جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 54 · 105 hadiths · Page 4 of 6

7190Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ

سوید بن سعید حفص بن میسرہ، علاء بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہت پراگندہ بال ایسے لوگ کہ جن کو دروازوں پر سے دھکے دئیے جاتے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as say- ing: Many a people with dishevelled hair are driven away from the door (but they are so pious) that if they are to swear in the name of Allah, He would definitely fulfil that.

7191Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ النَّاقَةَ وَذَکَرَ الَّذِي عَقَرَهَا فَقَالَ إِذْ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا انْبَعَثَ بِهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ثُمَّ ذَکَرَ النِّسَائَ فَوَعَظَ فِيهِنَّ ثُمَّ قَالَ إِلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُکُمْ امْرَأَتَهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ جَلْدَ الْأَمَةِ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِکِهِمْ مِنْ الضَّرْطَةِ فَقَالَ إِلَامَ يَضْحَکُ أَحَدُکُمْ مِمَّا يَفْعَلُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن نمیر، ہشام بن عروہ حضرت عبداللہ بن زمعہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ ﷺ نے حضرت صالح کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا بھی ذکر فرمایا تو آپ ﷺ نے پڑھا اذانبعث اشقھا کہ ایک مغرور آدمی اسے ذبح کرنے کے لئے اٹھا جو کہ اپنی قوم میں زمعہ کی طرح بڑا مضبوط اور دلیر تھا پھر آپ ﷺ نے عورتوں کے بارے میں نصیحت فرمائی پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کچھ لوگ اپنی عورتوں کو کیوں مارتے ہیں ابوبکر ؓ کی روایت میں باندی کا ذکر ہے اور ابوکریب کی روایت میں لونڈی کا ذکر ہے کہ جس طرح باندی یا لونڈی کو مارا جاتا ہے اور ان سے دن کے آخری حصے میں ہمبستری کرتے ہو پھر ہوا کے خارج ہونے سے ان کے ہنسنے کے بارے میں ان کو آپ ﷺ نے نصیحت فرمائی آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اس کام پر کیوں ہنستا ہے کہ جسے وہ خود بھی کرتا ہے۔

Abdullah bin Zama reported that Allahs Messenger ﷺ delivered an address and he made a mention of the dromedary and also made a mention of one (base person) who cut off Its hind legs, and he recited:" When the basest of them broke forth with mischief" (xei. 12). When A mischievous person, strong even because of the strength of a family like Abu Zama, broke forth. He then delivered instruction in regard to the women saying: There is amongst you who beats his woman, and in the narration on the authority of Abu Bakr, the words are: He flogs her like a slave-girl. And in the narration of Abu Kuraib (the words are): He flogs like a slave and then comforts his bed with the help of that at the end of the day, and he then advised in regard to laughing of people at the breaking of wind and said: One of you laughs at that which you yourself do.

7192Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي کَعْبٍ هَؤُلَائِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف بنی کعب کے بھائی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے پھر رہا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as say- ing: I saw Amr bin Luhayy bin Qama bin Khindif, brother of Bani Kab, dragging his Intestines in Fire.

7193Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُا إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ وَأَمَّا السَّائِبَةُ الَّتِي کَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْئٌ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السُّيُوبَ

عمرو ناقد حسن حلوانی عبد بن حمید عبد یعقوب ابن ابراہیم، بن سعد ابوصالح ابن شہاب حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ بحیرہ وہ جانور ہے کہ جس کا دودھ بتوں کے لئے وقف کردیا جائے اور پھر لوگوں میں سے کوئی آدمی بھی اس جانور کا دودھ نہ دوھ سکے اور سائبہ وہ جانور ہے کہ جو مشرکین اپنے معبودوں کے نام پر چھوڑ دیا کرتے تھے اور اس جانور پر کوئی بوجھ بھی نہیں لادتے تھے ابن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے پھر رہا ہے اور سب سے پہلے اس نے جانوروں کو سانڈھ بنایا تھا،

Said bin Musayyib explained" al-bahira" as that animal which is not milked but for the idols. and none amongst the people milks them, and" as-saiba" as that animal which is let loose for the deities. Nothing is loaded over it, and Ibn Musayyib narrated that Abu Hurairah (RA) stated that Allahs Messenger ﷺ said: I saw Amr bin Amir al-Khuzili dragging his intestines in fire and he was the first who devoted animals to deity.

7194Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ کَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَائٌ کَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُئُوسُهُنَّ کَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ کَذَا وَکَذَا

زہیر بن حرب، جریر، سہیل حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ انہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم تو اس قوم کے لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس گایوں کی دموں کی طرح کوڑے ہوں گے اور وہ لوگوں کو ان کوڑوں سے ماریں گے اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے کہ جو لباس پہننے کے بادجود ننگی ہوں گی دوسرے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود بھی مائل ہوں گی ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہان کی طرح ایک طرف کو جھکے ہوئے ہوں گے اور یہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پائیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے آتی ہوگی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Two are the types amongst the denizens of Hell, the one possessing whips like the tail of an ox and they flog people with their help. (The second one) the women who would be naked in spite of their being dressed, who are seduced (to wrong paths) and seduce others with their hair high like humps. These women would not get into Paradise and they would not perceive the odour of Paradise, although its frag- rance can be perceived from such and such distance (from great distance).

7195Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ حُبَابٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ إِنْ طَالَتْ بِکَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَی قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ

ابن نمیر، زید ابن خباب افلح بن سعید عبداللہ بن رافع ام سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اے ابوہریرہ) اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو تو ایک ایسی قوم کو دیکھے گا کہ جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کے طرح کوڑے ہوں گے وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب میں صبح کریں گے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں شام کریں گے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If you survive for a time you would certainly see people who would have whips in their hands like the tail of an ox. They would get up in the morning under the wrath of Allah and they would get into the evening with the anger of Allah.

7196Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور مسکین داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنْ طَالَتْ بِکَ مُدَّةٌ أَوْشَکْتَ أَنْ تَرَی قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَتِهِ فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ

عبیداللہ بن سعید ابوبکر بن نافع عبد بن حمید ابوعامر عقدی افلح بن سعید عبداللہ بن رافع ام سلمہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تیری عمر لمبی ہوئی تو تو ایک ایسی قوم کو دیکھے گا کہ جو صبح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں اور شام اللہ تعالیٰ کی لعنت میں کریں گے ان کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If you live for a time, you would certainly see people get up (in the morning) in the wrath of Allah and getting into the evening under the curse of Allah, and there would be in their hands (whips) like the tail of an ox.

7197Sahih Muslim

دنیا کے فنا ہونے اور قیامت کے دن حشر کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ أَعْيَنَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ مُسْتَوْرِدًا أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُکُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ وَأَشَارَ يَحْيَی بِالسَّبَّابَةِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا غَيْرَ يَحْيَی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِکَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ أَخِي بَنِي فِهْرٍ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا قَالَ وَأَشَارَ إِسْمَعِيلُ بِالْإِبْهَامِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس ابن نمیر ابی محمد بن بشر یحییٰ بن یحیی، موسیٰ بن اعین محمد بن رافع ابواسامہ اسماعیل بن ابی خالد محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید اسماعیل بن خالد قیس حضرت مستورد ؓ بنی فہر کے بھائی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلے میں اس طرح ہے کہ جس طرح تم میں سے کوئی آدمی اپنی انگلی اس دریا میں ڈال دے یحییٰ نے شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا اور پھر اس انگلی کو نکال کر دیکھے کہ اس میں کیا لگتا ہے سوائے یحییٰ کے تمام روایات میں یا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا ہے کہ الفاظ ہیں اور اسماعیل نے انگوٹھے کے ساتھ اشارہ کیا ہے۔

This hadith has been narrated through five different chains of transmitters and all of them are narrated on the authority of Mustaurid, brother of Bani Fihr, that Allahs Messenger ﷺ said: By Allah, this world (is so insigni- ficant in comparison) to the Hereafter that if one of you should dip his finger- (and wnile saying this Yahyg pointed with his forefinger) -in the ocean and then he should see as to what has stuck to it. This hadith has been narrated through another chain of transmitters also but with a slight variation of wording.

7198Sahih Muslim

دنیا کے فنا ہونے اور قیامت کے دن حشر کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ النِّسَائُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ قَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید حاتم ابن ابی صغیرہ ابن ابی ملیکہ قاسم بن محمد سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن لوگوں کا حشر ہوگا اس حالت میں کہ وہ ننگے پاؤں ننگے بدن اور بغیر ختنہ کئے ہوئے ہوں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا عورتیں اور مرد اکٹھے ہوں گے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے آپ نے فرمایا اے عائشہ یہ معاملہ اس بات سے بہت سخت ہوگا کہ کوئی کسی کی طرف دیکھے۔

Aisha reported that she beard Allahs Messenger ﷺ as saying: The people would be assembled on the Day of Resurrection barefooted, naked and uncircumcised. I said: Allahs Messenger, will the male and the female be together on the Day and would they be looking at one another? Upon this Allahs Messenger ﷺ said: Aisha, the matter would be too serious for them to look to one another.

7199Sahih Muslim

دنیا کے فنا ہونے اور قیامت کے دن حشر کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوخالد احمر حضرت حاتم ؓ بن صغیرہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس روایت میں غُرْلًا کا لفظ نہیں ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Hatim bin Abi Saghira with the same chain of transmitters and there is no mention of the word" uncircum- cised."

7200Sahih Muslim

دنیا کے فنا ہونے اور قیامت کے دن حشر کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّکُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا وَلَمْ يَذْکُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر اسحاق سفیان بن عیینہ، عمرو سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ نے نبی ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ ﷺ ارشاد فرما رہے تھے کہ تم لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن اور بغیر خنتہ کئے کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے۔

Ibn Abbas (RA) reported that he heard Allahs Messenger ﷺ deliver an address and he was saying that they would meet Allah barefooted, naked and uncircumcised.

7201Sahih Muslim

دنیا کے فنا ہونے اور قیامت کے دن حشر کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا بِمَوْعِظَةٍ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّکُمْ تُحْشَرُونَ إِلَی اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِينَ أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُکْسَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام أَلَا وَإِنَّهُ سَيُجَائُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أَصْحَابِي فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ کَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَکُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ قَالَ فَيُقَالُ لِي إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَی أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ وَفِي حَدِيثِ وَکِيعٍ وَمُعَاذٍ فَيُقَالُ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عبیداللہ بن معاذ شعبہ، محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، مغیرہ بن نعمان سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ایک مرتبہ) ہم میں ایک نصیحت آموز خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو تمہیں اللہ کی طرف ننگے پاؤں ننگے بدن اور بغیر ختنہ کئے ہوئے لے کر جایا جائے گا (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ جس طرح ہم نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اس طرح ہم دوبارہ پیدا کریں گے اور یہ ہمارا وعدہ ہے کہ جسے ہم کرنے والے ہیں آگاہ رہو کہ قیامت کے دن ساری مخلوق میں سے سب سے پہلے حضرت ابراہیم کو لباس پہنایا جائے گا اور آگاہ رہو کہ میری امت میں سے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا پھر ان کو بائیں طرف کو ہٹا دیا جائے گا تو میں عرض کروں گا اے پروردگار یہ تو میرے امتی ہیں تو کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کے بعد کیا کیا ایجادات کیں تو میں اسی طرح عرض کروں گا جس طرح کہ اللہ کے نیک بندے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) نے عرض کیا (وَکُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ شَهِيدٌ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَکِيمُ ) میں تو ان لوگوں پر اس وقت تک گواہ کے طور پر تھا جب تک کہ میں ان لوگوں میں رہا پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ان پر نگہبان تھا اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے اگر ان لوگوں کو عذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو ان لوگوں کو بخش دے تو تو غالب حکمت والا ہے، آپ نے فرمایا پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ جس وقت سے آپ ﷺ نے ان لوگوں کو چھوڑا ہے اس وقت سے مسلسل یہ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے رہے وکیع اور معاذ کی روایت میں ہے کہا جائے گا آپ ﷺ نہیں جانتے کہ آپ ﷺ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا بدعات ایجاد کیں۔

This hadith has been narrated through other chains of transmitters on the authority of Ibn Abbas (RA) , (and) the words are: While Allahs Messenger ﷺ stood up to deliver a sermon, he said: O people, Allah would make you assemble barefooted, naked and uncircumcised (and then recited the words of the Quran):" As We created you for the first time, We shall repeat it. (It is) a promise (binding) upon us. Lo! We are to perform it, and the first person who would be clothed on the Day of Resurrection would be (Hadrat) Ibrahim (peace be upon him)" and, behold! some persons of my Ummah would be brought and taken to the left and I would say: My Lord, they are my companions, and it would be said: You do not know what they did after you, and I would say just as the pious servant (Hadrat Isa) said:, I was a witness regarding them as I remained among them and Thou art a witness over everything, so if Thou chastisest them, they are Thy servants and if Thou for- givest them, Thou art Mighty, Wise" (v. 117-118). And it would be said to him: They constantly turned to their heels since you left them. This hadith has been transmitted on the authority of Waki and Muadh (and the words are):" What new things they fabricated."

7202Sahih Muslim

دنیا کے فنا ہونے اور قیامت کے دن حشر کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينً وَاثْنَانِ عَلَی بَعِيرٍ وَثَلَاثَةٌ عَلَی بَعِيرٍ وَأَرْبَعَةٌ عَلَی بَعِيرٍ وَعَشَرَةٌ عَلَی بَعِيرٍ وَتَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمْ النَّارُ تَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا

زہیر بن حرب، احمد بن اسحاق محمد بن حاتم، بہز وہیب عبداللہ بن طاؤس حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگوں کو تین جماعتوں کی صورت میں اکٹھا کیا جائے گا کچھ لوگ خاموش ہوں گے اور کچھ لوگ ڈرے ہوئے ہوں گے اور دو آدمی ایک اونٹ پر ہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر ہوں گے اور ان میں باقی لوگوں کو آگ اکٹھا کرے گی جب وہ رات گزارنے کے لئے ٹھہریں گے تو وہ آگ ان کے ساتھ رہے گی جہاں وہ دوپہر کریں گے وہیں آگ بھی ان کے ساتھ رہے گی اور جہاں وہ صبح کے وقت ہوں گے وہیں آگ بھی ان کے ساتھ ہوگی اور جہاں وہ شام کے وقت رہیں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ رہے گی۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying, The people will be assembled in three categories. Those desirous (of Paradise), fearing (Hell), coming two upon the came], three upon the camel, four upon the camel, ten upon the camel and the rest will be assembled, Hell-Fire being with them when they are at midday where they would spend the night and where they would spend the morning and where they would spend the evening.

7203Sahih Muslim

قیامت کے دن کی حالت کے بیان میں اللہ پاک قیامت کے دن کی سختیوں میں ہماری مدد فرمائے۔

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنُونَ ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ قَالَ يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَی أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّی قَالَ يَقُومُ النَّاسُ لَمْ يَذْکُرْ يَوْمَ

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید یحییٰ بن سعید عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے تو ان میں سے کچھ آدمی آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور ابن مثنی کی روایت میں یقوم الناس کے الفاظ ہیں اور یوم کا لفظ ذکر نہیں کیا۔

Ibn Umar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When the people would stand before Allah. the Lord of the worlds, each one of them would stand submerged into perspiration up to half of his ears, and there is no mention of the" day" in the badlth transmitted on the authority of Ibn Muthanni.

7204Sahih Muslim

قیامت کے دن کی حالت کے بیان میں اللہ پاک قیامت کے دن کی سختیوں میں ہماری مدد فرمائے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ح و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ کِلَاهُمَا عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَی حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ وَصَالِحٍ حَتَّی يَغِيبَ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَی أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ

محمد بن اسحاق مسیبی انس، ابن عیاض سوید بن سعید حفص بن میسرہ موسیٰ بن عقبہ ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر عیسیٰ بن یونس، ابن عون عبداللہ بن جعفر بن یحییٰ معن مالک ابونصر تمار حماد بن سلمہ ایوب حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابراہیم بن سعد ابوصالح نافع حضرت ابن عمر ؓ نے حضرت عبیداللہ بن نافع کی روایت کی طرح روایت نقل کی ہے سوائے اس کے کہ موسیٰ بن عقبہ اور ہمام کی روایت میں ہے یہاں تک کہ کچھ لوگ ان میں سے آدھے کانوں تک اپنے پسینے میں ڈوب جائیں گے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar but with a slight variation of wording (and the words are):" One of them would be completely submerged in perspiration up to half of his ears."

7205Sahih Muslim

قیامت کے دن کی حالت کے بیان میں اللہ پاک قیامت کے دن کی سختیوں میں ہماری مدد فرمائے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَی أَفْوَاهِ النَّاسِ أَوْ إِلَی آذَانِهِمْ يَشُکُّ ثَوْرٌ أَيَّهُمَا قَالَ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد ثور ابی غیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن انسان کا پسینہ زمین میں ستر گز تک پھیلا ہوا ہوگا اور یہ پسینہ لوگوں کے مونہوں یا ان کے کانوں تک پہنچا ہوا ہوگا راوی ثور کو شک ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا لفظ فرمایا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as say- ing: The perspiration would spread on the Day of Resurrection upon the earth to the extent of seventy cubits and it would reach up to their mouths or up to their ears. Thaur is not sure (which words) he used (mouth or ears).

7206Sahih Muslim

قیامت کے دن کی حالت کے بیان میں اللہ پاک قیامت کے دن کی سختیوں میں ہماری مدد فرمائے۔

حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تُدْنَی الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ الْخَلْقِ حَتَّی تَکُونَ مِنْهُمْ کَمِقْدَارِ مِيلٍ قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ أَمْ الْمِيلَ الَّذِي تُکْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ قَالَ فَيَکُونُ النَّاسُ عَلَی قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ فَمِنْهُمْ مَنْ يَکُونُ إِلَی کَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَکُونُ إِلَی رُکْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَکُونُ إِلَی حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا قَالَ وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَی فِيهِ

حکم بن موسیٰ ابوصالح یحییٰ بن حمزہ عبدالرحمن بن جابر، سلیم بن عامر حضرت مقداد بن اسود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں قیامت کے دن سورج مخلوق سے اس قدر قریب ہوجائے گا یہاں تک کہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہوجائے گا سلیم بن عامر کہتے ہیں اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میل سے کیا مراد ہے زمین کی مسافت کا میل مراد ہے یا سلائی جس سے آنکھوں میں سرمہ ڈالا جاتا ہے آپ نے فرمایا لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق تک پسینہ میں غرق ہوں گے اور ان میں سے کچھ لوگوں کے گھٹنوں تک پسینہ ہوگا اور ان میں سے کسی کی کمر تک اور ان میں سے کسی کے منہ میں پسینہ کی لگام ہوگی راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اپنے منہ مبارک کی طرف اشارہ کر کے بتایا۔

Miqdad bin Aswad reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: On the Day of Resurrection, the sun would draw so close to the people that there woum be left only a distance of one mile. Sulaim bin Amir said: By Allah, I do not know whether he meant by" mile" the mile of the (material) earth or dn instrument used for applying collyrium to the eye. (The Holy Prophet ﷺ is, however, reported to have said): The people would be submerged in perspiration according to their deeds, some up to their. knees, Some up to the waist and some would have the bridle of perspiration and, while saying this, Allahs Apostle ﷺ pointed his hand towards his mouth.

7207Sahih Muslim

ان صفات کے بیان میں کہ جن کے ذریعہ دنیا ہی میں جنت والوں اور دوزخ والوں کو پہچان لیا جاتا ہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ وَابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ أَلَا إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا کُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَإِنِّي خَلَقْتُ عِبَادِي حُنَفَائَ کُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمْ الشَّيَاطِينُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِينِهِمْ وَحَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِکُوا بِي مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا وَإِنَّ اللَّهَ نَظَرَ إِلَی أَهْلِ الْأَرْضِ فَمَقَتَهُمْ عَرَبَهُمْ وَعَجَمَهُمْ إِلَّا بَقَايَا مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ وَقَالَ إِنَّمَا بَعَثْتُکَ لِأَبْتَلِيَکَ وَأَبْتَلِيَ بِکَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْکَ کِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَائُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا فَقُلْتُ رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً قَالَ اسْتَخْرِجْهُمْ کَمَا اسْتَخْرَجُوکَ وَاغْزُهُمْ نُغْزِکَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْکَ وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةً مِثْلَهُ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَکَ مَنْ عَصَاکَ قَالَ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ ثَلَاثَةٌ ذُو سُلْطَانٍ مُقْسِطٌ مُتَصَدِّقٌ مُوَفَّقٌ وَرَجُلٌ رَحِيمٌ رَقِيقُ الْقَلْبِ لِکُلِّ ذِي قُرْبَی وَمُسْلِمٍ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ قَالَ وَأَهْلُ النَّارِ خَمْسَةٌ الضَّعِيفُ الَّذِي لَا زَبْرَ لَهُ الَّذِينَ هُمْ فِيکُمْ تَبَعًا لَا يَبْتَغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا وَالْخَائِنُ الَّذِي لَا يَخْفَی لَهُ طَمَعٌ وَإِنْ دَقَّ إِلَّا خَانَهُ وَرَجُلٌ لَا يُصْبِحُ وَلَا يُمْسِي إِلَّا وَهُوَ يُخَادِعُکَ عَنْ أَهْلِکَ وَمَالِکَ وَذَکَرَ الْبُخْلَ أَوْ الْکَذِبَ وَالشِّنْظِيرُ الْفَحَّاشُ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبُو غَسَّانَ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَيْکَ

ابوغسان سمعی محمد بن مثنی، محمد بن بشار بن عثمان ابی غسان ابن مثنی معاذ بن ہشام ابوقتادہ، مطرف بن عبداللہ بن شخیر حضرت عیاض بن حمار مجاشعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا سنو میرے رب نے مجھے یہ حکم فرمایا ہے کہ میں تم لوگوں کو وہ باتیں سکھا دوں کہ جن باتوں سے تم لا علم ہو میرے رب نے آج کے دن مجھے وہ باتیں سکھا دیں ہیں میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لئے حلال ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو حق کی طرف رجوع کرنے والا پیدا کیا ہے لیکن شیطان میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکاتے ہیں اور میں نے اپنے بندوں کے لئے جن چیزوں کو حلال کیا ہے وہ ان کے لئے حرام قرار دیتے ہیں اور وہ ان کو ایسی چیزوں کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ جس کی کوئی محبت میں نے نازل نہیں کی اور بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی اور عرب و عجم سے نفرت فرمائی سوائے اہل کتاب میں سے کچھ باقی لوگوں کے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تمہیں اس لئے بھیجا ہے تاکہ میں تم کو آزماؤں اور ان کو بھی آزماؤں کہ جن کے پاس آپ ﷺ کو بھیجا ہے اور میں نے آپ ﷺ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جسے پانی نہیں دھو سکے گا اور تم اس کتاب کو سونے اور بیداری کی حالت میں بھی پڑھو گے اور بلاشبہ اللہ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں تو میں نے عرض کیا اے پروردگار وہ لوگ تو میرا سر پھاڑ ڈالیں گے اللہ نے فرمایا تم ان کو نکال دینا جس طرح کہ انہوں نے آپ ﷺ کو نکالا ہے اور آپ ﷺ پر بھی خرچہ کیا جائے گا آپ ﷺ لشکر روانہ فرمائیں میں اس کے پانچ گنا لشکر بھیجوں گا اور آپ ﷺ اپنے تابعداروں کو لے کر ان سے لڑیں کہ جو آپ ﷺ کے نافرمان ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ تین قسم کے ہیں (١) حکومت کے ساتھ انصاف کرنے والے صدقہ و خیرات کرنے والے توفیق عطا کئے ہوئے (٢) وہ آدمی کہ جو اپنے تمام رشتہ داروں اور مسلمانوں کے لئے نرم دل ہو (٣) وہ آدمی کہ جو پاکدامن پاکیزہ خلق والا ہو اور عیالدار بھی ہو لیکن کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلاتا ہو آپ نے فرمایا دوزخی پانچ طرح کے ہیں (١) وہ کمزور آدمی کہ جس کے پاس مال نہ ہو اور دوسروں کا تابع ہو اہل و مال کا طلبگار نہ ہو (٢) خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور اس میں بھی خیانت کرے (٣) وہ آدمی جو صبح شام تم کو تمہارے گھر اور مال کے بارے میں دھوکہ دیتا ہو اور آپ ﷺ نے بخیل یا جھوٹے اور بدخو اور بیہودہ گالیاں بکنے والے آدمی کا بھی ذکر فرمایا اور ابوغسان نے اپنی روایت میں یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ ﷺ خرچ کریں آپ ﷺ پر بھی خرچ کیا جائے گا۔

Iyad bin Him-ar reported that Allahs Messenger ﷺ , while delivering a sermon one day, said: Behold, my Lord commanded me that I should teach you which you do not know and which He has taught me today. (He has instructed thus): The property which I have conferred upon them is lawful for them. I have created My servants as one having a natural inclination to the worship of Allah but it is Satan who turns them away from the right religion and he makes unlawful what has been declared lawful for them and he commands them to ascribe partnership with Re, although he has no justification for that. And verily, Allah looked towards the people of the world and He showed hatred for the Arabs and the non-Arabs, but with the exception of some remnants from the People of the Book. And He (further) said: I have sent thee (the Holy Prophet) in order to put you to test and put (those to test) through you. And I sent the Book to you which cannot be washed away by water, so that you may recite it while in the state of wakefulness or sleep. Verily, Allah commanded me to burn (kill) the Quraish. I said: My Lord, they would break my head (like the tearing) of bread, and Allah said: You turn them out as they turned you out, you fight against them and We shall help you in this, you should spend and you would be conferred upon. You send an army and I would send an army five times greater than that. Fight against those who disobey you along with those who obey you. The inmates of Paradise are three: One who wields authority and is just and fair, one who Is truthful and has been endowed with power to do good deeds. And the person who is merciful and kind hearted towards his relatives and to every pious Muslim, and one who does not stretch his hand in spite of having a large family to support. And He said: The inmates of Hell are five: the weak who lack power to (avoid evil), the (carefree) who pursue (everything irrespective of the fact that it is good or evil) and who do not have any care for their family or for their wealth. And those dishonest whose greed cannot be concealed even in the case of minor things. And the third. who betray you. morning and evening, in regard to your family and your property. He also made a mention of the miser and the liar and those who are in the habit of abusing people and using obscene and foul language. Abu Ghassan in his narration did not make mention of" Spend and there would be spent for you."

7208Sahih Muslim

ان صفات کے بیان میں کہ جن کے ذریعہ دنیا ہی میں جنت والوں اور دوزخ والوں کو پہچان لیا جاتا ہے۔

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِهِ کُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ

محمد بن مثنی عنزی محمد بن ابی عدی سعید، حضرت قتادہ نے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ ہر وہ مال جو میں اپنے بندے کو دوں حلال ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Qatada with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7209Sahih Muslim

ان صفات کے بیان میں کہ جن کے ذریعہ دنیا ہی میں جنت والوں اور دوزخ والوں کو پہچان لیا جاتا ہے۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ يَحْيَی قَالَ شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ

عبدالرحمن بن بشر عبدی یحییٰ بن سعید ہشام قتادہ، مطرف حضرت عیاض ؓ بن حمار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ ارشاد فرمایا اور پھر مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح حدیث ذکر فرمائی۔

This hadith has been transmitted on the authority of Iyad bin Himar that Allahs Messenger ﷺ gave an address one day. The rest of the hadith is the same.