ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَی أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّی يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَائِ مِنْ الشَّاةِ الْقَرْنَائِ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگوں سے حقداروں کے حقوق ادا کروائے جائیں گے یہاں تک کہ بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ سینگ والی بکری سے لے لیا جائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The claimants would get their claims on the Day of Ressurection so much so that the hornless sheep would get its claim from the horned sheep.
ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُمْلِي لِلظَّالِمِ فَإِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ثُمَّ قَرَأَ وَکَذَلِکَ أَخْذُ رَبِّکَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَی وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ برید ابن حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ ظالم آدمی کو مہلت دے دیتا ہے پھر جب اسے پکڑتا ہے تو پھر وہ اسے نہیں چھوڑتا پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَا اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَه اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) 11۔ ہود: 102) اور اس طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظالم لوگوں کی بستیوں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ بڑی سخت درناک ہے۔
Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Exalted and Glorious, grants respite to the oppessor. But when He lays Hand upon him, He does not then let him off. Re (the Holy Prophet) then recited this verse:" Such is the chastisement of thy Lord when He chastises the towns (inhabited by) wrongdoing persons. Surely, His punishment is painful, severe" (xi. 103).
اپنے مسلمان بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَنَادَی الْمُهَاجِرُ أَوْ الْمُهَاجِرُونَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَنَادَی الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا دَعْوَی أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ اقْتَتَلَا فَکَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ قَالَ فَلَا بَأْسَ وَلْيَنْصُرْ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا إِنْ کَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّهُ لَهُ نَصْرٌ وَإِنْ کَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ
احمد بن عبداللہ بن یونس زہیر ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ دو لڑکوں کا آپس میں جھگڑا ہوا ایک لڑکا مہاجرین میں سے تھا اور ایک لڑکا انصار میں سے مہاجر لڑکے نے مہاجروں کو پکارا اور انصاری لڑکے نے انصار کو پکارا تو رسول اللہ ﷺ باہر نکلے اور فرمایا یہ کیا جاہلیت کی پکار ہے لوگوں نے عرض کیا: نہیں! اے اللہ کے رسول! سوائے اس کے کہ دو لڑکے آپس میں جھگڑے ہیں ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے کی سرین پر مارا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں آدمی کو اپنے بھائی کی مدد کرنی چاہیے خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم اگر ظالم ہے تو اسے ظلم سے روکو کیونکہ یہ اس کی مدد ہے اور اگر مظلوم ہے تو اس کی مدد کرو۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that two young men, one from the Muhajirin (emigrants) and the other one from the Angr (helpers) fell into dispute and the Muhajir called his fellow Muhajirin, and the Ansari (the helper) called the Ansar (for help). In the meanwhile, Allahs Messenger ﷺ came there and said: What is this, the proclamation of the days of jahiliya (ignorance)? They said: Allahs Messenger, there is nothing serious. The two young men fell into dispute and the one struck at the back of the other. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Well, a person should help his brother whether he is an oppressor or an oppressed. If he is the oppressor he should prevent him from doing it, for that is his help; and if he is the oppressed he should be helped (against oppression).
اپنے مسلمان بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَکَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ دَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ فَسَمِعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فَقَالَ قَدْ فَعَلُوهَا وَاللَّهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ قَالَ عُمَرُ دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ دَعْهُ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، احمد بن عبدہ ضبی ابن ابی عمرو ابن ابی شیبہ ابن عبدہ سفیان بن عیینہ، حضرت عمرو اور حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے تو مہاجرین کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا تو انصاری نے کہا اے انصار اور مہاجر نے کہا اے مہاجرو! (یعنی دونوں نے اپنے اپنے قبائل کو مدد کے لئے پکارا) رسول اللہ ﷺ نے (یہ آواز سن کر) فرمایا یہ کیا جاہلیت کی پکار ہے لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مہاجرین کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ نازیبا بات ہے عبداللہ بن ابی نے جب یہ سنا تو اس نے کہا مہاجرین نے ایسے کیا ہے اللہ کی قسم اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں گے تو ہم میں سے عزت والا آدمی العیاذ باللہ ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو لوگ یہ نہ کہنے لگ جائیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: We were along with Allahs Messenger ﷺ in an expedition that a person from amongst the emigrants struck at the back of a person from the Ansir. The Ansiri said: O Ansar! And the Muhijir said: O Emigrants! Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: What are these proclamations of the Days of Ignorance? They said: Allahs Messenger, a person from the emigrants struck at the back of an Ansari, whereupon he said: It is something disgusting. Abdullah bin Ubayy heard it and said: They have indeed done it. By Allah, when we would return to Madinah the respectable amongst them (the Ansar) would turn away the mean (the emigrants). Thereupon Umar said: Permit me so that I should strike the neck of this hypocrite. But he (the Holy Prophet) said: Leave him, the people may not say that Muhammad kills his companions.
اپنے مسلمان بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَسَعَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ الْقَوَدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ قَالَ ابْنُ مَنْصُورٍ فِي رِوَايَتِهِ عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا
اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور محمد بن رافع ابن رافع عبدالرزاق، معمر، ایوب عمرو بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین کے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا تو وہ انصاری نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ سے قصاص کے لئے عرض کیا نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ نازیبا بات ہے ابن منصور نے کہا کہ عمرو کی روایت میں سَمِعْتُ جَابِرًا ہے۔
Jabir bin Abdullah reported that a person from the emigrants struck the back of an Ansari. He came to Allahs Apostle ﷺ and asked for compensation. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Leave it. for it is something disgusting. Ibn Mansur said that in the narration transmitted on the authority of Amr (these words are also found):" I heard Jabir."
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ وَابْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوعامر اشعری عبداللہ بن ادریس ابواسامہ محمد بن علاء، ابوکریب ابن مبارک ابن ادریس ابواسامہ برید ابوبردہ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مومن دوسرے مومن کے لئے عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط رکھتی ہے۔
Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A believer is like a brick for another believer, the one supporting the other.
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکَی مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَی لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّی
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی زکریا، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن بندوں کی مثال ان کی آپس میں محبت اور اتحاد اور شفقت میں جسم کی طرح ہے کہ جب جسم کے اعضاء میں سے کسی عضو کو کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اس کے سارے جسم کو نیند نہیں آئے اور بخار چڑھ جانے میں اس کا شریک ہوجاتا ہے۔
Numan bin Bashir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The similitude of believers in regard to mutual love, affection, fellow-feeling is that of one body; when any limb of it aches, the whole body aches, because of sleeplessness and fever.
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
اسحاق حنظلی جریر، مطرف شعبی، حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Numan bin Bashir reported a hadith like this from Allahs Apostle ﷺ .
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُونَ کَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنْ اشْتَکَی رَأْسُهُ تَدَاعَی لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّی وَالسَّهَرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج وکیع، اعمش، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن بندے ایک آدمی کی طرح ہیں کہ اگر اس کا سر دکھتا ہے تو اس کا باقی سارے جسم کے اعضاء بخار اور نیند نہ آنے میں اس کے شریک ہوتے ہیں۔
Numan bin Bashir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The believers are like one person; if his head aches, the whole body aches with fever and sleeplessness.
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُونَ کَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنْ اشْتَکَی عَيْنُهُ اشْتَکَی کُلُّهُ وَإِنْ اشْتَکَی رَأْسُهُ اشْتَکَی کُلُّهُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، حمید بن عبدالرحمن اعمش، خیثمہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان بندے ایک آدمی کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھ دکھتی ہے تو اس کا سارا جسم دکھنے لگ جاتا ہے اور اگر اس کے سرین میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔
Numan bin Bashir reported that Muslims are like one body of a person; if the eye is sore, the whole body aches, and if the head aches, the whole body aches.
مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت اختیار کرنے اور متحد رہنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ابن نمیر، حمید بن عبدالرحمن اعمش، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Numan bin Bashir through another chain of transmitters.
گالی گلوچ کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَی الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ
یحییٰ بن ایوب قتیبہ بن سعید، ابن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کریں تو گناہ ابتداء کرنے والے پر ہی ہوگا جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے (یعنی زیادتی نہ کرے)۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When two persons indulge in hurling (abuses) upon one another, it would be the first one who would be the sinner so long as the oppressed does not transgress the limits.
معاف کرنے اور عاجزی اختیار کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کے معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھا دیتا ہے اور جو آدمی بھی اللہ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کا درجہ بلند فرما دیتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Charity does not in any way decrease the wealth and the servant who forgives Allah adds to his respect, and the one who shows humility Allah elevates him in the estimation (of the people).
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ کَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ ﷺ فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do you know what is backbiting? They (the Companions) said: Allah and His Messenger know best. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Backbiting implies your talking about your brother in a manner which he does not like. It was said to him: What is your opinion about this that if I actually find (that failing) in my brother which I made a mention of? He said: If (that failing) is actually found (in him) what you assert, you in fact backbited him, and if that is not in him it is a slander.
اس آدمی کے لئے بشارت کے بیان میں کہ جس کے عیب کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں چھپایا آخرت میں بھی اللہ اس کے عیب کو چھپائے گا۔
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَی عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
امیہ بن بسطام عیشی یزیدی ابن زریع روح سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ دنیا میں جس بندے کے عیب چھپاتا ہے قیامت کے دن بھی اللہ اس کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن بھی اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The servant (whose fault) Allah conceals in this world, Allah would also conceal (his faults) on the Day of Resurrection.
اس آدمی کے لئے بشارت کے بیان میں کہ جس کے عیب کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں چھپایا آخرت میں بھی اللہ اس کے عیب کو چھپائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان وہیب سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The servant (who conceals) the faults of others in this world, Allah would conceal his faults on the Day of Resurrection.
جس آدمی سے بے ہودہ گفتگو کو خطرہ ہو اس سے نرم گفتگو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهُ فَلَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ أَوْ بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ أَوْ تَرَکَهُ النَّاسُ اتِّقَائَ فُحْشِهِ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر ابی ابی شیبہ عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن نمیر، ابن عیینہ زہیر سفیان، ابن عیینہ ابن منکدر عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے (ملنے کی) اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے اجازت دے دو یہ اپنے قبیلہ کا برا آدمی ہے تو جب وہ آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ نے اس آدمی سے نرمی کے ساتھ گفتگو کی سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس آدمی کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا جو فرمایا پھر آپ نے اس آدمی سے نرمی سے گفتگو کی آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک لوگوں سے سب سے برا آدمی وہ ہوگا کہ جس کی بیہودگی کی وجہ سے لوگ اس سے ملنا چھوڑ دیں۔
Aisha reported that a person sought permission from Allahs Apostle ﷺ to see him. He said: Grant him permission, and also added: He is a bad son of his tribe or he is a bad person of his tribe. When he came in he used kind words for him. Aisha reported that she said: Allahs Messenger, you said about him what you had to say and then you treated him with kindness. He said: Aisha, verily in the eye of Allah, worst amongst the person in rank on the Day of Resurrection is one whom the people abandon or desert out of the fear of indecency.
جس آدمی سے بے ہودہ گفتگو کو خطرہ ہو اس سے نرم گفتگو کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بِئْسَ أَخُو الْقَوْمِ وَابْنُ الْعَشِيرَةِ
محمد بن رافع عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، حضرت ابن المنکدر سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اس میں صرف لفظی فرق ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Ibn Munkadir with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید سفیان، بن منصور تمیم بن سلمہ عبدالرحمن بن ہلال حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی نرمی اختیار کرنے سے محروم رہا وہ آدمی بھلائی سے محروم رہا
Jarir reported from Allahs Messenger ﷺ : He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، ابوکریب ابومعاویہ ابوسعید اشج حفص ابن غیاث اعمش، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر اسحاق جریر، اعمش، تیمیم بن سلمہ عبدالرحمن بن ہلال عبسی، حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے ہیں کہ جو آدمی نرمی اختیار کرنے سے محروم رہا وہ آدمی بھلائی سے محروم رہا۔
Jarir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good.