فضائل قرآن کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 8 · 114 hadiths · Page 3 of 6

1877Sahih Muslim

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنْفِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ هَذَا بَابٌ مِنْ السَّمَائِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَکٌ فَقَالَ هَذَا مَلَکٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَکَ فَاتِحَةُ الْکِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ

حسن بن ربیع، احمد بن جو اس حنفی، ابوالاحوص، عمار بن رزیق، عبداللہ بن عیسی، سعد بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک اوپر سے ایک آواز سنی تو آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ دروازہ آسمان کا ہے جسے صرف آج کے دن کھولا گیا اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا پھر اس سے ایک فرشتہ اترا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ فرشتہ جو زمین کی طرف اترا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا اس فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ آپ ﷺ کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ ﷺ کو دیئے گئے جو کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے ایک سورت الفاتحہ اور دوسری سورت البقرہ کی آخری آیات آپ ﷺ ان میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے آپ ﷺ کو اس کے مطابق دیا جائے گا۔

Ibn Abbas reported that while Gabriel (علیہ السلام) was sitting with the Apostle ﷺ he heard a creaking sound above him. He lifted his head and said: This As a gate opened in heaven today which had never been opened before. Then when an angel descended through it, he said: This is an angel who came down to the earth who had-never come down before. He greeted and said: Rejoice in two lights given to you which have not been given to any prophet before you: Fatihat al-Kitab and the concluding verses of Surah al-Baqarah. You will never recite a letter from them for which you will not be given (a reward).

1878Sahih Muslim

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکَ فِي الْآيَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ کَفَتَاهُ

احمد بن یونس، زہیر، منصور، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابومسعود ؓ سے بیت اللہ کے پاس ملا تو میں نے کہا کہ سورت البقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں آپ ﷺ کی حدیث مجھ تک پہنچی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں رسول اللہ ﷺ نے سورت البقرہ کی آخری دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ جو اسے رات کو پڑھے گا وہ اسے کافی ہوں گی۔

Abdul Rahman bin Yazid reported: I met Abu Masud near the House (Ka’bah) and said to him: A hadith has been conveyed to me on your authority about the two (concluding verses of Surah al-Baqarah. He said: Yes. The Messenger of Allah ﷺ (in fact) said: Anyone who recites the two verses at the end of Surah al-Baqarah at night, they would suffice for him.

1879Sahih Muslim

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، ح، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters.

1880Sahih Muslim

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ کَفَتَاهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، علقمہ بن قیس، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی سورت البقرہ کی آخری دو آیتیں رات کے وقت پڑھے گا وہ اسے کافی ہوجائیں گی راوی عبدالرحمن نے کہا میں حضرت ابومسعود ؓ سے بیت اللہ کے طواف کے دوران ملا میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کر کے یہی حدیث بیان کی۔

Abu Masud reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If anyone recites the two verses at the end of Surah al-Baqarah at night, they would suffice for him Abdul Rahman said: I met Abu Masud and he was circumambulating the House (of Allah) and asked him about this (tradition) and he narrated it to me from the Apostle of Allah ﷺ .

1881Sahih Muslim

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

علی بن خشرم، ابن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبدالرحمن بن یزید، ابومسعود ؓ نے نبی ﷺ سے یہی روایت نقل کی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Abu Masud from the Apostle of Allah ﷺ through another chain of transmitters.

1882Sahih Muslim

سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، ابومسعود ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

It is through another chain of transmitters that this hadith has been reported by Abu Masud from the Apostle of Allah ﷺ .

1883Sahih Muslim

سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْکَهْف عُصِمَ مِنْ الدَّجَّالِ

محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، ابوقتادہ، سالم، ابی الجعد غطفانی، معدان، ابوطلحہ یعمری، ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو آدمی سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔

Abu Darda reported Allahs Apostle ﷺ as saying: If anyone learns by heart the first ten verses of the Surah al-Kahf, he will be protected from the Dajjal.

1884Sahih Muslim

سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ آخِرِ الْکَهْفِ و قَالَ هَمَّامٌ مِنْ أَوَّلِ الْکَهْف کَمَا قَالَ هِشَامٌ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، ح، زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، ہمام، قتادہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے لیکن اس میں شعبہ کی روایت میں سورت کہف کی آخری آیات اور ہمام کی روایت میں سورت کہف کی ابتدائی آیات کا ذکر ہے۔

This hadith has been transmitted by Qatada with the same chain of transmitters. But Shubah (one of the narrators) said: At the end of Surah al-Kahf, but Hammam said: At the beginning of Surah al-Kahf.

1885Sahih Muslim

سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ مَعَکَ أَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ مَعَکَ أَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ وَاللَّهِ لِيَهْنِکَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی بن عبدالاعلی، جریری، ابوالسلیل، عبداللہ بن رباح انصاری، ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوالمنذر کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ کی کتاب میں سے سب سے بڑی آیت کونسی ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے میں نے کہا ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) آخر تک آپ ﷺ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا اے ابوالمنذر یہ علم تجھے مبارک ہو۔

Ubayy bin Kab said: Allahs Messenger ﷺ said: O Abu al-Mundhir, do you know the verse from the Book of Allah which, according to you, is the greatest? I said: Allah and His Apostle ﷺ know best. He again said: Abul-Mundhir, do you know the verse from the Book of Allah which, according to you, is the greatest? I said: Allah, there is no god but He, the Living, the Eternal. Thereupon he struck me on my breast and said: May knowledge be pleasant for you, O Abul-Mundhir!

1886Sahih Muslim

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالُوا وَکَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ

زہیر بن حرب، محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، قتادہ، سالم بن ابی الجعد، معدان بن ابی طلحہ، حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی رات میں تہائی قرآن مجید پڑھ سکتا ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ وہ کیسے پڑھا جاسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورت ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔

Abu Darda reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Is any one of you incapable of reciting a third of the Quran in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Quran (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said:" He is Allah, One" (QurAn. cxii.) is equivalent to a third of the Quran.

1887Sahih Muslim

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَائٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْئًا مِنْ أَجْزَائِ الْقُرْآنِ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، سعید بن ابی عروبہ، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان عطار، حضرت قتادہ سے اس سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین حصے فرمائے ہیں اور قرآن کے ان تین حصوں میں سے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) کو ایک حصہ مقرر فرمایا ہے۔

This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters in these words: He (the Apostle of Allah ﷺ ) said: Allah divided the Quran into three parts, and he made:" Say: He, Allah is One." one part out of the (three) parts of the Quran.

1888Sahih Muslim

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِنِّي أُرَی هَذَا خَبَرٌ جَائَهُ مِنْ السَّمَائِ فَذَاکَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي قُلْتُ لَکُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ

محمد بن حاتم، یعقوب بن ابراہیم، یحیی، ابن حاتم، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سب اکٹھے ہوجاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھوں پھر جنہوں نے اکٹھا ہونا تھا وہ اکٹھے ہوگئے پھر نبی ﷺ نکلے اور آپ ﷺ نے سورت قل ہو اللہ احد پڑھی پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے ہم آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کی وجہ سے آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے ہیں پھر نبی ﷺ باہر تشریف لائے تو فرمایا میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں سنو آگاہ رہو یہ سورت ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) تہائی قرآن کے برابر ہے۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Get together. for I am going to recite one-third of the Quran before you. And those who could get together gathered there. Then the Apostle of Allah ﷺ came out and recited:" Say: He, Allah, is One." He then entered (his house). Some of us said to the others: Perhaps there has been some news from the heaven on account of which he has gone Inside (the house). The Apostle of Allah ﷺ again came out and said: I told you that I was going to recite one-third of the Quran; keep in mind, this (Surah Ikhlas) is equivalent to one-third of the Quran.

1889Sahih Muslim

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَعِيلَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ حَتَّی خَتَمَهَا

واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، بشیر ابواسماعیل، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا کہ میں تمہارے اوپر تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں پھر آپ ﷺ نے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) اس کے ختم تک پڑھی۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ came out to us and said: I am going to recite before you one-third of the Quran. He (the Holy Prophet) then recited:" Say: He is Allah, One--Allah, the Eternal," to the end of the Surah.

1890Sahih Muslim

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَی سَرِيَّةٍ وَکَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْئٍ يَصْنَعُ ذَلِکَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ

احمد بن عبدالرحمن بن وہب، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، ابوالرجال محمد بن عبدالرحمن، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ایک سریہ میں امیر بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں قرأت ختم کر کے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) بھی پڑھتے تھے جب وہ لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ اس طرح کیوں کرتا تھا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ وہ اسطرح کیوں کرتا تھا تو اس نے کہا اس سورت میں رحمن (اللہ جل جلالہ) کی صفات بیان کی گئی ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میں اسے پڑھوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس آدمی سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔

Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ sent a man in charge of an expedition and he would recite for his Companions during their prayer, ending (recitation) with:" Say, He is God, One." When they returned mention was made of it to the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) told them to ask him why he had done like that. So they asked him and he said: Verily, it is an attribute of the Compassionate One, and (for this reason) I love to recite it. The Messenger of Allah ﷺ thereupon said: Inform him that Allah loves him.

1891Sahih Muslim

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتْ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ

قتیبہ بن سعید، جریر، بیان، قیس بن ابی حازم، عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ رات ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ )۔

Uqba bin Amir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: What wonderful verses have been sent down today. the like of which has never been seen! They are:" Say: I seek refuge with the Lord of the dawn," and" Say: I seek refuge with the Lord of men."

1892Sahih Muslim

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ أَوْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل، قیس، حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھ پر (ایسی آیات) نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ )

Uqba bin Amir reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: There have been sent down to me verses the like of which had never been seen before. They are the Muawwadhatain.

1893Sahih Muslim

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ وَکَانَ مِنْ رُفَعَائِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن رافع، ابواسامہ، اسماعیل سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters directly from the Companions of Muhammad ﷺ .

1894Sahih Muslim

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت سالم ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید عطا فرمایا ہو اور وہ رات دن اس پر عمل کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہو اور وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ رات اور دن اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہو۔

Salim narrated on the authority of his father (Ibn Umar) that the Apostle of Allah ﷺ said: Envy is not justified but in case of two persons only: one who, having been given (knowledge of) the Quran by Allah, recites it during the night and day (and also acts upon it) and a man who, having been given wealth by God, spends it during the night and the day (for the welfare of others. seeking the pleasure of the Lord).

1895Sahih Muslim

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَی اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ هَذَا الْکِتَابَ فَقَامَ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم بن ابن عمر ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ کہ جسے اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت کے ساتھ اس پر عمل بھی کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اس مال سے رات دن صدقہ کرتا رہتا ہو۔

Salim son of Abdullah bin Umar is reported to have said on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ observed: Envy is not justified but in case of two persons only: one who, having been given (knowledge of) the Quran by Allah, recites it during the night and during the day (and acts upon it), and the person who, having been given wealth by God, gives it in charity during the night and the day.

1896Sahih Muslim

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَی هَلَکَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِکْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل، قیس، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے دانائی عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور اسے لوگوں کو سکھاتا ہو۔

Abdullah bin Masud reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There should be no envy but only in case of two persons: one having been endowed with wealth and power to spend it in the cause of Truth, and (the other) who has been endowed with wisdom and he decides cases with the help of it and teaches it (to others).