صلہ رحمی کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 47 · 223 hadiths · Page 4 of 12

6560Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ وَيَحْيَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ مُسْلِمٌ

ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابومعاویہ محمد بن رافع عبدالرزاق، سفیان، اسحاق بن ابراہیم، ابن بی غنیہ حضرت اعمش ؓ سے جریر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں! اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ آخر تک۔

This hadith has been transmitted on the authority of jarir and the hadith transmitted on the authority of Abu Muawiyahh (RA) there is an addition of these words: He said: Yes, by Him in Whose Hand is my life, there is no Muslim upon the earth." The rest of the hadith is the same.

6561Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ دَخَلَ شَبَابٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ بِمِنًی وَهُمْ يَضْحَکُونَ فَقَالَتْ مَا يُضْحِکُکُمْ قَالُوا فُلَانٌ خَرَّ عَلَی طُنُبِ فُسْطَاطٍ فَکَادَتْ عُنُقُهُ أَوْ عَيْنُهُ أَنْ تَذْهَبَ فَقَالَتْ لَا تَضْحَکُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاکُ شَوْکَةً فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا کُتِبَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَمُحِيَتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر منصور ابراہیم، حضرت اسود سے روایت ہے کہ قریش کے کچھ نوجوان سیدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں آئے اور حضرت عائشہ ؓ اس وقت منیٰ میں تھیں اور وہ نوجوان ہنس رہے تھے سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا تم کیوں ہنس رہے ہو وہ نوجوان کہنے لگے کہ فلاں آدمی خیمہ کی رسی پر گرپڑا ہے اور اس کی گردن یا اس کی آنکھ جاتے جاتے ہی بچی حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا تم مت ہنسو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا جس مسلمان کو کوئی کانٹا یا کانٹے سے بڑھ کر کوئی چیز لگ گئی ہو تو اس کے بدلے میں اس کے لئے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔

Aswad reported that some young men from the Quraish visited Aisha as she was in Mina and they were laughing. She said: What makes you laugh? They said: Such and such person stumbled against the rope of the tent and he was about to break his neck or lose his eyes. She said: Dont laugh for I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: If a Muslim runs a thorn or (gets into trouble) severe than this, there is assured for him (a higher) rank and his sins are obliterated.

6562Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْکَةٍ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق حنظلی اسحاق ابومعاویہ اعمش، ابراہیم، اسود سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی مومن آدمی کو کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بڑھ کر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A believer does not receive (the trouble) of running a thorn or more than that but Allah elevates him in rank or effaces his sins because of that.

6563Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْکَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا قَصَّ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطِيئَتِهِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر ہشام سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن آدمی کو اگر کوئی کانٹا چبھتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے بدلہ میں اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A believer does not undergo (the trouble) of running a thorn or more than that when Allah effaces his sins.

6564Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوکریب ابومعاویہ حضرت ہشام اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔

The above hadith has been transmitted by Hisham with the same chain.

6565Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُسْلِمُ إِلَّا کُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّی الشَّوْکَةِ يُشَاکُهَا

ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، یونس بن یزید ابن شہاب عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اسے اس کے گناہ کا کفارہ کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ اگر اس کو کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔

Aisha said: No trouble comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that it becomes (the means) whereby his sins are effaced or his sins are obliterated. Yazid says: He does not know which word Urwa said (whether he said Qussa or Kuffira).

6566Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ مُصِيبَةٍ حَتَّی الشَّوْکَةِ إِلَّا قُصَّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ أَوْ کُفِّرَ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ لَا يَدْرِي يَزِيدُ أَيَّتُهُمَا قَالَ عُرْوَةُ

ابوطاہر ابن وہب، مالک بن انس، یزید بن خصیفہ عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اس کے بدلے میں اس کے گناہ کم کر دئے جاتے ہیں یا اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے یزید نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے عروہ نے کون سا لفظ کہا ہے۔

Aisha reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: There is nothing (in the form of trouble) that comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that there is decreed for him by Allah good or his sins are obliterated.

6567Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ شَيْئٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّی الشَّوْکَةِ تُصِيبُهُ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ

حاملہ بن یحییٰ عبداللہ بن وہب، حیوہ، ابن ہاد ابی بکر بن حرم عمرہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی مومن آدمی کو جو کوئی بھی مصیبت پہنچتی ہے یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے یا اس کا کوئی گناہ مٹا دیتا ہے۔

Aisha reported: I heard Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) as saying: There is nothing (in the form of trouble) that comes to a believer even if it is the pricking of a thorn that there is decreed for him by Allah good or his sins are obliterated.

6568Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا سَقَمٍ وَلَا حَزَنٍ حَتَّی الْهَمِّ يُهَمُّهُ إِلَّا کُفِّرَ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابواسامہ ولید بن کثیر محمد بن عمر بن عطاء، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ ؓ ان دونوں حضرات سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ کسی مومن آدمی کے جب بھی کوئی تکلیف یا ایذاء یا کوئی بیماری یا رنج یہاں تک کہ اگر اسے کوئی فکر ہی ہو تو اس سے اس کے گناہوں کا کفارہ کردیا جاتا ہے۔

Abu Said and abu Hurairah reported that they heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Never a believer is stricken with discomfort, hardship or illness, grief or even with mental worry that his sins are not expiated for him.

6569Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبْي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ مَنْ يَعْمَلْ سُوئًا يُجْزَ بِهِ بَلَغَتْ مِنْ الْمُسْلِمِينَ مَبْلَغًا شَدِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَفِي کُلِّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ کَفَّارَةٌ حَتَّی النَّکْبَةِ يُنْکَبُهَا أَوْ الشَّوْکَةِ يُشَاکُهَا قَالَ مُسْلِم هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن عیینہ سفیان، ابن محصین محمد بن قیس ابن مخرمہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (مَنْ يَّعْمَلْ سُوْ ءًا يُّجْزَ بِه) 4۔ النساء: 123) جو کوئی بھی کوئی برا عمل کرے گا تو اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا مسلمانوں کو اس سے بہت سخت پریشانی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میانہ روی اور استقامت اختیار کرو مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ جو اسے ٹھوکر لگتی ہے یا اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے امام مسلم (رح) کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالرحمن بن محصین مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that when this verse was revealed:" Whoever does evil will be requited for it", and when this was conveyed to the Muslims they were greatly perturbed. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Be moderate and stand firm in trouble that falls to the lot of a Muslim (as that) is an expiation for him; even stumbling on the path or the prickin of a thorn (are an expiation for him). Muslim said that Umar bin Abdul Rahman Muhaisin was from amongst the people of Makkah.

6570Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ مَا لَکِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ قَالَتْ الْحُمَّی لَا بَارَکَ اللَّهُ فِيهَا فَقَالَ لَا تَسُبِّي الْحُمَّی فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ کَمَا يُذْهِبُ الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

عبیداللہ بن عمر قواریری یزید بن زریع حجاج صواف ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سائب یا ام مسیب کے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سائب یا اے ام مسیب تجھے کیا ہوا تم کانپ رہی ہو اس نے عرض کیا بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ کرے تو آپ ﷺ نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو کیونکہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے کہ جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ visited Umm Saib or Umm Musayyib and said: Umm Saib or Umm Musayyib. why is it that you are shivering? She said:" It is fever and may it not be blessed by Allah, whereupon he (the Holy Prophet) said: Dont curse fever for it expiates the sir of the posterity of Adam علیہ السلامعلیہ السلامjust as furnace removes the alloy of iron.

6571Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَا حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو بَکَرٍ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أُرِيکَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَی قَالَ هَذِهِ الْمَرْأَةُ السَّوْدَائُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنِّي أُصْرَعُ وَإِنِّي أَتَکَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ إِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَکِ الْجَنَّةُ وَإِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَکِ قَالَتْ أَصْبِرُ قَالَتْ فَإِنِّي أَتَکَشَّفُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا أَتَکَشَّفَ فَدَعَا لَهَا

عیبد اللہ بن عمر قواریری یحییٰ بن سعید بشر بن مفضل عمران ابوبکر حضرت عطا بن ابی رباح ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ نے مجھ سے فرمایا کیا میں تجھے ایک حبشی عورت نہ دکھاؤں۔ میں نے عرض کیا کیوں نہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ سیاہ فام عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میرا ستر کھل جاتا ہے آپ ﷺ میرے لئے اللہ سے دعا فرمائیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہے تو صبر کر تیرے لئے جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تجھے صحت و عافیت دے دے وہ عورت کہنے لگی کہ میں صبر کروں گی لیکن میرا ستر کھل جاتا ہے تو آپ ﷺ میرے لئے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے تو آپ نے اس عورت کے لئے دعا فرمائی۔

Ata bin Abi Rabih said: Ibn Abbas (RA) said to me: May I show you a woman of Paradise? I said: Yes. He said: Here is this dark-complexioned woman. She came to Allahs Apostle ﷺ and said: I am suffering from falling sickness and I become naked; supplicate Allah for me, whereupon he (the Holy Prophet) said: Show endurance as you can do and there would be Paradise for you and, if you desire, I supplicate Allah that He may cure you. She said: I am prepared to show endurance (but the unbearable trouble is) that I become naked, so supplicate Allah that He should not let me become naked, so he supplicated for her.

6572Sahih Muslim

ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْرَامَ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رَوَی عَنْ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَّهُ قَالَ يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَی نَفْسِي وَجَعَلْتُهُ بَيْنَکُمْ مُحَرَّمًا فَلَا تَظَالَمُوا يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُهُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِکُمْ يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُهُ فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْکُمْ يَا عِبَادِي کُلُّکُمْ عَارٍ إِلَّا مَنْ کَسَوْتُهُ فَاسْتَکْسُونِي أَکْسُکُمْ يَا عِبَادِي إِنَّکُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَکُمْ يَا عِبَادِي إِنَّکُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضَرِّي فَتَضُرُّونِي وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقَی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِي مُلْکِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِي شَيْئًا يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُونِي فَأَعْطَيْتُ کُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِمَّا عِنْدِي إِلَّا کَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ يَا عِبَادِي إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُکُمْ أُحْصِيهَا لَکُمْ ثُمَّ أُوَفِّيکُمْ إِيَّاهَا فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِکَ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ قَالَ سَعِيدٌ کَانَ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ جَثَا عَلَی رُکْبَتَيْهِ

عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہرام دارمی مروان ابن محمد دمشقی سعید بن عبدالعزیز ربیعہ یزید بن ابی ادریس خولانی حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے روایت ہے اللہ عزوجل نے فرمایا اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام قرار دیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو اے میرے بندو تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے کہ جسے میں ہدایت دوں تم مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا اے میرے بندو تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں کھلاؤں تو تم مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا کھلاؤں گا اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے کہ جسے میں پہناؤں تو تم مجھ سے لباس مانگو تو میں تمہیں لباس پہناؤں گا اے میرے بندو تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخشتا ہوں تو تم مجھ سے بخشش مانگو میں تمہیں بخش دوں گا اے میرے بندو تم مجھے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ہرگز مجھے نفع پہنچا سکتے ہو اے میرے بندو اگر تم سب اولین و آخرین اور جن و انس اس آدمی کے دل کی طرح ہوجاؤ جو سب سے زیادہ تقوی والا ہو تو بھی تم میری سلطنت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے اور اگر سب اولین اور آخرین اور جن و انس اس ایک آدمی کی طرح ہوجاؤ کہ جو سب سے زیادہ بدکار ہے تو پھر بھی تم میری سلطنت میں کچھ کمی نہیں کرسکتے اے میرے بندو اگر تم سب اولین اور آخرین اور جن اور انس ایک صاف چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگنے لگو اور میں ہر انسان کو جو وہ مجھ سے مانگے عطا کر دوں تو پھر بھی میرے خزانوں میں اس قدر بھی کمی نہیں ہوگی جتنی کہ سمندر میں سوئی ڈال کر نکالنے سے۔ اے میرے بندو یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں تمہارے لئے اکٹھا کر رہا ہوں پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا تو جو آدمی بہتر بدلہ پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو بہتر بدلہ نہ پائے تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے حضرت سعد (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوادریس خولانی جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو اپنے گھٹنوں کے بل جھک جاتے تھے۔

Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that Allah, the Exalted and Glorious, said: My servants, I have made oppression unlawful for Me and unlawful for you, so do not commit oppression against one another. My servants, all of you are liable to err except one whom I guide on the right path, so seek right guidance from Me so that I should direct you to the right path. O My servants, all of you are hungry (needy) except one whom I feed, so beg food from Me, so that I may give that to you. O My servants, all of you are naked (need clothes) except one whom I provide garments, so beg clothes from Me, so that I should clothe you. O My servants, you commit error night and day and I am there to pardon your sins, so beg pardon from Me so that I should grant you pardon. O My servants, you can neither do Me any harm nor can you do Me any good. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and even the whole of human race of yours, and that of jinns even, become (equal in) God-conscious like the heart of a single person amongst you, nothing would add to My Power. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and the whole human race of yours and that of the Jinns too in unison become the most wicked (all beating) like the heart of a single person, it would cause no loss to My Power. O My servants, even if the first amongst you and the last amongst you and the whole human race of yours and that of jinns also all stand in one plain ground and you ask Me and I confer upon every person what he asks for, it would not. in any way, cause any loss to Me (even less) than that which is caused to the ocean by dipping the needle in it. My servants, these for you I shall reward you for thern, so he who deeds of yours which I am recording finds good should praise Allah and he who does not find that should not blame anyone but his ownself. Said said that when Abu Idris Khaulini narrated this hadith he knelt upon his knees.

6573Sahih Muslim

ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ مَرْوَانَ أَتَمُّهُمَا حَدِيثًا

ابوبکر بن اسحاق ابومسہر مروان حضرت سعید بن عبدالعزیز اس سند کی اس روایت بیان کرتے ہیں کہ سوائے اس کے کہ مروان کی روایت ان دونوں روایتوں میں پوری ہے۔

The hadith is narrated through Abu Mushir from Said bin AbdilAziz except that the previous hadith through Marwan was the more complete of the two.

6574Sahih Muslim

ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں

قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ابْنَا بِشْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ فَذَکَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ

ابو اسحاق حسن و الحسین بشر محمد بن یحییٰ ابومسہر حضرت ابواسحاق کہتے ہیں کہ ہم سے یہ حدیث حضرات حسن و حسین ؓ بشر کے بیٹے اور محمد بن یحییٰ نے ابومسہر کے حوالہ سے طویل ذکر کی ہے۔

This hadith is also transmitted through Ibna Bashr and Muhammad bin Muhammad through Abu Mashur through the same chain, narrated to its (full) extent

6575Sahih Muslim

ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَائَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَی نَفْسِي الظُّلْمَ وَعَلَی عِبَادِي فَلَا تَظَالَمُوا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَحَدِيثُ أَبِي إِدْرِيسَ الَّذِي ذَکَرْنَاهُ أَتَمُّ مِنْ هَذَا

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، عبدالصمد بن عبدالوارث ہمام قتادہ، ابی قلابہ ابی اسماء حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کا فرمان بیان کیا ہے: (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) میں نے اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر ظلم کو حرام قرار دیا ہے تو تم آپس میں ظلم نہ کرو اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying that he reported it from his Lord, the Exalted and Glorious: Verily I have made oppression unlawful for Me and for My servants too, so do not commit oppression. The rest of the hadith is the same.

6576Sahih Muslim

ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَهُمْ عَلَی أَنْ سَفَکُوا دِمَائَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب داؤد ابن قیس عبیداللہ بن مقسم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی ہے اور بخل (یعنی کنجوسی) سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور بخل ہی کی وجہ سے انہوں نے لوگوں کے خون بہائے اور حرام کو حلال کیا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: Be on your guardagainst committing oppression, for oppression is a darkness on the Day of Resurrection, and be on your guard against pettimindedness for pettimindedness destroyed those who were before you, as it incited them to shed blood and make lawful what was unlawful for them.

6577Sahih Muslim

ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

محمد بن حاتم، شبابہ عبدالعزیز ماجشون عبداللہ بن دینا حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظلم قیامت کے دن تاریکیاں ہوں گی۔

Ibu Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Oppression is the darkness on the Day of Resurrection.

6578Sahih Muslim

ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ مَنْ کَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ کَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا کُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل زہری، حضرت سالم ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ہلاکت میں ڈالتا ہے جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے تو اللہ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی سے کوئی مصیبت دور کرے گا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے گا اور جو آدمی اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔

Salim reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said: A Muslim is the brother of a fellow-Muslim. He should neither commit oppression upon him nor ruin him, and he who meets the need of a brotier, Allah would meet big needs, and he who relieved a Muslim from hardship Allah would relieve him from the hardships to which he would be put on the Day of Resurrection, and he who did not expose (the follies of a Muslim) Allah would conceal his follies on the Day of Resurrection.

6579Sahih Muslim

ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَکَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَکَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَکَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا فَيُعْطَی هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَی مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

قتیبہ بن سعید، علی بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہوگئیں تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

Abu Hurairah (RA) . reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do you know who is poor? They (the Companions of the Holy Prophet) said: A poor man amongst us is one who has neither dirham with him nor wealth. He (the Holy Prophet) said: The poor of my Umma would be he who would come on the Day of Resurrecton with prayers and fasts and Zakat but (he would find himself bankrupt on that day as he would have exhausted his funds of virtues) since he hurled abuses upon others, brought calumny against others and unlawfully consumed the wealth of others and shed the blood of others and beat others, and his virtues would be credited to the account of one (who suffered at his hand). And if his good deeds fall short to clear the account, then his sins would be entered in (his account) and he would be thrown in the Hell-Fire.