رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ
زہیر بن حرب، ابن ابی عمر سفیان، زہری، محمد بن حضرت جبیر بن مطعم ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا (رشتہ) توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا حضرت سفیان نے کہا یعنی رشتہ داری کو توڑنے والا۔
Jubair bin Mutim reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said: The severer would not enter Paradise. Ibn Umar (RA) said that Sufyan (explained it as): One who severs the tie of kinship would not enter Paradise.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی جویریہ مالک زہری، محمد بن حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
Jubair bin Mutim reported that his father narrated to him that Allahs Messenger ﷺ said: The severer of the tie of kinship would not get into Paradise.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن رافع عبد ابن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، اس سند سے بھی حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے اسی طرح روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ أَوْ يُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جس آدمی کو یہ بات پسند ہو کہ اس پر اس کا رزق کشادہ کیا جائے یا اس کے مرنے کے بعد اس کو یاد رکھا جائے تو چاہے کہ وہ اپنی رشتہ داری کو جوڑے۔
Anas bin Malik (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: He who is desirous that his means of sustenance should be expanded for him or his age may be lengthened, should join the tie of relationship.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل بن خالد ابن شہاب حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو یہ بات محبوب ہو کہ اس کے رزق کی کشادگی کی جائے اور اس کے مرنے کے بعد اسے یاد رکھا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی رشتہ داری کو جوڑے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: He who likes that his sustenance should be expanded and his age may be lengthened should join the tie of kinship.
رشتہ داری کے جوڑنے اور اسے توڑنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَائَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ فَقَالَ لَئِنْ کُنْتَ کَمَا قُلْتَ فَکَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَکَ مِنْ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَی ذَلِکَ
محمد بن حاتم، مثنی محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، علاء، بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے کچھ رشتہ دار ایسے ہیں جن سے میں تعلق جوڑتا ہوں اور وہ مجھ سے تعلق توڑتے ہیں میں ان سے نیکی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برائی کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری کرتا ہوں اور وہ مجھ سے بداخلاقی سے پیش آتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو واقعی ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے کہا ہے تو گویا کہ تو ان کو جلتی ہوئی راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو ایسا ہی کرتا رہے گا اللہ کی طرف سے ایک مددگار ان کے مقابلے میں تیرے ساتھ رہے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported that a person said: Allahs Messenger, I have relatives with whom I try, to have close relationship, but they sever (this relation). I treat them well, but they treat me ill. I am sweet to them but they are harsh towards me. Upon this he (the Holy Prophet) said: If it is so as you say, then you in fact throw hot ashes (upon their faces) and there would always remain with you on behalf of Allah (an Angel to support you) who would keep you dominant over them so long as you adhere to this (path of righteousness).
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ (وہ اپنے بھائی کو) تین دن سے زیادہ چھوڑ دے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Neither nurse mutual hatred, nor jealousy, nor enmity, and become as fellow. brothers and servants of Allah. It is not lawful fora Muslim that he should keep his relations estranged with his brother beyond three days.
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ح و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ
حاجب بن ولید محمد بن حرب محمد بن ولید زبیدی زہری، حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے مالک کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying like this. This hadith has been narrated through another chain of transmitters.
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَلَا تَقَاطَعُوا
زہیر بن حرب، ابن ابی عمر عمرو ناقد ابن عیینہ ابن عیبیہ زہری سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں (وَلَا تَقَاطَعُوا) کے الفاظ زیادہ ہیں یعنی آپس میں قطع تعلقی نہ کرو۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters with the addition of Ibn Uyaina (and the words are):" Do not cut off (mutual relations)."
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رِوَايَةُ يَزِيدَ عَنْهُ فَکَرِوَايَةِ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ يَذْکُرُ الْخِصَالَ الْأَرْبَعَةَ جَمِيعًا وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَقَاطَعُوا
ابوکامل یزید بن ابن زریع محمد بن رافع عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، سفیان، عبدالرزاق، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور وہ چار اکٹھی خصلتوں کا ذکر کرتے ہیں اور باقی عبدالرزاق کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور ایک دوسرے سے قطع تعلقی نہ کرو اور ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of Abdul Razziq (the words are):" Neither nurse grudge nor sever (the ties of kinship), nor nurse enemity."
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
محمد بن مثنی، ابوداؤد شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔
Anas reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Nurse no grudge, nurse no aversion and do not sever ties of kinship and live like fellow-brothers as servants of Allah. ."
آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض اور رو گردانی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ کَمَا أَمَرَکُمْ اللَّهُ
علی بن نصر جہضمی وہب بن جریر، حضرت شعبہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں کہ اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ جیسے اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but with this addition:" As Allah has commanded you
عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی ( مسلمان) کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق کرے دونوں آپس میں ملیں تو یہ اس سے منہ موڑے اور وہ اس سے منہ موڑے اور ان دونوں میں سے بہتر وہ آدمی ہے کہ جو سلام کرنے میں ابتداء کرے۔
Abu Ayyub Ansari reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is not permissible for a Muslim to have estranged relations with his brother beyond three nights, the one turning one way and the other turning the other way when they meet; the better of the two is one who is the first to give a greeting.
عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ وَمِثْلِ حَدِيثِهِ إِلَّا قَوْلَهُ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا فَإِنَّهُمْ جَمِيعًا قَالُوا فِي حَدِيثِهِمْ غَيْرَ مَالِکٍ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان، حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن ولید محمد بن حرب زبیدی اسحاق بن ابراہیم، حنظلی محمد بن رافع عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، مالک حضرت زہری سے ان سندوں کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اس میں صرف لفظی تبدیلی کا فرق ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording (and the words are):" The one turning away and the other turning away when they meet and one avoids the other and the other also avoids him."
عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
محمد بن رافع محمد بن ابی فدیک ضحاک ابن عثمان نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے (مومن) بھائی سے تین دنوں سے زیادہ قطع تعلق کرے۔
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is not permissible for a Muslim to have estranged relations with his brother beyond three days.
عذر شرعی کے بغیر تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد بن علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین (دن) کے بعد ترک تعلق جائز نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There should be no estranged relations beyond three days.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
یحییٰ بن یحیی، مالک ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹ بات ہے اور نہ ہی تم ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب تلاش کرو اور حرص نہ کرو اور حسد نہ کرو اور بغض نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور اللہ کے بندے اور بھائی بھائی ہوجاؤ۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Avoid suspicion, for suspicion is the gravest lie in talk and do not be inquisitive about one another and do not spy upon one another and do not feel envy with the other, and nurse no malice, and nurse no aversion and hostility against one another. And be fellow-brothers and servants of Allah.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَهَجَّرُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور نہ ہی کسی کے عیب تلاش کرو اور نہ ہی تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Dont have estranged relations (with the others) and dont nurse enmity and dont enter into a transaction when the other (has already entered) and be fellow-brothers and servants of Allah.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب تلاش کرو اور نہ ہی بیع تناجش کرو (کسی کے پھنسانے کے لئے کسی چیز کی زیادہ قیمت لگاؤ) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying. Dont nurse malice against one another, dont nurse aversion against one another and dont be inquisitive about one another and dont outbid one another (with a view to raising the price) and be fellow-brothers and servants of Allah.
بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ لَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَکُونُوا إِخْوَانًا کَمَا أَمَرَکُمْ اللَّهُ
حسن بن علی حلوانی علی بن نصر وہب بن جریر، شعبہ، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ تم ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد کرو اور تم بھائی بھائی ہوجاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash with the same chain of transmit ters (and the words are):" Dont sever relations of kinship, dont bear enmity against one another, dont bear aversion against one another and dont feel envy against the other and live as fellow-brothers as Allah has commanded you.