نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَعِيلَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُرِمَ الرِّفْقَ حُرِمَ الْخَيْرَ أَوْ مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ
یحییٰ بن یحیی، عبدالوحد بن زیاد محمد بن ابی اسماعیل عبدالرحمن بن ہلال حضرت جریر عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی نرمی اختیار کرنے سے محروم رہا وہ آدمی بھلائی سے محروم رہا۔
Jarir bin Abdullah reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good and he who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ يَعْنِي بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ وَيُعْطِي عَلَی الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَی الْعُنْفِ وَمَا لَا يُعْطِي عَلَی مَا سِوَاهُ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی عبداللہ بن وہب، حیوہ، ابن ہاد بکر بن حزم بنت عبدالرحمن سیدہ عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! اللہ رفیق ہے اور رفق (یعنی نرمی) کو پسند کرتا ہے اور نرمی اختیار کرنے کی بناء پر وہ اس قدر عطا فرماتا ہے کہ جو سختی یا اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے اس قدر عطا نہیں فرماتا۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that Allahs Messenger ﷺ said: Aisha, verily Allah is kind and He loves kindness and confers upon kindness which he does not confer upon severity and does not confer upon anything else besides it (kindness).
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمِقْدَامِ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَکُونُ فِي شَيْئٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا شَانَهُ
عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، مقدام ابن شریخ بن ہانی سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز میں سے نرمی نکال دی جاتی ہے تو وہ چیز بد صورت ہوجاتی ہے۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Kindness is not to be found in anything but that it adds to its beauty and it is not withdrawn from anything but it makes it defective.
نرمی اختیار کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ رَکِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا فَکَانَتْ فِيهِ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْکِ بِالرِّفْقِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، مقدام بن شریح بن ہانی سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ایک سرکش اونٹ پر سوار ہوئیں اور اسے چکر دینے لگیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے ارشاد فرمایا نرمی اختیار کرو پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
This hadith has been reported by Miqdam bin Shuraih bin Hani with the same chain of transmitters but with this addition: "Aisha mounted upon a wild camel and she began to make that go round and round. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: You should show kindness, and then he made a mention of this hadith.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَامْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَی نَاقَةٍ فَضَجِرَتْ فَلَعَنَتْهَا فَسَمِعَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَدَعُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ قَالَ عِمْرَانُ فَکَأَنِّي أَرَاهَا الْآنَ تَمْشِي فِي النَّاسِ مَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ
ابوبکر بن ابی شبہ زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیراسماعیل بن ابراہیم، ایوب ابی قلابہ ابی مہلب حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر سوار تھی تو اچانک وہ اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اپنی اس اونٹنی پر لعنت کی رسول اللہ ﷺ نے اسے سن لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس اونٹنی پر جو سامان ہے اسے پکڑ لو اور اس اونٹنی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ملعونہ ہے حضرت عمران ؓ فرماتے ہیں گویا کہ میں اب بھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ اونٹنی لوگوں کے درمیان چل پھر رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا۔
Imran bin Husain reported: We were with Allahs Messenger ﷺ in some of his journeys and there was a woman from the Ansar riding a she-camel that it shied and she invoked curse upon that. Allahs Messenger ﷺ heard it and said: Unload that and set it free for it is accursed. Imran said: I still perceive that (dromedary) walking amongst people and none taking any notice of that.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادِ إِسْمَعِيلَ نَحْوَ حَدِيثِهِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ قَالَ عِمْرَانُ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَائَ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ فَقَالَ خُذُوا مَا عَلَيْهَا وَأَعْرُوهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ
قتیبہ بن سعید، ابوربیع حماد ابن زید ابن ابی عمر ثقفی ایوب اسماعیل حماد عمران اس روایت کی دو سندیں بیان کی گئی ہے ان میں سے ایک سند کے ساتھ حضرت عمران ؓ فرماتے ہیں کہ گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کی طرف دیکھ رہا ہوں اور دوسری سند کے ساتھ روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا اس اونٹنی پر جو سامان ہے اسے پکڑ لو اور اس کی پشت خالی کر کے چھوڑ دو کیونکہ یہ اونٹنی ملعونہ ہے۔
Imran reported: I perceive as if I am looking towards that dromedary, and in the hadith transmitted on the authority of Thaqafi (the words are): "Unload it and make its back bare for it is accursed."
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ بَيْنَمَا جَارِيَةٌ عَلَی نَاقَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ إِذْ بَصُرَتْ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَضَايَقَ بِهِمْ الْجَبَلُ فَقَالَتْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصَاحِبْنَا نَاقَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ
ابوکامل جحدری فضیل بن حسین یزید ابن زریع تیمی ابی عثمان حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ ایک باندی اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھی اس پر لوگوں کا کچھ سامان رکھا ہوا تھا کہ اچانک اس نے نبی ﷺ کو دیکھا حالانکہ ان کے درمیان پہاڑ کا تنگ درہ تھا تو وہ باندی کہنے لگی (اونٹنی کو) اے اللہ اس پر لعنت کر تو نبی ﷺ نے فرمایا ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ رہے کہ جس پر لعنت کی گئی ہے۔
Abu Burza al-Aslami reported that a slave-girl was riding a dromedary and there was also the luggage of people upon it that she suddenly saw Allahs Apostle ﷺ . The way of the mountain was narrow and she said (to that dromedary): Go ahead (but that dromedary did not move). She (that slave-girl), out of anger, said: O Allah, let that (dromedary) be damned. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Let the dromedary on which the curse has been invoked not proceed with us.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ح و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ لَا أَيْمُ اللَّهِ لَا تُصَاحِبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنْ اللَّهِ أَوْ کَمَا قَالَ
محمد بن عبدالاعلی معتمر بن سلیمن عبیداللہ بن سعید یحییٰ ابن سعید حضرت سلیمان تیمی سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ اللہ کی قسم ہمارے ساتھ وہ سواری نہ رہے کہ جس پر اللہ کی لعنت کی گئی ہو۔
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters but with a variation of words (and that is): "By Allah, let that accompany us not which has been damned, or he said like it."
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَکُونَ لَعَّانًا
ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، سلیمان ابن بلال علاء بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صدیق کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It does not seem proper for Siddiq that he should be an invoker of curse.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوکریب خالد بن مخلد محمد بن جعفر، حضرت علاء بن عبدالرحمن ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کیطرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Kuraib with the same chain of transmitters.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَی أُمِّ الدَّرْدَائِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ فَلَمَّا أَنْ کَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِکِ مِنْ اللَّيْلِ فَدَعَا خَادِمَهُ فَکَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَعَنَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَائِ سَمِعْتُکَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَکَ حِينَ دَعَوْتَهُ فَقَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَکُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَائَ وَلَا شُهَدَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سوید بن سعید حفص بن میسرہ حضرت زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت ام درداء کی طرف اپنی طرف سے کچھ آرائشی سامان بھیجا پھر جب ایک رات عبدالملک اٹھا اور اس نے اپنے خادم کو بلایا تو اس نے آنے میں دیر کردی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی پھر جب صبح ہوئی تو حضرت ام دردا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت ابوالدردا ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن شفاعت کرنے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی گواہی دینے والے ہوں گے۔
Zaid bin Aslam reported that Abdul Malik bin Marwan sent some domestic goods for decoration to Umm Darda on his own behalf, and when it was night Abdul Malik got up and called for the servant. It seemed as if he (the servant) was late (in responding to his call), so he (Abdul Malik) invoked curse upon him, and when it was morning Umm Darda said to him: I heard you cursing your servant during the night when you called him, and she said: I heard Abu Darda as saying that Allahs Messenger ﷺ said: The invoker of curse would neither be intercessor nor witness on the Day of Resurrection.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غسان مسمعی عاصم، بن نضر تیمی معتمر بن سلیمان اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، حضرت زید بن اسلم ؓ سے اس سند کے ساتھ حفص بن میسرہ کی روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَأَبِي حَازِمٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّعَّانِينَ لَا يَکُونُونَ شُهَدَائَ وَلَا شُفَعَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، معاویہ بن ہشام ہشام بن سعد زید بن اسلم ابی حازم ام دردا حضرت ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ بہت زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن گواہی دینے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی شفاعت کرنے والے ہوں گے۔
Umm Darda reported on the authority of Abu Darda as saying: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: The invoker of curse would neither be witness nor intercessor on the Day of Resurrection.
جانوروں وغیرہ پر لعنت کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ عَلَی الْمُشْرِکِينَ قَالَ إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً
محمد بن عباد ابن ابی عمر مروان یزید بن کیسان ابی حازم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول مشرکوں کے خلاف بد دعا فرمائیں آپ نے فرمایا مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported it was said to Allahs Messenger ﷺ : Invoke curse upon the polytheists, whereupon he said: I have not been sent as the invoker of curse, but "I have been sent as mercy."
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَکَلَّمَاهُ بِشَيْئٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنْ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ قَالَ وَمَا ذَاکِ قَالَتْ قُلْتُ لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا قَالَ أَوَ مَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَکَاةً وَأَجْرًا
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابی ضحی مسروق، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دو آدمی آئے اور انہوں نے آپ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں بات کی میں نہیں جانتا کہ وہ کیا بات تھی انہوں نے آپ ﷺ کو ناراض کردیا تو آپ ﷺ نے ان دونوں آدمیوں پر لعنت کی اور ان کو برا کہا تو جب وہ دونوں آدمی چلے گئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ان دونوں آدمیوں کو جو تکلیف پہنچی ہے وہ تکلیف اور کسی کو نہ پہنچی ہوگی آپ نے فرمایا وہ کس طرح حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا آپ ﷺ نے ان دونوں آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے اور انہیں برا کہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے پروردگار سے کیا شرط لگائی ہے میں نے کہا اے اللہ میں ایک انسان ہوں تو میں نے مسلمانوں میں سے جس پر لعنت کروں یا اسے برا کہوں تو تو اسے اس کے گناہوں کی پاکی اور اجر بنا دے۔
Aisha reported that two persons visited Allahs Messenger ﷺ and both of them talked about a thing, of which I am not aware, but that annoyed him and he invoked curse upon both of them and hurled malediction, and when they went out I said: Allahs Messenger, the good would reach everyone but it would not reach these two. He said: Why so? I said: Because you have invoked curse and hurled malediction upon both of them. He said: Dont you know that I have made condition with my Lord saying thus: O Allah, I am a human being and that for a Muslim upon whom I invoke curse or hurl malediction make it a source of purity and reward.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ و قَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَی فَخَلَوَا بِهِ فَسَبَّهُمَا وَلَعَنَهُمَا وَأَخْرَجَهُمَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ جعلی بن حجر سعدی علی بن حجر سعدی اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش ؓ اس سند کے ساتھ جریر کی حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں اور اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے خلوت میں ملاقات کی ان کو برا کہا اور ان پر لعنت کی اور انہیں نکال دیا۔
This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of Isa (the words are): "He had a private meeting with them and hurled malediction upon them and cursed them and sent them out."
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَکَاةً وَرَحْمَةً
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں تو ایک انسان ہوں اور مسلمانوں میں سے جس آدمی کو برا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو تو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور رحمت بنا دے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O Allah, I am a human being and for any person amongst Muslims upon whom I hurl malediction or invoke curse or give him whipping make it a source of purity and mercy.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ زَکَاةً وَأَجْرًا
ابن نمیر، ابی اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں پاکیزگی اور اجر کا ذکر ہے۔
Jabir reported Allahs Apostle ﷺ a hadith like it but with a slight variation of wording.
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيسَی جَعَلَ وَأَجْرًا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَجَعَلَ وَرَحْمَةً فِي حَدِيثِ جَابِرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش ؓ سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amash and in the hadith transmitted on the authority of Isa the words are: Make it a source of reward, and in the hadith transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) (the words are): "Make it a source of mercy."
نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ شَتَمْتُهُ لَعَنْتُهُ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَکَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے عہد کرتا ہوں اور تو ہرگز وعدے کے خلاف نہیں کرتا میں صرف ایک انسان ہوں جس مومن کو میں تکلیف دوں اس کو برا کہوں اس پر لعنت کروں یا اسے سزا دوں تو تو اسے اس کے لئے رحمت اور پاکیزگی اور ایسا باعث قرب بنا دے کہ وہ قیامت کے دن تیرے قریب ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: O Allah, I make a covenant with Thee against which Thou wouldst never go. I am a human being and thus for a Muslim whom I give any harm or whom I scold or upon whom I invoke curse or whom I beat, make this a source of blessing, purification and nearness to Thee on the Day of Resurrection.