فضائل قرآن کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 8 · 114 hadiths · Page 2 of 6

1857Sahih Muslim

قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا قَرَأَ رَجُلٌ الْکَهْفَ وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ قَالَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اقْرَأْ فُلَانُ فَإِنَّهَا السَّکِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ

ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سورت الکہف پڑھ رہا تھا اور اس کے گھر میں ایک جانور تھا اچانک وہ جانور بدکنے لگا اس نے دیکھا کہ ایک بادل نے اس ڈھانپا ہوا ہے اس آدمی نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن پڑھو کیونکہ یہ سکینہ ہے جو قرآن کی تلاوت کے وقت نازل ہوتی ہے۔

Ibn Ishaq reported: I heard al-Bara as saying that a man recited al-Kahf when an animal was there in the house and it began to take fright. And as he looked around, he found a cloud overshadowing it. He mentioned that to the Apostle of Allah ﷺ . Upon this he said: O so and so, recite on (the surah) as- Sakina descends at the (recitation of the Quran) or on account (of the recitation) of the Quran.

1858Sahih Muslim

قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا فَذَکَرَا نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا تَنْقُزُ

ابن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، ابوداد، شعبہ، ابواسحاق، براء اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی حضرت براء ؓ نے اسی طرح روایت کی۔

This hadith has been narrated on the authority of al-Bara with a slight modification of words.

1859Sahih Muslim

قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَی فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا قَالَ أُسَيْدٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَی فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّی مَا أَرَاهَا قَالَ فَغَدَوْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي إِذْ جَالَتْ فَرَسِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ يَحْيَی قَرِيبًا مِنْهَا خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّی مَا أَرَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْمَلَائِکَةُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ

حسن بن علی حلوانی، حجاج شاعر، یعقوب بن ابراہیم، یزید بن الہاد، عبداللہ بن خباب، ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر ؓ ایک رات اپنی کھجوروں کے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ انکا گھوڑا بدکنے لگا، آپ ؓ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا آپ نے پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، حضرت اسید کہتے ہیں کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ یحییٰ کو کچل نہ ڈالے میں اس کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان کی طرح میرے سر پر ہے وہ چراغوں سے روشن ہے وہ اوپر کی طرف چڑھنے لگا یہاں تک کہ میں اسے پھر نہ دیکھ سکا، صبح کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں رات کے وقت اپنے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو ابن حضیر کہتے ہیں کہ میں پڑھ کر فارغ ہوا تو یحییٰ اس کے قریب تھا مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ اسے کچل نہ دے اور میں نے ایک سائبان کی طرح دیکھا کہ اس میں چراغ سے روشن تھے اور اوپر کی طرف چڑھا یہاں تک کہ اسے میں نہ دیکھ سکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہارا قرآن سنتے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔

Abu Said al-Khudri told of Usaid bin Hudair saying that one night he recited the Quran in his enclosure, when the horse began to jump about. He again recited and (the horse) again jumped. He again recited and it jumped as before. Usaid said: I was afraid lest it should trample (his son) Yahya. I stood near it (the horse) and saw something like a canopy over my head with what seemed to be lamps in it, rising up in the sky till it disappeared. I went to the Messenger of Allah ﷺ on the next day and said: Messenger of Allah, I recited the Quran during the night in my enclosure and my horse began to jump. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: You should have kept on reciting, Ibn Hudair. He (Ibn Hudair) said: I recited. It jumped (as before). Upon this the Messenger of Allah ﷺ again said: You should have kept on reciting, Ibn Hudair. He (Ibn Hudair) said: I recited and it again jumped (as before). The Messenger of Allah ﷺ again said: You should kave kept on reciting, Ibu Hudair. He (Ibn Hudair) said: (Messenger of Allah) I finished (the recitation) for Yahya was near (the horse) and I was afraid lest it should trample him. I saw something like a canopy with what seemed to be lamps in it rising up in the sky till it disappeared. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Those were the angels who listened to you; and if you had continued reciting, the people would have seen them in the morning and they would not have concealed themselves from them.

1860Sahih Muslim

قرآن مجید حفظ کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ

قتیبہ بن سعید، ابوکامل جحدری، ابوعوانہ، قتادہ، انس، حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مومن کے قرآن مجید پڑھنے کی مثال ترنج کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو پاکیزہ اور ذائقہ خوشگوار ہے اور قرآن مجید نہ پڑھنے والے مومن کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہے اور منافق کے قرآن پڑھنے کی مثال ریحان کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور منافق کے قرآن نہ پڑھنے کی مثال حنظلہ کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔

Abu Musa al-Ashari reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A believer who recites the Quran is like an orange whose fragrance is sweet and whose taste is sweet; a believer who does not recite the Quran is like a date which has no fragrance but has a sweet taste; and the hypocrite who recites the Quran is like a basil whose fragrance is sweet, but whose taste is bitter; and a hypocrite who does not recite the Quran is like the colocynth which has no fragrance and has a bitter taste.

1861Sahih Muslim

قرآن مجید حفظ کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ بَدَلَ الْمُنَافِقِ الْفَاجِرِ

ہداب بن خالد، ہمام، ح، محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ ؓ سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں منافق کی جگہ فاجر کا لفظ ہے۔

This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters but with one alteration that instead of the word:" hypocrite" (Munafiq), there it is" wicked" (fajir).

1862Sahih Muslim

قرآن مجید کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْکِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ

قتیبہ بن سعید، محمد بن عبید غبری، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، سعد بن ہشام، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی قرآن مجید میں ماہر ہو وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو معزز اور بزرگی والے ہیں اور جو قرآن مجید اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے پڑھنے میں دشواری پیش آتی ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔

Aisha reported Allahs Messenger ﷺ (as saying): One who is proficient in the Quran is associated with the noble, upright, recording angels; and he who falters in it, and finds it difficult for him, will have a double reward.

1863Sahih Muslim

قرآن مجید کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ و قَالَ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام دستوائی، حضرت قتادہ ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been reported with the same chain of transmitters by Qatada except with this change:" He who finds it hard (to recite the Quran) will have a double reward."

1864Sahih Muslim

سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَکَ قَالَ اللَّهُ سَمَّاکَ لِي قَالَ فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْکِي

ہداب بن خالد، ہمام، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن مجید پڑھ کر سناؤں انہوں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرا نام لے کر مجھے فرمایا ہے راوی نے کہا کہ حضرت ابی ؓ یہ سن کر رونے لگ پڑے۔

Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying to Ubayy bin Kab: Allah has commanded me to recite the Quran to you. He said: Did Allah mention me to you by name? He (the Holy Prophet) said: Allah made a mention of your name to me. (On hearing this) Ubayy bin Kab wept.

1865Sahih Muslim

سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا قَالَ وَسَمَّانِي لَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبَکَی

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھے (لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا) پڑھ کر سناؤں حضرت ابی بن کعب ؓ نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں حضرت ابی ؓ یہ سن کر رو پڑے۔

Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying to Ubayy bin Kab: Aliah has commanded me to recite to you:" Those who disbelieve were not..." (al-Quran, xcviii. 1). He said: Did He mention me by name? He (the Holy Prophet ﷺ said): Yes. Upon this he shed tears (of gratitude).

1866Sahih Muslim

سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ بِمِثْلِهِ

یحییٰ بن حبیب حارثی، ابن الحارث، شعبہ، حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی ؓ سے فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Qatada said: I heard Anas saying that the Messenger of Allah ﷺ said to Ubayy the same thing.

1867Sahih Muslim

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ النِّسَائَ حَتَّی إِذَا بَلَغْتُ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَی جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ ﷺ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، حالانکہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے سورت النسا پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ جب میں اس (فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَاءِ شَهِيدًا) پر پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے آنسو جاری ہیں۔

Abdullah (b. Masud) reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon (him) asked me to recite the Quran. He said: Messenger of Allah, (how) should I recite to you whereas it has been sent down to you? He (the Holy Prophet) said: I desire to hear it from someone else. So I recited Surat al-Nisa till I reached the verse: How then shall it be when We shall bring from every people a witness and bring you against them as a witness?" (verse 41). I lifted my head or a person touched me in my side, and so I lifted my head and saw his tears falling (from the Holy Prophets eyes).

1868Sahih Muslim

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ اقْرَأْ عَلَيَّ

ہناد بن سری، منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، اعمش اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ جب آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تو اس وقت آپ ﷺ منبر پر تھے۔

This hadith has been narratted by Amash with the same chain of transmitters but with this addition:" The Messenger of Allah ﷺ was on the pulpit when he asked me to recite to him."

1869Sahih Muslim

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ وَقَالَ أَبُو کُرَيْبٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ اقْرَأْ عَلَيَّ قَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَائِ إِلَی قَوْلِهِ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا فَبَکَی قَالَ مِسْعَرٌ فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ أَوْ مَا کُنْتُ فِيهِمْ شَکَّ مِسْعَرٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، مسعر، عمرو بن مرہ، حضرت ابراہیم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ! میں نے عرض کیا کہ میں آپ ﷺ کو قرآن پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے آپ ﷺ کو سورت النساء کے شروع سے سنانا شروع کیا جب میں اس آیت پر پہنچا (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰ ؤُلَا ءِ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء: 41) تو آپ ﷺ رو پڑے، مسعر کہتے ہیں کہ مجھے سے معن، جعفر بن عمرو بن حریث نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ) 5۔ المائدہ: 117) کہ میں امت کے حال سے اس وقت تک واقف تھا جب تک کہ میں ان میں تھا مسعر کو شک ہے کہ دُمْتُ فرمایا یا کُنتُ فرمایا۔

Ibrahim reported that the Apostle of Allah ﷺ asked Abdullah bin Masud to recite to him (the Quran). He said: Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he (Abdullah bin Masud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Masud through another chain of transmitters that the Apostle of Allah ﷺ also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I lived among them or I had been among them.

1870Sahih Muslim

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ بِحِمْصَ فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ اقْرَأْ عَلَيْنَا فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَاللَّهِ مَا هَکَذَا أُنْزِلَتْ قَالَ قُلْتُ وَيْحَکَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَحْسَنْتَ فَبَيْنَمَا أَنَا أُکَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ قَالَ فَقُلْتُ أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُکَذِّبُ بِالْکِتَابِ لَا تَبْرَحُ حَتَّی أَجْلِدَکَ قَالَ فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سنائیں میں نے انہیں سورت یوسف پڑھ کر سنائی، ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ سورت اسی طرح سنائی تھا اس آدمی نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں اس سے بات کر رہا تھا تو میں نے اس کے منہ سے شراب کی بدبو محسوس کی، میں نے کہا تو تو شراب پیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے میں تجھے یہاں سے نہیں جانے دوں گا یہاں تک کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ پھر میں نے (اسے شراب کی حد میں) کوڑے لگائے۔

Abdullah (b. Masud) reported: I was in Homs when some of the people asked me to recite the Quran to them. So I recited Surah Yusuf to them. One of the persons among the people said: By Allah, this is not how it has been sent down. I said: Woe upon you! By Allah, I recited it to the Messenger of Allah ﷺ and he said to me: You have (recited) it well. I was talking with him (the man who objected to my recitation) that I sensed the smell of wine from him. So I said to him. Do you drink wine and belie the Book (of Allah)? You would not depart till I would whip you. So I lashed him according to the prescribed punishment (for the offence of drinking wine).

1871Sahih Muslim

حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لِي أَحْسَنْتَ

اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Amash with the same chain of transmitters but with an exception that it is not mentioned in it:" He said to me: You recited (the Quran) well."

1872Sahih Muslim

نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائے تو وہاں تین حاملہ اونٹنیاں موجود ہوں اور وہ بہت بڑی اور موٹی ہوں ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو کوئی اپنی نماز میں تین آیات پڑھتا ہے وہ تین بڑی بڑی موٹی اونٹنیوں سے اس کے لئے بہتر ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Would any one of you like, when he returns to his family, to find there three large, fat, pregnant she-camels? We said: Yes. Upon this he said: Three verses that one of you recites in his prayer are better for him than three large, fat, pregnant she-camels.

1873Sahih Muslim

نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ أَيُّکُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ کُلَّ يَوْمٍ إِلَی بُطْحَانَ أَوْ إِلَی الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ کَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُحِبُّ ذَلِکَ قَالَ أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنْ الْإِبِلِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، فضل بن دکین، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اس حال میں تشریف لائے کہ ہم صفہ میں تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ روزانہ صبح بطحان کی طرف یا عقیق کی طرف جائے اور وہ وہاں سے بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے آئے؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی صبح مسجد کی طرف نہیں جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں خود سیکھے یا سکھائے یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین تین سے بہتر ہے اور چار چار سے بہتر ہے اس طرح آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔

Uqba bin Amir reported: When we were in Suffa, the Messenger of Allah ﷺ came out and said: Which of you would like to go out every morning to Buthan or al-Aqiq and bring two large she-camels without being guilty of sin or without severing the ties of kinship? We said: Messenger of Allah, we would like to do it. Upon this he said: Does not one of you go out in the morning to the mosque and teach or recite two verses from the Book of Allah. the Majestic and Glorious? That is better for him than two she-camels, and three verses are better (than three she-camels). and four verses are better for him than four (she-camels), and to on their number in camels.

1874Sahih Muslim

قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اقْرَئُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ کَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ کَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَئُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَکَةٌ وَتَرْکَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ قَالَ مُعَاوِيَةُ بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ

حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ (ربیع بن نافع)، ابن سلام، زید، حضرت ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو سورت البقرہ اور سورت آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی، سورت البقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور جادوگر اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

Abu Umama said he heard Allahs Messenger ﷺ say: Recite the Quran, for on the Day of Resurrection it will come as an intercessor for those who recite It. Recite the two bright ones, al-Baqarah and Surah Al Imran, for on the Day of Resurrection they will come as two clouds or two shades, or two flocks of birds in ranks, pleading for those who recite them. Recite Surah al-Baqarah, for to take recourse to it is a blessing and to give it up is a cause of grief, and the magicians cannot confront it. (Muawiyah said: It has been conveyed to me that here Batala means magicians.)

1875Sahih Muslim

قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَکَأَنَّهُمَا فِي کِلَيْهِمَا وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ بَلَغَنِي

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Muawiyah with the same chain of transmitters but with this exception that in this the words of Muawiyah:" It has been conveyed to me..." have not been mentioned.

1876Sahih Muslim

قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَی بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ کَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ کَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا

اسحاق بن منصور، یزید بن عبدربہ، ولید بن مسلم، محمد بن مہاجر، ولید بن عبدالرحمن جرشی، جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نو اس ؓ بن سمعان کلابی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن قرآن مجید اور ان لوگوں کو جو اس پر عمل کرنے والے تھے لایا جائے گا ان کے آگے سورت البقرہ اور سورت آل عمران ہوں گی رسول اللہ ﷺ نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں ارشاد فرمائی ہیں جنہیں میں اب تک نہیں بھولا وہ اس طرح سے ہیں جس طرح کہ دو بادل ہوں یا دو سیاہ سائبان ہوں اور ان دونوں کے درمیان روشنی ہو یا صف بندھی ہوئی پرندوں کی دو قطاریں ہوں وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔

An-Nawwas bin Saman said he heard the Apostle ﷺ say: On the Day of Resurrection the Quran and those who acted according to it will be brought with Surah al-Baqarah and AI Imran preceding them. The Messenger of Allah ﷺ likened them to three things, which I did not forget afterwards. He (the Holy Prophet) likened them to two clouds, or two black canopies with light between them, or like two flocks of birds in ranks pleading for one who recited them.