اس بات کے بیان میں کہ جنت میں سب سے پہلا جو گروہ داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَی أَشَدِّ نَجْمٍ فِي السَّمَائِ إِضَائَةً ثُمَّ هُمْ بَعْدَ ذَلِکَ مَنَازِلُ لَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ أَمْشَاطُهُمْ الذَّهَبُ وَمَجَامِرُهُمْ الْأَلُوَّةُ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْکُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَی خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَی طُولِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَی خُلُقِ رَجُلٍ و قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ عَلَی خَلْقِ رَجُلٍ و قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ عَلَی صُورَةِ أَبِيهِمْ
ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی پھر جو گروہ ان کے بعد جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں انتہائی چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح ہوں گی پھر ان کے بعد درجہ بدرجہ مراتب ہوں گے وہ نہ پاخانہ کریں گے اور نہ پیشاب کریں گے اور نہ ناک صاف کریں گے اور نہ تھوکیں گے اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کی انگیٹیھوں میں عود سلگ رہا ہوگا اور ان کا پسینہ مشک ہوگا ان سب کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے وہ اپنے قد میں اپنے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ساٹھ ہاتھ لمبے ہوں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The first group of my Ummah to get into Paradise would be like a full moon in the night. Then those who would be next to them; they would be like the most significantly glittering stars in regard to brightness, then after them (others) in ranks. They would neither void excrement, nor pass water, nor suffer from catarrh, nor would they spit. And their combs would be made of gold, and the fuel of their braziers would be aloes and their sweat would be musk and their form would be the form of one single person according to the length of their father sixty cubits tall.This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Shaiba with a slight variation of wording.
جنت والوں کی صفات کے بیان میں اور یہ کہ وہ صبح و شام اپنے رب عزوجل کی پاکی بیان کریں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَلِجُ الْجَنَّةَ صُوَرُهُمْ عَلَی صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَا يَبْصُقُونَ فِيهَا وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ فِيهَا آنِيَتُهُمْ وَأَمْشَاطُهُمْ مِنْ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَجَامِرُهُمْ مِنْ الْأَلُوَّةِ وَرَشْحُهُمْ الْمِسْکُ وَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ يُرَی مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَائِ اللَّحْمِ مِنْ الْحُسْنِ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ قُلُوبُهُمْ قَلْبٌ وَاحِدٌ يُسَبِّحُونَ اللَّهَ بُکْرَةً وَعَشِيًّا
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ان کی صورتیں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گی وہ جنت میں نہ تھوکیں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے اور نہ ہی پاخانہ کریں گے ان کے برتن اور ان کی ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی اور ان کی انگیٹھیوں میں عود سلگ رہی ہوگی اور ان کا پسینہ مشک کی طرح ہوگا اور ان جنیتوں میں سے ہر ایک کے لئے دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز خوبصورتی کی وجہ سے گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا نہ ہی جنت والے آپس میں اختلاف کریں گے اور نہ ہی آپس میں بغض رکھیں گے ان کے دل ایک دل کی طرح ہوں گے صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کریں گے۔
Hammam bin Munabbih reported: These are some of the ahidith which Abu Hurairah (RA) reported from Allahs Messenger ﷺ and one is this that he is reported to have said: The (members of the) first group that would be admitted to Paradise would have their faces as bright as full moon during the night. They would neither spit nor suffer catarrh, nor void excrement. They would have their utensils and their combs made of gold and silver and the fuel of their braziers would be aloes and their sweat would be musk and every one of them would have two spouses (so beautiful) that the marrow of their shanks would be visible through the flesh. There would be no dissension amongst them and no enmity in their hearts. Their hearts would be like one heart, glorifying Allah morning and evening.
جنت والوں کی صفات کے بیان میں اور یہ کہ وہ صبح و شام اپنے رب عزوجل کی پاکی بیان کریں گے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْکُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ قَالُوا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ قَالَ جُشَائٌ وَرَشْحٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ کَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ
عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، عثمان عثمان اسحاق جریر، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت والے جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے اور تھوکیں گے نہیں اور نہ ہی پیشاب کریں گے اور نہ ہی پاخانہ کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے صحابہ کرام نے عرض کیا تو پھر کھانا کدھر جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا ڈکار اور پسینہ آئے گا اور پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا اور ان کو تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللَّهِ اور تحمید یعنی اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کا الہام ہوگا جس طرح کہ انہیں سانس کا الہام ہوتا ہے۔
Jabir reported: I heard Allahs Apostle ﷺ as saying that the inmates of Paradise would eat and drink but would neither spit, nor pass water, nor void excrement, nor suffer catarrah. It was said: Then, what would happen with food? Thereupon he said: They would belch and sweat (and it would be over with their food), and their sweat would be that of musk and they would glorify and praise Allah as easily as you breathe.
جنت والوں کی صفات کے بیان میں اور یہ کہ وہ صبح و شام اپنے رب عزوجل کی پاکی بیان کریں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ کَرَشْحِ الْمِسْکِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ کَرَشْحِ الْمِسْکِ یعنی جنت والوں کا پسنیہ مشک کی طرح خوشبو دار ہوگا تک روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Amash with a slight variation of wording.
جنت والوں کی صفات کے بیان میں اور یہ کہ وہ صبح و شام اپنے رب عزوجل کی پاکی بیان کریں گے۔
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْکُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَکِنْ طَعَامُهُمْ ذَاکَ جُشَائٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ کَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ قَالَ وَفِي حَدِيثِ حَجَّاجٍ طَعَامُهُمْ ذَلِکَ
حسن بن علی حلوانی حجاج بن شاعر، ابوعاصم، حسن ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت والے جنت میں کھائیں گے اور پئیں گے لیکن وہ اس میں پاخانہ نہیں کریں گے لیکن ان کا کھانا ایک ڈکار کی صورت میں تحلیل ہوجائے گا جس سے مشک کی طرح خوشبو آئے گی اور ان کو تسبیح وتحمید اس طرح سکھائی جائے گی جس طرح تمہیں سانس لینا سکھایا گیا ہے اور حجاج کی حدیث میں طَعَامُهُمْ ذَلِکَ یعنی ان کا کھانا کے الفاظ ہیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said that the inmates of Paradise would eat therein and they would also drink, but they would neither void excrement, nor suffer catarrh, nor pass water, and their eating (would be digested) in the form of belching and their sweat would be musk aged they would glorify and praise Allah as easily ai you breathe.
جنت والوں کی صفات کے بیان میں اور یہ کہ وہ صبح و شام اپنے رب عزوجل کی پاکی بیان کریں گے۔
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَيُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّکْبِيرَ کَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ
سعید بن یحییٰ اموی ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے کہا اور ان کو تسبح و تکبیر سکھائی جائے گی جسطرح کہ تمہیں سانس لینا سکھایا جاتا ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Jabir with a slight variation of wording.
اس بات کے بیان میں کہ جنت والے ہمیشہ کی نعمتوں میں رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے تم اپنے (نیک) اعمال کے بدلہ میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ لَا تَبْلَی ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَی شَبَابُهُ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، حماد بن سلمہ ثابت ابی رافع حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی جنت میں داخل ہوجائے گا وہ نعمتوں میں ہوجائے گا اسے کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کے کپڑے پرانے ہوں گے اور نہ ہی اس کی جوانی ختم ہوگی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who would get into Paradise (would be made to enjoy such an everlasting) bliss that he would neither become destitute, nor would his clothes wear out, nor his youth would decline.
اس بات کے بیان میں کہ جنت والے ہمیشہ کی نعمتوں میں رہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اور آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے تم اپنے (نیک) اعمال کے بدلہ میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ قَالَ الثَّوْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ أَنَّ الْأَغَرَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُنَادِي مُنَادٍ إِنَّ لَکُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلَا تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا فَذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْکُمْ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید اسحاق عبدالرزاق، ابواسحاق، حضرت ابوسعید ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آواز دینے والا آواز دے گا (اے جنت والو) تمہارے لئے (یہ بات مقرر ہوچکی ہے کہ) تم صحت مند رہو گے اور کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تم زندہ رہو گے تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور تم جوان رہوگے تم کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے اور تم آرام میں رہو گے تمہیں کبھی تکلیف نہیں آئے گی تو اللہ عزوجل کا یہی فرمان ہے کہ آواز آئے گی کہ یہ جنت ہے تم اپنے اعمال کے بدلہ میں اس جنت کے وارث ہوئے۔
Abu Said al-Khudri and Abu Hurairah (RA) both reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There would be an announcer (in Paradise) who would make this announcement: Verily I there is in store for you (everlasting) health and that you should never fall ill and that you live (for ever) and do not die at all. And that you would remain young and never grow old. And that you would always live in affluent circumstances and never become destitute, as words of Allah, the Exalted and Glorious, are:" And it would be announced to them: This is the Paradise. You have been made to inherit it for what you used to do". (VII; 43)
جنت کے خیموں اور جو مومنیں اور ان کے متعلقین اس میں رہیں گے ان کی شان کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي قُدَامَةَ وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ مُجَوَّفَةٍ طُولُهَا سِتُّونَ مِيلًا لِلْمُؤْمِنِ فِيهَا أَهْلُونَ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ الْمُؤْمِنُ فَلَا يَرَی بَعْضُهُمْ بَعْضًا
سعید بن منصور، ابی قدامہ حارث بن عبید ابی عمران جونی حضرت ابوبکر بن عبداللہ بن قیس ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مومن آدمی کے لئے جنت میں ایک کھوکھلے موتیوں کا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی مومن اور ان کے متعلقین اس میں رہیں گے مومن اس کے اردگرد چکر لگائیں گے اور کوئی ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکے گا۔
Abu Bakr (RA) bin Abdullah bin Qais (RA) reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said that in Paradise there would be for a believer a tent of a single hollowed pearl the breadth of which would be sixty miles. It would be meant for a believer and the believers would go around it and none would be able to see the others.
جنت کے خیموں اور جو مومنیں اور ان کے متعلقین اس میں رہیں گے ان کی شان کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةٌ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا فِي کُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ الْمُؤْمِنُ
ابوغسان مسمعی ابوعبدالصمد ابوعمران جونی حضرت ابوبکر ؓ بن عبداللہ بن قیس ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کے لئے جنت میں ایک کھوکھلے موتیوں کا خیمہ ہوگا جس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی اس خیمے کے ہر کونے میں لوگ ہوں گے جو دوسرے کونے والے لوگوں کو نہیں دیکھ رہے ہوں گے مومن ان کے ارد گرد چکر لگائے گا۔
Abu Bakr (RA) bin Abdullah bin Qais (RA) reported on the authority of his father that Allahs Messenger ﷺ said that in Paradise there would be a tent made of a single hollowed pearl, the breadth of which would be sixty miles from all sides and there would live a family in each corner and the other would not be able to see the believer who goes around them.
جنت کے خیموں اور جو مومنیں اور ان کے متعلقین اس میں رہیں گے ان کی شان کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مُوسَی بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْمَةُ دُرَّةٌ طُولُهَا فِي السَّمَائِ سِتُّونَ مِيلًا فِي کُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ لِلْمُؤْمِنِ لَا يَرَاهُمْ الْآخَرُونَ
ابوبکر بن ابی شبیہ یزید بن ہارون، ہمام ابوعمران جونی حضرت ابوبکر بن ابی موسیٰ بن قیس اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا خیمہ ایک موتی کا ہوگا جس کی لمبائی بلندی میں ساٹھ میل ہوگی اور اس کے ہر کونے میں مومن کی بیویاں ہوں گی جنہیں دوسرے لوگ نہیں دیکھ سکیں گے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr (RA) bin Abu Musa bin Qais who, on the authority of his father, reported the Apostle ﷺ to have said that there would be a tent made of a pearl whose height towards the sky would be sixty miles. In each corner, there would be a fanaily of the believer, out of sight for the others.
دنیا میں جو جنت کی نہریں ہیں کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَعَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْحَانُ وَجَيْحَانُ وَالْفُرَاتُ وَالنِّيلُ کُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عبداللہ بن نمیر علی بن مسہر، عبیداللہ بن عمر محمد بن عبداللہ بن نمیر محمد بن بشر عبیداللہ خبیب بن عبدالرحمن حفص بن عاصم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سیحان اور جیحان اور فرات اور نیل یہ سب جنت کی نہروں میں سے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Saihan, Jaihan, Euphrates and Nile are all among the rivers of Paradise.
جنت میں کچھ ایسی قوموں کے داخل ہونے کے بیان میں کہ جن کے دل پرندوں کی طرح ہوں گے
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ
حجاج بن شاعر، ابونضر ہاشم بن قاسم لیثی، ابراہیم، ابن سعد ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں کچھ ایسی قومیں داخل ہوں گی کہ جن کے دل (نرم مزاجی اور توکل علی اللہ میں) پرندوں کی طرح ہوں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There would enter Paradise people whose hearts would be like those of the hearts of birds.
جنت میں کچھ ایسی قوموں کے داخل ہونے کے بیان میں کہ جن کے دل پرندوں کی طرح ہوں گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَی صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَی أُولَئِکَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنْ الْمَلَائِکَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَکَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُکَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِکَ قَالَ فَذَهَبَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَکُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَی صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلْ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهُ حَتَّی الْآنَ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل نے حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا تھا پھر جب اللہ عزوجل حضرت آدم کو پیدا فرما چکا تو فرمایا جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور وہاں بہت سے فرشتے بیٹھے ہیں پھر تم سننا کہ وہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہ فرشتے تمہیں جو جواب دیں گے وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا آپ نے فرمایا حضرت آدم گئے اور فرمایا السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فرشتوں نے جواب میں کہا السَّلَامُ عَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ آپ نے فرمایا فرشتوں نے جواب میں وَرَحْمَةُ اللَّهِ کا اضافہ کردیا تو ہر آدمی کہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ حضرت آدم کی صورت پر ہوگا اور اس کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا پھر حضرت آدم کے بعد جتنے لوگ بھی پیدا ہوئے ان کے قد چھوٹے ہوتے رہے یہاں تک کہ یہ زمانہ آگیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Exalted and Glorious, created Adam علیہ السلامin His own image with His length of sixty cubits, and as He created him He told him to greet that group, and that was a party of angels sitting there, and listen to the response that they give him, for it would form his greeting and that of his offspring. He then went away and said: Peace be upon you! They (the angels) said: May there be peace upon you and the Mercy of Allah, and they made an addition of" Mercy of Allah". So he who would get into Paradise would get in the form of Adarn, his length being sixty cubits, then the people who followed him continued to diminish in size up to this day.
جہنم کے بیان میں اللہ عزوجل ہمیں اس سے پناہ نصیب فرمائے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْعَلَائِ بْنِ خَالِدٍ الْکَاهِلِيِّ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَی بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ يَجُرُّونَهَا
عمر بن حفص ابن غیاث ابی علاء، بن خالد کاہلی شقیق حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جہنم کو لایا جائے گا اس دن جہنم کی ستر ہزار لگا میں ہوں گی اور ہر ایک لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوئے کھینچ رہے ہوں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Hell would he brought on that day (the Day of Judgment) with seventy bridles and every bridle would be controlled by seventy angels.
جہنم کے بیان میں اللہ عزوجل ہمیں اس سے پناہ نصیب فرمائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَارُکُمْ هَذِهِ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْئٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْئًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ قَالُوا وَاللَّهِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْئًا کُلُّهَا مِثْلُ حَرِّهَا
قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری یہ آگ جس کو ابن آدم جلاتا ہے جہنم کی گرمی کے ستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا یہی (دنیا کی آگ) کافی نہیں تھی آپ ﷺ نے فرمایا اس سے انہتر حصے گرمی کے جہنم میں گرمی زیادہ ہے ہر حصے میں اتنی ہی گرمی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as seying: The fire which sons of Adam علیہ السلامburn is only one-seventieth part of the Fire of Hell. His Companions said: By Allah, even ordinary fire would have been enough (to burn people). Thereupon he said: It is sixty-nine parts in excess of (the heat of) fire in this world each of them being equivalent to their heat.
جہنم کے بیان میں اللہ عزوجل ہمیں اس سے پناہ نصیب فرمائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے ابوالزناد کی روایت کی طرح حدیث نقل کی سوائے اس کے کہ اس میں لفظی فرق ہے (یعنی کُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا) کا لفظ ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters with a slight variation of wording.
جہنم کے بیان میں اللہ عزوجل ہمیں اس سے پناہ نصیب فرمائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ حَتَّی انْتَهَی إِلَی قَعْرِهَا
یحییٰ بن ایوب، خلف بن خلیفہ یزید بن کیسان ابی حازم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ تھے کہ ایک گڑگراہٹ کی آواز سنائی دی تو نبی ﷺ نے فرمایا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک پتھر ہے جو کہ ستر سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اور وہ لگاتار دوزخ میں گر رہا تھا یہاں تک کہ وہ پتھر اب اپنی تہہ تک پہنچا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: We were in the company of Allahs Messenger ﷺ that we heard a terrible sound. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Do you know what (sound) is this? We said: Allah and His Messenger know best. Thereupon he said: That is a stone which was thrown seventy years before in Hell and it hasbeen constantly slipping down and now it has reached its base.
جہنم کے بیان میں اللہ عزوجل ہمیں اس سے پناہ نصیب فرمائے۔
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ هَذَا وَقَعَ فِي أَسْفَلِهَا فَسَمِعْتُمْ وَجْبَتَهَا
محمد بن عباد ابن ابی عمر مروان یزید بن کیسان ابی حازم حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا یہ پتھر اس وقت اپنی تہہ میں پہنچا ہے کہ جس کی تم نے آواز سنی تھی۔
This hadith has been narrated on the authority of Abfi Hurairah with the same chain of transmitters but with this change of wording that the Holy Prophet ﷺ (may. peace be upon him) said: It reached at its base and you heard its sound.
جہنم کے بیان میں اللہ عزوجل ہمیں اس سے پناہ نصیب فرمائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ قَتَادَةُ سَمِعْتَ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَی کَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَی حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلَی عُنُقِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یونس بن محمد شیبان بن عبدالرحمن قتادہ، ابونضرہ حضرت سمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ دوزخیوں میں سے کچھ کو آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی اور ان سے کچھ کو ان کے گھٹنوں تک اور ان میں سے کچھ کو ان کی کمر تک اور ان میں سے کچھ کو ان کی گردن تک آگ پکڑے گی۔
ahadeeth bin Jundub reported Allahs Apostle ﷺ (may peace -be upon him) as saying: There will be some to whose ankels the fire will reach, some to whose knees, some to whose waist the fire will reach, and some to whose collar-bone the fire will reach.