جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 54 · 105 hadiths · Page 3 of 6

7170Sahih Muslim

جہنم کے بیان میں اللہ عزوجل ہمیں اس سے پناہ نصیب فرمائے۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَی کَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَی رُکْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَی حُجْزَتِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلَی تَرْقُوَتِهِ

عمرو بن زرارہ عبدالوہاب ابن عطاء، سعید قتادہ، ابونضرہ حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ دوزخیوں میں سے کچھ کو آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ کو ان کے گھٹنوں تک اور ان میں سے کچھ کو ان کی کمر تک اور ان میں سے کچھ کو ان کی ہنسلی تک آگ پکڑے گی۔

ahadeeth bin Jundub reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There would be among them those to whom the fire will reach up to their ankels and to some of them the fire would reach their knees and to some it would reach their waists and to some it would reach up to their collar-bones.

7171Sahih Muslim

جہنم کے بیان میں اللہ عزوجل ہمیں اس سے پناہ نصیب فرمائے۔

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَجَعَلَ مَکَانَ حُجْزَتِهِ حِقْوَيْهِ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، روح حضرت سعید اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس روایت میں حُجْزَتِهِ یعنی ان کی کمر تک کی جگہ حِقْوَيْهِ یعنی ازار باندھنے کی جگہ تک کا لفظ ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Said with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7172Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّتْ النَّارُ وَالْجَنَّةُ فَقَالَتْ هَذِهِ يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَکَبِّرُونَ وَقَالَتْ هَذِهِ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَائُ وَالْمَسَاکِينُ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ وَرُبَّمَا قَالَ أُصِيبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ وَقَالَ لِهَذِهِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِکِ مَنْ أَشَائُ وَلِکُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْکُمَا مِلْؤُهَا

ابن ابی عمر سفیان، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ اور جنت کا آپس میں جھگڑا ہوا دوزخ نے کہا میرے اندر بڑے بڑے ظالم اور متکبر لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا میرے اندر کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے تو اللہ عزوجل نے دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا لیکن تم میں ہر ایک کا بھرنا ضروری ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as say- ing: There was a dispute between the Hell and the Paradise and it (the Hell) said: The haughty and the proud would find abode in me. And the Paradise said: The meek and the humble would find their abode in me. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, (addressing the Hell) said: You are (the means) of My punishment by which I punish those of My servants whom I wish. (And addressing the Paradise) He said: You are only My Mercy by means of which 1 shall show mercy to those whom I wish, but each one of you would be full.

7173Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَحَاجَّتْ النَّارُ وَالْجَنَّةُ فَقَالَتْ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَکَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَائُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَعَجَزُهُمْ فَقَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِکِ مَنْ أَشَائُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ مِنْ عِبَادِي وَلِکُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْکُمْ مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ فَيَضَعُ قَدَمَهُ عَلَيْهَا فَتَقُولُ قَطْ قَطْ فَهُنَالِکَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَی بَعْضُهَا إِلَی بَعْضٍ

محمد بن رافع شبابہ ورقاء ابی زناد اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دوزخ اور جنت میں جھگڑا ہوا تو دوزخ نے کہا مجھے متکبر اور ظالم لوگوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے اور جنت نے کہا کہ پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ میرے اندر سوائے کمزور حقیر اور عاجز لوگوں کے اور کوئی داخل نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحمت کروں گا اور اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا لیکن تم میں سے ہر ایک کو میں نے ضرور بھرنا ہے پھر جب دوزخ نہیں بھرے گی تو اللہ تعالیٰ اپنا قدم دوزخ پر رکھیں گے تو پھر دوزخ کہے گی بس بس پھر دوزخ اسی وقت بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے کی طرف سمٹ جائے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Hell and the Paradise fell into dispute and the Hell said: I have been dis- tinguished by the proud and the haughty. And the Paradise said: What is the matter with me that the meek and the humble amongst people and the downtrodden and the simple enter me? Thereupon Allah said to the Paradise: You are (the means) of My Mercy whereby I show mercy to those of My servants whom 1 wish, and He said to the Hell: You are (the means) of punishment whereby 1 punish those of My servants whoml wish. Both of you will be full. The Hell will riot be filled up until Allah puts down His foot in it. The Hell would say: Enough, enough, enough, and at that time it will be filled up, all its parts integrated together.

7174Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ حُمَيْدٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ

عبداللہ بن عون ہلالی ابوسفیان، محمد بن حمید معمر، ایوب ابن سیرین حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ کا آپس میں جھگڑا ہوا اور پھر ابوالزناد کی حدیث کی طرح روایت بیان کی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same.

7175Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَاجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتْ النَّارُ أُوثِرْتُ بِالْمُتَکَبِّرِينَ وَالْمُتَجَبِّرِينَ وَقَالَتْ الْجَنَّةُ فَمَا لِي لَا يَدْخُلُنِي إِلَّا ضُعَفَائُ النَّاسِ وَسَقَطُهُمْ وَغِرَّتُهُمْ قَالَ اللَّهُ لِلْجَنَّةِ إِنَّمَا أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِکِ مَنْ أَشَائُ مِنْ عِبَادِي وَقَالَ لِلنَّارِ إِنَّمَا أَنْتِ عَذَابِي أُعَذِّبُ بِکِ مَنْ أَشَائُ مِنْ عِبَادِي وَلِکُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْکُمَا مِلْؤُهَا فَأَمَّا النَّارُ فَلَا تَمْتَلِئُ حَتَّی يَضَعَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رِجْلَهُ تَقُولُ قَطْ قَطْ قَطْ فَهُنَالِکَ تَمْتَلِئُ وَيُزْوَی بَعْضُهَا إِلَی بَعْضٍ وَلَا يَظْلِمُ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ أَحَدًا وَأَمَّا الْجَنَّةُ فَإِنَّ اللَّهَ يُنْشِئُ لَهَا خَلْقًا

محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ کا آپس میں جھگڑا ہوا دوزخ کہنے لگی مجھے متکبر اور ظالم لوگوں کی وجہ سے فضیلت دی گئی ہے اور جنت کہنے لگی مجھے کیا ہے میرے اندر تو سوائے کمزور حقیر اور عاجز لوگوں کے اور کوئی داخل نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور دوزخ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو میرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا لیکن تم میں سے ہر ایک کو بھرنا ضروری ہے پھر جب دوزخ نہیں بھرے گی تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدم رکھیں گے تو دوزخ کہے گی بس بس پھر وہ بھر جائے گی اور اللہ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جنت کو بھرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ایک نئی مخلوق پیدا فرمائے گا۔

Hammam bin Munabbih reported that Abu Hurairah (RA) narrated to them some ahadith of Allahs Messenger ﷺ and one of them is this that Allahs Messenger ﷺ said: The Paradise and the Hell fell into dispute and the Hell said: 1 have been distinguished for accommodating (the haughty and proud in me), and the Paradise said: What is the matter that the meek and the humble and the downtrodden and simple would find an abode in me? Thereupon Allah said to Paradise: You are a (means) of My Mercy. 1 shall show mercy through you to one whom I will from amongst My servants. And lie said to the Hell: You are a (sign) of My chastisement and I shall chastise through you anyone whom I will from amongst My servants and both of you, would be full. And as regards the Hell it would not be full until Allah, the Exalted and Glorious, places His foot therein, and it would say: Enough, enough, enough, and it would be then full and the one part would draw very close to the other one and Allah would not treat unjustly anyone amongst His creation and He would create another creation for the Paradise (to accommodate it).

7176Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَّتْ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَی قَوْلِهِ وَلِکِلَيْکُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ الزِّيَادَةِ

عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت اور دوزخ نے آپس میں جھگڑا کیا اور پھر حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کی طرح اس قول تک کہ تم دونوں کا مجھ پر بھرنا ضرور ہے روایت ذکر کی۔

Abu Said al-Khudri reported that Allahs Messenger ﷺ said: The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same as transmitted by Abu Hurairah (RA) up to the words." It is essential for Me to fill up both of you."

7177Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّی يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِکَ وَيُزْوَی بَعْضُهَا إِلَی بَعْضٍ

عبد بن حمید یونس بن محمد شیبان قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی نے فرمایا دوزخ لگاتار یہی کہتی رہے گی ھل من مزید یعنی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو پھر دوزخ کہے گی تیری عزت کی قسم بس اور اس کا ایک حصہ سمٹ کر دوسرے حصے سے مل جائے گا۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ said that the Hell would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and High, would place His foot therein and that would say: Enough, enough, by Your Honour, and some parts of it would draw close to the other.

7178Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ شَيْبَانَ

زہیر بن حرب، عبدالصمد بن عبدالوارث ابان بن یزید عطاء، قتادہ، حضرت انس ؓ نبی ﷺ سے شیبان کی روایت کی طرح حدیث روایت کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

7179Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلْ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ فَأَخْبَرَنَا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ يُلْقَی فِيهَا وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّی يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَی بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِکَ وَکَرَمِکَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّی يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا فَيُسْکِنَهُمْ فَضْلَ الْجَنَّةِ

محمد بن عبداللہ رازی عبدالوہاب بن عطاء، حضرت انس بن مالک ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دوزخ میں لگاتار لوگوں کو ڈالا جائے گا اور وہ کہتی رہے گی کیا کچھ اور بھی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا تو دوزخ کا ایک حصہ سمٹ کی دوسرے حصے میں مل جائے گا اور دوزخ کہے گی تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم بس بس اور جنت میں برابر حصہ بچا ہوا ہوگا یہاں تک کہ اس کے لئے اللہ ایک نئی مخلوق پیدا فرمائے گا اور اسے جنت کے بچے ہوئے باقی حصے میں ڈال دے گا۔

Abdul Wahhab bin Ata reported in connection with the words of Allah, the Exalted and the Glorious: We would say to Hell on the Day of Ressurection: Have you been completely filled up? and it would say: Is there anything -more? And he stated on the authority of Anas bin Malik (RA) that Allahs Apostle ﷺ said: (The sinners) would be thrown therein and it would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and Glorious, would keep His foot there- in and some of its part would draw close to the other and it would say: Enough, enough, by Thy Honour and by Thy Dignity, and there would be enough space in Paradise until Allah would create a new creation and He would make them accommo- date that spare place in Paradise.

7180Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَبْقَی مِنْ الْجَنَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَبْقَی ثُمَّ يُنْشِئُ اللَّهُ تَعَالَی لَهَا خَلْقًا مِمَّا يَشَائُ

زہیر بن حرب، عفان حماد ابن سلمہ ثابت حضرت انس نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جنت کا جتنا حصہ باقی رکھنا چاہے گا وہ باقی رہ جائے گا پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا اس کے لئے ایک نئی مخلوق پیدا فرما دے گا۔

Anas reported Allahs Apostle ﷺ as saying: There would be left some space in Paradise as Allah would like that to be left. Then Allah would create another creation as He would like.

7181Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَائُ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَأَنَّهُ کَبْشٌ أَمْلَحُ زَادَ أَبُو کُرَيْبٍ فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَاتَّفَقَا فِي بَاقِي الْحَدِيثِ فَيُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ وَيُقَالُ يَا أَهْلَ النَّارِ هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا قَالَ فَيَشْرَئِبُّونَ وَيَنْظُرُونَ وَيَقُولُونَ نَعَمْ هَذَا الْمَوْتُ قَالَ فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ خُلُودٌ فَلَا مَوْتَ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی الدُّنْيَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن موت کو نمکین رنگ کے ایک دنبے کی شکل میں لایا جائے گا ابوکریب کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اس دنبے کو جنت اور دوزخ کے درمیان لا کر کھڑا کردیا جائے گا پھر اللہ فرمائے گا اے جنت والو کیا تم اسے پہچانتے ہو جنتی اپنی گردنیں اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے جی ہاں یہ موت ہے پھر اللہ کی طرف سے حکم دیا جائے گا کہ اسے ذبح کردیا جائے (پھر اسے ذبح کردیا جائے گا) پھر اللہ فرمائے گا اے جنت والو اب جنت میں ہمیشہ رہنا ہے موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو اب تمہیں دوزخ میں رہنا ہے اب موت نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ پڑھی (وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ وَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ) اور ان لوگوں کو حسرت کی دن سے ڈرائیے جب ہر بات کا فیصلہ ہوجائے گا اور وہ غفلت میں پڑے ہیں ایمان نہیں لاتے اور آپ ﷺ اپنے ہاتھ مبارک سے دنیا کی طرف ارشاہ فرما رہے تھے۔

Abu Said reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it would be said: O inmates of Paradise,, there is an everlasting life for you and no death. And then (addressing) to the inmates of the Hell-Fire, it would be said: O inmates of Hell-Fire, there is an everlasting living for you and no death. Allahs Messenger (may peace be u@on him) then recited this verse pointing with his hand to this (material) world:" Warn them, this Day of dismay, and when their affairs would be decided and they would be un- mindful and they believe not" (xix. 39).

7182Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ قِيلَ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَقُلْ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَيْضًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَی الدُّنْيَا

عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جنت والوں کو جنت میں اور دوزخ والوں کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا تو کہا جائے گا اے جنت والو پھر ابومعاویہ کی روایت کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ اس میں َذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَقُلْ کے الفاظ ہیں اور یہ نہیں کہا کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے (آیت) پڑھی اور اپنے ہاتھ مبارک سے دنیا کی طرف اشارہ کیا۔

Abu Said reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When the inmates of Paradise would be admitted to Paradise and the inmates of Hell would be admitted to Hell, it would be said (to the inmates of Paradise): O inmates of Paradise. The rest of the hadith is the same but with this variation (that he only) said. That is the word of Allah, the Exalted. And he did not say: Then Allahs Mes- senger ﷺ recited, and he did not make a mention of his having pointed with his hand towards the (material) world.

7183Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُدْخِلُ اللَّهُ أَهْلَ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ وَيُدْخِلُ أَهْلَ النَّارِ النَّارَ ثُمَّ يَقُومُ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ فَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ کُلٌّ خَالِدٌ فِيمَا هُوَ فِيهِ

زہیر بن حرب، حسن بن علی حلوانی عبد بن حمید عبد یعقوب ابن ابراہیم بن سعد ابوصالح نافع حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جنت والوں کو جنت میں داخل فرما دے گا اور دوزخ والوں کو دوزخ میں داخل فرما دے گا پھر ان کے سامنے پکار نے والا کھڑا ہوگا اور کہے گا اے جنت والو اب موت نہیں ہے اور اے دوزخ والوں اب موت نہیں ہے ہر آدمی جس حالت میں ہے وہ اسی میں ہمیشہ رہے گا۔

Abdullah reported that Allahs Messenger ﷺ said: Allah would admit the inmates of Paradise into Paradise and the inmates of Hell into Hell. Then the announcer would stand between them and say: O inmates of Paradise, there is no death for you,O inmates of Hell, there is no death for you. You would live for ever therein.

7184Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَی الْجَنَّةِ وَصَارَ أَهْلُ النَّارِ إِلَی النَّارِ أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتَّی يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ثُمَّ يُذْبَحُ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ وَيَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَی فَرَحِهِمْ وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَی حُزْنِهِمْ

ہارون بن سعیدایلی حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، عمر بن محمد زید بن حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جنت والے جنت کی طرف چلے جائیں گے اور دوزخ والے دوزخ کی طرف چلے جائیں گے تو پھر موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان لایا جائے گا پھر اسے ذبح کیا جائے گا پھر ایک پکارنے والا پکارے گا اے جنت والو اب موت نہیں ہے اور اے دوزخ والو اب موت نہیں ہے تو پھر جنت والوں کی خوشی بڑھ جائے گی اور دوزخ والوں کی پریشانی میں اور زیادتی ہوجائے گی۔

Umar bin Muhammad bin Zaid bin Abdullah bin Umar bin al-Khattab reported on the authority of his father Abdullah bin Umar (RA) that Allahs Messenger (may peace big upon him) said: When the inmates of Paradise would go to Paradise and the inmates of Hell would go to Hell, death would be called and it would be placed between the Paradise and the Hell and then slaughtered and then the announcer would announce: O inmates of Paradise, no death O Inmates of Hell-Fire, no death. And it would in. crease the delight of the inmates of Paradise and it would increase the grief of the inmates of Hell-Fire.

7185Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِرْسُ الْکَافِرِ أَوْ نَابُ الْکَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ وَغِلَظُ جِلْدِهِ مَسِيرَةُ ثَلَاثٍ

سریج بن یونس حمید بن عبدالرحمن حسن بن صالح ہارون بن سعد ابی حازم حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کافر کی داڑھ یا کافر کا دانت احد پہاڑ کے برابر ہوگا اور اس کی کھال تین رات کی مسافت کے برابر ہوگی۔

It is transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) that Allahs Messenger ﷺ said: The molar tooth of an unbeliever or the canine teeth of an unbeliever will be like Ubud and the thickness of his skin a three nights journey.

7186Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَکِيعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ قَالَ مَا بَيْنَ مَنْکِبَيْ الْکَافِرِ فِي النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ لِلرَّاکِبِ الْمُسْرِعِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْوَکِيعِيُّ فِي النَّارِ

ابوکریب احمد بن عمر وکیع ابن فضیل ابی حازم حضرت ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً روایت ہے کہ دوزخ میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان مسافت تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی راوی وکیع نے فی النار یعنی دوزخ کا لفظ نہیں کہا۔

Abu Hurairah (RA) reported directly from Allahs Messenger ﷺ that he said: The distance of the two shoulders of the non-believer in Hell will be a three-day journey for a swift rider.

7187Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ قَالُوا بَلَی قَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ النَّارِ قَالُوا بَلَی قَالَ کُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ

عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، معبد بن خالد حضرت حارثہ بن وہب کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا ہے فرماتے ہیں کہ میں تمہیں جنت والوں کی خبر نہ دوں صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں فرمائیے آپ ﷺ نے فرمایا ہر کمزور آدمی جسے کمزور سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم پوری فرما دے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں ضرور فرمائیے آپ نے فرمایا ہر جاہل اکھڑ مزاج تکبر کرنے والا دوزخی ہے۔

Haritha bin Wahb reported that he heard Allahs Apostle ﷺ as saying: May I not inform you about the inmates of Paradise? They said: Do this, of course. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Every humble person who is considered to be humble if he were to adjure In the name of Allah, He would fulfil it. He then said: May I not inform you about the denizens of Hell-Fire? They said: Yes. And he said: Every haughty, fat and proud (person).

7188Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أَدُلُّکُمْ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، حضرت شعبہ ؓ اس سند کے ساتھ مذکورہ روایت بیان کرتے ہیں سوائے اس کے اس میں انہوں نے اَلَا أَدُلُّکُمْ کا لفظ کہا ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7189Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ کُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَهْلِ النَّارِ کُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيمٍ مُتَکَبِّرٍ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، سفیان، معبد بن خالد حضرت حارثہ بن وہب خزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت والوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (کہ جنتی کون ہے؟ ) پھر (آپ ﷺ نے فرمایا) ہر وہ کمزور آدمی جسے کمزور سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ پر قسم کھالے تو اللہ اس کی قسم کو پورا فرما دے۔ کیا میں تمہیں دوزخ والوں کی خبر نہ دوں؟ (کہ دوزخی کون ہے؟ ) پھر آپ ﷺ نے فرمایا ہر مغرور سرکش اور تکبر کرنے والا۔

Haritha bin Wahb al-KhuzaIi reported Allahs Messenger ﷺ as saying: May I not inform you about the inmates of Paradise? (And then informing about them) said: Every meek person who is considered to be humble and if they were to adjure in the name of Allah, Allah would certainly fulfil it. May I not inform you about the inmates of Hell-Fire? They are all proud, mean and haughty.