بد گمانی اور عیب تلاش کرنے اور حرص کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَنَافَسُوا وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا
احمد بن سعید دارمی حباب وہیب سہیل ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور نہ ہی حرص کرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Dont bear aversion against one another and dont be jealous of one another and be servants of Allah.
مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ التَّقْوَی هَاهُنَا وَيُشِيرُ إِلَی صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب داؤد ابن قیس ابی سعد عامر بن کریز حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ ایک دوسرے پر حسد نہ کرو اور نہ ہی تناجش کرو (تناجش بیع کی ایک قسم ہے) اور نہ ہی ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے رو گردانی کرو اور تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہوجاؤ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے آپ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا تقوی یہاں ہے کسی آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر پورا پورا حرام ہے اس کا خون اور اس کا مال اور اس کی عزت و آبرو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Dont nurse grudge and dont bid him out for raising the price and dont nurse aversion or enmity and dont enter into a transaction when the others have entered into that transaction and be as fellow-brothers and servants of Allah. A Muslim is the brother of a Muslim. He neither oppresses him nor humiliates him nor looks down upon him. The piety is here, (and while saying so) he pointed towards his chest thrice. It is a serious evil for a Muslim that he should look down upon his brother Muslim. All things of a Muslim are inviolable for his brother in faith: his blood, his wealth and his honour.
مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ أُسَامَةَ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ کُرَيْزٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ دَاوُدَ وَزَادَ وَنَقَصَ وَمِمَّا زَادَ فِيهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَی أَجْسَادِکُمْ وَلَا إِلَی صُوَرِکُمْ وَلَکِنْ يَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِکُمْ وَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ إِلَی صَدْرِهِ
ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح ابن وہب، اسامہ ابن زید ابوسعید عبداللہ بن عامر بن کریز حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پھر (مذکورہ) داؤد کی حدیث کی طرح ذکر کی اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی طرف نہیں دیکھتا اور نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ دلوں کی طرف دیکھتا ہے اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with some addition (and it is this):" Verily Allah does not look to your bodies nor to your faces but He looks to your hearts," and he pointed towards the heart with his fingers.
مسلمان پر ظلم کرنے اور اسے ذلیل کرنے اور اسے حقیر سمجھنے اور اس کے جان و مال وعزت کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا کَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَی صُوَرِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَلَکِنْ يَنْظُرُ إِلَی قُلُوبِکُمْ وَأَعْمَالِکُمْ
عمرو ناقد کثیر بن ہشام جعفر بن برقان یزید بن عاصم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تو تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may peace be upqn him) as saying: Verily Allah does not look to your faces and your wealth but He looks to your heart and to your deeds.
کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا رَجُلًا کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوموار اور جمعرات کے دن جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور ہر اس بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو اور کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں اور ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں ان دونوں کی طرف دیکھتے رہو یہاں تک کہ وہ صلح کرلیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The gates of Paradise are not opened but on two days, Monday and Thursday. and then every servant (of Allah) is granted pardon who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. And it would be said: Look towards both of them until there is reconciliation; look toward both of them until there is reconciliation; look towards both of them until there is reconciliation.
کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الدَّرَاوَرْدِيِّ إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَةَ و قَالَ قُتَيْبَةُ إِلَّا الْمُهْتَجِرَيْنِ
زہیر بن حرب، جریر، قتیبہ بن سعید، احمد بن عبدۃ ضبی عبدالعزیز درا وردی حضرت سہیل اپنے باپ سے مالک کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں صرف لفظی فرق ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Suhail who narrated it on the authority of his father with the chain of transmitters of MaIik, but with this variation of wording:, (Those would not be granted pardon) who bycott each other."
کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَرَّةً قَالَ تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ فِي کُلِّ يَوْمِ خَمِيسٍ وَاثْنَيْنِ فَيَغْفِرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ الْيَوْمِ لِکُلِّ امْرِئٍ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا امْرَأً کَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَصْطَلِحَا
ابن ابی عمر سفیان، مسلم ابن ابی مریم ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ نے مرفوعاً ایک مرتبہ فرمایا کہ ہر جمعرات اور سوموار کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اللہ اس دن ہر اس آدمی کی مغفرت فرما دتیے ہیں کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اس آدمی کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کرلیں انہیں مہلت دو یہاں تک کہ وہ دونوں صلح کرلیں۔
Abu Hurairah (RA) reported it as a marfu hadith (and the words are): The deeds are presented on every Thursday and Friday and Allah, the Exalted and Glorious. grants pardon to every person who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. It would be said: Put both of them off until they are reconciled.
کینہ رکھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَائُ فَيُقَالُ اتْرُکُوا أَوْ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا
ابوطاہر عمرو بن سواد ابن وہب، مالک بن انس، مسلم بن ابی مریم ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر ہفتہ میں دو مرتبہ سوموار اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو ہر مومن بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے اور اپنے مومن بھائی کے درمیان کینہ رکھتا ہو کہا جاتا ہے کہ ان کو چھوڑ دو یا انہیں مہلت دے دو یہاں تک کہ یہ دونوں رجوع کرلیں۔
Abu Huraim reported Allahs Messenger ﷺ as saying The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancour against his brother and it would he said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation.
اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، عبداللہ بن عبدالرحمن بن معمر، ابی حباب سعید بن یسار حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ قیامت کے دن فرمائے گا کہاں ہیں آپس میں محبت کرنے والے میرے جلال کی قسم! آج کے دن میں ان کو اپنے سائے میں رکھوں گا کہ جس دن میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily. Allah would say on the Day of Resurrection: Where are those who have mutual love for My Glorys sake? Today I shall shelter them in My shadow when there is no other shadow but the shadow of Mine.
اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَی فَأَرْصَدَ اللَّهُ لَهُ عَلَی مَدْرَجَتِهِ مَلَکًا فَلَمَّا أَتَی عَلَيْهِ قَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَالَ هَلْ لَکَ عَلَيْهِ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا قَالَ لَا غَيْرَ أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْکَ بِأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّکَ کَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ
عبدالاعلی بن حماد حماد بن سلمہ ثابت ابی رافع حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی اپنے ایک بھائی سے ملنے کے لئے ایک دوسرے گاؤں گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو اس کے انتظار کے لئے بھیج دیا جب اس آدمی کا اس کے پاس سے گزر ہوا تو فرشتہ کہنے لگا کہاں کا ارادہ ہے اس آدمی نے کہا اس گاؤں میں میرا ایک بھائی ہے میں اس سے ملنا چاہتا ہوں فرشتہ نے کہا کیا اس نے تیرے اوپر کوئی احسان کیا ہے کہ تو جس کا بدلہ دنیا چاہتا ہے اس آدمی نے کہا نہیں سوائے اس کے کہ میں اس سے صرف اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا تیری طرف اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ بھی تجھ سے اسی طرح محبت کرتا ہے کہ جس طرح تو اس دیہاتی آدمی سے محبت کرتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: A person visited his brother in another town and Allah deputed an Angel to wait for him on his way and when he came to him he said: Where do you intend to go? He said: I intend to go to my brother in this town. He said: Have you done any favour to him (the repayment of which you intend to get)? He said: No, excepting this that I love Mm for the sake of Allah, the Exalted and Glorious. Thereupon he said: I am a meesenger to you from, Allah: (to inform you) that Allah loves you as you love him (for His sake)
اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُشَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابواحمد بن عیسیٰ ابوبکر محمد بن زنجویہ قشیری عبدالاعلی بن حماد نرسی حضرت حماد بن سلمہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Hammad bin Salama with the same of transmitters.
بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِيَانِ ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ رَفَعَهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ
سعید بن منصور، ابوربیع حماد ابن زید ایوب ابی قلابہ ابی اسماء ابوربیع رفعہ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیمار آدمی کی عیادت کرنے والا جنت کے میوہ زار میں ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔
Abu Rabi reported directly from Allahs Apostle ﷺ (may peace upon him) as saying: The one who visits the sick is in fact like one who is in the fruit garden of Paradise so long as he does not return.
بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ہشیم خالد ابی قلابہ ابی اسماء حضرت ثوبان ؓ مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ اس وقت سے واپس آنے تک جنت کے میوہ زار میں ہوتا ہے۔
Thauban, the freed slave of Allahs Messenger ﷺ , reported that Allahs Messenger ﷺ said: He who visits the sick continues to remain in the fruit garden of Paradise until he returns.
بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَ
یحییٰ بن حبیب حارثی، یزید بن زریع خالد ابی قلابہ ابی اسماء رحبی حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ واپس آنے تک جنت کے میوہ زار میں رہتا ہے۔
Thauban reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Verily, when a Muslim visits his brother in Islam he is supposed to remain in the fruit garden of Paradise until he returns.
بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ قَالَ جَنَاهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، یزید زہیر یزید بن ہارون، عاصم، عبداللہ بن زید ابوقلابہ ابی اشعث صنعانی ابی اسماء رحبی، حضرت ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی بیمار کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے خرفہ میں رہتا ہے آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول جنت کا خرفہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جنت کے باغات۔
Thauban, the freed slave of Allahs Messenger ﷺ , reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who visits the sick is supposed to remain in the fruit garden of Paradise. It was said: Allahs Messenger, what is this Khurfat-ul-jannah? He said: It is a place abounding in fruits.
بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
سوید بن سعید مروان بن معاویہ حضرت عاصم سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Asim al-Ahwal with the same chain of transmitters.
بیمار کی عیادت کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي قَالَ يَا رَبِّ کَيْفَ أَعُودُکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّکَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي عِنْدَهُ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُکَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي قَالَ يَا رَبِّ وَکَيْفَ أُطْعِمُکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ اسْتَطْعَمَکَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تُطْعِمْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّکَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِکَ عِنْدِي يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُکَ فَلَمْ تَسْقِنِي قَالَ يَا رَبِّ کَيْفَ أَسْقِيکَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ اسْتَسْقَاکَ عَبْدِي فُلَانٌ فَلَمْ تَسْقِهِ أَمَا إِنَّکَ لَوْ سَقَيْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِکَ عِنْدِي
محمد بن حاتم، بن میمون بہز حماد بن سلمہ ثابت ابی رافع حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا اے ابن آدم میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہیں کی وہ کہے گا اے پروردگار میں تیری عیادت کیسے کرتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا اور تو نے اس کی عیادت نہیں کی کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں آپ کو کیسے کھانا کھلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے تو اللہ فرمائے گا کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا تھا کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس کو کھانا کھلاتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا اے ابن آدم میں نے تجھ سے پانی مانگا لیکن تو نے مجھے پانی نہیں پلایا وہ کہے گا اے پروردگار میں تجھے کیسے پانی پلاتا حالانکہ تو تو رب العالمین ہے اللہ فرمائے گا میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تو نے اس کو پانی نہیں پلایا تھا اگر تو اسے پانی پلاتا تو تو اسے میرے پاس پاتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Verily, Allah, the Exalted and Glorious, would say on the Day of Resurrection: O son of Adam, I was sick but you did not visit Me. He would say: O my Lord; how could I visit Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Didnt you know that such and such servant of Mine was sick but you did not visit him and were you not aware of this that if you had visited him, you would have found Me by him? O son of Adam, I asked food from you but you did not feed Me. He would say: My Lord, how could I feed Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? He said: Didnt you know that such and such servant of Mine asked food from you but you did not feed him, and were you not aware that if you had fed him you would have found him by My side? (The Lord would again say:) O son of Adam, I asked drink from you but you did not provide Me. He would say: My Lord, how could I provide Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Such and such of servant of Mine asked you for a drink but you did not provide him, and had you provided him drink you would have found him near Me.
اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ عُثْمَانَ مَکَانَ الْوَجَعِ وَجَعًا
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق عثمان جریر، اعمش، ابو وائل مسروق، سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو نہیں دیکھا کہ جسے رسول اللہ ﷺ کی تکلیف سے بڑھ کر تکلیف ہو۔
Aisha reported, I did not see anyone else being afflicted with more severe illness than Allahs Messenger ﷺ . In the narration transmitted by Uthman there is a slight variation of wording.
اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ أَخْبَرَنِي أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ
عبیداللہ بن معاذ ابی ابن مثنی ابن بشار ابن ابی عدی، بشر ابن خالد محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن نافع عبدالرحمن ابن نمیر، مصعب بن مقدام سفیان، حضرت اعمش ؓ جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash through other chains of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَکُ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ إِنِّي أُوعَکُ کَمَا يُوعَکُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ قَالَ فَقُلْتُ ذَلِکَ أَنَّ لَکَ أَجْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًی مِنْ مَرَضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ سَيِّئَاتِهِ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَمَسِسْتُهُ بِيَدِي
عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جریر، اعمش، ابراہیم، حارث ابن سوید حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں آیا حال یہ کہ آپ ﷺ کو بخار تھا میں نے ہاتھ رکھ کر دیکھا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ کو بہت سخت بخار ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ کے لئے دوہرا اجر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی تکلیف آتی ہے تو اللہ اس تکلیف کے بدلہ میں اس کے اس طرح گناہ معاف کردیتا ہے کہ جس طرح (موسم بہار) میں درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ اور زہیر کی حدیث میں ہاتھ لگا کر دیکھنے کے الفاظ نہیں ہیں۔
Abdullah reported: I visited Allahs Messenger ﷺ as he was running high temperature. I touched his body with my bard and said to him: Allahs Messenger, you are running high temperature, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Yes, it is so. I comparatively have a more severe fever than any one of you. I said: Is it because there is a double reward in store for you? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Yes, it is so. And Allahs Messenger ﷺ again said: When a Muslim falls ill, his compensation is that his minor sins are obliterated just as leaves tall (in autumn). In the hadith transmitted on the authority of Zubair there is (no mention of these words):" I touched his body with my hands."