he had been riding and gave him the turban that he had on his head. Ibn Dinar (further) reported: We said to him (Abdullah bin Umar): May Allah do good to you, these are desert Arabs and they are satisfied even with meagre (things). Thereupon Abdullah said: His father was loved dearly by Umar bin Khattib and I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The finest act of goodness on the part of a son is to treat kindly the loved ones of his father.

6514Sahih Muslim

ماں باپ کے دوستوں وغیرہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبَرُّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ وُدَّ أَبِيهِ

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، حیوہ بن شریح، ابن الہاد، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔

Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The finest act of goodness is that a person should treat kindly the loved ones of his father.

6515Sahih Muslim

ماں باپ کے دوستوں وغیرہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَی مَکَّةَ کَانَ لَهُ حِمَارٌ يَتَرَوَّحُ عَلَيْهِ إِذَا مَلَّ رُکُوبَ الرَّاحِلَةِ وَعِمَامَةٌ يَشُدُّ بِهَا رَأْسَهُ فَبَيْنَا هُوَ يَوْمًا عَلَی ذَلِکَ الْحِمَارِ إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلَسْتَ ابْنَ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ قَالَ بَلَی فَأَعْطَاهُ الْحِمَارَ وَقَالَ ارْکَبْ هَذَا وَالْعِمَامَةَ قَالَ اشْدُدْ بِهَا رَأْسَکَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَکَ أَعْطَيْتَ هَذَا الْأَعْرَابِيَّ حِمَارًا کُنْتَ تَرَوَّحُ عَلَيْهِ وَعِمَامَةً کُنْتَ تَشُدُّ بِهَا رَأْسَکَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ صِلَةَ الرَّجُلِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ وَإِنَّ أَبَاهُ کَانَ صَدِيقًا لِعُمَرَ

حسن بن علی حلوانی یعقوب بن ابراہیم، بن سعد، ابی، لیث، سعد یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ مکہ مکرمہ کی طرف جاتے تو اپنے گدھے کو آسانی کے لئے ساتھ رکھتے تھے جب اونٹ کی سواری سے اکتا جاتے تو گدھے پر سوار ہوجاتے اور اپنے سر پر عمامہ باندھتے تھے ایک دن حضرت ابن عمر ؓ اپنے اسی گدھے پر سوار تھے اس کے پاس سے ایک دیہاتی آدمی گزرا تو حضرت ابن عمر ؓ نے اس دیہاتی سے فرمایا کیا تو فلاں بن فلاں کا بیٹا نہیں ہے؟ اس نے عرض کیا کیوں نہیں آپ نے اس دیہاتی کو اپنا گدھا دے دیا اور اسے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجا اور اسے عمامہ دے کر فرمایا کہ اسے اپنے سر پر باندھ لے تو آپ سے آپ کے بعض ساتھیوں نے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ نے اس دیہاتی آدمی کو گدھا عطا کردیا حالانکہ آپ نے اسے اپنی سہولت کے لئے رکھا ہوا تھا اور عمامہ جسے آپ اپنے سر پر باندھتے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ نیکیوں میں سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہے اور اس دیہاتی کا باپ حضرت عمر ؓ کا دوست تھا۔

Abdullah bin Dinar reported that when Abdullah bin Umar set out to Mecea, he kept a donkey with him which he used as a diversion from the tedium of journey on the camels back and had a turban which he tied round his head. One day, as he was riding the donkey a desert Arab happened to pass by him. He (Abdullah bin Umar) said: Arnt you so and so? He said: Yes He gave him his donkey and said: Ride it, and tie the turban round your head. Some of his companions said: May Allah pardon you, you gave to this desert Arab the donkey on which you enjoyed ride for diversion and the turban which you tied round your. head. Thereupon he said: Verily I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The finest act of goodness is the kind treatment of a person to the loved ones of his father after his death and the father of this person was a friend of Umar.

6516Sahih Muslim

نیکی اور گناہ کی وضاحت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِي صَدْرِکَ وَکَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ

محمد بن حاتم، بن میمون ابن مہدی معاویہ ابن صالح عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر، حضرت نو اس بن سمعان انصاری ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو اس پر لوگوں کو مطلع ہونے کو ناپسند کرے

Nawwas bin Siman al-Ansiri reported: I asked Allahs Messenger ﷺ about virtue and vice. He said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your heart and that you disapprove that people should come to know of it.

6517Sahih Muslim

نیکی اور گناہ کی وضاحت کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ قَالَ أَقَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةً مَا يَمْنَعُنِي مِنْ الْهِجْرَةِ إِلَّا الْمَسْأَلَةُ کَانَ أَحَدُنَا إِذَا هَاجَرَ لَمْ يَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ قَالَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِي نَفْسِکَ وَکَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ

ہارون بن سعید ایلی عبداللہ بن وہب، معاویہ بن صالح، عبدالرحمن بن جبیر نفیر، حضرت نو اس ؓ بن سمعان سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ایک سال تک ٹھہرا رہا اور مجھے سوائے ایک مسئلہ کے کسی بات نے ہجرت سے نہیں روکا تھا ہم میں سے جب کوئی ہجرت کرتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرتا تھا تو میں نے آپ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے جی میں کھٹکے اور تو اس پر لوگوں کے مطلع ہونے کو ناپسند کرے۔

Nawwis bin Simin reported: I stayed with Allahs Messenger ﷺ for one year. What obstructed me to migrate was (nothing) but (persistent) inquiries from him (about Islam). (It was a common observation) that when anyone of us migrated (to Madinah) he ceased to ask (too many questions) from Allahs Messenger ﷺ . So I asked him about virtue and vice. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Virtue is a kind disposition and vice is what rankles in your mind and that you disapprove of its being known to the people.

6518Sahih Muslim

رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنِي عَمِّي أَبُو الْحُبَابِ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّی إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتْ الرَّحِمُ فَقَالَتْ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنْ الْقَطِيعَةِ قَالَ نَعَمْ أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَکِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَکِ قَالَتْ بَلَی قَالَ فَذَاکِ لَکِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَکُمْ أُولَئِکَ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَی أَبْصَارَهُمْ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا

قتیبہ بن سعید، ابن جمیل بن طریف بن عبداللہ ثقفی محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل معاویہ ابن ابی مزرد مولیٰ بنی ہاشم ابوحباب سعید بن یسار حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا یہاں تک کہ جب ان سے فارغ ہوئے تو رشتہ داری نے کھڑے ہو کر عرض کیا یہ رشتہ توڑنے سے پناہ مانگنے والے کا مقام ہے اللہ نے فرمایا جی ہاں کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ میں تجھے ملانے والوں کے ساتھ مل جاؤں اور تجھے توڑنے والے سے میں دور ہوجاؤں رشتہ داری نے عرض کیا کیوں نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تیرے لئے (ایسا ہی فیصلہ ہے) پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو ان آیات کریمہ کی تلاوت کرو (21 فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُ قَطِّعُوْ ا اَرْحَامَكُمْ 22 اُولٰ ى ِكَ الَّذِيْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَاَعْمٰ ى اَبْصَارَهُمْ 23 اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا) 47۔ محمد: 24) تو کیا تم اس بات کے قریب ہو کہ اگر تمہیں حکومت دی جائے تو تم زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنی رشتہ داری کو توڑ ڈالو یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے پس ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا تو کیا وہ قرآن مجید میں غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: Verily Allah created the universe and when He had finished that, ties of relationship came forward and said This is the place for him who seeks refuge from severing (of blood-relationship). He said: Yes. Are you not satisfied that I should keep relationship with one who joins your ties of relationship and sever it with one who severs your (ties of relationship)? They (the ties of blood) said: Certainly so. Thereupon He said: Well, that is how things are for you. Allahs Messenger ﷺ then said: Recite if you like:" But if you turn away you are sure to make mischief in the land and cut off the ties of kinship. Those it is whom Allah has cursed, so He has made them deaf and blinded their eyes. Do they not reflect on the Quran? Or, are there locks on their hearts?".

6519Sahih Muslim

رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّحِمُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللَّهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابی بکر وکیع، معاویہ بن ابی مزرد یزید بن رومان عروہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رشتہ داری عرش کے ساتھ لٹکائی ہوئی ہے اور کہتی ہے کہ جس نے مجھے جوڑا اللہ اسے جوڑے گا اور جس نے مجھے توڑا اللہ اس سے دور ہوگا۔

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The tie of kinship is suspended to the Throne and says: He who unites me Allah would unite him and he who severed me Allah would sever him.