Sahih Muslim 6570

صلہ رحمی کا بیان

6570Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مومن آدمی کو جب کبھی کوئی بیماری یا کوئی پریشانی وغیرہ پہنچتی ہے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ مَا لَکِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تُزَفْزِفِينَ قَالَتْ الْحُمَّی لَا بَارَکَ اللَّهُ فِيهَا فَقَالَ لَا تَسُبِّي الْحُمَّی فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ کَمَا يُذْهِبُ الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ

عبیداللہ بن عمر قواریری یزید بن زریع حجاج صواف ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ام سائب یا ام مسیب کے ہاں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سائب یا اے ام مسیب تجھے کیا ہوا تم کانپ رہی ہو اس نے عرض کیا بخار ہے اللہ اس میں برکت نہ کرے تو آپ ﷺ نے فرمایا بخار کو برا نہ کہو کیونکہ بخار بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح دور کرتا ہے کہ جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ visited Umm Saib or Umm Musayyib and said: Umm Saib or Umm Musayyib. why is it that you are shivering? She said:" It is fever and may it not be blessed by Allah, whereupon he (the Holy Prophet) said: Dont curse fever for it expiates the sir of the posterity of Adam علیہ السلامعلیہ السلامjust as furnace removes the alloy of iron.